تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : بھارتی کسانوں کی عالمی حمایت اور مودی حکومت

بھارت میں  وزیر  اعظم نریندر مودی کی حکومت اب اپنی ناکام زرعی پالیسی اور کسانوں کے خلاف استعمال کئے گئے جابرانہ ہتھکنڈوں کو چھپانے کے لئے بھارتی  وزارت خارجہ کی سفارتی مہارت کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔  عالمی طور سے مقبول متعدد شخصیات کی طرف سے کسانوں کے احتجاج سے اظہار یک جہتی کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے سخت بیان جاری کیا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کے  تمام پہلوؤں کا علم رکھے بغیر رائے دینا یا احتجاج کرنا قابل قبول نہیں ہوسکتا۔   بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مناسب ہوگا کہ رائے دینے سے پہلے معاملہ کے بارے میں تفصیلات جان لی جائیں ، حقائق کا جائزہ لیا جائے اور  مکمل تصویر  کوسمجھنے کی کوشش کی جائے‘۔   بھارتی  وزارت خارجہ نے یہ بیان مقبول امریکی  گلوکارہ ریحانہ کے ٹوئٹ پیغام سے پیدا ہونے والی صورت حال پر ’ڈیمیج کنٹرول‘ کے نقطہ نظر سے جاری کیا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جاسکے کہ دنیا کو  نئی دہلی کے باہر دو ماہ سے جاری بھارتی کسانوں کے احتجاج اور دھرنے کے بارے میں کوئی خاص پتہ نہیں ہے۔ حالانکہ  بھارتی وزارت خارجہ کا یہ بیان خود اس کی لاعلمی اور ناقص فہم کا پول کھولتا ہے جو  اس بات پر مصر ہے کہ بھارت میں ہونے والی سیاسی زیادتیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بنیادی آزادیوں  کو کچلنے کے بارے میں صرف بھارتی حکومت کے سرکاری بیان کو ہی ’قابل اعتبار‘ سمجھا جائے۔
نریندر مودی کی حکومت  بدستور یہ سمجھ رہی ہے کہ   وہ اپنے ملک کے حجم اور  دنیا کے لئے معاشی طور سے دلکش منڈی ہونے کی وجہ سے اپنے ہر ظلم اور ناجائز فیصلہ  کو دنیا کی ’غلط فہمی ‘ قرار دے کر  مشکل سے نکل سکتی ہے۔  اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرتے ہوئے وہاں ایک کروڑ باشندوں کو عملی طور سے  ایک سال سے زائد مدت تک  گھروں میں نظر بند کرنے کے علاوہ شہریت قوانین میں غیر انسانی ترامیم کرکے نریندر مودی کی حکومت  جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے بارے میں اپنے جابرانہ رویہ کا مظاہرہ کرچکی ہے۔  بھارت میں آباد مسلمانوں کی  قومی شناخت کو مشکوک بنانے کے لئے نافذ کئے گئے قانون کے خلاف شروع کئے گئے احتجاج کو بھی نریندر مودی حکومت نے  سازش کے ذریعے ختم کرنے کا اہتمام کیا تھا۔  دسمبر 2019 سے  مارچ 2020 کے دوران شاہین باغ میں کئے گئے   بھارتی مسلمانوں کے طویل  احتجاج کو مودی حکومت نے جھوٹے پروپیگنڈے اور عملی سازشوں کے ذریعے  ختم کروایا تھا۔ بعد میں بھی اس احتجاجی دھرنے کا اہتمام کرنے والے عام شہریوں کو قومی میڈیا میں بدنام کرنے کے لئے تمام تر سرکاری وسائل استعمال کئے گئے تھے۔ اب  مودی سرکار وہی ہتھکنڈے  کسانوں کے خلاف استعمال کرتے ہوئے ان کے احتجاج کو تشدد اور ملک دشمنی سے تعبیر کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔
26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر  کسانوں نے ٹریکٹر ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس دوران بعض عناصر  نئی دہلی کے لال قلعہ پر چڑھ گئے اور وہاں سکھوں کا خالصہ پرچم لہرا دیا۔  کسانوں کے پر امن اور پر عزم احتجاج سے عاجز آئی ہوئی مودی حکومت نے اس   واقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے سکھوں کے احتجاج کو جائز مطالبات کے لئے دھرنا کی بجائے، قومی شناخت پامال کرنے کی تحریک کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا۔ بھارتی میڈیا پر سرکاری کنٹرول کے ذریعے اس واقعہ کو کسانوں کے خلاف خوب اچھالا گیا۔ بعض غیر جانبدار صحافیوں نے واقعات کی درست رپورٹنگ کرنے اور عینی شاہدین کی بیانات کی بنیاد پر واقعات پیش کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن   حکمران جماعت  کے اکسانے پر  متعدد ریاستوں میں ایسے صحافیوں کے خلاف  ’جھوٹی خبریں‘ پھیلا کر  قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمات درج کروائے گئے۔  غیر معروف شہریوں کی طرف سے صحافیوں یا سیاست دانوں کے خلاف جھوٹے مقدمے قائم کروانے کا طریقہ آمرانہ حکومتوں میں عام طور سے استعمال کیا جاتا ہے۔  دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے  کا دعویٰ کرنے والے بھارت کی حکومت بھی اب ان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ اس کے باوجود اسے گمان ہے کہ دنیا  اس کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے بے خبر ہے۔ دنیا  بھر کا میڈیا مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے  مظالم، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو بنیادی شہری حقوق سے محروم کرنے کے ہتھکنڈوں اور ان کے خلاف سرکاری مشینری  کے ذریعے  ہونے والے جبر وستم کے خلاف گزشتہ ڈیڑھ دو سال مسلسل رپورٹنگ کررہا ہے۔  اسی طرح کسانوں  کے دو ماہ سے جاری احتجاج پر بھی عالمی میڈیا میں خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ روز مقبول امریکی گلوکارہ ریحانہ  کے ایک ٹوئٹ نے نریندر مودی کو حواس باختہ کردیا ہے۔ ریحانہ  کو ٹوئٹ پر 101 ملین  لوگ فالو کرتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کے احتجاج  کے متعلق سی این این کی ایک خبر کا لنک دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’آخر ہم  بھارت میں ہونے والے اس احتجاج پر بات کیوں نہیں کرتے‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ’بھارتی   کسانوں سے یکجہتی‘  کو ہیش ٹیگ کیا۔ اس  ٹوئٹ کے بعد ماحولیات کی سویڈش نژاد ایکٹوسٹ گریتھے تھون برگ  نے بھی جواب دیا کہ ’ہم بھارتی کسانوں کے ساتھ ہیں‘۔   امریکہ کی نو منتخب صدر کاملا ہیرس کی بھانجی ، امریکی وکیل اور انسانی  حقوق کی ایکٹوسٹ  مینا  ہیرس  نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ ہمیں کسانوں کے لئے انٹرنیٹ بند کرنے اور پیرا ملٹری فورسز کے ذریعے نہتے کسانوں پر تشدد کے واقعات کا نوٹس لینا چاہئے اور اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے‘۔
ریحانہ، تھون برگ اور مینا ہیرس کی شہرت، مقبولیت اور عالمی حیثیت کی وجہ سے ان پر جانبداری یا بھارت دشمن پروپیگنڈے کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے سیاسی قیادت نے بیان دینے اور صورت حال کی وضاحت کرنے کی بجائے  وزارت خارجہ کو بیان جاری کرنے اور ان بیانات کو غلط فہمی قرار دینے کا حکم دیا گیا۔ تاہم   وزارت خارجہ کا بیان صورت حال واضح کرنے کی بجائے، مودی حکومت کے غیر جمہوری اور   طبقاتی مفاد پر مبنی پالیسی کی اصل شکل دکھا رہا ہے۔ کسانوں کے احتجاج میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ وہ دو ٹوک اور ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ ستمبر میں  مرکزی حکومت نے کسانوں کے حقوق سلب کرنے اور زرعی پیداوار پر سرمایہ داروں کی اجارہ داری قائم کروانے کے لئے جو تین سخت گیر قوانین نافذ کئے ہیں ، انہیں فوری طور سے واپس لیا جائے۔ان قوانین  کے تحت کاشتکاروں کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا اور سرمایہ دار   دولت کی بنیاد پر فصلوں کی کم قیمت لگا کر پہلے سے کمزور اور مسائل میں جکڑے کاشتکاروں کی معاشی تباہی کا سبب بنیں گے۔ نریندر مودی  ملک کے سرمایہ داروں کی اعانت و حمایت سے ہی برسر اقتدار آنے میں کامیاب ہوئے تھے تاہم ان کی متعدد غلط معاشی پالیسیوں اور بھارتی امیج کو تباہ کرنے والے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے سرمایہ داروں کو شدید مایوسی ہوئی تھی۔ مودی کو اندیشہ ہے کہ مستقبل میں بھارتی سرمایہ کار ان کی حمایت نہیں کریں گے۔ اس لئے اپنے اس حقیقی  حمایتی  طبقے کو خوش کرنے کے لئے زرعی اصلاحات کے نام پر بنائے گئے قوانین کے ذریعے سرمایہ داروں کو لالی پاپ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھارتی کاشتکاروں کو اپنے خلاف یہ ’خود کش حملہ‘ قبول نہیں ہے۔ اسی لئے وہ گزشتہ دو ماہ سے نئی دہلی کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
بھارتی حکومت  کوشش رہی ہے کہ اس احتجاج کو معاشی مسئلہ  یا کاشتکاروں کی زندگی اور موت کا سوال سمجھنے کی بجائے، اسے سیاسی ایجنڈے پر مبنی پاور شو قرار دے کر کسی طرح اس کی دیانت داری  کو مشکوک بنایا جائے۔  26 جنوری کو یوم جمہوریہ بھارت کے موقع پر لال قلعہ پر خالصہ پرچم لہرانے کو بنیاد بنا کر اب اس احتجاج کو تشدد اور شرپسندی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ اب   یہ خبریں سامنے آگئی ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اپنے ہی لوگوں نے  کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں اپنے لوگ شامل کئے اور ان کے ذریعے لال قلعہ پر خالصہ پرچم لہرایا گیا تاکہ کسانوں کو علیحدگی پسند اور ملک دشمن قرار دیا جائے۔  ان کرداروں کے نام بھی  سامنے آگئے ہیں جنہوں نے حکمران جماعت کی طرف سے یہ نفرت انگیز اقدام کیا تھا لیکن  مودی حکومت اس کے باوجود اس واقعہ کو کسانوں کے خلاف استعمال کرنے اور بھارتی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ اس صورت حال میں  عالمی شخصیات کا رد عمل اور کسانوں کی حمایت بھارتی حکومت کے لئے   شدید صدمہ  ہے۔ اس طرح کسانوں کی جائز تحریک کو عالمی شناخت ملی ہے۔  غالب  امکان ہے کہ مقبول عوامی شخصیات کے احتجاج  سے  ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں  بھی نئی دہلی سے   ظالمانہ ہتھکنڈے ترک کرنے اور کسانوں کے جائز مطالبے پورے کرنے کا تقاضا کرنے لگیں گی۔ نریندر مودی نے جمہوری نظام میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اپنے گھناؤنے عزائم کے لئے انہوں نے فسطائی اور انتہا پسندانہ ہتھکنڈے اختیار کئے ہیں۔  بھارت کی سیکولر شناخت کو پامال کرکے ہندو انتہاپسندی کو عام کیا ہے جو تشدد، تعصب اور معاشرتی انتشار کا سبب بنی ہے۔
جمہوریت کا نام لے کر عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا یہ طریقہ جاری رہا تو جلد ہی بھارت کی اصلیت  ساری دنیا پر  پوری طرح عیاں ہوجائے گی۔ تاہم  داخلی سیاسی صورت حال میں مودی جیسے لیڈروں کو  مسترد کرنے کی اصل لڑائی بھارتی عوام کو ہی لڑنا ہوگی۔  نریندر مودی کو اندیشہ ہے کہ  کسانوں کا احتجاج کامیاب ہوگیا تو یہ ان کے اقتدار کو زوال میں تبدیل کرنے کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ اسی لئے  سازش، تخریب، ظلم اور جھوٹ کے ذریعے کسی بھی طرح کسانوں  کے دھرنے کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔  عالمی سطح پر بھارتی کسانوں سے ابھرنے والی ہمدردی مودی اور ان کے فاشسٹ ساتھیوں کے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker