پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ ماہ عسکری جھڑپوں کے بعد اب سفارتی محاذ پر کھینچا تانی جاری ہے۔ تاہم یوں لگتا ہے کہ جنگی محاذ کی طرح بھارت کو سفارتی محاذ پر بھی ہزیمت کا سامنا ہے۔ جن باتوں کو وہ طے شدہ اور مسلمہ امورسمجھتا تھا، گزشتہ ماہ کی عسکری جھڑپوں نے ان کی حیثیت تبدیل کردی ہے۔ امریکہ ہر شعبہ میں پاکستان کو برابری کا درجہ دینے کا اعلان کررہا ہے اور کشمیر کا مسئلہ حل کرانے میں دلچسپی لی جارہی ہے۔
امریکی صدر واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد مذاکرات اور کشمیر جیسے دیرینہ مسئلہ کو حل کرنا بے حد ضروری ہے کیوں کہ اسی طرح علاقے اور دنیا میں تصادم سے بچا جاسکتا ہے۔ امریکی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آج امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’ صدر ٹرمپ نسلوں سے چلا آنے والا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کراتے ہوئے بھی یہ پیش کش کی تھی‘۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ ’اگرچہ میں صدر کے منصوبوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن دنیا صدر ٹرمپ کی فطرت جانتی ہے۔ ٹرمپ ایسے لوگوں کو بھی مذاکرات پر آمادہ کرچکے ہیں جن کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بات کریں گے۔ کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ اگر وہ اس معاملہ (کشمیر) میں بھی ایسا ہی کوئی کام کردکھائیں‘۔
یہ بیان بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان کے سفارتی وفد کے دورہ امریکہ کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی حکومت برصغیر میں امن کو ضروری خیال کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی کے حامل ممالک ہیں۔ ان کے درمیان معاملات طے کرانا عالمی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔ پاکستانی وفد بھی امریکہ یہی پیغام لے کر گیا تھا کہ پاکستان بھارت کے برعکس جنگ کی بجائے امن چاہتا ہے اور بات چیت سے تمام معاملات طے کرنا چاہتا ہے۔ پاکستانی وفد نے واضح کیا ہے کہ پانی کی فراہمی اور کشمیر کے سوال پر کو ئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ البتہ پاکستان ان دونوں مسائل کے علاوہ دہشت گردی اور تجارت کے امور پر مل بیٹھ کر بات کرنا چاہتا ہے۔ امن اور مذاکرات کے ذریعے مفاہمت کی بات دنیا کے لیڈروں کو سمجھ آتی ہے۔ جبکہ بھارتی نمائیندے یہ اصرار کررہے ہیں کہ پاکستان چونکہ دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے، اس لیے اس سے بات نہیں ہوسکتی۔
حالانکہ ایسے تنازعہ ہی کی صورت میں مذاکرات اہم ہوتے ہیں جب فریقین میں اختلاف بہت زیادہ ہو اور وہ کسی معاملہ کو بالکل مختلف انداز میں دیکھ رہے ہوں۔ پاکستان نے اگرچہ بھارتی جارحانہ رویہ کے مقابلے میں کئی سال سے مدافعانہ طرز عمل اختیار کیا ہؤا تھا لیکن اس کے باوجود بھارت نے پاکستان کے ساتھ معاملات حل کرنے کی بجائے پہلگام سانحہ کا الزام عائد کرتے ہوئے طاقت کے زور پر پاکستان کو دبانے اور شرمندہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پاکستان کے جوابی وار سے بھارت کی عسکری حیثیت اور سفارتی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔ اب دنیا اس خطے میں امن چاہتی ہے اور تصادم سے بچنا چاہتی ہے۔ نئی دہلی کی حکومت یہ دباؤ محسوس کرنے لگی ہے اسی لیے اس کے لیڈر تلخ اور شدت پسندانہ بیانات دے رہے ہیں۔ اسی رویہ کا اظہارگزشتہ روز بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کے بیان میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے برسلز میں ایک بیان میں کہا ہے کہ’ پاکستان نے بھارت کے خلاف اشتعال انگیزی کی تو بھارت پاکستان میں گہرائی میں حملہ کرنے کے لیے تیار ہے‘۔ حالانکہ پاکستان تو جنگ کی بجائے امن اور تنازعہ کی بجائے مصالحت کی بات کررہا ہے۔ یوں بھارتی لیڈر خود اپنے بیانات کے جال میں پھنستے دکھائی دیتے ہیں۔
اسی پس منظر میں پاکستانی سفارتی وفد کے قائد بلاول بھٹو زرداری نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔ لیکن یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اگر ضروری ہؤا تو امریکہ عالمی مفاد میں بھارت پر دباؤ ڈال کر بات چیت کے لیے لائے گا۔ تاکہ پاکستان اور بھارت علاقائی استحکام اور ترقی کرنے کے لیے امن قائم کرسکیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے کشمیر کو ایک بار پھر عالمی مسئلہ بنا دیا ہے حالانکہ نئی دہلی اسے اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس جنگ کے دوران سفارتی لحاظ سے کشمیر کے مسئلہ پر پیش رفت ہوئی ہے۔ 2019 میں بھارت یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ کشمیر اس کا داخلی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی ہونی چاہئے، یہ معاملہ اب عالمی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔ بھارت یہ ماننے پر مجبور ہورہا ہے کہ کشمیر ایک تصفیہ طلب معاملہ ہے‘۔
بلاول بھٹو زرداری کے بیان سے نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کے دورہ کے دوران انہیں یہ اعتماد حاصل ہؤا ہے کہ امریکہ معاملہ کی سنگینی کو سمجھتا ہے اور بھارت کو بات چیت پر آمادہ کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ البتہ یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ بلاول بھٹو نے انگریزی میں بات کرتے ہوئے بھارت پر امریکی دباؤ کے لیے جو الفاظ استعمال کیے اردو اخبارات نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ ’امن کے لیے امریکہ کو کان سے پکڑ کر بھی بھارت کو مذاکرات پر لانا پڑا تو وہ لائے گا کیوں کہ یہ دنیا کے مفاد میں ہوگا‘۔ مئی میں ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے پاکستانی حکومت، سفارت کاروں اور میڈیا میں غیر معملی اعتماد دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اس وقت پاکستان کو اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے اور سفارت یا صحافت کو جملے بازی کے لیے بروئے کار لانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری نیویارک میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے نریندر مودی کو ’گجرات اور کشمیر کا قصاب‘ جیسے القابات سے پکار چکے ہیں۔ اس وقت پاکستان کا تحمل ، امن کا پیغام اور اشتعال انگیزی کے مقابلے میں مصالحت کی بات ہی اس کی طاقت ہے۔ بیان بازی کے جوش میں اس قوت کو زائل کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
اس دوران امریکی ایوان نمائیندگان میں بیان دیتے ہوئے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ نے پاکستان کے ساتھ بھارت ہی کی طرح دوطرفہ مفادات پر مبنی تعلقات قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا بیان سفارتی لحاظ سے پاکستان کی اہمیت اور دہشت گردی کے خلاف اس کی خدمات کو نمایاں کرتا ہے۔ امریکہ کی سنٹرل کمانڈ سینٹکام کے کمانڈر جنرل مائیکل کوریلا نے انسداد دہشت گردی میں پاکستان کو ایک غیرمعمولی حلیف قرار دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور سے بلوچستان میں دہشت گردی اور داعش خراسان کے خلاف پاکستان کی جد و جہد کا حوالہ دیا۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان 10 مئی کو واشنگٹن میں علاقائی اور عالمی سلامتی کو لاحق اندیشوں کے بارے میں بات چیت ہوچکی ہے۔ اس بات چیت کا دوسرا دور ماہ رواں میں ہوگا۔ بات چیت میں خاص طور سے تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے لاحق خطرہ کا جائزہ لیا گیا۔
منگل کو ایوان نمائیندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں جنرل کوریلا سے پاک افغان سرحد پر صورت حال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے داعش خراسان کے کئی اہم کارندوں کو گرفتار کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے اس گروہ کا پیچھا کرکے اس کے متعدد ارکان کو ہلاک کیا ہے۔ امریکہ اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شئیر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں داعش خراسان کے کم از کم 5 اعلیٰ عہدیدار پکڑے گئے ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان نے ایبے گیٹ بمباری میں ملوث ملزم سیف اللہ کو امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ جنرل کوریلا نے کمیٹی کو بتایا کہ سیف اللہ کی حراست کے بعد پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں فون کرکے بتایا تھا کہ اسے پکڑ لیا گیا ہے اور ہم اسے امریکہ کے حوالے کررہے ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ’میں یہ بات وزیر دفاع اور صدر کو بتا دوں‘۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مغربی حصے میں گزشتہ سال کے شروع سے ایک ہزار دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں۔ پاکستانی فوج اس وقت مستعدی سے دہشت گردوں سے برسر پیکار ہے۔ اس طرح وہ انسداد دہشت گردی میں غیر معمولی حلیف ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ امریکہ کو پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تعقات استوار رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ’ اگر امریکہ کے بھارت کے ساتھ تعلقات ہیں تو ویسے ہی تعلقات پاکستان کے ساتھ نہیں ہوسکتے۔ ہمیں ان تعلقات کو ان کے مثبت پہلوؤں کے حوالے سے دیکھنا ہوگا‘۔
پاکستان کے بارے میں امریکہ کے رویہ میں یہ تبدیلی اور دنیا میں پاکستان کی باتوں پر کان دھرنے کی صورت حال ، درحقیقت پاکستان کو ایک طویل عرصہ کے بعد یہ نادر موقع فراہم کررہی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے اور علاقے میں امن کے لیے اپنا مقدمہ دلائل کے ساتھ پیش کرسکے۔ دنیا دلائل سننا چاہتی ہے۔ البتہ اس وقت پاکستان کو جذبات سے نکل کر ٹھوس سفارتی لب و لہجہ اور واقعاتی درستی کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

