تجزیےعمران عثمانیکھیللکھاری

ورلڈ چیمپئن کی 28 ویں سالگرہ اورکپتان کا گریبان ۔۔ عمران عثمانی

24 مارچ 2020کی شام پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صحافیوں کے تیز و تند اور تلخ سوالات کا سامنا کر رہے تھے.موضوع کورونا تھا ، پاکستان ہی نہیں پوری دنیا اس وقت اسی خوفناک وائرس کا شکار ہے. عمران خان کو موجودہ ہی نہیں بلکہ متعدد بحرانوں کا سامنا ہے. منگل کی شام صورتحال اس وقت عجیب ہو گئی جب اسلام آباد میں ایک صحافی نے گریبان تک پکڑنے کی بات کردی اس موقع پر وزیراعظم کا ضبط قابل دید تھا ۔
ٹی وی اینکر کا سوال درست تھا ،بات بھی اچھی تھی لیکن اتنے اعلی فورم پر اتنا سخت انداز کچھ عجب تھا لیکن میرے لئے بہت مفید ،کیونکہ مجھے 28 برس قبل کی 24 مارچ کی شام یاد آگئی جب میلبورن میں میگا ایونٹ کے فائنل سے قبل کی پریس کانفرنس میں بھی پاکستانی کپتان کو تیز و تلخ سوالات کا سامنا تھا. 5 ویں عالمی کپ 1992 کے فائنل سے قبل پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں فیصلہ کن جنگ کیلئے صف آرا ہوچکی تھیں. گرین شرٹس نہایت نا مساعد حالات میں اس منزل تک پہنچے تھے .ورلڈ کپ ٹرافی کے فیصلہ کن مقابلے میں پاکستان کتنا مضبوط تھا ؟راؤ نڈ میچ بتانے کیلئے کافی تھا جب ایڈیلیڈ اوول پاکستان کیلئے بھیانک قلعہ ثابت ہوا تھا ، یہی گرین شرٹس انگلینڈ کیخلاف 74 پر ڈھیر ہوگئے تھے .بارش نے پاکستان کو شکست سے بچالیا تھا.
برٹش میڈیا اپنی ٹیم کو فیورٹ رکھتے ہوئے پاکستان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں تھا. اس وقت کے پاکستانی کپتان آج کے وزیر اعظم عمران خان ہی تھے.
ان کا مختلف سوالوں کے جواب میں موقف یہ تھا کہ “پاکستان یہاں (آسٹریلیا )میں ورلڈ چیمپئن بننے آیا ہے. کل یہ ٹرافی ٹائیگرز (پاکستانی )اٹھا ئیں گے. اسی یقین سے آئے تھے اور درمیان کے سخت حالات میں بھی یقین نہیں ٹوٹا تو اب جبکہ ایک میچ درمیان میں ہے تو کیسے ٹوٹ سکتا ہے”. گورے صحافیوں نے اپنی ٹیم کی بیٹنگ کی مضبوطی اور پاکستانی کمزوری سے بار بار آگاہ کیا تو مضبوط اعصاب کے کپتان کا جواب یہ تھا .
“انگلش بیٹنگ لائن بہتر ہے لیکن ہمارے پاس اس کا توڑ موجود ہے اور ہماری بیٹنگ لائن اب جواب دینے کیلئے سیٹ ہوچکی ہے. کل آپ کو بھی جواب مل جائے گا “.
بلا کا اعتماد تھا اور کمال کا جواب تھا.
پھر اگلے روز 25 مارچ 1992 کو 90 ہزار کے قریب تماشائیوں سے بھرے میلبورن کے تاریخی گرائونڈ میں پاکستانی کپتان جس اعتماد سے ٹاس کرنے آئے اور جیتے بھی تو مخالف کپتان گراہم گوچ کا اعتماد وہ لوٹ چکے تھے.
انگلینڈ کی ٹیم بلاشبہ متوازن اور اس وقت دنیا کی بہترین سائیڈ تھی .تمام 5 سیمی فائنل کھیلتے ہوئے تیسرا فائنل کھیل رہی تھی. قیادت کرنے والے گراہم گوچ 1979 کے بعد 1987 اور پھر 1992کا تیسرا کرائون فائنل کھیلنے والے تھے. اس کے مقابلے میں پاکستان کی پوری ٹیم کا ہی یہ پہلا فائنل تھا.
میچ شروع ہوا ،اوپنرز ناکام ہوگئے .پاکستان مشکل میں گھر گیا.اتنا مشکل میں کہ پہلے 100رنز 31 اوورز میں بنے لیکن اس کے بعد عمران خا ن 72 رنز کے ساتھ اننگ کے لیڈنگ سکورررہے. میاں داد،انضمام اور وسیم نے بھی بھر پور حصہ ڈالا .250 کے تعاقب میں فیورٹ انگلش بیٹنگ لائن کو جہاں مشتاق احمد اور وسیم اکرم نے تباہ کیا وہاں پاکستانی کپتان کے فیصلے اور بائولرز کا درست وقت پر استعمال بھی حریف سائیڈ کی ناکامی کی اہم وجہ بنا . پاکستان نے انگلینڈ کی فیورٹ ٹیم کو 22 رنز سے شکست دیکر دنیائے کرکٹ کی عالمی جنگ جیت لی.پاکستان پہلی بار ورلڈ چیمپئن کا تاج سر پر سجانے میں کامیاب ہوگیا. وطن واپسی پر پاکستانی قوم کا والہانہ پن دیدنی تھا .ہر ہاتھ ہر کھلاڑی ، خاص کر عمران خان کے گریبان تک جانا چاہتا تھا .
گریبان پکڑنے یا پھاڑنے کیلئے نہیں بلکہ پھولوں کے ہار پہنانے کیلئے ،نوٹوں کے ہار ڈالنے کیلئے.
پاکستان کرکٹ آج ورلڈ چیمپئن بننے کی 28ویں سالگرہ منا رہی ہے .پی سی بی اس پر حسب سابق ایک پیغام جاری کرے گا،قومی اخبارات معمول کی طرح حسیں یادیں لکھیں گے اور 25 مارچ کا دن ہر سال کی طرح گزر جائے گا لیکن اس سال ایک نئی بات ہوئی ہے.
24 مارچ 1992 کی ورلڈ کپ فائنل سے قبل کی پری میچ پریس کانفرنس کی یادیں 24 مارچ 2020 کی موجودہ پریس گفتگو سے ملتی ہیں. وہاں بھی تیز و تند سوالات تھے اور یہاں بھی ترش سوال تھے .وہاں بھی عمران خان سے اتفاق کرنے والے کم تھے اور یہاں بھی ان سے متفق ہونے والے کم ہیں. وہاں بھی عمران خان با اعتماد تھے اور یہاں بھی کورونا پر ملک میں کرفیو تک حالات نہ پہنچنے کیلئے عمران خان کو یقین ہے مگر ایک فرق ضرور ہوا ہے. وہاں معرکہ جیتنے کے بعد لوگوں کے محبت بھرے،پھولوں سے لدے اور عزت سے معمور ہاتھ عمران خان کے گریبان تک پہنچے تھے اور یہاں معرکے کے دوران گریبان تک کے تذکرے ہوگئے .شاید اس لئے کہ اب ایک نہیں ان گنت معرکے ہیں. ورلڈ چیمپئن کپتان وزیر اعظم عمران خان اپنے گریبان تک لپکتے ان ہاتھوں سے بچ سکیں گے ؟
وہ 32 دن کے 38 میچوں کے بعد کا معرکہ تھا اور ایک روزہ تھا. یہاں 5 روزہ ٹیسٹ میچ کی طرح 5 سالہ طویل فارمیٹ کا میچ ہے. عمران خان کی ٹیم شاید فالو آن ہوچکی ہے لیکن ٹیسٹ میچ کی طرح 3دن باقی ہیں .اننگ ابھی ہاتھ میں ہے ، میچ ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے.ہاتھ گریبان کے تعاقب میں ہیں
اور وارننگ بھی ورلڈ چیمپئن بننے کی 28ویں سالگرہ پر ملی ہے.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker