بھارت کے شہر احمد آباد میں انڈین ائیرلائن کی پرواز 171 کے ساتھ پیش آنے والے حادثے اور کثیر تعداد میں مسافروں و شہریوں کی ہلاکت پر بھارت کے علاوہ ہمسایہ ملک پاکستان میں بھی شدید رنج و غم محسوس کیاجارہا ہے۔ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر دفاع و پی آئی اے کے علاوہ متعدد سیاسی لیڈروں نے تعزیتی پیغامات میں بھارتی حکومت اور عوام کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہر کی ہے۔
انڈین ائیر لائن کا طیارہ آج صبح لندن جانے کے لئے گجرات میں احمد آباد ائیرپورٹ سے روانہ ہؤا تھا تاہم پرواز کے چند لمحے بعد ہی یہ گر کر تباہ ہوگیا۔ بوئنگ 8۔787 ڈریم لائنر پر 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ مسافروں میں 11 بچے بھی شامل تھے۔ حادثے میں معجزانہ طور سے صرف ایک مسافر بچا ہے۔ باقی سب کے بارے میں اندیشہ ہے کہ وہ ہلاک ہوگئے۔ اگرچہ ابھی تک 200 کے لگ بھگ لاشیں نکالی جاسکی ہیں۔
غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق اس حادثہ میں 290 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ ایک مسافر معجزانہ طور بچ گیا ہے۔ طیارے نے چونکہ ابھی پرواز بھری ہی تھی ، اس لیے اس کا ٹینک فیول سے لبریزتھا۔ طیارہ ائیرپورٹ کے نزدیک ہی ایک شہری علاقے پر گر کر تباہ ہوگیا۔ اس کی وجہ سے مسافروں و عملہ کے علاوہ اس عمارت میں موجود شہری بھی ہلاک ہوئے جس پر یہ طیار گرا۔ طیارے میں فیول کی بھاری مقدار کی وجہ سے فوری طور پر آگ بھی لگ گئی۔ ایک اندازے کے مطابق طیارے میں سوار لوگوں کے علاوہ زمین پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کا اندازہ چالیس پچاس کے لگ بھگ ہے۔ تاہم رات گئے تک صورت حال واضح نہیں تھی۔ امدادی عملہ لاشیں اکٹھی کرنے اور آگ بجھانے میں مصروف تھا۔
فلائٹ 171 اس تیزی سے حادثے کا شکار ہوئی کہ کسی کو بھی سنبھلنے یا کچھ سمجھنے کا موقع نہیں ملا۔ حادثے کی ویڈیو کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ پائلٹ کو طیارے کے پہیے بند کرنے کا موقع بھی نہیں ملا ورنہ عام طور سے جہاز فضا میں بلند ہوتے ہی پائلٹ جہاز کے پہیے اس کے خانے میں واپس کرلیتے ہیں۔ فضائی ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ سامنے آنے والی ویڈیوز میں طیارے کے پروں کی پوزیشن بھی ایسی دکھائی نہیں دیتی جو اڑان بھرتے ہوئے ہونی چاہئے۔ سانحہ کی سامنے آنے متعدد ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جہاز پرواز کے چند لمحے بعد ہی کسی ناگہانی مسئلہ کا شکار ہوگیا۔ پائلٹ نے ٹریفک کنٹرول کو ’مے ڈے‘ کی کال دی لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا زمین سے رابطہ ختم ہوگیا۔ چند ہی لمحے میں یہ طیارہ ائیرپورٹ کے قریب واقع میڈیکل کالج کے طلبہ کے ہوسٹل پر جا گرا اور تباہ ہوگیا۔ عام طور پر اس فلائٹ میں استعمال ہونے والا طیارہ بوئنگ 787ایک انجن کے ساتھ بھی پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن جیسے یہ حادثہ رونما ہؤا ہے، اس سے لگتا ہے کہ بیک وقت طیارے کے دونوں انجنوں نے کام کرنا بند کردیا۔ پائلٹ یا کسی کے پاس بھی اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ وہ کچھ کرسکتا۔ یہ قیاس بھی کیا جارہا ہے کہ شاید ہوا کے دباؤ کی وجہ سے کوئی پرندہ انجن میں چلا گیا ہو جس سے انجن جام ہوگیا ہو۔ کیوں کہ ماضی میں ایسے حادثے ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ ناقابل یقین لگتا ہے کہ جہاز کے دونوں انجنوں میں بیک وقت پرندےگھس گئے ہوں۔ کیوں کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ ایک انجن کے ساتھ بھی پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ حادثہ کی نوعیت اور اچانک دھماکہ میں تباہ ہونے کی وجہ سے یہ تو طے ہے کہ جہاز کے انجنوں نے مکمل طور سے کام کرنا بند کردیا تھااور پائیلٹ بالکل بے بس ہوگئے تھے۔ حالانکہ اس طیارے کے پائلٹ کا 8500 گھنٹے پرواز کا تجربہ تھا۔
سانحہ میں معجزانہ طور سے زندہ بچ جانے والے مسافر وشواش کمار رامیش شاید طیارے پر سوار واحد انسان ہیں جو اس حادثہ میں بچے ہیں اور ان کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے ہسپتال میں رپورٹروں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ طیارے نے اڑان بھری اور ابھی نصف منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ زور دار دھماکہ دھماکا ہؤا۔ میری آنکھ کھلی تو چاروں طرف لاشیں اور آگ تھی۔ میں بدحواس ہوکر بھاگا مگر کسی نے مجھے پکڑا اور ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال پہنچا دیا۔ رامیش برطانوی شہری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی بھی اسی طیارے میں سفر کررہا تھا لیکن اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔
اس المناک حادثہ پر دنیا بھر سے رنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بھارتی لیڈروں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی ہے۔ اسی طرح فطری طور سے پورے بھارت میں شہری اس سانحہ سے رنجیدہ اور غمگین ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر حال ہی میں انڈین حملے کا کامیابی سے دفاع کرنے والے پاکستان کے عوام اور لیڈروں نے بھی اس حادثہ اور احمد آباد میں ہونے والی ہلاکتوں پر ایسے ہی رنج و غم کا اظہار کیا ہے جیسے یہ حادثہ خود ان کے ملک میں پیش آیا ہو۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین اپنے اپنے طور پر اس حادثہ پر افسوس ظاہر کرکے پسماندگان اور بھارتی عوام کے ساتھ ہمدردی و تعزیت کررہے ہیں۔ جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی ہوئی ہیں لیکن اس ایک حادثہ نے واضح کیا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف لوگ ایک دوسرے کی تکلیف کو یکساں طور سے محسوس کرتے ہیں۔
پاکستانی لیڈروں نے بھی اس موقع پر دشمنی کی بجائے انسانی ہمدردی کو ترجیح دی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی عوام کے نام تعزیت کے پیغام جاری کیے ہیں۔ صدر آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم مرنے والوں کے پسماندگان کے رنج و غم میں برابر کے شریک ہیں اور ہماری ہمدردیاں سب متاثرین کے ساتھ ہیں۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے انڈین ائیرلائن کے سانحہ اور ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ انڈیا کے فضائی حادثہ میں انسانی جانوں کا ضیاع پوری انسانیت کا مشترکہ نقصان ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی عوام کے ساتھ گہرے رنج و غم و تعزیت کا اظہار کیا۔ ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں سینکڑوں انسانوں کی ہلاکت پر تعزیت کرتے ہوئے پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایسا ہی پیغام وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے بھی سامنے آیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی فلائٹ 171 کو پیش آنے والے حادثہ پر گہرے رنج کااظہار کرتے ہوئے بھارتی عوام کے نام تعزیت و افسوس کا پیغام بھیجا ہے اور پسماندگان سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ ایسا ہی پیغام سابق وزیر خارجہ ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین اور پاکستان کے سفارتی وفد کے قائد بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بھی سامنے آیا۔ انہوں نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے شدید دکھ و تکلیف کا اظہار کیا ہے۔ انڈین ائیر لائن کے طیارے کو پیش آنے والے فضائی حادثہ پر پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) نے بھی ایکس پر ایک پیغام میں بھارتی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غم کی اس گھڑی میں ہم ہمسایہ ملک میں اپنی فضائی برادری کے ساتھ ہیں۔
پاکستانی عوام اور لیڈروں کی طرف سے بھارت میں ہونے والے انسانی المیہ پر اظہار ہمدردی و تعزیت کے اظہار سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ایک دوسرے کے لیے احترام و محبت کے احساسات سامنے آئے ہیں۔ رہنماؤں کے علاوہ عوامی سطح پر تعزیت و افسوس کے پیغامات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے لیڈر سیاسی ضروریات کی بنیاد پر فاصلے پیدا کرنے اور تصادم کا راستہ ہموار کرنے کی بجائے مل جل کر مسائل حل کرنے کی کوشش کریں تو دونوں ملکوں کے عوام ان کے ساتھ ہوں گے۔ اشتعال کی موجودہ کیفیت درحقیقت لیڈروں کے گمراہ کن بیانات ، اقدامات اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ورنہ عوامی سطح پر فاصلوں کی بجائے نزدیکیاں محسوس کی جاسکتی ہیں۔
فضائی تایخ میں بوئنگ کے ڈریم لائنر کے ساتھ پیش آنے والا یہ پہلا حادثہ ہے جو طیارے بنانے والی کمپنی بوئنگ کے لیے شدید جھٹکا ہوگا۔ اگرچہ فضائی حادثہ کوئی غیر معمولی وقوعہ نہیں ہے ۔ سال میں ایک آدھ بار کوئی نہ کوئی بڑا حادثہ رپورٹ ہوجاتا ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ 8۔787 ڈریم لائنر 2011 سے کمرشل استعمال میں ہے اور اسے ایک محفوظ طیارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ابھی ماہرین اس حادثے کی وجوہات اور اس طیارے میں پائے جانے والے نقائص کا جائزہ لیں گے۔ لیکن ایسی رپورٹ سامنے آنے میں ابھی کافی وقت صرف ہوگا۔ تب ہی یہ تعین ہوسکے گا کہ بدنصیب طیارے اور اس پر سوار مسافروں کے ساتھ یہ انہونی کیسے ہوئی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

