کتب نمالکھاریمحمد اسلام تبسم

سقوطِ‌ ڈھاکہ کے ذمہ دار، پنجابی جاگیردار ۔۔ محمد اسلام تبسم کی آپ بیتی 4

معروف  انشائیہ  نگار اور ادیب محمد اسلام تبسم کا بچپن مشرقی پاکستان میں گزرا ۔ وہ سقوط ڈھاکہ کے عینی شاہد ہی نہیں اس المیئے سے براہ راست متاثر بھی ہوئے ۔ انہوں نے ۔ خوں ریز مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور پھر پناہ گزین کے طور پر بھارت چلے گئے ۔ پانچ سال بعد وہ پاکستان آئے اور ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی ۔ “گِردو پیش‘‘ میں ان کی زیر طبع کتاب ‘‘ دوسری ہجرت‘‘ قسط وار شائع کی جا رہی ہے یہ سرکاری ملازمیں کی تحریر کردہ کہانیوں اور سرکاری رپورٹوں سے زیادہ اہم دستاویز ہے ۔ رضی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بد قسمتی سے کسی بھی حکومت نے بنگالیوں میں پائی جانے والی احساس محرومی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1971ءتک بنگالی قوم کے دلوں میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اگر شیخ مجیب الرحمٰن کوکسی طرح اقتدار مل بھی جاتا تو خود اُس کی قوم غداری کے جرم میں اُسے قتل کر دیتی۔شیخ مجیب کو خود بھی اس بات کا بخوبی علم تھا اسی لئے وہ اپنے موقف سے نہیں ہٹا۔اسی لئے جب شیخ مجیب الرحمٰن مغربی پاکستان میں نظربند تھا تو اُس وقت حکام اور اُس کے مذاکرات ہوئے لیکن شیخ مجیب پاکستان سے علیحدگی کے سوا کسی بات پر بھی آمادہ نہ تھا۔کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر شیخ مجیب کے چھ نکات پر بات ہوئی اور حکام صرف دو نکات جس میں علیحدہ کرنسی اور علیحدہ فوج کا مطالبہ کیا گیا تھا کے سوا باقی چار ماننے پر تیار تھے لیکن شیخ مجیب اس پر بھی تیار نہ ہوا۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شیخ مجیب پر دباو¿ تھا اور یہ دباو¿ عوام اور بھارت دونوں کی طرف سے تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ16دسمبر1971ءکو صرف بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان ہوا تھا،بنگلہ دیش کی بنیاد تو قیامِ پاکستان کے فوراًبعد ہی رکھ دی گئی تھی، جب 1948ءمیں اُردو کو قومی زبان قرار دیا گیااور مشرقی پاکستان کی صوبائی حکومت کو یہ احکام ملے کہ وہاں کے تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم اُردو ہو گا ،اس کے ساتھ ہی ٹکٹوں، سکو ں اور سرکاری کاغذات سے بنگلہ زبان کے الفاظ ختم کر دئے گئے۔ اُس وقت پاکستان کی کل آبادی کا56فیصد حصّہ مشرقی پاکستان میں آباد تھا،جن کی مادری زبان بنگلہ تھی۔مشرقی پاکستان کے عوام اور لیڈروں کا یہ مطالبہ تھا کہ اُردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔27 جنوری 1952ء کو اُ س کے وزیر اعظم خواجہ ناظم اُلدین نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ اُردو پاکستان کی واحد قومی اور سرکاری زبان ہو گی، اس اعلان پر مشرقی پاکستان کے عوام بالخصوص طلبا بہت ناراض تھے، طلبا کے احتجاج کو روکنے کے لئے ڈھاکہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، جب 21 فروری 1952ءکو مشرقی پاکستان کے طلبا نے ڈھاکہ میں احتجاجی جلوس نکالا تو پولیس نے نہتے طلبا پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو طلبا نے موقع پرجان دے دی اور تین نے ہسپتال جا کر دم توڑ دیا۔ اس کے بعد وہاں کے عوام اور طلبا میں غم و غصّے کی لہر دوڑ گئی اور پورے صوبے میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ، مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے لگاتے اور جہاں کہیں بھی اُردو میں لکھے سائن بورڈ دیکھتے اُنہیں توڑ ڈالتے۔اسی احتجاجی تحریک نے وہاں قوم پرستی کے جذبات اُبھارے جو آخر کار مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ہی ختم ہوئے۔
اس کے بعد یکے بعد دیگرے ایسے کئی واقعات پیش آئے جس سے وہاں کے لوگوں میںمایوسی بڑھتی گئی مثلاً لیاقت علی خان کی شہادت کے بعدجب خواجہ ناظم اُلدین پاکستان کے وزیرِاعظم بنے تو اُنہیں اقتدار سے الگ کر دیا گیا،اسی طرح محمد علی بوگرہ اور حسین شہید سہردردی کو اقتدار سے ہٹایا گیا ۔مشرقی پاکستان میں 1947ءسے1971ءتک کل پندرہ گورنر تعینات رہے اُن میں سے تیرہ کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا ۔صرف دو گورنر ایسے تھے جو مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔تحریک پاکستان کے رہنما اور قائداعظم کے ساتھی مولوی فضل الحق جب مشرقی پاکستان کے گورنر بنے تو اُن پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں ہٹا دیا گیا۔انہی باتوں کی وجہ سے وہاں کے عوام میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت بڑھتی گئی جو آخر کار سقوطِ ڈھاکہ کا سبب بنی۔سقوطِ ڈھاکہ کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ1971ءکی جنگ صرف مشرقی پاکستان کی سرحدوں پر لڑی گئی تھی اور بھارت نے اپنی پوری فوج مشرقی پاکستان کے سرحدوں پر لگا دی تھی ،اگر پاکستانی فوج اپنی مغربی سرحدوں سے بھارت پر حملہ کر دیتا تو بھارت کی آدھی فوج اپنی مغربی سرحدوں کی حفاظت میں لگ جاتی اور اس طرح پاکستان شرمناک شکست سے بچ سکتا تھا۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بارے میں صحیح حقائق کواب تک عوام کے سامنے نہیںلایاگیا۔مندرجہ بالا وجوہات کے علاوہ ایسی وجوہا ت ہیں جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنیں ۔آیئے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
پاکستان کا معاشرہ شروع ہی سے جاگیر دارانہ رہا ہے۔ یہاں کے جاگیر دار ہر دور میںکسی نہ سیاسی جماعت سے منسلک رہے جو ہمیشہ الیکشن جیتنے کے بعد اپنے اثر و رسوخ اور اختیارات میں اضافہ کرتے آئے ہیںاور بے چارے عوام صدیوں سے اُن کے استحصال کا شکار ہوتے آرہے ہیں ، اس کی بڑی وجہ یہاں کے عوام میں تعلیم اور سیاسی شعور کا نہ ہونا ہے۔بد قسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد کسی سیاسی جماعت نے عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کی کوشش نہیں کی۔اُس وقت مسلم لیگ پاکستان کی واحد سیاسی جماعت تھی، جاگیردار طبقہ اپنے مفاد کی خاطر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنے لگااور اس طرح یہ جاگیر داروں کی نمائندہ جماعت بن گئی۔ ایوب خان کے دورِ حکومت میں مسلم لیگ کا شیراز بکھر گیا۔مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پرانے ارکان نے جن میں مولانا بھاشانی، خواجہ ناظم اُلدین اور مولوی فضل الحق شامل تھے عوامی مسلم لیگ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنائی جو بعد میں عوامی لیگ بنی۔ مشرقی پاکستان کے عوام سیاسی شعور رکھتے تھے اور وہاں شرح خواندگی بھی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی اس لئے وہ اپنے حقوق سے واقف تھے اور اپنے حق کے لئے جد و جہد کرنا بھی جانتے تھے۔وہ اس بات کو سمجھ چکے تھے کہ علیحدگی کے بغیر اُنہیں اُن کا حق نہیں مل سکتا اس لئے اُنہوںنے پاکستان سے آزادی کو اپنا نصب العین بنا لیا ۔جب شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم اُٹھ کھڑی ہوئی۔
مشرقی پاکستان میںجاگیر داری نظام کا خاتمہ برسوں پہلے ہو چکا تھا1950ءمیں وہاں ایک بل پاس ہوا جس کی رو سے وہاں ایک شخص صرف 325 ایکڑ زمین اپنے پاس رکھ سکتا تھاجب کہ مغربی پاکستان میں نو سال بعد 1959ءمیں لینڈ ریفارم کمیشن بنایا گیا جس کی رو سے یہاں ایک شخص پانچ سو ایکڑ آبپاشی والی اور ایک ہزار ایکڑ بارانی زمین کا مالک بن سکتا تھا۔مشرقی پاکستان کے سیاستدان متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اس لئے وہ عوام کے مسائل سے بخوبی واقف تھے، اُن کے اندر عوام کی خدمت کا جذبہ موجود تھا اس لئے وہ عوام میں بے حد مقبول تھے عوامی لیگ کے انتخابی منثور میں بھی زرعی اصلاحات کا وعدہ کیا گیا تھا۔شیخ مجیب الرحمٰن اپنے سیاسی جلسوں میں بار بار یہ کہتے کہ وہ اقتدارمیں آکر جاگیر داروں سے فالتو زمین واپس لے کر بے زمین کسانوں میں تقسیم کریں گے اس لئے وہ پاکستان کے سیاست دانوں اور جاگیر داروں کے لئے خطرہ بن گئے تھے اسی بنا پر اُنہیں اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔
مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی تاریخ ،تہذیب اور ثقافت میں بڑا فرق تھامثلاً یہ کہ ناچ گانے کو بنگالی کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور وہاں پڑھے لکھے گھرانوں کی لڑکیوں کو اس کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے جب کہ ہمارے ہاں اسے نہ صرف معیوب بلکہ اسلام کے خلاف تصور کیا جاتا رہاہے۔ (جاری ہے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker