تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : عمران خان اور آمرانہ طرز حکومت کی خواہش

قومی اسمبلی سے خطاب میں افغان جنگ کے دوران پاکستان کے نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کو ’دھمکانے‘ کے بعد اب چینی میڈیا سے گفتگو میں چین کے آمرانہ یک پارٹی نظام کو مغربی جمہوریت سے بہتر قرار دے کر پاکستانی عوام کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ عمران خان خبردار رہیں کہ اس ملک پر مطلق العنان حکمرانی کا خواب دیکھنے والے وہ پہلے لیڈر نہیں ہیں۔ ان سے پہلے بھی پانچ ستاروں والے کئی جنرل یہی نامکمل خواب دیکھتے رہے تھے لیکن انہیں منہ کی کھانا پڑی تھی۔
وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں امریکہ کے ساتھ حساب برابر کرنے کے علاوہ ملک میں جمہویت کے بارے میں بھی درد انگیز انداز میں باتیں کی تھیں ۔ اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم اور انتخابی اصلاحات کے ذریعے وہ ایسا نظام سامنے لانا چاہتے ہیں جس میں ہارنے والا بھی کسی تردد کے بغیر اپنی شکست قبول کرلے۔ اس لئے جمہوریت کی خاطر اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ حکومتی تجاویز کو اپوزیشن کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی آئین کی متعدد شقات سے متصادم قرار دے کر مسترد کرچکا ہے۔ لیکن عمران خان نے اصلاحات کو وقت کی ضرورت اور جمہوریت کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے انہیں منظور کرنے پر اصرار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت اور اپوزیشن کی نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کی بات ہے‘۔ وزیر اعظم کے برعکس اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ’متنازع انتخابی اصلاحات بل کو تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے جلد بازی میں پارلیمان سے پاس کروانے کا واحد مقصد اگلے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کی راہ ہموار کرنا ہے‘۔
انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں حکومت یا عمران خان کے منصوبوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن چینی کمیونسٹ پارٹی کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم نے چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جس انداز میں چین کے ایک پارٹی نظام کی توصیف کی ہے اور شخصی حکومت کو عوام کی بہبود کا بہترین حل بتایا ہے، اس سے جمہوریت سے ان کی ذہنی دوری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان آمرانہ طرز حکومت کومسائل کا بہتر حل سمجھتے ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ ایوب خان کے دور حکومت کی توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کو وفاق دشمن کہنے اور صدارتی نظام کی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششوں کا تعلق بھی عمران خان کی اسی خواہش سے ہے کہ انہیں تن تنہا ملک کے مسائل حل کرنے کا موقع مل جائے تو وہ اہل پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ اسی حوالے سے وہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور چینی صدر ژی جن پنگ کے طریقوں کی توصیف کرتے ہوئے متعدد بار اس بات پر تاسف کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان میں ’بدعنوان لیڈروں‘ کو نہ تو ہوٹل میں قید کرکے ان سے ناجائز دولت وصول کرسکتے ہیں اور نہ ہی چینی نظام کی طرح بدعنوانوں کو پھانسی پر لٹکانے کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ ملک کا قانون اور عدالتیں ان کا راستہ روک لیتی ہیں۔
عمران خان کی دلی خواہش تو یہی ہے کہ نہ صرف سرکاری اہلکار ان کے تابع فرمان ہوں بلکہ عدالتیں بھی ان کی مرضی و منشا کے مطابق فیصلے صادر کریں۔ ان کی حکومت خود مختاری سے فیصلے کرنے والےججوں کے خلاف چارہ جوئی کی کوشش بھی کرچکی ہے اور اب ان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے فوری طور سے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دینا شروع کیا ہے۔ حال ہی میں ایک ٹوئٹ میں فواد چوہدری نےدعویٰ کیا کہ ’جوڈیشل ایکٹو ازم کی وجہ سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے‘۔ وفاقی وزیر نے کسی اعداد و شمار اور شواہد کےبغیر یہ دعویٰ سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے نیشنل بنک کے صدر اور بورڈ آف گورنرز کے چئیرمین کی تقرریوں کو خلاف قانون قرار دے کر معطل کرنے کے واقعات کو ’ناقابل یقین‘ کہتے ہوئے کیا تھا۔ حکومت اس سے پہلے ملکی میڈیا کو مکمل طور سے سرکاری کنٹرول میں لانے کا اہتمام کرچکی ہے۔ اب اس کی خواہش ہے کہ کسی طرح اعلیٰ عدالتوں کے آئینی اختیارات کو بھی سلب کرلیا جائے تاکہ کسی سرکاری فیصلہ کو میرٹ اور قانون کی روشنی میں پرکھنے کا سلسلہ بند ہوسکے۔
ستم ظریفی یہ کہ چینی میڈیا کو انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے چین کمیونسٹ پارٹی کو اس بنیاد پر مغربی جمہوریت کا بہتر متبادل قرار دیا کیوں کہ اس میں میرٹ پر کام ہوتا ہے۔ صدر ژی جن پنگ جیسا عام شخص ترقی کرتے ہوئے ملک کا حکمران بن سکتا ہے اور بدعنوانی کرنے والے عناصر کا احتساب کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کمیونسٹ پارٹی کی نگرانی میں احتساب اور میرٹ کے جس نظام کی عمران خان توصیف کررہے ہیں، اس میں فرد واحد ہی فیصلے کرنے کا مجاز ہے اور اسی کی مرضی و منشا سے کوئی شخص پارٹی میں ترقی یا تنزلی پاتا ہے۔ چین کے آمرانہ نظام میں بھی وہی لوگ کرپٹ قرار پاتے ہیں جن کے بارے میں ’سیاسی سرکشی‘ کا اندیشہ ہو۔ جیسے سعودی عرب کے ولی عہد ایم بی ایس کو انہی شہزادوں اور شیوخ سے ناجائز دولت وصول کرنے کا خیال آتا ہے جن پر ملک کے سیاسی نظام کے بارے میں متبادل رائے رکھنے اور اس کا پرچار کرنے کا شبہ کیا جاتا ہے۔ عجب نہیں ہے کہ عمران خان کو یہ دونوں نظام بہت بھاتے ہیں۔ وہ بھی اپنے تمام سیاسی مخالفین کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں اور ملکی مسائل کا حل شخصی حکومت اور ایک پارٹی نظام میں تلاش کررہے ہیں۔
یوں تو عمران خان اپنے بارے میں ایسی خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر ان کے بس میں ہو تووہ پاکستان کو مفتوحہ علاقہ قرار دے کر اپنی بادشاہت کا اعلان کردیں۔ اور ان کے حواری ان کی تاج پوشی کا اہتمام کرتے ہوئے اسے پاکستانی عوام پر احسان عظیم قرار دیں۔ لیکن اس ملک کے عوام کے جمہوری شعور اور سیاسی مزاحمت کی روشن تاریخ کی وجہ سے وہ ایسا حوصلہ نہیں کرسکتے۔ اسی لئے آمرانہ نظام ہائے حکومت کی خوبیاں بتاکر اور جمہوریت کے نقائص واضح کرکے وہ اہل پاکستان کو یہ ’مت‘ دینے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں کہ اب بھی وقت ہے پھر شاید انہیں ایسا ہونہار شخص نہ ملے جو ہر شعبہ کا ماہر ہے اور ملکی مسائل کا حل جس کی ہتھیلی پر دھرا ہے۔ بس ایک ہی اڑچن ہے کہ اسے مزید دو سال بعد ایک بار پھر عوام کے پاس جا کر ووٹ مانگنا پڑیں گے۔ یعنی اپنی کارکردگی کا حساب دینا ہوگا۔ تب لوگ یہ جائزہ لیں گے کہ گزشتہ پانچ برس میں اس شخص اور اس کی پارٹی نے کون سے ایسے کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ اسے پھر حکومت کا موقع دیا جائے۔ چینی میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے عمران خان نے دراصل یہی شکوہ کیا ہے کہ جس حکومت سے ہر پانچ سال بعد جواب مانگا جائے گا وہ کیسے طویل المدت منصوبہ بندی کرسکتی ہے؟ بس انہیں پاکستان کا ایم بی ایس یا ژی جن پنگ بنا دو تب وہ پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔
اسی گمان کو حقیقت بنانے کی کوشش میں ماضی کے آمروں نے ملک سے قانون و اخلاقیات، تحمل و بردباری، احترام و شائستگی اور مکالمہ کا خاتمہ کیا۔ ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ آئین کو بار بار پامال کیا گیا اور ججوں کو اسی آئین کے خلاف فیصلے صادر کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے تحت انہوں نے اپنےعہدوں کا حلف اٹھایا تھا۔ جو موقع ماضی کے یہ حکمران اپنی فوجی طاقت کے باوجود حاصل نہ کرپائے کیوں کہ وہ عوامی جلال کی تاب نہیں لاسکے تھے، وہی موقع عمران خان اب تاحیات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق کوئی امید بر نہیں آتی۔ حالانکہ سچائی، ایمانداری اور ہر شعبہ کی مہارت کا ایسا بے ڈھنگا راگ تسلسل سے الاپا جارہا ہے کہ خدا کی پناہ۔ عمران خان اگر ملک میں آمریت نافذ کرنے کی خواہش کے بھیانک سایے کا پیچھا کرنے کی بجائے وزیر اعظم کے طور پر اپنے وقت کو بہتر منصوبہ بندی کے لئے صرف کرتے، سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کی تگ و دو کی بجائے قانون اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیتے اور 2023 کے بعد کیا ہوگا کے غم میں دبلا ہونے کی بجائے جو وقت ملا تھا اس میں وسیع تر قومی ہم آہنگی پیدا کرتے اور پاکستان میں یک جہتی کے ذریعے قومی وقار کو فروغ دینے کی کوشش کرتے تو مخالفین کو بھی انہیں ایک بڑا لیڈر ماننا پڑتا۔ لیکن بڑا کہلوانے کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان کی حکومت دعوؤں کے علاوہ کچھ کرنے کی اہل نہیں ہے۔بزعم خویش مغربی دنیا میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے بارے میں تعصبات کے خلاف آواز اٹھانے کے دعوے دار عمران خان نے چینی میڈیا کو یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی حکومت سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے بارے میں مغربی پروپیگنڈا کی بجائے چین کے سرکاری مؤقف کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے عمران خان مطالبہ کریں کہ پاکستان میں جمہوریت اور میڈیا کی آزادی کے بارے میں زمینی حقائق اور عالمی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹوں کی بجائے سرکاری بیانات کو سچ مانا جائے۔
اندھیرے کو روشنی اور ظلم کو راحت کہنے سے اگر حالات تبدیل ہوجاتے تو پاکستان واقعی ایک مثالی ملک ہوتا لیکن عمران خان نے بتایا ہے کہ پاکستان کو مثالی بنانے کے لئے عمر ان خان کو تخت نشین ہونے کی دعوت دینا ضروری ہے۔ اب یہ فیصلہ تو پاکستانی عوام ہی کرسکتے ہیں کہ کیا وہ ایک ایسے لیڈر پر دوبارہ اعتبار کریں گے جو ووٹ سے حکمرانی کا جواز لینے کے بعد عوام کے حق حکمرانی کو ناکام طرز حکومت ثابت کرنے کے لئے دلائل کے انبار لگا رہا ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker