کوئی مانے یا نہ مانے یہ حقیقت ہے کہ کپتان کے نادان دوستوں نے مریم نواز کو لیڈر بنا کر مقابل لاکھڑا کیا ہے۔ کیا وفاقی، کیا صوبائی وزیر مشیر سبھی نمبر ٹنگ پروگرام کے تحت صبح دوپہر شام مریم نواز مخالف پراپیگنڈے کی جگالی کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے جتنی محنت مریم کی شخصیت سازی کے لئے کی ہے اس سے آدھی محنت بھی اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے کرتے تو کپتان یوں بے بسی کی تصویر نہ بنتا، ہمیں تو سمجھ ہی نہیں آئی ہماری تو تیاری ہی نہیں تھی جیسے خودکش بیانات نہ دے رہا ہوتا انہی لوگوں نے عوام کے محبوب کپتان کی دلکش شخصیت کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ کپتان کی معصوم سی مجبوری یہ ہے کہ وہ لگی لپٹی رکھ ہی نہیں سکتا، جب جہاں جس وقت وہ جو محسوس کرتا ہے کہہ دیتا ہے۔
بھلے اس سے اس کے کسی پرانے بیان یا موقف کی تردید ہی کیوں نہ ہو جائے حالانکہ اپنی اسی عادت کی وجہ سے اس کا نام ”یوٹرن خان“ پڑ گیا ہے۔ یہ نادان دوست نہ صرف مریم نواز کو خبروں میں زندہ رکھتے ہیں بلکہ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کی مشہوری میں بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔ ادھر پی ڈی ایم اپنے کسی پروگرام کا اعلان کرتی ہے ادھر حکومتی بزر جمہر مذمتی کلہاڑے اٹھا کر میدان میں کود پڑتے ہیں۔ اناڑیوں کی یہ ”زیر تربیت“ ٹیم اپوزیشن کے سیاسی یا احتجاجی پروگرام کی اتنی پبلسٹی کر دیتی ہے کہ خود پی ڈی ایم والے لاکھوں خرچ کر کے بھی اتنی پبلسٹی نہیں کر سکتے تازہ ترین مثال گڑھی خدا بخش (لاڑ کانہ) کے جلسے کی ہے۔ بی بی کے یوم شہادت پر ہر سال 27 دسمبر کو اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے دن 4 اپریل کو یہاں اجتماعات کا انعقاد معمول ہے ہر سال یہاں پیپلزپارٹی کی مرکزی کونسل کا اجلاس ہوتا ہے، مشاعرہ ہوتا ہے، جلسہ عام منعقد کیا جاتا ہے۔ جیالے آتے ہیں مزارات پر حاضری دیتے ہیں۔
پھول چڑھاتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں۔ جلسے میں لیڈروں کی تقاریر سنتے ہیں۔ مشاعرے میں شاعروں کے کلام سے لطف اندوز ہوتے ہیں نعرے لگاتے ہیں لڈی ہو جمالو ڈالتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ دوسرے دن شریک جیالوں کے گھروں کے علاوہ ملک میں کہیں بھی اس دن کو موضوع گفتگو بنانا ضروری نہیں سمجھا جاتا ملکی سیاست میں بھی اس کے اثرات محسوس نہیں کئے جاتے عام زندگی اپنی ڈگر پر چلنے لگتی ہے۔ اس بار مگر کچھ ”وکھرا“ ہوا ہے جو کئی روز تک زیر بحث بھی رہے گا اور سیاست پر بھی اس کے اثرات دکھائی دیتے رہیں گے۔ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک میں جلسوں کی سیریز کے دوران کراچی کا جلسہ پیپلزپارٹی نے اپنے یوم تاسیس کے حوالے سے منعقد کیا اور پی ڈی ایم کو اس کا حصہ بنا لیا۔ یہ جلسہ تحریک کے کامیاب ترین جلسوں میں شمار ہوا بلکہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر اعوان کی ڈرامائی گرفتاری نے تہلکہ مچا دیا۔ اب بی بی کے یوم شہادت کے جلسے کو بھی اسی احتجاجی تحریک کا حصہ بنانے کا اعلان ہوا تو بلاول بھٹو نے پوری پی ڈی ایم کو جلسے میں شرکت کی دعوت دے ڈالی۔ تحریک کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شروع میں شرکت سے معذرت کر لی اور بتایا کہ اس روز ان کی پہلے سے طے شدہ مصروفیات ہیں۔ البتہ ان کی جماعت مولانا عبدالغفور حیدری کی قیادت میں وفد بھیجے گی۔ حکومتی مشیران اور وزیر پھر خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے۔ انہوں نے بتکرار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی تاریخی دشمنی کی مثالیں دے دے کر عوام کو باور کرایا کہ لاڑکانہ میں انہونی ہونے جا رہی ہے دونوں بڑی پارٹیاں عمران دشمنی میں ایک دوسرے کی پرانی دشمنی چھوڑ کر اکٹھی ہو گئی ہیں جو سیاسی اخلاقیات کا دیوالیہ پن ہے اس نکتے کو اتنی تکرار سے پورے میڈیا پر پھیلایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز دشمنی کے تاثر کو لاشعوری طور پر زائل کرنے کی کوشش میں پیپلزپارٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بہت آگے نکل گئیں۔
انہوں نے ”شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کو اس طرح خراج عقیدت پیش کیا کہ انہوں نے بلاول بھٹو کو اپنا چھوٹا بھائی اور آصفہ بھٹو کو چھوٹی بہن قرار دیا۔ وہ خطاب کے دوران مسلم لیگی متوالی کم اور ”جیالی“ زیادہ لگ رہی تھیں۔ ان کو لیڈر بنانے میں حکومتی ذمے داروں کے بیانات نے جہاں کام دکھایا ہے وہیں حکومتی ہلہ شیری سے نیب نے مسلم لیگ (ن) کے صدر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف کے چھوٹے بھائی، مریم نواز کے سگے چچا میاں شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو زیر حراست رکھ کر مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت غیر اعلانیہ طور پر سنبھالنے اور احتجاجی تحریک میں میاں نوازشریف کی مسلم جانشین نمائندہ بننے کا موقع فراہم کیا۔ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم یہی دونوں باپ بیٹا استعمال کرتے اور آئے روز میڈیا میں نمایاں رہتے۔
دوسرے پی ڈی ایم میں مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی شہباز شریف بطور صدر کرتے۔ پھر محترمہ مریم نواز کے پاس پی ڈی ایم کے اجلاسوں، جلسوں اور جلوسوں کا فورم نہ ہوتا قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی یا سینٹ کی رکنیت ان کے پاس ہے نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے چچا کے ساتھ پریس کانفرنس کر سکتی تھیں۔ اس لئے ان کو لیڈر بنانے میں نیب اور مقتدرہ کا عمل دخل صاف محسوس ہو رہا ہے۔ دوسری طرف انہیں ہوا بنا کر کپتان کے مقابل لا کھڑا کرنے میں کابینہ کے اندر اور باہر کے نادان دوستوں کی نادانیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ”مقتدرہ“ کے پاس کپتان کے سوا کوئی چوائس نہیں وہ خاطر جمع رکھیں کہ متبادل اور مقابل کو تیزی سے ”تعمیر و تکمیل“ کے مراحل طے کرائے جا رہے ہیں۔ مقتدرہ کی عقلمندی یہی ہے کہ وہ کبھی ایک اکلوتے گھوڑے پر شرطیں نہیں لگاتی، متبادل تیار مل جائے تو ٹھیک ورنہ تیار کرنے کی مہارت تو پرانی ہے لوگ کہتے ہیں کہ جن مراحل سے گزر کر نوازشریف، محمد خان جونیجو کے متبادل بنے پھر انہی مراحل سے گزر کر عمران خان، میاں نوازشریف کے متبادل بنے۔ انہی مراحل سے گزر کر مریم نواز کو عمران خان کا متبادل بنایا جا رہا ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی بلاول بھٹو بھی متبادل ہوں گے مگر سندھ کی حد تک۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)

