عمران خان سیاست میں بھی حادثاتی طور پر آئے سیاست سوچ سمجھ اور شعور رکھنے والے کا کام ہے مگر سابق وزیر اعظم کو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت اس عہدے تک پہنچایا گیا۔ 2014 میں دھرنے کے دوران سول نافرمانی کا نعرہ لگانے والے نے عوام کے ذہنوں کو اس قدر نفرت سے بھر دیا کہ عوام اپنے ہی گھر کو جلانے چل نکلے ۔ 9مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد جس طرح کپتان کے ”کھلاڑیوں“پاکستانی املاک کو نقصان پہنچایا اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ۔وزیر اعظم بننے سے پہلے اور بعد میں موصوف عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکاتے رہے کمزور ذہنوں کے لوگ ان کی اس سازش کا شکار ہو گئے عمران خان انہیں نجات دہندہ نظر آنے لگا مگر نجات دہندہ القادر یونیورسٹی توشہ خانہ اور دیگر معاملات میں کرپشن کرتا رہا۔ اس نے کبھی مذہب کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا تو کبھی سیاسی طور پر۔ عمران خان نے آج تک جتنے غلط کام کیےان کے چاہنے والے ان کے دفاع میں سابقہ حکمرانوں کے بیانات یا ان کے کام سامنے لے آتے ہیں اور کہتے ہیں یہ دیکھو یہ سابق حکمران بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اگر عمران نے ایسا کر لیا تو کیا ہو گیا؟
سوال یہ ہے کہ اگر کپتان نے بھی یہی کچھ کرنا تھا تو ان دونوں میں کیا فرق باقی رہ گیا ؟ افسوس کہ وہ اپنی اس بات پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے ۔
پھر کہاں ہے وہ تبدیلی؟
کہاں ہے ریاست مدینہ؟
کہاں گئی اصولی سیاست؟
پھر غلط اور درست میں فرق کہاں ؟
وہ جب تک اقتدار میں رہے اسٹیبلشمنٹ اور جنرل باجوہ کے گن گاتے رہے اور جب اقتدار سے نکلے تو پھر وہی باجوہ سب سے برے ہو گئے۔ جب جہانگیر ترین کے جہاز پہ دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو شامل کیا جا رہا تھا تو اپنی جماعت کی مقبولیت بتائی جاتی تھی۔ اب عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر وہی سیاستدان پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں تو پھر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے لوگوں کو پارٹی چھوڑنے پہ مجبور کر رہی ہے ۔
9 مئی کے واقعات سے لگتا ہے کہ یہ سیاسی لیڈر نہیں کوئی گیدڑ ہے سیاسی لیڈر تو عوام کی خاطر پھانسی پہ چڑھ جاتے ہیں یہ کیسا لیڈر ہے جو گرفتاری سے ڈرتا ہے جیل سیاسی لیڈروں کا دوسرا گھر کہلاتا ہے مگر اس لیڈر نے اپنے پیروکاروں کے ہاتھوں ریاست کے اداروں کے خلاف جو عمل کرائے اس کی کہیں مثال ہی نہیں ملتی ہجوم نے جو نقصان پہنچایا اس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے حقیقی آزادی اور ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ لگانے والے نے کچھ روز قبل امریکی کانگریس کی رکن marine moore waterکے ساتھ زووم میٹنگ کے دوران منتیں ترلے کر کے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اپیلیں کیں گرگٹ کی طرح رنگ بدنے والا عمران خان نقلی سائفر لہرا کر کیا ہم آپ کے غلام ہیں ؟کا نعرہ عوام کے ذہنوں میں بھرنے والا کتنی بے شرمی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے ہم تو آپ کے غلام ہیں تک کا سفر طے کر لیا ہے
فیس بک کمینٹ

