تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : سول حکومت پر فوج کا دستِ آہن اور فردوس عاشق پر بدعنوانی کا الزام

وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کومعاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فردوس عاشق اعوان کو فوری طور سے معاون خصوصی کے عہدےسے فارغ کردیا گیا ہے۔ اخبارات میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق انہیں بدعنوانی کے الزام کے بعد مستعفی ہونے کے لئے کہا گیا تھا تاہم ان کے انکار پر وزیر اعظم نے برطرفی کا حکم جاری کردیا۔ حکومت سے علیحدہ ہونے سے پہلے فردوس عاشق اعوان کو وزیر اعظم سے ملاقات کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
کابینہ سے کسی رکن کی علیحدگی کوئی حیران کن بات نہیں ہے لیکن جس طرح وزارت اطلاعات کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر فوری تبدیلیاں کی گئی ہیں ان سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ اوّل: حکومتی معاملات پر وزیر اعظم کی گرفت کمزور ہوچکی ہے اور وہ سیکورٹی معاملات، خارجہ امور اور مالیات کے بعد اب اطلاعات کے شعبہ میں بھی غیر مؤثر ہوجائیں گے۔ دوئم: کابینہ سے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو علیحدہ کرنے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ کسی طرح بھی شفافیت کا مظہر نہیں ہے۔
خبروں کے مطابق وزیر اعظم کے کیبنیٹ سیکرٹری اعظم خان نے گزشتہ روز فردوس عاشق اعوان کو طلب کیا اور ان سے استعفی دینے کے لئے کہا۔ تاہم معاون خصوصی نے وزیر اعظم سے ملاقات پر اصرار کیا تاکہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرسکیں۔ انہیں یہ موقع نہیں دیا گیا۔ آج ان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے علاوہ فوج کے سابق ترجمان اور جنوبی کمان کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو ان کی جگہ دینے اور حکومت کا ترجمان مقرر کرنے کا حکم بھی جاری ہوگیا۔ ایک روز پہلے تک حکومت کی ترجمانی کرنے والے کسی شخص کو باقاعدہ چارج شیٹ کے بغیر علیحدہ کرنا کسی طور شفافیت کا نمونہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی الزام ثابت ہوئے بغیر میڈیا میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کا چرچا کرکے ایک سابق عہدیدار کی شہرت کو نقصان پہنچانا ، دیانت داری اور قانون پسندی کی علامت قرار دی جاسکتی ہے۔
اس ماہ کے شروع میں بھی کابینہ میں اچانک تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ یہ تبدیلیاں چینی اسکینڈل پر ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کی گئی تھیں جس میں بعض اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ اگرچہ وزیر اعظم کا یہ کہنا تھا کہ وہ 25 اپریل کو اس معاملہ کی تفصیلی فورنزک رپورٹ سامنے آنے سے پہلے کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ اس تفصیلی رپورٹ کی تیاری کے لئے چند روز پہلے مزید دو ہفتے کی مہلت دے دی گئی ہے۔ اپریل کے شروع میں ہونے والی تبدیلیوں میں سب سے اہم تبدیلی خسرو بختیار کی تھی جن پر جہانگیر ترین کے علاوہ شوگر اسکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ البتہ ان سے فوڈ سیکورٹی و تحقیق کی وزارت واپس لے کر انہیں معاشی امور کا وزیر بنا دیا گیا تھا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ کسی عہدے سے تنزلی کی بجائے ترقی ہے کیوں کہ مالی معاملات کی وزارت زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔ البتہ تحریک انصاف کے میڈیا منیجرز نے اسے عمران خان کی احتساب کے ساتھ وابستگی اور کسی کی بدعنوانی کو برداشت نہ کرنے کی لازوال خوبی کے طور پر پیش کرنے کی حتی الامکان کوشش کی تھی۔ اس معاملہ کا ڈراپ سین ہونا ابھی باقی ہے۔ کیوں کہ تفصیلی رپورٹ میں بھی اگر جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے دوررس سیاسی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
وزارت اطلاعات میں موجودہ تبدیلیاں البتہ بالکل مختلف نوعیت کی ہیں۔ کورونا وائرس اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی تعطل کی صورت حال میں قومی یک جہتی کی باتیں کی جاتی ہیں اور حکومت سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ باقی معاملات کو پس پشت ڈال کر کورونا کی وجہ سے سامنے آنے والی صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کرے۔ سب سے پہلا خطرہ تو عوام کی صحت کو لاحق ہے۔ ملک میں کوروناوائرس کے ٹیسٹ کی صلاحیت محدود ہے۔ اس لئے قیاس کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں کورونا متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو سرکاری طور پر سامنے آتی ہے۔ اس سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایسے سب لوگ جو کورونا کا شکار ہوچکے ہیں لیکن نہ ان میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئی ہیں اور نہ ہی ان کا ٹیسٹ کرکے یقین کیا گیا ہے کہ وہ کورونا سے محفوظ ہیں، اندیشہ ہے کہ یہ لوگ معاشرے میں خاموش کورونا کیرئیر ہیں۔ ان کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے۔ ملک میں حکومت کی نرمی اور عوام کی کم علمی کی وجہ سے سماجی دوری کے اصولوں پر مؤثر طریقے سے عمل نہ ہونے کے سبب بھی ان خاموش وائرس کیرئیرز کی وجہ سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ اسی لئے شبہ ہے کہ مئی کے دوران جب ملک میں اس وائرس کاعروج ہوگا تو مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے اور ملک کا نظام صحت اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنے اور علاج فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔
ان حالات میں کسی بھی حکومت کے لئے وزارتوں میں تبدیلی سے زیادہ ٹھوس میڈیکل اور معاشی پالیسی بنانا اور مستقبل میں پیش آنے والی مشکلات کے لئے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم عمران خان اور تحریک انصاف نے کورونا وائرس کے معاملہ کو سماجی ، طبی اور معاشی چیلنج سے زیادہ سیاسی طور سے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے خدائی امداد سمجھا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ دے کر اور رعائیتی شرائط پر نئے قرضے دے کر پاکستان کی فوری مالی مشکلات کو کسی حد تک کم کیا ہے۔ وفاقی حکومت اس سہولت کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں استعمال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بجائے اس امداد اور تیل کی درآمد پر مصارف میں کمی سے حاصل ہونے والے وسائل کو ہاٹ منی کی صورت میں آنے والے سرمائے کی واپسی اور احساس پروگرام کے تحت بعض مراعات دینے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
ملکی معیشت کوسہارا دینے اور غریب لوگوں کی مدد کے لئے اگرچہ بعض مالی منصوبے بھی ضروری تھے لیکن ان منصوبوں کو وزیر اعظم کا وژن قرار دے کر ان کے نام سے معنون کیا جاتاہے اور ایسے تمام منصوبوں کو تحریک انصاف کی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا جارہاہے۔ اس رویہ سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان درپردہ خود کو کمزور اور لاچار سمجھ رہے ہیں۔ وہ ذہنی طور پر کسی بھی ناگہانی سیاسی صورت حال کا سامنا کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اسی لئے قومی بحران میں انہوں نے سب کے وزیر اعظم بننے اور قومی لیڈر کا کردار ادا کرنے کی بجائے ، ذاتی خوبیوں کے پرچار اور تحریک انصاف کی عوام دوستی کا پروپیگنڈا کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ تاکہ وہ عوام میں اپنے حامی پاپولر بیس کو خوش کرتے رہیں۔
وزارت اطلاعات میں تبدیلیاں نہ صرف حکومت کے اندر پکنے والی کھچڑی کی کہانی بیا ن کرتی ہیں بلکہ ان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ منتخب حکومت اور مقتدر حلقوں میں صرف پالیسی کے حوالے سے ہی رسہ کشی کی کیفیت نہیں ہے بلکہ بیانیہ کا اختلاف بھی اہم حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ وزارت اطلاعات میں شبلی فراز کی وزیر کے طور پر تقرری کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے معاون خصوصی مقرر ہونے کوسول حکومت پر اسٹبلشمنٹ کی برتری کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ یوں لگتا ہے کہ پالیسیوں میں من پسند تبدیلیوں کے باوجود ان کی تشہیر کے حوالے سے بھی ایک پیج پر موجود سول و عسکری قیادت میں نقطہ نظر کا اختلاف واضح ہے۔ اب اسٹبلشمنٹ دوست لوگوں کو وزارت اطلاعات کی نگرانی اور سرکاری مؤقف کی ترجمانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس طرح زیادہ متوازن سرکاری مؤقف سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ساری سرکاری مشینری محض تحریک انصاف کے پروپیگنڈا سیل کی صورت اختیار نہ کرلے۔ اس طرح عام لوگوں کے سامنے اس فرق کو بھی کم کرنے کی کوشش کی جائے گی جو بظاہر اسٹبلشمنٹ اور حکومت کی سوچ میں موجود ہے۔
یوں تو اس اختلاف کی باتیں کورونا وائرس کا بحران سامنے آنے سے پہلے اپوزیشن کے ساتھ لین دین اور معاشی معاملات میں بدانتطامی کی وجہ سے ہی سامنے آنے لگی تھیں۔ روزانہ کی بنیاد پر موجودہ حکومت کے خاتمہ یا مڈ ٹرم انتخابات کی خبریں پلانٹ کی جاتی تھی۔ اسی طرح بیماری کی وجہ سے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے وقت بھی یہ اختلاف کھل کر سامنے آیا۔ کورونا وائرس پھیلنے اور سندھ میں لاک ڈاؤن کے فیصلہ کے باوجود عمران خان نے لاک ڈاؤن یا معاشی سرگرمیاں معطل کرنے کی شدید مخالفت کی اور ایسے کسی اقدام کو غریبوں کے لئے سزائے موت کا فرمان قرار دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا اور فوجی دستوں نے نگرانی شروع کردی ۔ اب بھی ملک میں جزوی یا سمارٹ لاک ڈاؤن فوج کی صوابدید اور کنٹرول ہی وجہ سے نافذ ہے۔
کورونا وائرس کے حوالے سے میڈیا اسٹریٹیجی پر بھی اختلاف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے حکومتی ترجمانوں کے ساتھ مل کر پریس کانفرنسوں میں ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی کوشش ضرور کی لیکن اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ وزارت اطلاعات میں تبدیلوں کے ذریعے اب بیانیہ کو متوازن کرنے اور زیادہ عکاس بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ تبدیلیاں حکومت کی اپنی صفوں میں انتشار کی کہانی بھی بیان کرتی ہیں۔ ورنہ فردوس عاشق اعوان کی برطرفی اور نئی تقرریوں کا باقاعدہ اعلان سامنے آنے سے پہلے فواد چوہدری کو اس معاملہ پر ٹوئٹ جاری کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
سرکاری بیانیہ میں توازن قائم کرنا غالباً وقت کی ہام ضرورت سمجھی جارہی ہے۔ شبلی فراز کے ساتھ کام کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ بخوبی یہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں آئی ایس پی آر کے سربراہ کے طور پر معلومات فراہم اور کنٹرول کرنے کا چار سالہ تجربہ حاصل ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker