( گزشتہ سے پیوستہ )
جیسا کہ پہلے اشارے کئے گئے لائق احترام استاد یونیورسٹی اساتذہ کی ایسوسی ایشن کے از حد متحرک کارکن تھے اور اس وقت(1977/78) طالب علموں کی یونینیں فعال اور بہت زور آور ہوا کرتی تھیں اور ہمارے کئی ساتھی اس طرف بھی دیکھ رہے تھے اس وقت یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلباء کی یونین تھی اور مذکورہ استاد محترم بائیں بازو کے نظریات کے ہمدرد شمار ہوتے تھے اس لئے یونین کی بے جا دخل اندازی کا شدید خطرہ تھا۔ بہرحال ہماری کلاس نے گرما گرم بحث کے بعد متفقہ طور پر کلاسوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا اگلے دن سے اس فیصلے پر عمل شروع کردیا گیا دیکر اساتذہ نے فریقین کو سمجھانے بجھانے کی کوششیں شروع کردیں لیکن فریقین ایک دوسرے سے معافی مانگنے کے تقاضے پر ڈٹے ہوئے تھے وقت گزرنے کے ساتھ تناو بڑھتا جارہا تھا اور یونین کے کئی عہدیدار ہماری کلاس سے رابطہ کرنے لگے تھے اس بات پر فاروق مشہدی سخت پریشان تھا اگرچہ جو کچھ غصے میں محترم استاد کے منہ سے نکلا تھا اس پر فاروق جیسا نفیس اور مہذب شخص بہت آزردہ بھی تھا اس کا کہنا تھا کہ ایسی بات تو انتہائی غصے میں کبھی میرے والد نے بھی نہیں کہی یہ درویش بھی اس سے متفق تھا لیکن جب وائس چانسلر سے ملاقات کرکے باقاعدہ شکایت اور طلبا یونین کو ملوث کرنے کی بات آگے بڑھنے لگی تو ہم دونوں نے اس کی کھل کر مخالفت کی اس پر باہم سخت تلخی بھی ہوئی اور ہمیں میٹنگ سے چلے جانے کو کہا گیا جس کا ہمیں بہت صدمہ ہوا اور ہم نے خاص طور پر اس درویش نے کھل کر اس بات کی مخالفت کا اعلان کردیا(کیونکہ فاروق کا یہ مزاج نہیں تھا لیکن وہ میرے ساتھ ضرور تھا) میں نے چند معتدل دوستوں، خاص طور پر لڑکیوں سے بات کی جو تھوڑے بحث مباحثے کے بعد ہماری ہم خیال بن گئے(خیریت ہوئی کہ ہماری کلاس میں فاروق کے علاوہ کوئی "جماعتیا” نہیں تھا ورنہ بات بگڑ سکتی تھی) اور یوں احتجاج کے مذکورہ "خطرناک” منصوبے آگےنہ بڑھ سکے اور معاملہ شعبے تک ہی محدود رہا ۔ چند دنوں میں دیگر اساتذہ کے سمجھانے بجھانے پر مذکورہ محترم استاد نے کلاس میں آکر طالب علموں سے معذرت کرلی جس پر معاملہ رفع دفعہ ہوگیا ۔
محاذ آرائی کے ان دنوں فاروق کی پریشانی دیدنی تھی وہ بار بار کہتا یار کیا کریں ہماری تو دونوں فریقوں نے سنی ہی نہیں میں اسے تسلی دیتا "شاہ جی، پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہوجائے گا”
ہم دونوں پریشان اس خدشے پر تھے کہ بات اور آگے بڑھی یا تو خدانخواستہ کچھ طالب علم خارج نہ کردیئے جائیں یا پھر محترم استاد (جو یونیورسٹی میں نئے آئے تھے اور ابھی پروبیشن پرتھے۔۔۔اور انہی دنوں یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے دو اساتذہ کو اسی طرح کے تنازعات پر یونیورسٹی چھوڑنی پڑی تھی) یونیورسٹی سے جانا نہ پڑ جائے اپنی مذکورہ غداری باعث ہم کسی بھی سانحے سے بچ گئے۔
قصہ مختصر اس معاملے کے نمٹ جانے کے بعد ہم دونوں باہم ہنس کر کلام کرتے "ہمارے ساتھ خوب ہوا ہم دونوں فریقوں کی نظر میں برے بھی بنے لیکن معاملہ سدھرنے پر کسی نے ہمارا شکریہ تک ادا نہیں کیا ”
اوپر طلباء یونین اور طلبا سیاست کا ذکر ہوا جیسا کہ اشارہ کیا گیا فاروق مشہدی اگرچہ کسی طرح کی سیاسی سرگرمیوں سے دور رہتا تھا لیکن اس کی اٹل ہمدردیاں اسلامی جمعیت طلباء کے ساتھ ہوا کرتی تھیں کیونکہ اس کے والد سید محمد ابراہیم شاہ ایک سکول میں استاد تھے اور مولانا مودودی کے بہت معتقد تھے یہاں تک کہ اس کے چھوٹے بھائی محمد اسحاق مشہدی نے فاروق کے بارے میں اپنے ایک حالیہ دلچسپ مضمون میں لکھا ہے کہ ان کا نام "احمد فاروق” بھی مولانا مودودی کے ایک صاحب زادے کے نام پر رکھا گیا تھا۔ انہی دنوں (1978) طلبا یونین کا الیکشن ہوا تو ہمارے دوست شعیب عتیق اتفاق سے جمیعت مخالف ترقی پسند/ لبرل پینل میں بطور نائب صدر امیدوار تھے شعبہ اردو کی دونوں کلاسیں اس کی اور ترقی پسند پینل کی حمایت میں کم وبیش متحد ہو گئیں ۔۔۔
الیکشن کا دن آیا تو ہم خوش تھے کہ جمیعت کو ادھر پولنگ ایجنٹ بھی نہیں مل رہا لیکن ہماری حیرت کہ انتہا نہ رہی جب سید احمد فاروق مشہدی ہماری کلاس اور جونیئر کلاس میں سید بابر علی جمیعت کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر آکر بیٹھ گئے اگرچہ بعد میں شعبہ اردو سے جمیعت کو صرف دو چار ہی ووٹ ملے اور شعیب الیکشن جیت کر یونین کا نائب صدر بن گیا تو ہم سب نے فاروق کا قصور معاف کردیا اس الیکشن میں صدر کے عہدے پر اپنے دوست ارشد منظور خان کی پانچ سات ووٹوں سے ہار پر ہم افسردہ بھی تھے لیکن ہمیں پتہ تھا کہ موصوف کو اس کا ایک نام نہاد معاشقہ لے ڈوبا ہے خیر یہ ایک الگ کہانی ہے۔
بات ایک معاشقے کی چلی ہے تو فاروق کی عشق پیشگی کا بھی کچھ ذکر ہوجائے (ہمارے دو اساتذہ ڈاکٹر نجیب جمال اور ڈاکٹر انوار احمد نے فاروق کے بارے میں لکھی گئی اپنی تحریروں میں اس کی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں لکھ ڈالا ہے تو یہ درویش جو اس سےبے تکلف دوستی کا دعوٰی رکھتا ہے خاموش رہا تو آپ میرے دعوے پر شک کرینگے) تو عرض ہے کہ احمد فاروق شاہ مشہدی اپنے دور طالب علمی سے ہی ایک اچھا رومانی شاعر اور بہت حسن پرست عشق پیشہ شخص تھا۔۔ کوئی حسین چہرہ دیکھتے ہی وہ بس پگھل کر رہ جاتا تھا اور اپنی اس کیفیت کو قریبی دوستوں سے چھپا نہیں پاتا تھا اگرچہ ابتدا میں ہر نوگرفتارعشق کی طرح ہدف محبت سے بات کرنے کی ہمت اس میں بھی کم ہی تھی لیکن وہ اپنی روایتی حیا کے باوجود ہم سب میں بازی لے گیا اس کا تذکرہ آگے آتا ہے۔
شعبہ اردو میں داخلہ لیا تو سب کو صنف مخالف سے اس انداز میں ملنے کا پہلا موقع ملا تھا اس لئے اکثر لوگ گھبرائے یا شرمائے ہوئے تھے ۔ ایک عرصے تک ہم سب ہم جماعتوں کا اپنا اپنا دیہاتی حجاب صنف لطیف سے رابطوں میں اس قدر حائل و حارج رہا کہ پہلا سمسٹر بغیر کسی لڑکی سے کچھ زیادہ کلام کئے ہی گزر گیا اس کی ایک بڑی وجہ راو تسنیم مرحوم کی ذات با برکات بھی تھی جو تقریبا روزانہ ہی کوئی شوشا چھوڑ دیتا مثلاً کبھی وہ کہتا "دیکھو یار آج ہم کلاس میں گئے ہیں تو فلاں ( لڑکی) نے کیسے منہ بنایا۔۔۔ کبھی یہ کہ فلاں لڑکی نے فلاں کتاب اشو کروا لی جب کہ نکال کے ہم نے رکھی تھی اور وہ طنز سے ہنستی ہوئی کتاب لے کر چلی گئی ۔۔۔۔ کبھی یہ کہ کینٹین پر سب اکٹھی بیٹھی تھیں ہمیں دیکھا تو کیسے ہنسنے لگیں۔۔۔؟ یا اٹھ کر چل دیں وغیرہ وغیرہ ” اور پھر اسی طرح کی بے تکی باتوں پر (مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت ہماری پینڈو انا کو یہ باتیں اتنی بےتکی نہیں لگتی تھیں) وہ جلال میں آکر کہتا
” ۔۔۔ یہ سسری ہمیں سمجھیں کیا ہیں ؟۔۔۔ ان سالیوں کا ہمیں بھی مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے”
وہ یہ سب کچھ اس بے ساختہ جوش و جذبے اور "خلوص” سے کہتا اور پھر سب کو کہتا اب ہمیں بھی یہ۔۔ یہ۔۔۔ کرنا چاہئے وہ اپنی ان باتوں کو اصولوں کا درجہ دے کر ان کے حق میں گھنٹوں بول سکتا تھا شادی شدہ ہونے کی بنا پر وہ اس سلسلے میں ہم سب میں "تجربہ کار” ہونے کا داعی بھی تھا اس لئے سبھی اس کوہ ندا کے شوروغل کے آگے چپکے رہ جاتے۔ علاوہ ازیں وہ اپنے ان خود ساختہ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایسی ایسی قسمیں ( اور بد دعائیں)دیتا اور ساتھ ہی ایسی ایسی بےساختہ اور نادر روہتکی گالیوں سے نوازتا کہ کچھ ازلی پینڈو اس کے مخلص ہمنوا بھی بن جاتے تھے عام طور پر یہ ساری کارر وائی ہاسٹل کے کمرے میں ہوا کرتی تھی اور یونیورسٹی میں وہ کسی الگ تھلگ کونے میں کھڑا سگرٹ پھونکتے ہوئے کڑا پہرا بھی دیا کرتا اس کی ہدایات کی پیروی کرنے والوں کو مفت میں سگریٹ اور اسے جس سے زیادہ اطمینان ہوتا اسے چائے اور سموسے ملا کرتے۔ دو سید بچے (فاروق شاہ اور یہ درویش ) ایک متشدد راجپوت (راوتسنیم ) کی اس عادت سے سخت نالاں تھے اور اس کے خود ساختہ اصولوں کی گرفت سے راہ فرار کے منصوبے بنا بنا کر رہ جاتے اور انہیں کچھ ہمت نہ ہوتی یا یوں کہیے کہ موقع ہی نہ ملتا ۔
اس حوالے سے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہاسٹل میں یا کینٹین پرہماری محفلوں میں محض مذکورہ بالا باتیں ہی نہیں ہوتی تھیں بلکہ باتوں ہی باتوں میں سب کی پسندیدگی کے بھید بھی کھل چکے تھے ، ان محفلوں میں چند عفیفاوں کے خصوصی تذکرے رہتے اور متعلقین کو ان کے ذکر اذکار سے چھیڑا بھی جاتا تھا یہاں ایک مزے کی بات یہ تھی کہ شاہ جی( فاروق) اور راو صاحب کی دلبستگی کا سبب اور ہدف ایک ہی تھا اگرچہ راو صاحب شادی شدہ ہونے کے باعث نمبر کٹوا بیٹھتے تھے(جس کا انہیں سخت قلق تھا) ممکن ہے ان کی تلخی اور مذکورہ بالا رویے کا غیرشعوری سبب یہی ہو۔۔۔ خیر ادھر
کون کس کو چاہتا ہے ہی معمہ رہ گیا والی بات نہیں تھی البتہ مسلسل دوریوں کے باعث مخالف فریق ایک عرصے تک ہر بات سے بے خبر ہی رہے ایک دن یہ کفر بھی خود راو تسنیم کے باعث ہی ٹوٹا شاید مارچ (1977) کا مہینہ تھا ہم لوگ حسب معمول ایک گراونڈ کے ایک کونے میں حسرت زدہ سے کھڑے ہوئے آتی جاتی رونقوں اور بہار کے رنگوں کو دیکھ رہے تھے کہ راو تسنیم کے منہ سے آہ سی نکلی کسی نے کہا "کیا ہوا راو صاحب؟”
راو چپ کھڑا ایک سمت بس دیکھے جارہا تھا ہماری نظریں بھی ادھر کو اٹھ گئیں بہار کے رنگوں میں ملبوس ایک بت طناز کوریڈور میں اس اناز سے آتی دکھائی دی کہ جیسے بہاریں اسی کی راہ تک رہی ہوں سب نے پھر راو کی طرف دیکھا راو کے منہ سے بے ساختہ نکلا "مجسم بہار کا موسم !” میں نے بھی بےساختہ ہی کہا
"تو ہمت کرو راو جا کر کہہ دو اس سے!”
راو ایک ازلی بزدل لیکن تھا تو رانگڑ ہی چڑ کر بولا ” میں ایویں ای کہہ دیوں ۔۔؟ تیں جاکے کہہ دے ناں بڑا بہادر بنے ہے!”
مجھے نہ جانے کیا سوجھی میں نے کہا "جو کہہ دیا پھر لگتی ہے کوئی شرط ؟”
” ہاں میں سب کو چائے پلاوں گا اور سموسے بھی!”
"اس میں میرا کیا فائدہ؟ رسک لوں میں اور مزے سب کریں نہ بھئی مجھے وارے نہیں کھاتا۔” میں نے فرار کی ایک راہ تلاش کی لیکن راو موڈ میں تھا بولا چلو دس روپے بھی ! میں نے کہا "بیس روپے کی تو گولڈ لیف پی جاتے موٹے شرط کے صرف دس روپے؟ ”
خیر معاملہ پچیس روپے پر طے ہو گیا لیکن مڑ کے دیکھا تو خاتون غائب ، میں نے سکھ کی سانس لی ہی تھی کہ موصوفہ لائبریری کی طرف سے اکیلے ہی واپس آتی دکھائی دیں اب مرتا کیا نہ کرتا مذبح خانہ کی طرف جاتی بکری کی طرح میں نے ادھر قدم بڑھائے کیونکہ میرے لئے شرط کے پچیس روپے ادا کرنا بہت مشکل تھا ۔۔۔ فاروق مشہدی گواہی کے بہانے میرے ساتھ ہو لیا راستے میں میں نے اس سے کہا "یار شاہ جی پسند تو تمہاری ہے۔۔۔ بنتی تو یہ ہے کہ اس کی تعریف تم ہی کرو کہ بات دل سے تو نکلے گی اور شاید اثر بھی کرہی جائے”
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

