اسلام آباداہم خبریں

توہین عدالت کیس: عمران خان خاتون جج سے معافی مانگنے کو تیار، فرد جرم کی کارروائی مؤخر

اسلام آباد : ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت کے دوران عمران خان نے کہا ہےکہ میں خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے خاتون جج سے معافی کے لیے رضامندی ظاہر کی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہمارے لیے توہین عدالت کاروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روک رہی ہے۔عمران خان نے دوران سماعت کہا کہ میرے علاوہ کوئی یہ بات نہیں کرتا، عدالت کو لگتا ہے کہ میں نے اپنی حد پار کی، خاتون جج کو دھمکانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
اسلام آبادہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عمران خان ایک ہفتے کے اندر بیان حلفی جمع کرادیں،خاتون جج کے پاس جانا یا نہ جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہوگا، اگر آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اگر عدالت کہے تو میں خاتون جج کے سامنے جا کر معافی مانگنے کو تیار ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت آپ کا بیان ریکارڈ کر لے گی، عمران خان نے کہا کہ کیا بیان حلفی کے علاوہ عدالت کو مطمئن کرنے کا کوئی آپشن موجود ہے؟ جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نہیں، آپ کو بیان حلفی جمع کرانا ہو گا، آپ نے جو کہا اس کا ایک بیان حلفی جمع کرائیں، جو کچھ آپ نے کہا اس عدالت نے آپ کو کہنے کا نہیں کہا تھا۔
اس کے ساتھ ہی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی آئندہ سماعت 3 اکتوبر ملتوی کردی گئی۔قبل ازیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حقیقی آزادی کے لیے مافیا سے جنگ لڑ رہا ہوں، عدلیہ سے کبھی نہیں لڑوں گا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker