از۔؟
شاکر جی خوش رہو۔Happy New Year۔۔
تم اوپر ”از“ کے ساتھ شہر کا نام نہ دیکھ کرسوچ رہے ہوگے کہ میں نے سوالیہ نشان کیوں ڈالا۔تو بھائی خود سوچو ،میں از کے ساتھ کیا لکھوں؟ صحیح معنوں میں مسافر بنا بیٹھاہوں یعنی ریل کارمیں بیٹھا خط لکھ رہا ہوں۔۔ ایک فائدہ یہ ہوگا کہ سفر کٹ جائے گا ۔دوسرا یہ کہ تم بھی کچھ سیر کرلو گے۔ اس وقت شام کے سوا چھ بجے ہیں اور گاڑی خانیوال سے چلی ہے۔ ملتان سے آج ٹرین پورا ایک گھنٹہ لیٹ روانہ ہوئی یعنی سوا پانچ بجے۔
تم نے درست لکھا میں واقعی کرسمس منانے ملتان آیاتھا۔ تم نے جدہ میں کیسے منائی(ٹرین لوڈشیڈنگ میں ڈوبے ہوئے سٹیشن پررک گئی معلوم نہیں کون سا سٹیشن ہے،کوئی کراس پڑ گیا ہوگا)۔ذکر تھا تمہارے خط کا ۔اس مرتبہ میں نے ہفتے کی بھی چھٹی لے رکھی تھی۔ اس لیے خط ملتان ہی مل گیا۔ویسے میں نے تمہارا خط بہت بے قراری سے کھولا۔ اس مرتبہ خاصا ضخیم اور بڑا لفافہ دیکھ کر اشتیاق بڑھ گیا۔ لفافہ چاک کیاخیال تھا اس میں تمہارا کوئی انشائیہ ہوگا ۔لیکن تسلیم الٰہی کا مضمون برآمد ہوگیا۔ امروز میں شائع کرادوں گا۔ لوڈشیڈنگ کی صورت حال یہ ہے کہ ملتان میں بارہ بارہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ تم خوش قسمت ہوکہ ایک منٹ کے لیے بھی اندھیرا نہیں ہوتا۔ (گاڑی تاریک اسٹیشن سے روانہ ہوگئی)۔
طاہر تونسوی کی نئی کتاب سے تمہاری خواہش پر کچھ بونگیاں درج کررہاہوں۔ اس وقت میرے پاس وہ کتاب موجودہے جس پر انور سدید صاحب کے فٹ نوٹس بھی ہیں۔ لطیفے سنو۔
*پہلے صفحے کاپہلا جملہ ” باب العلم کا قول ہے کہ ”جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوگیا“ ۔انور سدید صاحب نے تصحیح کردی ” میں اس کادشمن ہوگیا“۔
*سلیم اختر نے کالج کے زمانے میں ڈراموں میں بھی کام کیا۔زیادہ تر لڑکیوں کے رول کیے۔ (گاڑی پھررک گئی)
*سکول کا کام وہ عموماً سینما گھر میں بیٹھ کر کرتے تھے۔
*ایک مرتبہ سلیم اختر موٹرسائیکل پر جارہے تھے بیگم سمیت گر پڑے۔کتابیں بھی بکھرگئیں۔سلیم اختر نے بیگم کوچھوڑ کر کتابیں سمیٹنا شروع کردیں۔بیگم کو راہگیروں نے ”سمیٹا“(دیکھو یار سمیٹا کالفظ کس” خوبصورتی “سے استعمال کیا ہے)
*شادی سے پہلے بھی غیر شادی شدہ لوگوں کے مسائل حل کیا کرتے تھے۔
*وہ انتھک شوہر ہیں(انتھک سے کیا مرادہے)
(گاڑی چل پڑی)
*انبالے میں وہ سنیاسیوں اور تیل بیچنے والوں کی باتیں شوق سے سنتے تھے اورجب سنیاسی کہتے تھے کہ بچہ لوگ چلے جائیں تو سلیم اختر لوگوں کی ٹانگوں کے پیچھے چھپ کر باتیں سنتے رہتے تھے۔
*سائیکل چلانے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ رات کو چارپائی پر بھی لاتیں چلاتے رہتے ہیں(سبحان اللہ۔۔شکر ہے یہ نہیں لکھا کیسے چلاتے ہیں )
(میاں چنوں آگیا)
*وہ بری امام کے عرس پر ضرور جاتے ہیں ۔طوائفوں کاجشن دیکھنے ۔
*کتاب کا آخری جملہ ”لمحہ موجود میں استاد زندہ باد“
اب کچھ اور باتیں کرتے ہیں ۔بشری رحمان گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تھیں ۔انہیں گمان ہے کہ وہ وزیر اطلاعات بن رہی ہیں۔انہوں نے صدر کی بیٹی پر بھی کالم لکھا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں مرکزی کیا صوبائی وزارت بھی نہیں ملے گی۔ خاقان عباسی کو وزیراطلاعات بنانے کی افواہیں ہیں۔ یہ وہی خاقان عباسی ہے جس نے راجہ ظفرالحق کوہرایاتھا۔لیکن سنا ہے ضمنی الیکشن میں راجہ کو دوبارہ کامیاب کراکے وزیراطلاعات بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سندھ سے تالپور کو گورنربنانے کی شنید ہے۔ ہارے ہوئے سب جواری دوبارہ سامنے آرہے ہیں۔ خاقان عباسی بھی گورنر شپ لینے سے انکار کردے گا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ راجہ ظفرالحق دوبارہ آئے۔ ابھی آدھ گھنٹے تک ٹرین کسی اندھے پلیٹ فارم پرکھڑی رہی ۔تیز گام کاکراس تھا ۔باہر چودھویں کاچاند ہے اور لوڈشیڈنگ میں خوب چمک رہا ہے۔
اب سردی کافی بڑھ چکی ۔جیسے جیسے رات بھیگ رہی ہے سردی بڑھتی جارہی ہے۔ اس موسم میں ریل کار سے سفر کرنا میرا ہی حوصلہ ہے۔ یہ کمبخت رات بارہ بجے لاہور پہنچے گی ۔حالت یہ ہے کہ آٹھ بجنے والے ہیں اور چیچہ وطنی نہیں آیا جبکہ یہ ساہیوال کاٹائم تھا۔ میرے سامنے اس وقت ایک کالا اور بھدا سا بڈھا بیٹھا ہے ۔دائیں طرف ایک مولوی ہے ،مسلسل بکواس کررہے ہیں اور میں خط لکھ رہا ہوں۔
ملتان میں ولی محمد واجد کی اہلیہ انتقال کرگئیں۔ آج میں سبطین لودھی ،اعجاز ،حیدرگردیزی، اصغر علی شاہ اور ڈاکٹر امین کے ہمراہ تعزیت کے لیے ان کے گھر گیاتھا۔ جناز ے میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ منو بھائی نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اگر آپ کسی کے جنازے میں شریک نہ ہوں گے تو وہ بھی آپ کے جنازے میں شرکت نہیں کرے گا۔گاڑی کے تمام مسافر مجھے گھوررہے ہیں کہ یہ کون پاگل مسلسل لکھ رہا ہے۔
اختر شمار کی کتاب ”روشنی کے پھول“ آج کل ظہیر بائنڈر کے پاس تیارہورہی ہے ۔ اس نے اس کےنام کی پیروڈی بھی بہت دلچسپ کی ہے بس لفظ روشنی کوتبدیل کر دیا ہے ۔
میں آج دوبارہ مرتبہ حسین سحر صاحب کے پاس گیاتھا ان سے داخلہ فارم Attestکروائے ہیں ۔کل اصغر ندیم سید کے شعری مجموعے کی اردو اکادمی کے زیراہتمام تعارفی تقریب تھی ۔وہاں بہت سے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ سینئرز میں ابن حنیف بہت اچھی طرح ملے۔ اطہر ناسک نے بتایا ہے کہ وہ ایڈہاک لیکچرر بھرتی ہوگیا ہے۔ خدا معلوم سچ ہے یا جھوٹ۔ اس کی بات پر کون یقین کرے۔ اہل قلم زیر ترتیب ہے ۔جنوری میں شائع ہوگا۔ ملتان میں انور زاہدی سے آج ہی ملاقات ہوئی ،سرسری ملاقات تھی ۔میں حسین سحر کے پاس بیٹھاتھا کہ وہ آگئے ۔بہت اچھی طرح ملے ۔کہہ رہے تھے آج لاہور نہ جاﺅ لیکن میں بھلا کیسے رک سکتاتھا۔ تمہیں سلام کہہ رہے تھے۔ لودھی نیا پروگرام بنارہاہے ۔کہہ رہا تھا کہ ہم وزیر آغاایوارڈ کااجراءکرتے ہیں ۔افسر ساجد، فیاض تحسین اورطارق محمود سے مدد لیں گے۔ لو جی چوچا وطنی آگیا۔آٹھ بج کر بیس منٹ۔ خط تمام کرتاہوں ۔یقیناً اس منفرد خط پر تمہیں بہت لطف آئے گا۔
خط تو آج مکمل کرلیا صبح پوسٹ کروں گا ۔خط پوسٹ کرنے ہی لگا تھاکہ صبح معلوم ہوا کہ مخدوم صاحب گورنر بن رہے ہیں گویا پورا پنجاب ایک مزار ہے اوروہ اس کے مجاور،کتنے بدقسمت ہیں ہم سب ۔
تمہارا اپنا رضی
28دسمبر1985
شاکر جی خوش رہو۔Happy New Year۔۔
تم اوپر ”از“ کے ساتھ شہر کا نام نہ دیکھ کرسوچ رہے ہوگے کہ میں نے سوالیہ نشان کیوں ڈالا۔تو بھائی خود سوچو ،میں از کے ساتھ کیا لکھوں؟ صحیح معنوں میں مسافر بنا بیٹھاہوں یعنی ریل کارمیں بیٹھا خط لکھ رہا ہوں۔۔ ایک فائدہ یہ ہوگا کہ سفر کٹ جائے گا ۔دوسرا یہ کہ تم بھی کچھ سیر کرلو گے۔ اس وقت شام کے سوا چھ بجے ہیں اور گاڑی خانیوال سے چلی ہے۔ ملتان سے آج ٹرین پورا ایک گھنٹہ لیٹ روانہ ہوئی یعنی سوا پانچ بجے۔
تم نے درست لکھا میں واقعی کرسمس منانے ملتان آیاتھا۔ تم نے جدہ میں کیسے منائی(ٹرین لوڈشیڈنگ میں ڈوبے ہوئے سٹیشن پررک گئی معلوم نہیں کون سا سٹیشن ہے،کوئی کراس پڑ گیا ہوگا)۔ذکر تھا تمہارے خط کا ۔اس مرتبہ میں نے ہفتے کی بھی چھٹی لے رکھی تھی۔ اس لیے خط ملتان ہی مل گیا۔ویسے میں نے تمہارا خط بہت بے قراری سے کھولا۔ اس مرتبہ خاصا ضخیم اور بڑا لفافہ دیکھ کر اشتیاق بڑھ گیا۔ لفافہ چاک کیاخیال تھا اس میں تمہارا کوئی انشائیہ ہوگا ۔لیکن تسلیم الٰہی کا مضمون برآمد ہوگیا۔ امروز میں شائع کرادوں گا۔ لوڈشیڈنگ کی صورت حال یہ ہے کہ ملتان میں بارہ بارہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ تم خوش قسمت ہوکہ ایک منٹ کے لیے بھی اندھیرا نہیں ہوتا۔ (گاڑی تاریک اسٹیشن سے روانہ ہوگئی)۔
طاہر تونسوی کی نئی کتاب سے تمہاری خواہش پر کچھ بونگیاں درج کررہاہوں۔ اس وقت میرے پاس وہ کتاب موجودہے جس پر انور سدید صاحب کے فٹ نوٹس بھی ہیں۔ لطیفے سنو۔
*پہلے صفحے کاپہلا جملہ ” باب العلم کا قول ہے کہ ”جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوگیا“ ۔انور سدید صاحب نے تصحیح کردی ” میں اس کادشمن ہوگیا“۔
*سلیم اختر نے کالج کے زمانے میں ڈراموں میں بھی کام کیا۔زیادہ تر لڑکیوں کے رول کیے۔ (گاڑی پھررک گئی)
*سکول کا کام وہ عموماً سینما گھر میں بیٹھ کر کرتے تھے۔
*ایک مرتبہ سلیم اختر موٹرسائیکل پر جارہے تھے بیگم سمیت گر پڑے۔کتابیں بھی بکھرگئیں۔سلیم اختر نے بیگم کوچھوڑ کر کتابیں سمیٹنا شروع کردیں۔بیگم کو راہگیروں نے ”سمیٹا“(دیکھو یار سمیٹا کالفظ کس” خوبصورتی “سے استعمال کیا ہے)
*شادی سے پہلے بھی غیر شادی شدہ لوگوں کے مسائل حل کیا کرتے تھے۔
*وہ انتھک شوہر ہیں(انتھک سے کیا مرادہے)
(گاڑی چل پڑی)
*انبالے میں وہ سنیاسیوں اور تیل بیچنے والوں کی باتیں شوق سے سنتے تھے اورجب سنیاسی کہتے تھے کہ بچہ لوگ چلے جائیں تو سلیم اختر لوگوں کی ٹانگوں کے پیچھے چھپ کر باتیں سنتے رہتے تھے۔
*سائیکل چلانے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ رات کو چارپائی پر بھی لاتیں چلاتے رہتے ہیں(سبحان اللہ۔۔شکر ہے یہ نہیں لکھا کیسے چلاتے ہیں )
(میاں چنوں آگیا)
*وہ بری امام کے عرس پر ضرور جاتے ہیں ۔طوائفوں کاجشن دیکھنے ۔
*کتاب کا آخری جملہ ”لمحہ موجود میں استاد زندہ باد“
اب کچھ اور باتیں کرتے ہیں ۔بشری رحمان گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تھیں ۔انہیں گمان ہے کہ وہ وزیر اطلاعات بن رہی ہیں۔انہوں نے صدر کی بیٹی پر بھی کالم لکھا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں مرکزی کیا صوبائی وزارت بھی نہیں ملے گی۔ خاقان عباسی کو وزیراطلاعات بنانے کی افواہیں ہیں۔ یہ وہی خاقان عباسی ہے جس نے راجہ ظفرالحق کوہرایاتھا۔لیکن سنا ہے ضمنی الیکشن میں راجہ کو دوبارہ کامیاب کراکے وزیراطلاعات بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سندھ سے تالپور کو گورنربنانے کی شنید ہے۔ ہارے ہوئے سب جواری دوبارہ سامنے آرہے ہیں۔ خاقان عباسی بھی گورنر شپ لینے سے انکار کردے گا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ راجہ ظفرالحق دوبارہ آئے۔ ابھی آدھ گھنٹے تک ٹرین کسی اندھے پلیٹ فارم پرکھڑی رہی ۔تیز گام کاکراس تھا ۔باہر چودھویں کاچاند ہے اور لوڈشیڈنگ میں خوب چمک رہا ہے۔
اب سردی کافی بڑھ چکی ۔جیسے جیسے رات بھیگ رہی ہے سردی بڑھتی جارہی ہے۔ اس موسم میں ریل کار سے سفر کرنا میرا ہی حوصلہ ہے۔ یہ کمبخت رات بارہ بجے لاہور پہنچے گی ۔حالت یہ ہے کہ آٹھ بجنے والے ہیں اور چیچہ وطنی نہیں آیا جبکہ یہ ساہیوال کاٹائم تھا۔ میرے سامنے اس وقت ایک کالا اور بھدا سا بڈھا بیٹھا ہے ۔دائیں طرف ایک مولوی ہے ،مسلسل بکواس کررہے ہیں اور میں خط لکھ رہا ہوں۔
ملتان میں ولی محمد واجد کی اہلیہ انتقال کرگئیں۔ آج میں سبطین لودھی ،اعجاز ،حیدرگردیزی، اصغر علی شاہ اور ڈاکٹر امین کے ہمراہ تعزیت کے لیے ان کے گھر گیاتھا۔ جناز ے میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ منو بھائی نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اگر آپ کسی کے جنازے میں شریک نہ ہوں گے تو وہ بھی آپ کے جنازے میں شرکت نہیں کرے گا۔گاڑی کے تمام مسافر مجھے گھوررہے ہیں کہ یہ کون پاگل مسلسل لکھ رہا ہے۔
اختر شمار کی کتاب ”روشنی کے پھول“ آج کل ظہیر بائنڈر کے پاس تیارہورہی ہے ۔ اس نے اس کےنام کی پیروڈی بھی بہت دلچسپ کی ہے بس لفظ روشنی کوتبدیل کر دیا ہے ۔
میں آج دوبارہ مرتبہ حسین سحر صاحب کے پاس گیاتھا ان سے داخلہ فارم Attestکروائے ہیں ۔کل اصغر ندیم سید کے شعری مجموعے کی اردو اکادمی کے زیراہتمام تعارفی تقریب تھی ۔وہاں بہت سے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ سینئرز میں ابن حنیف بہت اچھی طرح ملے۔ اطہر ناسک نے بتایا ہے کہ وہ ایڈہاک لیکچرر بھرتی ہوگیا ہے۔ خدا معلوم سچ ہے یا جھوٹ۔ اس کی بات پر کون یقین کرے۔ اہل قلم زیر ترتیب ہے ۔جنوری میں شائع ہوگا۔ ملتان میں انور زاہدی سے آج ہی ملاقات ہوئی ،سرسری ملاقات تھی ۔میں حسین سحر کے پاس بیٹھاتھا کہ وہ آگئے ۔بہت اچھی طرح ملے ۔کہہ رہے تھے آج لاہور نہ جاﺅ لیکن میں بھلا کیسے رک سکتاتھا۔ تمہیں سلام کہہ رہے تھے۔ لودھی نیا پروگرام بنارہاہے ۔کہہ رہا تھا کہ ہم وزیر آغاایوارڈ کااجراءکرتے ہیں ۔افسر ساجد، فیاض تحسین اورطارق محمود سے مدد لیں گے۔ لو جی چوچا وطنی آگیا۔آٹھ بج کر بیس منٹ۔ خط تمام کرتاہوں ۔یقیناً اس منفرد خط پر تمہیں بہت لطف آئے گا۔
خط تو آج مکمل کرلیا صبح پوسٹ کروں گا ۔خط پوسٹ کرنے ہی لگا تھاکہ صبح معلوم ہوا کہ مخدوم صاحب گورنر بن رہے ہیں گویا پورا پنجاب ایک مزار ہے اوروہ اس کے مجاور،کتنے بدقسمت ہیں ہم سب ۔
تمہارا اپنا رضی
28دسمبر1985
فیس بک کمینٹ

