اہم خبریں

’پاکستان میں خواتین کے ساتھ مغرب کے مقابلے میں بہتر سلوک کیا جاتا ہے‘ : عمران خان

واشنگٹن : پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس سے بات کرتے ہوئے ریپ اور خواتین کے لباس میں سے متعلق اپنے گذشتہ بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریپ سے متاثرہ خاتون پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی بلکہ صرف اس کا ارتکاب کرنے والا ہی ریپ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک میں مغربی ممالک کے مقابلے میں ریپ کیسز بہت کم ہیں اور یہاں خواتین کے ساتھ زیادہ عزت و وقار سے پیش آیا جاتا ہے۔
پی بی ایس کے پروگرام نیوز آور کی میزبان جوڈی وڈرف سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور اس میں پاکستان کے کردار سے متعلق بات کرنے کے علاوہ ملک میں خواتین کے خلاف ریپ کے حوالے سے اپنے ماضی کے بیانات کی وضاحت کی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے اس بیان کو جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ’میں کبھی ایسی بیوقوفانہ بات نہیں کروں گا کہ ریپ کا نشانہ بننے والا اس کا ذمہ دار ہو گا، ریپ کرنے والا ہی ذمہ دار ہے۔‘
رواں برس تین اپریل کو عوام سے ‘براہ راست’ کال وصول کرنے والے ایک پروگرام میں ایک کالر کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’اگرچہ ریپ کے بارے میں حکومت نے سخت قوانین بنائے ہیں لیکن ایسے جرائم کے بڑھنے کی وجوہات کو بھی دیکھنا ہوگا اور ان میں سے ایک وجہ فحاشی کا پھیلنا ہے۔‘
جب ایچ بی او کے میزبان جوناتھن سوان کی جانب سے جون میں وزیراعظم عمران خان سے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کا لباس مردوں کو ریپ کی ترغیب کا باعث بنتا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ ‘اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اس کا اثر مردوں پر تو ہو گا اگر وہ روبوٹ نہ ہوئے تو۔’
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘میں یہ واضح کرتا چلوں، چاہے خاتون نے جیسا بھی لباس پہنا ہو یا وہ جتنی بھی ترغیب دینے والا ہو، وہی شخص اس کا ذمہ دار ہوتا ہے کبھی بھی متاثرہ خاتون ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔‘
’پردہ صرف خواتین تک ہی محدود نہیں ہے، یہ مردوں کے لیے بھی ہے‘
عمران خان سے جب پی بی ایس کے پروگرام نیوز آور کی میزبان کی جانب سے ان کے گذشتہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا گیا کہ آیا وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ ریپ کی ذمہ داری خواتین کے لباس پر عائد ہوتی ہے تو انھوں نے کہا کہ ’میرے اس حوالے سے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، میں پاکستان کے معاشرے کے تناظر میں یہ بات کر رہا تھا، جہاں سیکس سے منسلک جرائم میں اضافہ ہوا ہے، اور ان میں خواتین کے خلاف تشدد اور ریپ کے علاوہ بچوں کے خلاف تشدد بھی خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ میں نے اس انٹرویو میں ‘پردہ’ کا لفظ استعمال کیا تھا، اور پردہ صرف خواتین تک ہی محدود نہیں ہے، یہ مردوں کے لیے بھی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے معاشرے میں ترغیب کو کم کیا جائے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘میرے اس بیان کو جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، میں پہلے بھی انٹرویو دے چکا ہو، اور میں کبھی ایسی بیوقوفانہ بات نہیں کروں گا۔‘
عمران خان سے جب پوچھا گیا کہ آیا ملک میں اسلام کی جانب رجحان کے باعث وہ ریپ اور خواتین کے خلاف تشدد جیسے مسائل کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’ایسا بالکل بھی نہیں ہے، اسلام خواتین کو عزت اور وقار دیتا ہے۔ میں پوری دنیا میں گھوم چکا ہوں، لیکن پاکستان میں اور دیگر مسلمان ممالک میں خواتین کے ساتھ بہت عزت اور وقار کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مغربی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو ہمارے ہاں ریپ کیسز بہت کم ہیں۔ ہمارے ہاں ثقافتی مسائل ہیں، ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ لیکن ان پر ثقافتی ارتقا اور تعلیم کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن میں آپ کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ معاشرہ خواتین سے دیگر معاشروں کے مقابلے میں بہتر سلوک کرتا ہے۔‘
عمران خان سے اس انٹرویو کے دوران زیادہ تر سوالات افغانستان کی موجودہ صورتحال، اس میں پاکستان کے کردار اور امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق کیے گئے۔افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے افغانستان میں سب گڑبڑ کر دیا ہے، وہ اس تنازع کا فوجی حل تلاش کرتے رہے، جب ایسا کچھ تھا ہی نہیں اور میرے جیسے لوگ جو افغانستان کی تاریخ کو جانتے تھے بارہا یہ کہتے رہے کہ اس مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے تو مجھے امریکہ مخالف اور طالبان خان کے القابات دیے گئے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نہیں معلوم کہ ان کا افغانستان میں کیا کرنے کا ارادہ تھا، وہ قوم بنانا چاہتے تھے، جمہوریت لانا چاہتے تھے، خواتین کو آزاد کرنا چاہتے تھے ان کا طریقہ کار مسئلہ کا حل ہرگز نہیں تھا۔‘
‘جب انھوں نے آخر کار یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ جب یہاں ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجی موجود تھے تو وہ موقع تھا کہ اس کا سیاسی حل تلاش کیا جاتا۔ جب ان کے افغانستان میں 10 ہزار فوجی باقی رہ گئے، اس وقت انھوں نے یہاں سے انخلا کی تاریخ دے دی جو افغان طالبان کے نزدیک ان کی فتح تھی۔ اب انھیں سیاسی حل پر مجبور کرنا انتہائی مشکل ہے۔’
عمران خان سے جب افغان تنازع کے حل سے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ‘اس کا بہترین نتیجہ دراصل سیاسی حل ہی ہو گا، جہاں ایک ایسی حکومت بنائی جائے جو تمام جماعتوں کو شامل کرتے ہوئے بنائی جائے، جس میں افغان طالبان کا بھی حصہ ہو۔
’لیکن اس کا بدترین نتیجہ وہاں خانہ جنگی ہو گی، پاکستان کے تناظر میں بھی یہ بدترین اس لیے ہے کیونکہ پناہ گزینوں کا مسئلہ بھی درپیش ہو گا۔ پاکستان پہلے ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا تھا اور اب اگر مزید پناہ گزین آتے ہیں تو ہماری معاشی صورتحال ہمیں ان کی میزبانی کی اجازت نہیں دیتی۔’
انھوں نے کہا کہ دوسرا خدشہ یہ ہے کہ خانہ جنگی پاکستان میں بھی داخل ہو جائے گی کیونکہ طالبان نسلی اعتبار سے پشتون ہیں، اور افغانستان کے مقابلے میں پاکستان زیادہ پشتون آبادی بستی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ‘اگر خانہ جنگی کا آغاز ہوتا ہے، تو ہمارے ملک میں موجود پشتون بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں جو ہم نہیں چاہتے۔’
عمران خان سے جب پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکہ کے ساتھ گذشتہ رشتہ لین دین کا تھا، جس میں پاکستان کو کرائے کے قاتل کے طور پر استعمال کیا گیا۔ امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ پاکستان اس جنگ میں اس لیے شامل ہوا کیونکہ اسے امداد دی گئی تھی، لیکن پاکستان میں یہ محسوس کیا جاتا رہا کہ اسے اس جنگ میں شریک ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
‘پاکستان میں یہ تاثر بھی ہے کہ ہم نے امریکہ کی جنگ لڑی، اس کے نتیجے میں جتنا معاشی نقصان اٹھایا اس کے بدلے میں ہمیں بہت کم امداد دی گئی، اور پھر ہم ہی پر الزام تراشی بھی کی گئی۔’
اب پاکستان کی پوزیشن بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ ہم طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے آپ کی مدد کر سکتے تھے جو ہم نے کیا۔ لیکن اگر وہاں خانہ جنگی ہوئی تو ہم فوراً اس میں پھنس جائیں گے، اور یہاں دہشتگردی دوبارہ سے شروع ہو جائے گی جو ہم نہیں چاہتے۔
جوڈی وڈرف نے جب عمران خان سے امریکہ کی جانب سے افغان طالبان کی مبینہ فوجی اور انٹیلیجنس حمایت سے متعلق الزامات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ یہ انتہائی غیر منصفانہ بات ہے۔
انھوں نے کہا کہ ‘جب ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم طالبان کو یہاں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں، تو وہ پناہ گاہیں کہاں ہیں؟ جب ہم آپ سے کہتے ہیں کہ یہاں 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں جن کے پانچ ہزار سے ایک لاکھ افراد پر محیط کیمپس بھی ہیں، اور طالبان کوئی فوجی گروہ نہیں ہے، وہ عام سویلین ہیں اور اگر ان کیمپوں میں کچھ طالبان موجود ہیں، تو پاکستان ان افراد کو کیسے پکڑ سکتا ہے اور آپ انھیں محفوظ پناہ گاہیں کیسے کہہ سکتے ہیں۔
عمران خان نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے 10 ہزار ‘جنگجوؤں’ کے افغانستان میں داخلے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘یہ 10 ہزار جنگوؤں کا افغانستان میں داخل ہونے کا دعویٰ جنھیں وہ جہادی جنگجو کہتے ہیں، بالکل بے بنیاد ہے۔ وہ ہمیں اس حوالے سے شواہد کیوں نہیں دیتے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ایک ملک 70 ہزار افراد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں گنوا دیتا ہے اور اس دوران اس کے خزانے کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو ہم دوبارہ ایسے تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
’جب ہم اس دہشتگردی کی جنگ کے عروج پر تھے، اور یہاں ہر روز خود کش دھماکے ہو رہے تھے، کاروبار بند ہو گئے اور سیاحت کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ تو اگر ہم اب دوبارہ افغانستان میں کسی تنازع کا حصہ بنتے ہیں تو ہم دوبارہ نشانہ بن سکتے ہیں۔ تو ہم امن میں شراکت دار ہو سکتے ہیں لیکن تنازع میں نہیں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker