عالمی ادارہ صحت کے مطابق ”حفظان صحت “ سے مراد ایسے حالات اور طریقے ہیں جو صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں کے پھیلاؤکو روکنے میں مددکرتے ہیں۔ اگر آپ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں توآپ ایک صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔حفظان صحت کے اصولوں میں ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں کو صابن سے کھاناکھانے سے پہلے اور بعد میں دھوئیں، لیٹرین کے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کوصابن سے دھوئیں،دن میں دو بار اپنے دانتوں کی صفائی، ہاتھوں کے ناخنوں کی صفائی اور بروقت تراش کرنا بے حد ضروری ہے زیادہ تر بیکٹریا ان ناخنوں کے ذریعے پیٹ میں داخل ہوتے ہیں جس سے آپ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، باقاعدگی سے نہانے سے اور جسم کو صاف ستھرا رکھنے سے آپ بہت سی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پا کستان میں معذور افراد کی کل آبادی 31 ملین کے قریب ہے اور ان میں خواتین،لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں ۔ان بچیوں ،لڑکیوں اور خواتین کو حفظان صحت کے حوالے سے بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ان میں سے بعض بچیوں،لڑکیوں اور خواتین کی معذور ی اس سطح کی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو صابن سے کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں اور لیٹرین کے استعمال کے بعد اچھے طریقے سے نہیں دھو سکتیں اس صورت میں والدین کو چاہیے وہ انکے ہاتھوں کو صابن سے اچھے سے دھوئیں، انکے ناخنوں کی صفائی اور تراش بروقت کریں،انکے دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں،انہیں باقاعدگی سے نہلائیں اور اس بات کا خاص خیال رکھیں ہر تیسرے دن سر کے بالوں کو ضرور دھوئیں تا کہ وہ جووں اور مختلف بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے یہ خواتین،لڑکیاں اور بچیاں مختلف بیماریوں جیسے جسم میں خارش کا ہونا،ہیضہ، دانتوں میں کیڑا لگنا، میعادی بخار اور ہیپٹائٹس اے وغیرہ سے محفوظ ہو سکتیں ہیں۔
ذاتی حفظان صحت کے اصولوں کے ساتھ والدین اور گھروالوں کو ماحولیاتی حفظان صحت کا بھی خاص خیال رکھنا ہو گا والدین کوشش کریں کہ ان خواتین،لڑکیوں اور بچیوں کے اردگرد کوڑا کرکٹ صاف کر لیں،باتھ روم اور لیٹرین کی روزانہ کی بنیاد پر صفائی کریں۔ بہت سے والدین غربت کی وجہ سے قابل رسائی لیٹرین نہیں بنوا سکتے یا ضروری نہیں سمجھتے قابل رسائی لیٹرین نہ ہونے کی وجہ سے ان خواتین اور لڑکیوں کو جنہیں کوئی معذوری ہے کھلی جگہوں پر رفع حاجت کرنا پڑتی ہے اس طریقہ کارمیں وہ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اذیت سے بھی گزرتی ہیں اور انکے بیمار ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔والدین کو چاہے کہ وہ گھر میں قابل رسائی لیٹرین کو بنوائیں اور دروازے کا سائز اتنا رکھیں جس میں سے وہیل چیئر باآسانی گزر سکے تاکہ یہ خواتین،لڑکیاں اور بچیاں با آسانی لیٹرین استعمال کر سکیں اور مختلف بیماریوں سے بھی محفوظ ہو سکیں۔اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین ان بچیوں،لڑکیوں اور خواتین کے پہننے کے کپڑوں کی تبدیلی کا بر وقت خیال نہیں کرتے جس سے یہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔اسکے علاوہ اگر معذوری کی کسی ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس میں یہ خواتین،لڑکیوں یا بچیوں کو رفع حاجت کے لیے پاٹ کا استعمال کرنا پڑتا ہے ایسی صورت میں والدین کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اس پاٹ کو استعمال کرنے کے بعد اچھی طرح سے جراثیم سے پاک کر لیں۔ان خواتین،لڑکیوں اور بچیوں کے بستر کی چادروں کو صاف ستھرا رکھنا انہیں باقاعدگی سے دھونا اگر وہ وہیل چیئر کا استعمال کر رہی ہیں تو اسکی صفائی کا خاص رکھنا بہت ضروری ہے۔والدین اور گھر کے دوسرے افراد کا ان اقدامات پر باقاعدگی سے عمل کرنا ان کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
بہت سے والدین غربت کی وجہ سے ان خواتین،لڑکیوں اور بچیوں کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر سکتے جس وجہ سے ان کو بہت سی دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔ سب سے ذیادہ مشکل ان لڑکیوں اور خواتین کو ماہواری کے دوران پیش آتی ہے والدین اپنی غربت کی وجہ سے سینیٹری پیڈز وغیرہ نہیں خرید سکتے اس قدرتی عمل میں اگر صفائی کا خاص خیال نہ رکھا جائے تو یہ لڑکیاں اور خواتین کسی انفیکشن میں مبتلا ہو سکتی ہیں والدین کو ان خاص دنوں میں گھر پر موجود وسائل کا استعمال کرتے ہوئے سنیٹری پیڈز خودتیار کریں تاکہ وہ انہیں استعمال کرسکیں۔اور اس بات کو یقینی بنائیں کی ان پیڈز کی تبدیلی بروقت کریں تاکہ کوئی انفیکشن نہ ہو۔اسکے علاوہ والدین ان خواتین،لڑکیوں اور بچیوں کو پینے کے صاف پانی کے ساتھ نمکول ملا پانی بھی پلائیں تاکہ جسم میں نمکیات کی کمی پوری ہوسکے اور ساتھ ہی کوشش کریں کے تازہ کھانا بنا کر کھلائیں باسی کھانے سے بیکٹیریل انفیکشن یا ہیضہ ہونے کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ایسی خواتین،لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اس لیے ان تمام والدین کو انکی صحت کی راہ میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنا ہے تاکہ یہ تمام خواتین اچھی صحت کے ساتھ اس ملک کے لیے اپنی خدمات دیتی رہیں۔
فیس بک کمینٹ

