صائمہ نورین بخاریکالملکھاری

صائمہ نورین بخاری کا کالم : کتوں کی شناخت پریڈ ۔۔

کیوں نہ لکھوں ؟

پہلے تو میرا سوال یہ ہے کہ بے وقوف فتنی نہتی ٹک ٹاکر ۔۔اس کے سہولت کاروں اور تماش بینوں میں جو طوفان بدتمیزی مینار پاکستان کے سائے تلے بپا رہا ۔۔۔اس میں کتنے لوگوں کو کرونا ہوا۔ لگتا ہے ۔۔بے غیرت کرونا بھی صرف ڈرپوک شریفوں کو برباد کرنے آیا ہے۔۔۔محترم احباب ۔۔۔۔۔۔
ہمارے ٹی وی اور موبائل کی دنیا جو ان سات دنوں میں افغانستان سے لے کر مینار پاکستان تک سمٹ آئی ہے اور اتنے ٹھیک ٹھاک بابے اور نوجوان جو اب تک جیو فینسنگ کے ذریعے پکڑے جارہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی ویکسین درست لگی ہے یا کرونا بھاگ گیا ہے ویسے ۔ایسے وحشت ناک ماحول میں کرونا کی کیا مجال کہ وہ وہاں ٹھہرتا ۔۔۔پھر وہ کرونا کی تیسری اور چوتھی لہر کیا ہوئی ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحبان ذرا روشنی ڈالیے ۔۔۔۔ہم ذرا مزید سوچ لیں ۔۔۔۔۔کرونا تماش بین ہے یا غیرت مند۔۔۔۔۔۔۔چلیے سوچ لاحاصل رہی اب آگے بڑھتےہیں ۔۔۔۔
یہ ایک حقیقت ہے ہمارے سکرین پسند ناظرین کے طفیل ۔۔ ہمارا آزاد سوشل میڈیا ۔۔۔ہر طرح کے قانون اور پابندیوں سے بے نیاز کسی بدمست ہاتھی کی طرح عام لوگوں کے ذہنوں کو اپنی مستانہ چال کے ذریعے پٹخنیاں دے کر مارنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔
ریٹنگ کے چکر میں سب بھول بیٹھے ہیں کہ اپنی نام نہاد عقل کے گھوڑوں کی لگام کہاں روکنی ہے اور انہیں کہاں سرپٹ دوڑانا ہے ۔۔پہلے تو ذرا یو ٹیوبرز ۔۔ٹک ٹاکرز اور معذرت کے ساتھ کچھ ڈگری یافتہ مگر غیر تربیت یافتہ اینکرز کے پیروں مرشدوں کی جانب توجہ فرمائیے ۔۔۔کوئی بھی عورت سے متعلق جرم ہو یا کوئی نسوانیت کے حوالے سے کوئی الزام ۔یہ سب ایک بے ہودہ ترین پروگرام چلانے کے الزام میں بین ہوکر یو ٹیوب کے دہانے پر پہنچنے والے ۔۔چند ۔”دفعان دور دفع “صاحبان جو ہر سنسنی خیز کیس کو یو ٹیوب پر ڈالنے سے پہلے وکٹم سے فیس وصول کرنے اور پیسے کھرے کرنے میں ماہر ہیں ۔۔ان سے مشورہ نشر کرنے ضرور پہنچ جاتے ہیں ۔ان سے لغویات سن کر اور سنسنی پھیلا کر ۔۔۔۔۔
ایک مشہور زمانہ انگریزی فلم کا مرکزی خیال چراکر ڈرامہ لکھنے والے علیل لخمر صاحب سے یہ معصوم اینکر اپنا بھاشن لینے نہ جائیں تو ان کا چینل نہیں چلتا۔۔۔۔۔اور ان کے درباروں پر جاکر یہ سوال کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
مولانا ۔۔اے پیر و مرشد ۔۔اے ماہر امراض نسواں
۔۔پہلے تو یہ بتائیے۔۔۔۔۔
۔۔۔یہ، دو ٹکے کی عورت ،کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔کیا اسے اس دودھ کے دھلے معاشرے میں زندہ رہنے کی اجازت ہوتی ہے ۔۔۔۔اس کی شکل کیسی ہوتی ہے ۔؟؟؟
۔کبھی یہ نہیں پوچھا جاتا ہے یہ کن سہولت کاروں کی وجہ سے دو ٹکے کی بنتی ہے ۔۔اس کے نام نہاد عاشقوں ۔۔ٹھرکیوں اور ہر لمحہ جھوٹی محبت کی بیماری میں مبتلا رہنے والوں کی ساخت و بناوٹ سے ز یادہ گراوٹ پر بھی اضافی روشنی ڈالیے محترم ۔اپنی بہو بیٹیوں کو گھر وں میں بند کرکے دوسروں کی ماں بہنوں کو ورغلانے والوں کی شکلیں بنا کر دکھائیے اپنے صفحہ قرطاس پر ۔۔۔اور کبھی دو ٹکے کا مرد بھی معاشرے کے سامنے لانے کی جسارت کیجیے ۔۔استاد جی ۔۔۔جو اس گھٹن زدہ معاشرے کے ہر کونے ہر شعبے ہر حصے میں بیٹھا ہوا عورتوں ،بچوں اور اپنے بھائی بندوں کو ہراسںاں کرنے میں مصروف ہے ۔۔۔۔
۔مگر ایسا کہاں پوچھ سکتے ہیں گستاخی کے خوف سے ۔۔۔اور علیل صاحب ایک گھٹیا سا ایکسپریشن چہرے پر لاتے ہوئے خود کو یہ ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ناکام جوانی کے دور میں کبھی اداکار بننے کی جسارت کی تھی جسے مشاق اداکاروں نے کمال جرات سے ناکام بنایا پھر چارسو انگریزی اور ایک ہزار انڈین فلمیں دیکھ کر انہوں نے ان سے ڈائیلاگ اور مرکزی خیال بڑی مشکل اور عرق ریزی سے عرق گلاب کی طرح نکال کر اپنے قلم کی سیاہی میں بند کرکے ایک نفسیاتی مریض طبقے جس کی’بڑی نومز ‘ہیں ۔۔۔۔بڑی مجبوریاں ہیں ۔۔۔بڑی غیرت مندی ہے ۔ان کے لیے بڑے دانش مندانہ ڈرامے لکھے ۔۔۔۔اس کا احسان پری کرونا اور پوسٹ کرونا فلمی چکر نسل یاد رکھے گی ۔۔۔۔
اتنے میں ایک پرانی دوست اداکارہ بڑے تپاک سے انہیں ملنے تشریف لاتی ہیں تو سگریٹ اور مشروب سب کے سامنے چھوڑ کر انہیں گلے لگا کر کہتے ہیں۔۔۔
۔۔آگئی میری شہزادی ۔۔۔۔اینکر حیران ہوتا ہے ڈرتے ہوئے پوچھتا ہے ۔۔
۔سر وہ دو ٹکے کی عورت ۔۔۔۔دو ٹکے کا مرد کیا ہوتا ہے۔؟؟؟۔ پلیز جلدی بتا دیں ۔۔ہمارے چینل کے سبسکرائبر انتظار کررہے ہیں ۔۔ہم نے مزید ایک ’وکٹم بلیمنگ‘ کے لیے بھی ان کے کومنٹس لینے ہیں ۔۔۔۔۔
۔۔تو علیل صاحب جلال میں آجاتے ہیں ۔۔اور ماں بہن کی گالیوں سے اسے سرتاپا سرشار کرتے ہوئے اسے کہتے ہیں کہ تم نے ایک مہان رائٹر سے ایسا گھٹیا سوال کرنے کی جرات کیسے کی ۔۔۔
میری سوسائٹی کی کچھ نومز ہیں ۔۔۔تم ان پر بات کرنے کی جرات کیسے کرسکتے ہو ۔۔تمہارے جنم دن پر لعنت ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔بجائے اس کے یہ مہان قلم کار ان معصوم سے دو ٹکے کے اینکروں کو یہ بتاتے کہ ہمارے جیسے عظیم کلا کار اب ایک یا دو ایسی اکیڈمیاں بنائیں گے جس میں سب ٹک ٹاکرز یا شائقین اداکاروں کو کوئی مہذب کونٹینٹ دیں گے تاکہ انہیں پتا چلے کہ اداکاری کوئی عاشی ریمبو جیسوں کا کھیل نہیں ۔۔خالی ٹھمکے لگا کر اور چوڑے چماروں کی طرح دانت نکال کر فالورز اکٹھے کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہوتی ۔ایسوں کوہمارے ادبی گرو منٹو کی زبان میں” بھڑوے“ کہا جاتا ہے ۔اور عورتوں کو ”سو گندھی “۔۔پہلے کچھ شخصیت سازی کرو کچھ لکھو پڑھو ۔کوئی ٹیلنٹ تراشو ۔۔۔۔مگر افسوس نرگسیت کی انتہا میں وہ یہ نہیں بتا پاتے کہ ۔۔۔۔
پچھتر سال سے ہم نے بنگلہ دیش ہی نہیں کھویا ۔۔اچھی سوچ تعلیم و تربیت ۔۔اچھی شاعری اچھے قلم کار دانشور افسانہ نگار ۔۔اداکار ۔۔فلم انڈسٹری ۔۔ڈرامہ انڈسٹری ۔۔انفراسٹرکچر معاشرتی اقدار ۔۔۔کھیلوں کے میدان سب ہی کھو دئیے ۔اب صرف چیٹرز یعنی دھوکے باز اور شعبدہ بازوں کا عروج ہے ۔۔۔۔جب عظیم کھلاڑی ۔۔کھیلوں کے میدان کی بجائے ۔۔۔۔ایوان اقتدار پر براجمان کردئیے جائیں تو معاشرتی کھلواڑ بدترین درجہ اختیار کرلیتا ہے ۔۔وہ ہم دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔مگر کہاں بتایا گیا ان سے ۔۔۔۔۔سگریٹ کے مرغولوں میں خمر ی دولتیاں کھاکر
۔ مسخرا اینکر کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے ۔۔پھر ۔ چورن بیچنے کی دنیا میں ایک اور انسانی حقوق کے علم بردار کے پاس جاتا ہے اور پوچھتا ہے ۔
۔جی سر کتے بہت زیادہ ہوگئے ہیں ۔۔اور انسانوں کو کاٹ رہے ہیں بچوں کو کاٹ رہے ہیں ۔راستوں میں بیٹھے ہیں ۔۔۔کوئ حل بتائیے ۔۔۔؟؟؟؟؟
بظاہر مصروف اور فیس بک ٹوئٹر پر بہت ز یادہ بھاشن کا تڑکا لگاتے ہوئے۔۔۔ سر نامی لال بھجکڑ کہتے ہیں میں جانوروں کے حقوق پر اپنی ذاتی فلم بنا رہا ہوں۔۔۔میں ایک موٹی ویشنل اسپیکر ہوں ۔میری دو ڈگریاں ابھی راستے میں گم ہوگئ ہیں ۔میں ان کی تلاش میں ہوں ۔۔۔۔کیا تم قبل از وقت مجھ سے ایسے سوال کر سکتے ہو ۔۔۔
اندر ایک میڈم بیٹھی ہیں این جی او چلاتی ہیں ان سے پوچھیے۔۔۔ایسے فضول سوال ۔۔۔۔۔
اینکر پھرڈھٹائی سے مسکراتا ہوا ۔چیونگم چباتا ہوا مائیک سنبھالتا ہوا وضاحتی سوال کرتا ہے جی میڈم ۔میں جی اصلی جنگلی کتوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں کہ کتوں کے کاٹے سے انسان اور ان کے بچے زخمی ہورہے ہیں ۔۔جابجا کتے ہیں ۔۔۔۔کیا کریں ۔۔۔؟؟؟؟
۔متفکر سفید بالوں والی ایک خالہ جی کہتی ہیں ۔۔۔۔دیکھیے۔۔۔۔۔ کتوں کے بھی کچھ ۔انسانی حقوق۔ ۔۔۔ہوتے ہیں آپ انہیں ۔۔۔صرف آپ کو یا آپ کے بچوں کو کاٹنے کے الزام میں مار تو نہیں سکتے نا ۔۔دیکھیے ہمارے سامنے بڑے بڑے اچھے اچھے کتوں کی مثال ہے ۔۔۔۔۔
۔پھر سوچتے ہوئے کہتی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ یاد آیا کمشنر صاحب کا کتا جو آپ انسانوں میں گم ہوکر بھی کتا ہی رہا ۔دیکھیے نا کتوں میں بھی انسانیت ابھی باقی ہے۔۔۔۔ تو پلیز ایسے دل دہلانے والے سوال مجھ نہ پوچھیے ۔۔۔اچھا توسوال بدل دیتا ہوں ۔۔اتنی دور سے دھکے کھاتا ہوا آیا ہوں ۔۔۔۔ میڈم یہی بتا دیجیے کہ کیا جدید عورت ورکنگ وومن اپنے شوہر کا کھانا بناسکتی ہے۔۔۔۔۔۔بس یہ سننا تھا ۔۔۔دو مردانہ انداز تخاطب اور ماہی منڈے کے حلیوں والی عورتیں۔۔ سگریٹ کے کش لگاتی ہوئی زومبیز کی طرح اس کی طرف لپکتی ہیں ۔
۔۔میں کرتی ہوں تیری ایسی کی تیسی ۔شٹ اپ ۔۔میری سوسائٹی کی کچھ نومز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری عورت اسی کام کے لیے رہ گئی ۔اس کا چولہا اس کی مرضی ۔۔۔شوہر کی ماں بہنیں مر گئی ہیں۔۔۔۔اس مردود کی کیا ؟؟؟۔۔۔۔۔ان کتوں کی ایسی کی تیسی ۔۔دفعان دور شٹ اپ ۔۔
۔باہر نکل کر ایک ویلے مولانا سے ملاقات کو غنیمت کے جان کر پوچھتا ہے ۔۔ایک دم مولانا آگ بگولا ہوجاتے ہیں ۔۔۔اور کہتے ہیں کمینے مفت خورے۔سٹرک پر پوچھ رہا ہے مجھ سے ۔۔۔ ابھی کر ڈیل ۔۔رمضان کی قسم ۔۔ اگر پچاس ہزار سے کم میں بلایا تو میں تیرے پروگرام میں آنے والا نہیں ۔۔۔وہیں آکر بتاؤں گا ۔۔۔کتوں کی نسل کشی کے طریقے ۔۔۔۔۔۔۔۔میری بھی کچھ اپنی نومز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اینکر پھر سے مسخرا بن جاتا ہے سر یہ رمضان کون ہے ہر وقت اس کی قسمیں کیوں کھاتے ہیں ۔۔۔۔یہ میری تیسری بیوی کا بھائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔جا چلادے جا کر خبر ۔۔۔۔۔اوراینکر اب گھبر ا کر ۔۔۔۔ ان کو چھوڑ کر بلا اجازت ایک سوشل ادارے میں جاگھستا ہے ۔۔اور باچھیں پھیلا کر ایک سرکاری عہدیدار سے پوچھتا ہے کہ سر کتے بڑھتے جارہے ہیں ۔۔۔۔بہت سے بچے جو ان کے کاٹنے سے زخمی پڑے ہیں رو رہے ہیں تڑپ رہے ہیں مگر گلیوں میں پارکوں میں محلوں میں کتے پھر رہے ہیں کوئی قانون بنائیے جس سے ہم کتوں کو مار سکتے ہیں بنا کوئی زہر دئیے ۔۔۔۔۔۔
۔۔تھوڑی دیر ہولڈ پر رہیے ۔۔موبائل پر دو دباتے رہیے ۔۔۔۔جواب آتا ہے ابھی ۔۔۔۔دس منٹ کے بعد سر معمولی انداز میں کہتے ہیں ۔۔۔۔
۔۔۔یہ تو پوچھیے والدین سے کہ انہوں نے کتوں کی موجودگی میں بچوں کو سکول جانے سے کیوں نہیں روکا ۔۔کیوں جانے دیا ۔آخر میری سوسائٹی کی کچھ نومز ہیں ۔۔کتوں کی موجودگی میں سکول بھجیجنا قطعی درست نہیں ۔والدین کے خلاف کارروائی ہونی چائیے ۔۔۔۔۔
اوہ ۔۔۔مسخرا اینکر یکلخت سنجیدہ ہوتے ہوئے ۔ایک منحنی سے ڈاکٹر صاحب سے پوچھتا ہے ۔۔۔۔
۔ویسے سر یہ کتوں کے کاٹے کی ویکسین کے بارے کیا خیال ہے کب آئے گی ۔
۔میں جواب دیتی ہوں ۔یہ تو خود کرونا ویکسین نہیں لگوارہے۔۔۔۔ایک ۔۔۔میڈم آگ بگولا ہوتے ہوئے کہتی ہیں یہ ہمارا شعبہ نہیں ہے پوچھو ان چوروں سے جو بھاگ گئے ۔۔۔یا جن کو ناچ ناچ کر ووٹ دئیے تھے ۔۔۔۔نکلو یہاں سے حرام خور کہیں کے ۔۔لفافے اینکرز ۔۔اور مسخرا اینکر اپنے دم توڑتے چینل کی خوراک کے تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔
مینار پاکستان چل پڑتا ہے ۔کیا کروں۔۔کسی جوکر کے تماشے کی ۔ہر کیس دوتین دن بعد ایسا پرانا ہوجاتا ہے کہ جیسے باسی کڑہی کا ابال ۔۔۔ لوگوں کو خبریں بھی لنگر کی طرح فری میں چاہیں نکمے بھوکوں کی طرح مانگتے ہیں لاؤ لاؤ اور لاؤ ۔۔۔۔تاکہ ہم کمنٹس کے ذریعے اپنی تربیت کا پتا دے سکیں ۔۔۔۔وہ گھبرا کر خود ہی ٹرائی پوڈ میں موبائل فٹ کرکے بھاشن دینا شروع کردیتاہے ۔۔۔۔۔
ناظرین آپ دیکھ رہے ہیں ۔۔میرا چینل ۔۔اللہ کا واسطہ گھنٹی دبائیے سبسکرائب کردیجیے ۔۔۔کرونا میں تبدیلی نہیں سنبھل رہی ہے ۔۔۔۔عاشی جیسی عورتیں ریمبو جیسے دوستوں بے وقوف بھڑووں سے ہوشیار رہیے ۔بھائیوں سے درخواست ہے کہ ۔قبروں میں عورتو ں کو پورے کپڑوں کے ساتھ دفن کیجیے ۔۔۔دفتروں میں اپنی ماؤں بہنوں کے ساتھ ساتھ مارکیٹوں میں رکشوں میں سکولوں میں انسٹا پر فیس بک ٹوٹئر ۔۔ٹک ٹاک ہائی وے موٹر وے پر غرض کہ ہر جگہ ساتھ ساتھ رہیے ۔۔کتے ہیں ہر طرف کتے ۔۔ٹھرکیوں سے بچنے کے سنہری اصولوں پر میرا اگلا پروگرام جلد آنے والا ۔۔مگر تب تک آپ کتو ں کی شناخت پریڈ ملاحظہ کیجیے ۔۔ہمارے چینل پر ۔۔۔صرف اور صرف ہمارا چینل لایا کرونا ایس اوپیز کے ساتھ ۔۔کتوں کی شناخت پریڈ ۔۔ یاد رہے اصلی کتے صرف ہمارے چینل پر ۔۔۔کتوں کے ہجوم کی نفسیات اور ان سے نپٹنے کے اصول بھی ہم ہی بتائیں ۔بس ہمارے ساتھ رہیے ۔۔جمے رہیے بنے رہیے ۔۔۔۔۔بنا کسی بریک کے ۔۔۔۔
۔۔اتنے میں اینکر دیکھتا ہے کہ ایک پولیس والا اس کی طرف بڑھ رہا ہے ۔۔۔۔وہ بے دھیانی میں عادت مجبور سوال داغتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سر یہ بے کاروں کا ہجوم ہے انہیں تعلیم نوکریاں ہنر یا روزگار چائیے ۔۔یہ ٹک ٹاک پر دھندے میں مصروف ہیں ۔۔۔۔۔ابے الو ۔۔گندا ہے پر دھندا تو مل رہا ہے نا ۔ویسے گونگلو ۔۔۔یہ میراشعبہ نہیں ہے ۔۔۔۔مجھ سے پوچھ رہا ہے خبیث میری اپنی کچھ نومز ہیں ۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔تجھے قسم ہے دیکھ ۔۔۔گھبر انا نہیں ۔۔۔۔اتنا بتائے دے رہا ہوں کہ کتوں کی شناخت پریڈ شروع ہونے والی ۔۔۔۔کیمروں کا رخ ادھر کرلو ۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker