تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : وزیر اعظم کا دورہ کابل اور پاکستان کو درپیش چیلنج

وزیر اعظم عمران خان نے کابل کا ایک روزہ دورہ کیا ہے اور افغان صدر کو قیام امن کے لئے پاکستان کی ہرممکن امداد کا یقین دلایا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب پاکستان میں اپوزیشن حکمران تحریک انصاف پر دباؤ میں اضافہ کررہی ہے۔ تو دوسری طرف امریکہ میں انتخاب ہارنے والے صدر ٹرمپ نے 15 جنوری تک افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد موجودہ ساڑھے چار ہزار سے کم کرکے اڑھائی ہزار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دفاعی تجزیہ نگاروں کے علاوہ نیٹو کے جنرل سیکرٹری ینس ستولتن برگ نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی جامع معاہدہ کے بغیر افغانستان سے امریکی افواج کی تعداد میں ڈرامائی کمی کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ اس رائے کے مطابق افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑنے سے یہ خطہ ایک بار پھر عالمی دہشت گردوں کا گڑھ بن جائے گا جس سے دنیا کے سب ممالک کو خطرہ لاحق ہوگا۔ اس سال کے شروع میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت اگرچہ امریکہ افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد میں قابل ذکر کمی پر آمادہ ہؤا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ و داعش سمیت کسی بھی عالمی دہشت گروہ کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ماہرین اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ زمینی حقائق سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی کہ طالبان نے عالمی دہشت گرد گروہوں سے ہمہ قسم قطع تعلق کرلیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے علاوہ عراق میں بھی امریکی فوج کی تعداد کم کرکے 2500 کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح اس پورے خطے میں مسلح جد و جہد کرنے والے گروہوں اور تشدد پر آمادہ عناصر کو تقویت حاصل ہوگی۔ ٹرمپ چونکہ صدارتی انتخاب ہار چکے ہیں اور ہار تسلیم کرنے سے انکار اور انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کے باوجود انہیں معلوم ہے کہ وہ 20 جنوری 2021 سے امریکہ کے صدر نہیں ہوں گے۔ اس لئے عام قیاس یہی ہے کہ وہ اپنی صدارتی مدت کے دوران ایسے فیصلے کرنے پر کمر بستہ ہیں جو منتخب صدر جو بائیڈن کے لئے مشکلات میں اضافہ کا سبب بنیں اور ان کا وقت و صلاحیت ان خرابیوں کو درست کرنے میں صرف ہو جو ٹرمپ کے عجلت میں کئے گئے فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہوں گی۔
افغانستان میں امریکی افواج کم کرنے کا فیصلہ بھی طالبان کے ساتھ کسی مناسب ’ڈیل‘ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس اقدام سے دراصل ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں اپنے حامی قوم پرست عناصر کو اپنی امریکہ دوستی کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ کئی دہائیوں سے جنگ کی آماجگاہ بنا ہؤا افغانستان اب بھی عالمی امن کے لئے سنگین اندیشوں کا سبب ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے تازہ امریکی فیصلے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا لیکن اس سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ کو عجلت میں افواج میں کم کرنے سے متنبہ کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ چونکہ مزید دو ماہ تک امریکہ کے صدر رہیں گے، اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ شکست سے دل برداشتہ اور ڈیموکریٹک منتخب صدر بائیڈن سے انتقام کی خواہش میں وہ کون سے ایسے اقدامات کرسکتے ہیں جو نہ صرف امریکی مفادات کے لئے تباہ کن ثابت ہوں بلکہ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے امن کے لئے نت نئے خطرات کا سبب بنیں۔
اس حوالے سے سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکی میڈیا یہ خبریں دے رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سبکدوش ہونے سے پہلے ایران پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ واشنگٹن نے حال ہی میں ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تاہم براہ راست ایرانی سرزمین یا ٹھکانوں پر امریکی حملے علاقے کی صورت حال کو تبدیل کردیں گے جس کے دوررس تتائج سامنے آئیں گے ۔ افغانستان کا امن بھی اس قسم کے کسی امریکی فیصلہ سے شدید متاثر ہوگا۔ ایران نے گزشتہ چند برسوں میں افغانستان میں اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے براہ راست حملہ کی صورت میں وہ مشرق وسطیٰ کے علاوہ افغانستان میں بھی امریکی مفادات کے خلاف اپنے حامی گروہوں کو متحرک کرے گا۔ یہ صورت حال براہ راست پاکستان کی سلامتی اور افغانستان میں اس کے مفادات پر اثر انداز ہوگی۔
انتخاب ہارنے والا امریکی صدر سفارتی حساسیات اور سیاسی روایت کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتخاب میں جو بائیڈن کے مقابلے میں60 لاکھ کم ووٹ لینے کے باوجود اپنی شکست تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے اور امریکی جمہوریت کو دنیا بھر میں تماشہ بنانے پر کمر بستہ ہے۔ ایسا شخص جو اپنے ملک کے مفادات ، شہرت اور نظام کو خاطر میں نہ لاتا ہو اور اپنے ذاتی اقتدار یا مفاد کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہو، اس سے کسی بھی غیر متوقع فیصلہ کی امید کی جاسکتی ہے۔ افغانستان اور عراق میں افواج کی کمی کا فیصلہ بھی دراصل مستقبل کی امریکی انتظامیہ کے راستے میں کانٹے بچھانے کی کوشش ہے۔ اسی طرح ایران پر حملہ کا مقصد بھی یہی ہوگا کہ جو بائیڈن اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران کے ساتھ دوبارہ جوہری معاہدہ میں شریک ہونے کے اقدام نہ کریں۔ امریکی حملوں سے ایران کو اس قدر مشتعل کیا جاسکتا ہے کہ تہران کی قیادت واشنگٹن میں صدر کی تبدیلی کے باوجود مفاہمت کی طرف آنے سے گریز کرے گی۔ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو مکمل طور سے تباہ کیا جاسکے گا۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں طویل المدت خانہ جنگیوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔کوئی بھی ہوشمند امریکی صدر کوئی فیصلہ کرتے ہوئے ایسے تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے۔ لیکن ٹوئٹر کے ذریعے خارجہ و داخلی پالیسی چلانے کی شہرت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ ان نزاکتوں کو سمجھنے سے انکار کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں عمر ان خان کا دورہ کابل معنی خیز ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے افغانستان کو قیام امن کے لئے خاص طور سے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اس موقع پر ’ ایک مشترکہ وژن‘ نام سے دستاویز پر بھی اتفاق رائے کیا گیا ہے۔ اس دستاویز کے تحت دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلہ، مواصلات کی بہتری اور تجارتی روابط استوار کرنے کے علاوہ افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے مل کر اقدامات کرنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم آج وزیر اعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں افغانستان میں ’تشدد‘ کے خاتمہ میں پاکستان کے کردار پربات ہوئی ۔ عمران خان نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں مکمل امن کی بحالی کے لئے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں اس نکتہ پر بھی غور کیا گیا کہ دوحہ میں طالبان کے ساتھ ہونے والے بین الافغان مذاکر ات میں پیش رفت سست ہے اور اس دوران افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ افغانستان میں تشدد کی نئی لہر کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ افغان طالبان حتمی معاہدے تک کسی قسم کی جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہیں۔ فروری میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ میں بھی طالبان نے جنگ بندی سے انکار کیا تھا البتہ یہ تسلیم کیا تھا کہ طالبان اتحادی فوجوں پر حملے نہیں کریں گے۔ لیکن وہ افغان سیکورٹی فورسز کو جائز ٹارگٹ قرار دیتے ہیں۔ تشدد کی دوسری اہم وجہ ایسے جنگجو گروہ ہیں جو طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ان میں داعش خاص طور سے قابل ذکر ہے جس نے افغانستان میں قابل ذکر طاقت حاصل کی ہے اور وہ معتدد دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ کسی ٹھوس معاہدہ کے بغیر افغانستان سے امریکی افواج چلے جانے کے بعد مقامی گروہوں کے درمیان جاری تصادم میں اضافہ ہوگا جس میں طالبان سمیت ہر گروہ اپنی طاقت اور پوزیشن بہتر بنانے کے لئے تشدد بروئے کار لائے گا۔
ان حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کیسے افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کرسکتا ہے؟ پاکستان کے روائیتی طور پر طالبان کے ساتھ مراسم رہے ہیں اور انہیں امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر آمادہ کرنے میں بھی پاکستان نے کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ٹرمپ دور اقتدار کے بعد سامنے آنے والے حالات میں اگر امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ کمزور پڑتا ہے یا طالبان اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ کسی سیاسی اتفاق رائے پر آمادہ نہیں ہوتے تو پاکستان اس صورت میں کس کا ساتھ دے گا؟ کیا اسلام آباد نام نہاد ’مشترکہ ویژن‘ کے تحت طالبان کے مقابلے میں افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہوگا یا اپنے طویل المدت مفادات کے لئے بدستور ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے گی جس میں بظاہر کابل کی حمایت ہوگی لیکن درحقیقت طالبان کی کامیابی کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔ پاکستان کے لئے افغانستان میں طالبان کی حمایت وہاں بھارت کے اثر و رسوخ کوکم کرنے کے لئے بھی اہم ہے۔ افغان انٹیلی جنس اور سیکورٹی فورسز پاکستان کے مقابلے میں بھارت پر اعتبار کرتی ہیں اور ان کے درمیان اشتراک کے متعدد منصوبے بھی موجود ہیں۔ حیرت ہے کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ ویژن کا اعلان کرتے ہوئے صدر اشرف غنی اس پہلو کو کیسے فراموش کررہے ہیں ۔ اور پاکستانی وزیر اعظم کیوں کر امن کے لئے ہر قیمت پر افغان حکومت کی امدا د کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔
بظاہر پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی پر امن پیش رفت کے بغیر افغانستان میں دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کی صورت حال موجود رہے گی۔ اس تصادم میں اسلام آباد کا حلیف طالبان ہیں جبکہ اشرف غنی نئی دہلی کی زبان بولتے رہے ہیں ۔ ان حالات میں وزیر اعظم کے ایک روزہ دورہ کابل سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی ڈرامائی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ پاکستان کو البتہ واشنگٹن سے آنے والے اشاروں کی روشنی میں کسی بڑے علاقائی تصادم میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker