اہم خبریں

مینار پاکستان واقعہ: اقرار الحسن نے ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کی حمایت کرنے پر معافی مانگ لی

کراچی : ٹی وی میزبان سید اقرار الحسن نے لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ پیش آئے دست درازی کے کیس میں گرفتار ملزمان سے پیسوں کی وصولی کی ٹیلی فونک گفتگو سامنے آنے کے بعد عائشہ اکرم کی حمایت کرنے پر معافی مانگ لی۔خیال رہے کہ اقرار الحسن نے یہ ویڈیو بیان خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھی ریمبو کی ٹیلی فونک گفتگو سامنے آنے کے بعد جاری کیا، جس میں خاتون ٹک ٹاکر اور ان کے ساتھی کے درمیان فون پر جیل میں شناخت ہونے والے ملزمان سے رقم لینے کی گفتگو 25 سیکنڈ پر مشتمل ہے۔
اقرار الحسن نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں عائشہ اکرم کا ساتھ دینے پر معافی مانگی۔اپنے ویڈیو بیان میں اقرار الحسن نے کہا کہ ’میں یہ ویڈیو آپ سب سے غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے بنارہا ہوں، ہوسکے تو میں نے پچھلے 8 سے 10 برس میں جو کام کیا اس کام کے صدقے مجھے معاف کردیجیے گا‘۔
اقرار الحسن نے کہا کہ ’عائشہ اکرم اور ریمبو کی جو حالیہ آڈیو سامنے آئی جس میں وہ گرفتار ملزمان کی رہائی اور ان سے ڈیل کے بدلے 5، 5 لاکھ روپے وصول کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، میں جس چیز پر عائشہ کے ساتھ کھڑا ہوا وہ لمحہ تھا جب ان کے ساتھ بدتمیزی، بدتہذیبی کی گئی’۔
انہوں نے کہا کہ ’بعد میں بھی جب عائشہ کی جھوٹی سچی ویڈیوز سامنے آئیں تو بھی میرا یہ خیال تھا کہ اس کا کردار اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے مگر اب وہ خود ظالم بننے کی منصوبہ بندی کررہی ہے‘۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ایک غریب جھوٹا یا سچا جسے گرفتار کروایا ہے اور یقیناً آپ جھوٹے لوگوں کو بھی گرفتار کروائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسے وصول کیے جاسکیں، مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ میں ایک ایسی لڑکی کے ساتھ کھڑا ہوں’۔
اقرار الحسن نے کہا کہ ’پوری قوم مجھے سمجھاتی رہی، بہت سے لوگوں نے مجھے برا بھلا کہا، میرے اپنے، فیملی، دوستوں نے مجھے روکا لیکن مجھے لگتا تھا ایک مظلوم لڑکی ہے اس کے ساتھ جو ہوا غلط ہوا، میں ڈٹا رہا، میں نے بعد میں منظر عام پر آنے والی ویڈیوز پر بھی عائشہ کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا لیکن اب یہ معاملہ کرپشن اور ظلم کی حدود میں داخل ہوگیا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ لوگ اس آڈیو میں خود کہہ رہے ہیں کہ جو گرفتار ہوئے ہیں وہ غریب لوگ ہیں، پانچ، پانچ لاکھ نہیں دے سکیں گے’۔اقرار الحسن نے کہا کہ ’آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ میں اور یاسر شامی آپ کے لیے، آپ کی آواز بننے اور انصاف دلانے کے لیے بہت زیادہ تنقید برداشت کررہے ہیں لیکن آپ نے بدقسمتی سے اس کا مان نہیں رکھا’۔
انہوں نے کہا کہ ’اس آڈیو کے حوالے سے میں نے عائشہ اکرم اور ریمبو سے ملا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ یہ آڈیو اصلی ہے’۔ٹی وی شو میزبان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتا کہ میں کس چیز کی معافی مانگ رہا ہوں، میں کیا تحقیق کرسکتا تھا اس کیس کی، تحقیق کے لیے زیادہ سے زیادہ ویڈیو شواہد درکار ہوتے ہیں اور عائشہ کے ساتھ بدتمیزی کی ویڈیو موجود تھی، ایسے واقعات رپورٹ کرنے سے پہلے آپ اس فرد کا انسٹاگرام، ٹک ٹاک اکاؤنٹ نہیں دیکھتے، اس کے ذہن کو نہیں پڑھتے کہ وہ کتنا کرپٹ ہے کہ خود کو انصاف دلانے کے بجائے اپنی عزت کا سودا 5، 5 لاکھ کے عوض کرنے لگے’۔
اقرار الحسن نے کہا کہ ان ویڈیوز کو دیکھ کر پوری قوم اتنی ہی دلگرفتہ تھی جتنی دلگرفتگی کا اظہار میں نے یاسر شامی کے ساتھ اپنی ویڈیو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ’میں اس واقعے کو رپورٹ کرنے پر سب سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، اللہ کی ذات جانتی ہے اس معاملے میں میرا کوئی قصور نہیں تھا’۔
ٹی وی شو میزبان نے کہا کہ ’میرا کام ہے واقعے کو رپورٹ کرنے میں نے اس واقعے کو رپورٹ کیا لیکن ہوس، لالچ، آپ کچھ نہ کرتیں عائشہ آپ کو میرا مان رکھنا چاہیے تھا، پیسے چاہیے تھے آپ مجھے کہتیں’۔
اقرار الحسن نے کہا کہ ’ ہم نے ایک مظلوم لڑکی کو دیکھا اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، ہم اس کی مدد کے لیے پہنچے ، اسے بہن کہا اس کے سر پر ہاتھ رکھا لیکن اس نے اپنے بھائی کو ذلیل کروادیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے ظالم اور مظلوم میں فرق کرنے میں بڑی بھول ہوئی’۔
خیال رہے کہ رواں برس اگست میں مینار پاکستان واقعہ رپورٹ ہونے کے بعد یاسر شامی نے خاتون ٹک ٹاکر کا انٹرویو لیا تھا اور اسی انٹرویو میں اقرار الحسن نے عائشہ اکرم کی حمایت بھی کی تھی۔مذکورہ انٹرویو کے بعد اقرار الحسن کو کچھ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہوا اور ٹوئٹر پر انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔اقرار الجسن نے بارہا مختلف بیانات میں خاتون ٹک ٹاکر کی حمایت کرتے رہے کہ خاتون کے ساتھ غلط ہوا تھا تو ان کا ساتھ دینا چاہیے ۔
اس حوالے سے 9 اکتوبر کو کی ٹوئٹ میں بھی اقرار الحسن نے کہا تھا کہ ’عائشہ اکرم مینارِ پاکستان خود گئی یا اسے کوئی وہاں لے کر گیا، اس کے کپڑے پھاڑنے کا حق کسی کو نہیں تھا، صرف اس ایک بات پر ہم سب کو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، ہمیں ہر اس عورت کا ساتھ دینا ہے جس کے ساتھ بدتہذیبی کی جائے’۔
یاد رہے واقعہ رواں سال 14 اگست کو اس وقت پیش آیا تھا جب خاتون اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مینار پاکستان کے قریب ویڈیو بنا رہی تھیں۔

( بشکریہ : ڈان نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker