. تیرہ ابواب اور چارسو آٹھ صفحات پر مشتمل سینئر سیاستداں جاوید ہاشمی کی آپ بیتی "ہاں! میں باغی ہوں ” سنہ2005میں منظر عام پر آئی۔ ہاشمی صاحب وہ سیاستدان ہیں جن کی سچائی،وضع داری اور جمہوریت کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی اپنے پرائے سبھی اعتراف کرتے ہیں ۔انہوں نے بڑی سچائی سے لمحہ بہ لمحہ گزر تی، دوڑتی ،بھاگتی اور بدلتی زندگی کی کہانی بیان کی ہے۔یہ کتاب ان کی زندگی میں ولولہ انگیزی کی وہ تاریخ ہے جس سے ان کے انداز خطابت اور قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اس سے پڑھ کر پاکستانی سیاست کا نیا منظر نامہ سامنے آتا ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ماحول سے نکل کر ن لیگ کی جماعت کو مضبوط سہارا دینے والا جاوید ہاشمی جب اپنے پرائیوں کے ہاتھو ں استحصالی نظام کا شکار ہوا اور بے حد کٹھن مراحل طے کرتے ہوئے ظلم و جبر کی اس بھٹی سے کندن بن کر ابھرا ۔
فارسی و عربی زبان وادب کی قدیم اور مضبوط روایت سے جڑت نے کتاب کے ساتھ ان کا رشتہ مستحکم کیا۔اور ان کی اس آپ بیتی کو ادبی رنگ وعطا کیا ۔ یہ کہانی
زیب داستان نہیں بلکہ ان کی زندگی کے وہ حقیقی واقعات ہیں جو ان کے زندگی کے تمام ادوار کا احاطہ کرتے ہیں۔ اور بچپن سے لے کر ڈھلتی عمر کے روزوشب کا ایک ایسا بیانیہ ہیں جو سیاسی ،معاشی ،معاشرتی حالات و واقعات کے تناظر میں پیش کیے گئے۔
ٹھوس مطالعہ،فارسی زبان و ادب پر عبور، عربی علوم سے جڑت، رواں دواں اسلوب ، خطابیہ انداز تحریر اور جامد ،ساکت بے معنویت سے در انداز ہوتی ہوئی اس آپ بیتی میں ادبی رنگ و آہن اختیار کیا ۔اور یہاں ادبی پیراہن زیب تن کرتے ہوئے لفظ بولتے دکھائی دیتےہیں۔
ہاشمی صاحب اسلامی مزاج فکر سے منسلک وہ روایتی ،رواجی شخصیت جن کی طبیعت اور تربیت میں مولانا مودودی کے افکار و خیالات اور فکر انسانی رچ بس گئی ۔مولانا مودودی صاحب کی تعلیمات کا حاصل انسانیت کا درس ہے ان کا کہنا ہے کہ ”قرآن کا مخاطب صرف انسان ہے“ رنگ ونسل فرقوں سے مبرا انسان۔ ہاشمی صاحب کا مخاطب بھی وہ عام انسان ہی ہے جس کے حقوق کی جنگ کے لیے وہ آمرانہ نظام حکومت سے ٹکرانے سے گریز نہیں کرتے ۔ان کی انسان دوستی، پختہ عربی و فارسی روایت سے جڑت روحانی خانوادے سے نسبت اور و سعت مطالعہ نے ان کو گم نام سیاستداں سے ایک قد آور شخصیت کا روپ دیا۔
ہاشمی صاحب کی اس آپ بیتی میں تاثیر و جذبیت ،طرز تحریر میں دلکشی، تحریر میں شگفتگی اور رعنائی نے ان کی کتاب کوادبی رنگ میں ڈھالا اور اس کو سیاسی و ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی ۔
وہ تمام موضوعات بشمول عام انسانی کیفیات ،سیاسی اتار چڑھاؤ ، شدت پسندی ، جذباتیت اور غصیلہ پن اور بعض اوقات جھنجھلاہٹ جیسی داخلی کیفیات بھی ان کے ادبی اسلوب کا حصہ بنے اگرچہ ان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی یہ کہانی کوئی زیب داستان نہیں ہے بلکہ بہادری اور جواں مردی سے حالات کا مقابلہ کرتے شخص کی کہانی ہے جسی کی سوچ کا محور صرف اور صرف اس کا ملک ہے۔
ہا شمی صاحب کا کہنا ہے کہ
”میں سمجھتا ہوں اگر میں بڑی بڑی ملیں لگاتا،جائیدادیں بناتا تو اپنی سوچ کے مطابق سیاست نہ کر سکتا۔ سرمایہ کی کمی میرے لیے سرمایہ کا کام کرتی رہی“ جاوید ہاشمی ملکی تاریخ میں وہ پہلے سیاستداں تھے جنہوں نے صدیوں پہلے خریدی گئی جائدادیں بیچ کر سیاست کی حتی کہ اپنے دادا کا تاریخی ڈیرہ بھی بیچ دیا۔
زمانہ طالبعلمی سے سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے علاقہ مخدوم رشید کے بہادر بیٹے جاوید ہاشمی اپنی اس آب بیتی میں ملکی سیاست میں اپنی منفرد شناخت پیدا کرنے کے اس سیاسی سفر کے قصے بھی لکھے جس کے دوران وہ کئ بار جیل بھی گئے۔
کتاب میں انہوں نے اپنے اوپر دائر مقدمے، جیل کے اندر خصوصی عدالت لگا کر ملنے والی سزا ، جیل میں ہونے والے سلوک اور عدالت کے سامنے پیش کردہ اپنے تحریری بیان کا تفصیل سے ذکر کیا۔
اسلام آباد کو ملک کا نیا دا رالحکومت بنانے پر ایوب خان سےاختلاف رائے،ذوالفقار علی بھٹو کو آئیڈیل سمجھنے کے بعد ان سے گرما گرم بحث مباحثوں ، سخت اختلافات اور جیل بجھوانے کے واقعات بھی کھل کر بیان کئے گئے ہیں۔
یہ آپ بیتی جنرل ایوب خان کی آمریت سے لے کر نواز شریف کی سیاسی قیادت، جاگیر داروں کی زمین پرستی کے نو آبادیاتی تناظر،سیاستدانوں اور اشرافیہ کی مفاد پرستی، بیوروکریسی کی زر پرستی اور فوجی جرنیلوں کی طاقت پرستی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔
نائن الیون کے بعد پاکستان کی بدلتی ہوئے عصری تاریخ اور اس کے ملک وقوم پر اثرات بھی اس کتاب کا موضوع رہے۔ملکی سیاسی تاریخ کے کئی ادوار کا عکس ان واقعات کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے جو اس تحریر کا حصہ بنے۔
اس آپ بیتی کا متن 60 کی دہائی سے پاکستانی معاشرے کے مسائل سے لے کر موجودہ عہد تک کی بدلتی ہوئ سیاسی تاریخ کا ایک ایسا بیانیہ ہےجہاں پاکستان کی تہہ و بالا ہوتی مختلف سیاسی قیادتوں اور فوجی آمریت کے غلبے کا لمحہ بہ لمحہ احوال موجود ہے۔
سقوط ڈھاکہ،بنگلہ دیش نا منظور ،ایٹمی دھماکے اور ان کے ملکی اثرات اور نیو ورلڈ آڈر جیسے موضوعات پرپوری سچائی سے اظہار کیا گیا۔آخر میں ہاشمی صاحب نے اپنی قومی اسمبلی میں کی گئی بعض تقاریر کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا۔
اگرچہ یہ کتاب ان کی زندگی کے سیاسی اتارچٹرھاؤ کی کہانی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ "سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ” مگر قطع نظر اس بات کے کہ ہاشمی صاحب کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں وہ گملے میں اگے ہوئےپھول نہیں بلکہ دھرتی کا سینہ چیر کر مٹی سے اگنے والا وہ درخت ہیں جس کی جڑیں اپنی روایت و اقدار میں پیوست ہیں۔
فیس بک کمینٹ

