کتب نمالکھاریمحمد اسلام تبسم

سولہ دسمبر 1971 کو کیا ہوا ؟ محمد اسلام تبسم کی آپ بیتی 7

عید کے چند روز بعد ایک دو پہر کو میں کسی کام سے محلے کی مارکیٹ کی طرف گیا تو دیکھا کہ کچھ لوگ ریڈیو پر خبریں سن رہے تھے ۔ خبروں کے بعدپتہ چلا کہ پاکستان اور بھارت کے در میان جنگ چھڑ گئی ہے ۔ میں نے دیکھا کہ جنگ کی خبر سن کر لوگ پریشان ہونے کی بجائے ہنس رہے تھے ،کیوں کہ لوگوں کو پورا یقین تھا کہ اس جنگ میں جیت پاکستان کی ہو گی ۔جنگ کے اعلان کے ساتھ ہی بلیک آﺅٹ کے ساتھ رات کا کرفیو بھی شروع ہو گیا ۔ اب شام ڈھلتے ہی ہر طرف اندھیرا چھا جاتا تھا،اور لوگ گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتے تھے۔ سرحدوں پر جھڑپیں تو پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن اب ان میں شدت آگئی تھی اور اب اکثر دن کے وقت بھی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں تھیں ۔ اس کے علاوہ دن میں تین چار مرتبہ بھارت کے جنگی طیارے بھی ہمارے علاقے میں چکر لگاتے ،ایک جہاز نے یہاں بم بھی گرایا تھا لیکن کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ ایسی صورت حال میں لوگوں کا خوف زدہ ہونا فطری بات تھی ، اس لئے بہت سے لوگ دیناج پور سے نقلِ مکانی پر مجبور ہو گئے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر جانے لگے۔زیادہ تر لوگ سیّد پور اور ڈھاکہ جا رہے تھے ،ڈھاکہ صوبائی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے محفوظ سمجھا جاتا تھا جب کہ سیّد پور میں تقریباً پوری آبادی بہاریوں پر مشتمل تھی۔
ان حالات میںمیرے والد صاحب نے بھی شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ،اُنہوں نے اپنے دوست کے ذریعے سیّد پور میں کرائے پر مکان حاصل کیا اور ہمیںکہا کہ یہاں حالات ٹھیک نہیں تم لوگ کل ہی سیّد پور چلے جاﺅ ، میں بعد میں بعد میں آ جاو¿ں گا۔ میں اور میری والدہ سیّد پور نہیں جاناچاہتے تھے لیکن والد صاحب کے اصرار کرنے ہم راضی ہو گئے۔اگلے دن میری والدہ نے ایک سوٹ کیس میں کچھ کپڑے ڈالے ، ایک تھیلے میں کچھ برتن لیئے اورہم سیّد پور آگئے۔ سیّد پور خاصا پُررونق شہر تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں دیناج پور کی طرح رات کو دھماکوں کی آوازیں نہیں آتی تھیں، لیکن اس کے باوجود یہاں میرا اور میری والدہ کا دل بالکل نہیں لگ رہا تھا۔میں اکثر اپنے دیناج پور کو یاد کر کے روتا تھا۔آٹھ دس دن بعد میری والدہ نے دوبارہ سامان باندھا اور ہم دیناج پور واپس آگئے۔ ہمیں واپس دیکھ کر والد صاحب بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے “لوگ یہاں سے جان بچا کر بھاگ رہے ہیں اور تم واپس آگئے” ان کی بات کافی حد تک درست تھی کیوں کہ ان آٹھ دس دنوں میں دیناج پور کا نقشہ ہی بدل گیا تھاتمام دُکانیں بند تھیں اور سڑکوں پر ٹریفک بالکل نہیں تھی،صرف اِکا دُکا لوگ دکھائی دے رہے تھے ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے شہر میں کرفیو نافذ ہو۔والد صاحب نے کہاکہ کل کچھ لوگ یہاں سے جا رہے ہیں تم بھی چلے جانا ،میں بعد میں آو¿ں گا۔ سیّد پور جانے کا سن کر میری جان نکل گئی ،میں کسی بھی صورت وہاں نہیں جانا چاہتا تھا۔میں رونے لگا کہ میں نہیں جاو¿ں گا لیکن میری کسی نے نہ سنی چنانچہ اگلے روز ہم دوبارہ سیّد پور کے لئے روانہ ہوئے،اپنا گھرچھوڑتے وقت ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم آخری بار گھر چھوڑ رہے ہیں اور ہمیں دوبارہ اپنے گھر میں آنا نصیب نہ ہو گا۔ اس مرتبہ سیّد پور جانے کے لئے ہمیں بس سٹینڈ نہیں جانا پڑا بلکہ نیو ٹاون سے ہی ایک بس سیّد پور جارہی تھی، بس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کیو ں کہ ایک ہم ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے لوگ شہر چھوڑ کر جا رہے تھے۔ہمیں بڑی مشکل سے کھڑے ہونے کی جگہ ملی ،بس چل پڑی شہر سے باہر نکلنے کے بعد کئی جگہوں پر فوجی دکھائی دیئے جو آنے جانے والوں کی تلاشی لے رہے تھے۔ ایک جگہ ہماری بس بھی روکی گئی ، ایک فوجی بس میں داخل ہوا اور تمام لوگوں پر ایک نگاہ ڈالی پھر ڈرائیور کو جانے کا اشارہ کیا۔
ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہم سیّد پور پہنچ گئے۔سیّد پور کافی گنجان شہر تھایہاں ریلوے سٹیشن کے پاس ایک کارخانہ تھا جو ایشیا کا سب سے بڑا کار خانہ تھا ۔یہاں کے اکثر لوگ اسی کارخانے میں کام کرتے تھے، سیّد پورکے علاوہ آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگ یہاں کام کرنے آتے تھے اور اُن کے آنے اورجانے کے لئے ایک شٹل ٹرین روزانہ صبح پاربتی پور سے یہاںآتی تھی جو سٹیشن پر رکنے کی بجائے سیدھا کارخانے کے گیٹ پر رکتی اور شام کو وہیں سے یہاں کام کرنے والوں کو واپس لے جاتی تھی۔سیّد پور میں بلیک آﺅ ٹ کے باوجود اکثر دُکانیں رات تک کھلی رہتی تھیں،یہاں سرحدوں پر ہونے والے دھماکوں کی آوازیں تو نہ آتیں لیکن دن میں دو تین مرتبہ بھارتی جنگی طیارے چکر لگاتے تھے،طیاروں کی گرجدار آواز سن کر میں اور میری چھوٹی بہن ڈر کر کمرے میں چھپ جاتے تھے۔ایک مرتبہ مجاہد فورس کے ایک جوان نے مشین گن سے فائر کر کے بھارتی جنگی طیارہ مار گرایا تھالیکن اُس کا پائلٹ کھیت میں چھپ گیا اور ہاتھ نہیں آیا۔یہ خبر ملتے ہی لوگ خوشی سے ناچنے لگے ،بہت سے لوگ اس طیارے کا ملبہ دیکھنے گئے تھے،کچھ لوگ اس کے ٹکرے اُٹھا لائے تھے ،وہ ان ٹکڑ وں کو لے کر بازار میں گھوم رہے تھے۔
15دسمبرکو رات آٹھ نو بجے کے قریب جب ہم رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک دھماکوں اور مشین گن چلنے کی آوازیں آنے لگیں، بالکل اسی طرح جیسے دیناج پور میںآتی تھیںسب حیران تھے کہ یہ کیا ہو گیا یہاں تو پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔کچھ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید بھارتی فوج یا مکتی باہنی کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے، والد صاحب دیناج پورمیں تھے ،ہم اُن کے لئے بے حد پریشان تھے اور اُن کی خیریت کی دعا مانگ رہے تھے۔رات کے دس بجے کے قریب دروازے پر دستک ہوئی ،ہم نے دروازہ کھولا دیکھا کہ والد صاحب سامنے کھڑے ہیں،وہ دیناج پور سے سائیکل پر آئے تھے اس لئے کافی تھکے ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ دیناج پور میں آج صبح سے ہی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آرہی تھیں ،دن کے تین چار بجے کے قریب نیو ٹاو¿ن میں کچھ فوجی آئے اور کہا کہ یہاں بھارتی فوج داخل ہونے والی ہے آپ لوگ فوراًشہر خالی کر دیں ،ہم بھی یہاں سے جا رہے ہیں۔یہ سنتے ہی پورے شہر میں افرا تفری پھیل گئی اور سب لوگ سیّد پور کی طرف بھاگ پڑے، والد صاحب نے بتایا کہ فوج نے بھی دیناج پور خالی کر دیا ہے اور وہ اپنی گاڑیوں میں سیّد پور کی طرف آرہے ہیں اور یہ دھماکے اس لئے ہو رہے ہیں کہ فوج اپنا اسلحہ ضائع کر رہی ہے تاکہ یہ دشمنوں کے کام نہ آ سکے۔فوج نے صرف اسلحہ ہی ضائع نہیں کیا تھا بلکہ بنکوں میں موجود تمام کرنسی نوٹ اور سکے بھی جلا دیئے تھے،اس کے علاوہ بعض مقامات پر پلوں کو بھی بم سے اُڑا دیا گیا تھا۔پاکستانی فوج نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ضائع کیا تھا ،جو اسلحہ ضائع ہونے سے بچ گیا تھا اسے دریا میں پھینک دیا گیا یا مٹی میں دبا دیا گیاتھا۔اس جنگ میں لڑنے والے بعض فوجیوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے پاس اتنا اسلحہ موجود تھا کہ اُس سے کئی دنوں تک بھارتی فوج کا مقابلہ کیا جاسکتا تھا ،ہتھیار ڈالنے کے احکامات اُو پر سے موصول ہوئے تھے۔جنرل نیازی نے بھی ایک انٹرویو میں یہ بات کہی تھی کہ ہتھیار ڈانے کے احکامات اُنہیںاسلام آباد سے موصول ہوئے تھے۔ (جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker