تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

تجزیہ : سید مجاہد علی اپوزیشن جمہوری سربلندی کے لئے وزیر اعظم کا ساتھ دے

وزیر اعظم ہاؤس اور جی ایچ کیو کے درمیان تنازعہ میں دو اہم سوال سامنے آئے ہیں۔ ایک : کیا فوجی قیادت کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کا اختلاف کسی اصولی نکتہ پر استوار ہے اور کیا اسے ان کا جمہوری و آئینی حق تسلیم کرتے ہوئے فوج کے مقابلہ میں حکومت کی حمایت کرنا ضروری ہے۔ دوئم: کیا ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملہ میں فوج کے چین آف کمانڈ اور ڈسپلن کا استحقاق مانا جائے ، اور حکومت کو احتیاط برتنے اور ملکی سیاسی ماحول میں کشیدگی سے گریز کا مشورہ دیا جائے۔
ان دونوں پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے یہ جان لینا اہم ہے کہ فوجی ذرائع اس معاملہ پر کوئی رائے دینے سے گریز کررہے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے چھے اکتوبر کے بعد فوجی تقرریوں یا اس حوالے سے حکومت کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلاف کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ 6 سے 12 اکتوبر کے دوران اگرچہ افواہوں اور سرگوشیوں میں سول ملٹری تعلقات میں دراڑ پڑنے کے بارے میں نت نئی معلومات سامنے آتی رہی تھیں لیکن کسی سرکاری ذریعے نے اس معاملہ پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حتی کہ 11 اکتوبر کو وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا کے براہ راست سوال پر یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ ’اس معاملہ میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری ہی بات کرسکتے ہیں یا پھر آپ وزیر دفاع پرویز خٹک سے پوچھ سکتے ہیں کیوں کہ یہ معاملہ ان کے محکمہ سے متعلق ہے‘۔
جب شیخ رشید جیسا منہ پھٹ اور اندر کی خبریں نشر کرنے کی شہرت رکھنے والا وزیر بھی جواب دینے سے انکار کرے تو معاملہ کی سنگینی کے بارے میں قیاس آرائیوں میں شدت پیدا ہونا فطری تھا۔ ورنہ اس حوالے سے وزیر دفاع یا ان کی وزارت کا کردار اس کے علاوہ کیا ہے کہ جب ’دو بڑے‘ افواہوں کی شدت کے بعد مل کر بیچ کا کوئی راستہ نکال لیں تو اسی وزارت کو سمری تیار کرنے کا کام سونپ دیا جائے۔ وزیر اعظم کی اس اعلانیہ خواہش کے برعکس کہ سابقہ ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ہی ادارے کی سربراہی کرتے رہیں، اب آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تقرری کے بارے میں سمری تیار کرکے وزیر اعظم ہاؤس بھیجی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسی پیش رفت کے بارے میں ٹوئٹ میں قوم کو ’خوشخبری‘ دی ہے کہ ’نئی تقرری کا پراسس شروع ہو چکا ہے۔ ایک بار پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کیلئے تمام ادارے متحد اور یکساں ہیں‘۔ اس دعوے پر تو کسی تبصرے کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ جس طریقے سے یہ ’پراسس‘ شروع ہؤا ہے اور اس دوران معاملات میں جو بگاڑ اور تناؤ پیدا ہؤا ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں واقعات کی اس ستم ظریفی کو نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ حکومتی ترجمان نے سول ملٹری اختلاف کے بارے میں معلومات گزشتہ روز یعنی 12 اکتوبر کو فراہم کیں۔ یہ وہی تاریخ ہے جب 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ان پر طیارہ اغوا کرنے اور غداری جیسے سنگین الزامات میں مقدمہ قائم کیا تھا۔ فواد چوہدری نے گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملہ پر اختلاف، کابینہ میں غور اور وزیر اعظم کے ’اصولی اصرار‘ کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور اسی شام ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی عامر ڈوگر نے اس اختلاف کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ عمران خان ہمسایہ ملک کے حالات کی وجہ سے چاہتے تھے کہ فی الوقت جنرل فیض حمید ہی آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہیں۔ تاہم اب نئی تقرری کے بارے میں باقاعدہ سمری میں تجویز بھیجی جائے گی اور وزیر اعظم تین یا پانچ ناموں میں کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔
گویا جس معاملہ کو وزیر اعظم کے قریب ترین رفقا حکومت کی آئینی بالادستی اور اپنے اختیار کا معاملہ قرار دے رہے ہیں، اگلے ہی سانس میں اس سے گریز کرتے ہوئے فوج کے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی کررہے ہیں کہ جنرل فیض حمید تو بہر حال پشاور کور کی کمان کریں گے اور وزیر اعظم ’طریقہ کار‘ کے مطابق آئی ایس آئی کا نیا ڈی جی چنیں گے۔ وزیر اعظم کے رہے سہے وقار اور اختیار کا بھرم پرکھنے کے لئے تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس عہدہ پر آئی ایس پی آر کے اعلان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ہی کو مقرر کیا جاتا ہے یا وزیر اعظم کسی نئے نام کا انتخاب کرکے اپنے ’بااختیار‘ ہونے کا ٹھوس ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ حالانکہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اب آئی ایس آئی کا سربراہ کسے مقرر کیا جاتا ہے۔ فوجی قیادت نے وزیر اعظم کی ’اتھارٹی‘ کو نظر انداز کرکے بہر حال یہ واضح کردیاہے کہ ایک پیج کے بارے میں حکومتی مؤقف مکمل سچ نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ڈی جی کی تقرری کا معاملہ نہیں بلکہ وزیر اعظم اور فوج کے درمیان متعدد امور پر بڑھتی ہوئی خلیج کی طرف اشارہ ہے۔ تقرری کے بارے میں اٹھنے والے طوفان کو خواہ ٹال دیا گیا ہو لیکن حقیقی امور پر پیدا ہونے والے اختلافات ملکی سیاست پر اثر انداز ہوتے رہیں گے اور آنے والے دنوں میں مختلف طور سے اس کا اظہار بھی ہوتا رہے گا۔
آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جس کا اشتہار جاری کرنا ضروری تھا۔ بعینہ جیسے گزشہ ماہ کے شروع میں جنرل فیض حمید کے دورہ کابل کی تشہیر ضروری نہیں تھی لیکن اسے ظاہر کرنا اہم سمجھا گیا۔ اسی طرح فوجی اسٹبلشمنٹ نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملہ پر مسلمہ روایت کے مطابق سمری بھجوانے اور وزیر اعظم کی رائے حاصل کرنے کی بجائے اس کا باقاعدہ اعلان کرنا ہی ضروری سمجھا۔ عمران خان نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ’مثالی تعلقات‘ کے باوجود ایک فون کال میں یہ معاملہ طے کرنے کی بجائے اس طوفان کو پروان چڑھنے کا موقع دیا، بالآخر باہمی ملاقات میں یہ ’ اتفاق‘ کرلیا گیا کہ وزیر اعظم کی خواہش کے برعکس فیض حمید ا س عہدے پر فائز نہیں رہیں گے۔
تکنیکی لحاظ سے آئی ایس آئی ایک سول ادارہ ہے اور اس کے سربراہ کی تقرری وزیر اعظم کا استصواب ہے ۔ تاہم اب ملک کے باخبر دفاعی تجزیہ نگار میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ صرف دکھاوے کی باتیں ہیں۔ اصل میں فوج ہی آئی ایس آئی کو کنٹرول کرتی ہے اور آرمی چیف سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں جانتا کہ کسے اس ادارے کی سربراہی کرنی چاہئے۔ اس کا اعتراف سرکاری ترجمان بھی کررہے ہیں کہ آرمی چیف ہی بہتر جانتے ہیں کہ کب کون سا جنرل کس جگہ پر مناسب رہے گا ۔ پھر عامر ڈوگر ، ندیم ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہہ کر نہ جانے کیا ثابت کرنا چاہتے تھے : عمران خان نے آرمی چیف سے کہا کہ ’آپ طریقہ کار اپنائیں ورنہ (ماضی میں) تو یہاں ربر سٹیپمس لگتی رہی ہیں‘۔ اینکر ندیم ملک نے پوچھا کہ کیا عمران خان نے کابینہ اجلاس میں یہ بات کہی کہ ’میں ربر سٹیمپ نہیں ہوں‘تو عامر ڈوگر نے جواب دیاکہ ’ساری باتوں کا تو آپ کو پتا ہے، میرے منہ سے آپ نے ضرور نکلوانا ہے‘۔ یعنی صاف چھپتے بھی نہیں ، سامنے آتے بھی نہیں۔
حکومت یہ ماننے سے انکار کررہی ہے کہ وہ اس معاملہ میں دیوار سے لگی ہے۔ البتہ اس کے دعوے ، عملی صورت حال کے برعکس ہیں۔ اس کے باوجود یہ بحث جائز اور مناسب ہے کہ اگر فوج وزیر اعظم کی اتھارٹی کو چیلنج کرتی ہے تو ملکی جمہوری سیاسی قیادت کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ اصولی طور سے اس معاملہ پر منتخب وزیر اعظم کا ساتھ دینا ہی جمہوریت اور آئین کی پاسداری کہا جائے گا۔ تاہم ایک طرف حکومت اس معاملہ کی یک طرفہ پردہ پوشی کرتے ہوئے پارلیمنٹ یا پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لینے کے لئے تیار نہیں ہے تو دوسری طرف اپوزیشن لیڈروں کے رویہ کا اندازہ ان کے بیانات سے کیا جاسکتا ہے۔ مریم نواز نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’یہ اداروں اور جمہوریت کا مسئلہ نہیں بلکہ عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کو چند دن مزید طوالت دینے کا معاملہ ہے۔ آج عمران خان کو آئینی حق اور ووٹ کو عزت دو یاد آ گیا ہے۔ انہیں نواز شریف بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘۔ اسی حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے بھی حکومت ہی کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے ملکی اداروں کو شدید نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملہ کو وزیر اعظم کی ہٹ دھرمی کہا ہے۔ یعنی حکومت غلط اور فوج کا طریقہ اور رویہ درست ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کا یہ طرزعمل اس اصولی مؤقف سے متصادم ہے کہ سیاسی معاملات میں فوج کو مداخلت کا حق نہیں دیا جاسکتا۔
مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بظاہر وزیر اعظم کو تنہا کرنے کی کوشش کے باوجود یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر یا پیپلز پارٹی کے چئیرمین نے اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ عمران خان نے پارلیمنٹ کو غیر اہم ادارہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن اگر فوج کے مقابلے میں سول سیٹ اپ کے اختیار پر اصرار ضروری ہے تو پارلیمنٹ ہی وہ واحد فورم ہے جہاں سے ملک کا وزیر اعظم وہ طاقت و توانائی حاصل کرسکتا ہے جو ماورائے آئین اقدامات کے مقابلے میں اس کی پوزیشن مضبوط کرسکے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو اس موقع کوضائع کرنے کی بجائے مل کر اس اصول کی بالادستی کے لئے کام کرنا چاہئے کہ منتخب سیاسی قیادت ہی تمام قومی فیصلے کرنے کی مجاز ہے۔ فوجی قیادت کو ہر وہ بات ماننا پڑے گی جو کوئی بھی منتخب وزیر اعظم پارلیمنٹ کی حمایت سے طے کرتا ہے۔
تاہم جب ملک کا وزیر اعظم جانتا ہو کہ فوج سے تصادم کی صورت میں اس کی اپنی پارٹی کے بزرجمہر کسی دوسری طرف دیکھنے لگیں گے اور اپوزیشن اس تاک میں ہو کہ موقع ملتے ہی وہ حکمران جماعت کی جگہ اپنی خدمات پیش کرسکے تو ملک میں جمہوری بالادستی اور آئین کی حکمرانی کی باتیں بے معنی ہوجاتی ہیں۔ موجودہ حالات میں فوج کو آئین کا پابند کرنے اور سیاسی جمہوری نظام کے استحکام کے لئے حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک نایاب موقع ملا ہے۔ عمران خان سیاسی مفاہمت کا گمشدہ راستہ تلاش کریں اور اپوزیشن اقتدار کا چور دروازہ دیکھنے کی بجائے، نظام کو طاقت ور کرنے کےلئے وزیر اعظم کا ساتھ دے۔ تب ہی سیاسی پارٹیوں کی ملکی آئین اور عوام کے ساتھ وفاداری پریقین کیا جاسکے گا۔ اس مرحلہ پر بھی اگر اقتدار کے میوزیکل چئیر کا کھیل جاری رہا تو ملک میں بامعنی سول حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

(بشکریہ کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker