کالمکشور ناہیدلکھاری

پاکستان میں ترقی کا مطلب ’’ گروی‘کشور ناہید کا کالم : پاکستان میں ترقی کا مطلب ’’ گروی‘‘

لیجیے پاکستان بنے ہوئے 73برس ہوچکےہیں، یوں سمجھیں کہ روس اور کمیونزم یا ترقی پسندی کو برا بھلا کہتے ہوئے بھی اتنا ہی عرصہ گزرا ہے۔ نوم چومسکی سے کسی نے پوچھا کہ کورونا کی وبا کے بعد کیا دنیا بدل جائے گی؟ اس نے کہا ’’اور خراب ہو جائیگی۔‘‘ دیکھیے نا پاکستان اس وقت روس سے کورونا انجکشن منگوا رہا ہے اور تمام مذہبی طبقے خاموش ہیں۔ جب عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیا، اس وقت بھی خاموش رہے۔اب جبکہ پاکستان میں جہازوں کے بدلے کثیر سرمایہ دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہےتو دوسری طرف اقوام متحدہ کے اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی او ر کہیں پر بھی ہوں، پی آئی اے سے سفر نہ کریں۔ جہاز کی قیمت اور ہر جانے کے علاوہ سنا ہے کہ براڈشٹ کو بھی 39ملین کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ریکوڈک کے معاملے پر نے پاکستان پہ 6؍ارب کا جرمانہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان نے 11 ارب ڈالر قرضوں کی ادائیگی کےلئے مختص کیے ہیں۔ مفرور الطاف حسین اور شاید نواز شریف کو پکڑ کے لانے کے لئے اچھی خاصی رقم ادا ہو چکی ہو گی کہ اس کی خبر بھی براڈشیٹ کی 2003کی خبر کی طرح 2021میں سامنے آئیگی۔ معاشی سطح پر مزید فیصلوں میں کہا گیا ہے کہ اس رواں سال 47سرکاری اداروں کی نج کاری عمل میں آئے گی۔ فی الوقت تو 19اداروں کو فوری طور پر پرائیویٹائز کیا جائے گا۔ ہفتے شمار کرتے جائیں جو میں نے سنا، پڑھا اور لکھا ہے۔ توقع یہ بھی کی جا رہی ہے کہ روز ویلٹ ہوٹل اور اسکائب ہوٹل کو شاید قرضوں سے یا نج کاری سے نکال لیا جائے۔
دنیا کی تاریخ پڑھ لیں۔ پہلے بستیاں دریائوں کے کنارے بننی شروع ہوئیں۔ پھر پہاڑوں اور ریگ زاروں میں گھوڑے دوڑائے گئے۔ دنیا نے انیسویں صدی میں دو عالمی جنگیں دیکھیں۔ جرمنی، فرانس کے علاوہ جاپان اور ویت نام کے علاوہ جنوبی کوریا کو بھی اجڑتے اور پھر ساٹھ کی دہائی تک ان سارے ملکوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسپین نے تو فرانکو کے ظلم کا زمانہ بھی دیکھا۔ ہم نے کیا کیا؟ صرف جانے والوں کو برا کہااور قرضے لئے۔ بھٹو صاحب نے قومیائے تھے فیکٹریاں اور تعلیمی ادارے انجام کیا ہوا؟ نہ صرف واپس کرنا پڑے مگر پھر اپنے پائوں پر آج تک کھڑے نہ ہو سکے۔ ٹی وی ہی کو لیجیے ہمارے بجلی کے بلوں میں ہر گھر سے کم از کم 100روپے ماہانہ اِس مد میں لئےجا رہے ہیں۔ عملے کو لاکھوں کے حساب سے اعلیٰ عہدے دیے جا رہے ہیں او رچھوٹے عملے کو گولڈن ہینڈشیک۔ نرسیں، ڈاکٹر، پروفیسرز اور استاد مظاہرے کرتے ہیں تو ان پر اس سردی میں پانی کے ٹینک کھول دیے جاتے ہیں ۔
اب تک تو معاش نامہ اور مظاہروں کو آئینہ دکھایا گیا اب آگے آئیے۔ دنیا بھر کی عورتوں نے کہنا شروع کیا ہے کہ خواتین کو گھریلو کام کامعاوضہ ملنا چاہئے۔ اس میں خواتین کے علاوہ خواجہ سرائوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اگر یہ نہ ہوا تو دنیا بھر کی عورتیں کہیں گی کہ ہم سے جبری مزدوری لی جاتی ہے۔پاکستان جیسے ممالک میں تو کھانا پکانے کو گیس ہے نہ بجلی ہے نہ پینے کو صاف پانی ہے۔ نہ صاف پانی میں اگائی ہوئی سبزیاں ہیں۔ ڈھائی کروڑ بچے اسکول اس لیے نہیں جاتے کہ ان کے علاقے میں اسکول ہی نہیں ہیں۔ استادوں کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ پر ہم بھی خوب ہیں ہم نے زوم اور آن لائن چھوٹے بچوں کو پڑھانے کے تجربے کیے اور پھر خود ہی کہا کہ چونکہ سارے علاقوں میں بجلی نہیں ہے اور استاد تجربہ کار نہیں ۔ اُس کے باوجود اعلان کیا اتنے کالج نہیں جتنے اسکول اور آخری تجزیہ یہ کہ جواب تک پڑھا تھا، وہ بھی بھول گیا یا کچا پکایاد ہے۔
دوسری طرف ہم ابھی تک سوچ رہے ہیں کہ تین مرلے یا پانچ مرلے کے فلیٹ یا گھر بنائے جائیں۔ قرضہ لینے والے کسی افسر کی گارنٹی لائیں۔ افسر بھی کوئی پاگل ہو گا جو غریب آدمی کو گارنٹی دے گا۔ بے شک اخبار میں بہت سہولتوں کا اعلان ہوتا ہے۔ ہاں بالکل ٹھیک ، مگر اس اعلان کے ساتھ ’’دبئی مت جائیں۔ ہم یہیں آپ کے لئے دبئی بنا دینگے‘‘۔ بتائیں غریب سرمایہ کہاں سے لائے۔ اسے تو کینسر کے علاج کے لئے سب کچھ بیچ کر کفن بھی مانگ کر ڈالنا ہوتا ہے۔ اب جب کہ خواتین بھی کمانے لگی ہیں، کیا ان کی اپنی نوکری کی گارنٹی کافی نہیں ہو گی؟ ہمارے غریبوں کو پناہ گاہیں نہیں؟ سر چھپانے کو دو کمروں کا گھر چاہئے۔ چاہے وہ فلیٹ کی شکل میں ہو۔ ماہرینِ تعمیرات کو بلا کر سر جوڑ کر ایسے بیٹھیں جیسے آپ مولانا اشرفی اور مولانا شیرانی کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور مسائل غیر ممالک میں مقیم امیر پاکستانیوں کی محبت اور مشاورت سے حل نہیں ہوں گے۔ اب تو بہت سی خواتین ماہرین بھی ہمارے ملک میں ہیں۔ ان کی خدمات اور نوجوانوں کی ذہنی ایچ سے فائدہ اٹھائیں۔ ہمارے یہاں تو ہر چوتھے مہینے بلوچستان میں کوئلے کے ذخائر کھودتے ہوئے ۔ دس پندرہ کان کن کبھی دم گھٹنے سے ، کبھی جل کر خود کوئلہ ہو جاتے ہیں یا پھر قبیلوں کی گمشدگی اور نفرتوں کی آڑ میں مار دیے جاتے ہیں۔ ذرا آئیں پسنی کے مچھیروں، مقامی شاعروں اور سازندوں کی آوازیں تو واٹس ایپ پہ سنیں اور ڈاکٹر مری کے ذریعے معلوم کریں کہ بلوچستان کی طرح پاکستان کی تاریخ کتنے کروڑوں سال پرانی ہے؟ اپنی تاریخ اور معاشرت کے زمانے آگے بڑھنے میں پیچھے رہ جانے کا الزام ، سیاسی وڈیروں کو دیں، اس علاقہ کی حکومت کو دیں، محاسبہ تو کر کے دیکھیں۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker