اہم خبریں

سفارتی سائفر کی کاپی ‘وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب’، تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی دھمکی کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر مبنی سفارتی سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جہاں سفارتی سائفر سے متعلق آڈیوز کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کابینہ کو سفارتی سائفر کے معاملے پر بریفنگ دی گئی جہاں ’انکشاف ہوا کہ متعلقہ سفارتی سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے‘۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ ’سابق وزیراعظم کو بھجوائے جانے والے اس سائفر کی وزیراعظم ہاؤس میں وصولی کے ریکارڈ میں اندراج ہے لیکن اس کی کاپی ریکارڈ میں موجود نہیں ہے، قانون کے مطابق یہ کاپی وزیراعظم ہاؤس کی ملکیت ہوتی ہے‘۔
اعلامیے کے مطابق ’اجلاس نے قرار دیا کہ سفارتی سائفر کی ریکارڈ سے چوری سنگین معاملہ ہے اور تفصیلی مشاورت کے بعد کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو تمام ملوث کرداروں سابق وزیراعظم، سابق پرنسپل سیکریٹری، سابق سینئر وزرا کے خلاف قانونی کارروائی کا تعین کرے گی‘۔
کابینہ کمیٹی میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ خارجہ، داخلہ اور قانون کے وزرا شامل ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے دوران اس ’امر پہ شدید تشویش کااظہار کیا گیا کہ سفارتی سائفر سے متعلق سابق وزیراعظم، سابق پرنسپل سیکریٹری اور دیگر افراد کی یکے بعد دیگرے سامنے آنے والی آڈیوز نے سابق حکومت اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی ہے‘۔
وفاقی کابینہ نے بتایا کہ ’ایک سفارتی سائفر کو من گھڑت معنی دے کر سیاسی مفادات کی خاطر اہم قومی مفادات کا قتل کیا گیا اور فراڈ، جعل سازی کے بعد اسے چوری کر لیا گیا‘۔
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ آئینی حلف، دیگر متعلقہ قوانین، ضابطے خاص طور پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ ریاست کے خلاف ناقابل معافی جرائم کا ارتکاب ہے، جس کے ذریعے کلیدی ریاستی مفادات پر سیاسی مفادات کو فوقیت دی گئی ہے‘۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’آئین، قانون اور ضابطے کے تحت لازم ہے کہ اس سارے معاملے کی باریک بینی سے چھان بین کی جائے اور ذمہ داروں کا واضح تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے‘۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر کے ساتھ سائفر کے حوالے سے مبینہ دو آڈیوز گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سامنے آئی ہیں۔
دوسری آڈیو آج (30 ستمبر) سامنے آئی، جس میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ’اچھا شاہ جی، کل آپ نے، ہم نے، تینوں نے اور سیکریٹری خارجہ نے میٹنگ کرنی ہے، اس میں ہم نے صرف کہنا ہے کہ وہ جو لیٹر ہے نا اس کے چپ کر کے مرضی کے منٹس لکھ دے، اعظم خان کہہ رہا ہے کہ اس کے منٹس بنا لیتے ہیں، اسے فوٹو اسٹیٹ کرا لیتے ہیں’۔
اس موقع پر ایک اور آواز سنی جاسکتی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اعظم ہیں، وہ پوچھتے ہیں کہ ’یہ سائفر 7 یا 8 تاریخ کو آیا تھا؟‘ مبینہ طور پر عمران خان کہتے ہیں کہ ’ملاقات 7 تاریخ کو ہوئی تھی‘۔
عمران خان کہتے ہیں کہ ’ہم نے تو امریکیوں کا نام لینا ہی نہیں ہے، کسی صورت میں، اس ایشو کے اوپر پلیز کسی کے منہ سے امریکا کا نام نہ نکلے، یہ بہت اہم ہے آپ سب کے لیے، کس ملک سے لیٹر آیا ہے، میں کسی کے منہ سے اس کا نام نہیں سننا چاہتا‘۔
اس دوران مبینہ طور پر اسد عمر کہتے ہیں کہ ’لیٹر نہیں ہے، میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے‘، اس پر عمران خان کہتے ہیں کہ ’وہی ہے نا، میٹنگ کی ٹرانسکپرٹ اور لیٹر ایک ہی چیز ہے، لوگوں کو ٹرانسکرپٹ تو نہیں سمجھ آنی تھی نا، آپ پبلک جلسے میں تو یہ کہتے ہیں‘۔
اس سے قبل 28 ستمبر کو بھی عمران خان کی ایک مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی، اس میں بھی مبینہ سائفر کے حوالے سے ہی اپنے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے بات کرتے ہوئے سنا جاسکتا تھا۔
آڈیو کی ابتدا میں مبینہ طور پر عمران خان نے کہا تھا کہ ’ہم نے بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر، نام نہیں لینا امریکا کا، صرف کھیلنا ہے کہ یہ تاریخ پہلے سے تھی اس کے اوپر‘۔
گفتگو میں مبینہ طور پر اعظم خان نے کہا تھا کہ ’میں سوچ رہا تھا کہ یہ جو سائفر ہے میرا خیال ہے ایک میٹنگ اس پر کر لیتے ہیں، دیکھیں آپ کو یاد ہو تو سفیر نے آخر میں لکھا تھا ڈیمارش کریں‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ڈیمارش نہیں بھی دینا تو میں نے رات کو اس پر بہت سوچا کہ اس کو کس طرح کور کرنا ہے، ایک میٹنگ کرتے ہیں جس میں شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری خارجہ ہوں گے‘۔
خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں ایک جلسے کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی جیب سے خط نکال کر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ان کی بیرونی پالیسی کے سبب ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ تھی اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز بھیجے گئے۔
اگرچہ انہوں نے ابتدائی طور پر دھمکی آمیز خط کے بارے میں کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں لیکن اس کے بعد ناقدین کی جانب سے ان کے دعوے پر شک کرنے کی وجہ سے تھوڑی تفصیلات دیں۔
سابق حکومت نے ابتدائی طور پر اس خط کو چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی، لیکن بعد میں وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کے ارکان کو خط کے مندرجات سے بھی آگاہ کیا۔
خفیہ دستاویزات کے افشا ہونے پر قانونی پابندی کے پیش نظر صحافیوں کے ایک گروپ کو وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران کابینہ کے اجلاس کے نکات فراہم کیے گئے تھے۔
اس ملاقات میں کسی غیر ملکی حکومت کا نام نہیں لیا گیا لیکن میڈیا والوں کو بتایا گیا کہ میزبان ملک کے ایک سینئر عہدیدار نے پاکستانی سفیر کو کہا تھا کہ انہیں وزیر اعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر ان کے دورہ روس اور یوکرین جنگ سے متعلق مؤقف پر مسائل ہیں۔
مبینہ طور پر یہ سفارتی کیبل 7 مارچ کو اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے اور اس پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے سے ایک روز قبل بھیجی گئی تھی۔
دریں اثنا علیحدہ طور پر یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ یہ سفارتی کیبل امریکا میں پاکستان کے اُس وقت کے سفیر اسد مجید نے کے معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور، ڈونلڈ لو سے ملاقات کی بنیاد پر بھیجی تھی۔
بعد ازاں پی ٹی آئی حکومت نے اس سفارتی کیبل کو اپنا اقتدار ختم کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے اس پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا تھا۔
اجلاس میں مراسلے کو پاکستان کے معاملات میں ’کھلی مداخلت‘ قرار دیتے ہوئے اس کا سفارتی طور پر جواب دینے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔
حکومت کی تبدیلی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اور اجلاس ہوا تھا جس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کو اعلیٰ ترین سیکیورٹی ایجنسیوں نے دوبارہ مطلع کیا ہے کہ انہیں کسی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
اجلاس کے دوران قومی سلامتی کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کو لندن میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے، بدکلامی، بدتہذیبی کانشانہ بنانے اور ہجوم کی صورت میں گھیراؤ اور پیچھا کرنے کی شدید مذمت کی گئی۔
اجلاس نے کہا کہ اسلام، تہذیب، قانون اور سیاسی کلچر میں اس نوعیت کے کسی منفی رویے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، یہ محض غنڈہ گردی ہے جس کی کوئی معاشرہ اجازت نہیں دے سکتا۔
اس حوالے سے کہا گیا کہ مریم اورنگزیب کی مثالی تحمل مزاجی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ خواتین کے بارے میں عمومی طور پر پی ٹی آئی اور اس کے چئیرمین کا رویہ ہمیشہ ہی متعصبانہ اور توہین آمیز رہا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
اجلاس کے میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وفاقی کابینہ نے وزارتِ قانون اور انصاف کی سفارش پر ریکوڈک کے حوالے سے وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کی تعمیر کے بارے میں سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کی طرف سے وضاحتی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ ریفرنس میں فارن انوسٹمنٹ (پروٹیکشن اینڈ پروموشن) بل 2022 کی منظوری کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ داخلہ کی سفارش پر ایگزٹ کنڑول لسٹ (ای۔سی۔ایل) میں ناموں کی شمولیت اور اخراج کے لیے نئی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس۔او۔پی) 2022 کی منظوری دی۔
بیان میں کہا گیا کہ ان نئی ایس۔او۔پیز کے تحت ای سی ایل میں ناموں کی شمولیت اور اخراج کا طریقہ کار پہلے سے شفاف اور آسان بنایا گیا ہے۔
کابینہ نے اجلاس کے دورنا ای سی ایل میں 12 ناموں کی شمولیت اور 3 کے فہرست سے اخراج کی منظوری دے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker