شام کے ساےُ گہرے ہونے لگے تھے گلیوں میں سناٹا تھا میونسپلٹی کی لالٹینیں مٹی کے تیل سے روشن کی جارہی تھیں نماز مغرب کے بعد سونی پت کے گھروں میں ایک خوف اور دہشت کی فضاء کے باوجود دیے اور چراغ جلنے لگے تھے ۔یہ 27 شعبان کی ایک اندھیری رات تھی ۔ شام ہی سے کالی گھٹائیں چھا گئی تھیں اور رک رک کر موسلا دھار بارش برس رہی تھی سونی پت کی شامیں اپنی مخصوص رونق اور سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور تھیں یہاں کی مشہور مٹھائی گھیور اور ملائی والے گرم دودھ کے شوقین بازاروں میں ٹولیوں کی صورت نکل آتے تھے ۔مگر آج شاید لوگ اپنے آپ کو اپنے گھروں میں زیادہ محفوط سمجھ رہے تھےان کی سرگوشیاں بتا رہی تھیں کہ وہ آنے والے خطرات سے آگاہ تھے اور ہندوؤ ں کے حملے کی صورت میں اپنے بچاو اور منصوبہ بندی سے ایک دوسرے کو بتا کر اپنے خوف کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انفرادی طور پر اپنے اپنے دفاع کی تیاری کرنے کے باوجود ان کو ایک انجانا سا خوف دامن گیر تھا ۔
آج تمام دن شہر میں تشویشناک کشیدگی کی فضا رہی اکا دکا فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں اور گھر گھر ہندو بلوائیوں کا متوقع حملہ موضوع گفتگو تھا ایسے میں روزا نہ اردگرد علاقوں سے فسادات اور قتل و غارت گری کی اطلاعات پریشان کن تھیں مضافات سے قتل عام کے بعد مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے روز ہندو مظالم کی نئی نئی داستانیں لیکر پناہ کے لیے سونی پت پہنچ رہے تھے ۔ آج رات فیاض خان بڑی بے چینی اور پریشانی کے عالم میں سے اپنے گھر کے صحن میں ٹہل رہے تھے ۔محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی اہم اطلاع کے منتظرہیں ۔۔ ادھیڑ عمر۔ میانہ قد ۔گھٹیلے جسم کے مالک ،صاحب بصیرت ۔ارادے کے دھنی ۔مصائب کو خاطر میں نہ لانے والے انگریز ی فوجی رسالہ کے نامور اور اعلیٰ درجہ کے شہسوار ۔فن حرب اور فوجی حکمت عملی کے ماہر ۔مسلمانوں کی ترقی کے دلدادہ ۔پا کستان کے حامی ایک بیدار مغز یوسف زئی پٹھان تھے ۔ محمد فیاض خان ایک دلیر اور نامور ریٹائرڈ آرمی آفیسر تھے اور پہلی جنگ عظیم میں اپنی رجمنٹ 14 پنجاب کے ہمراہ بڑی بہادرانہ جنگی خدمات انجام دے چکے تھے وہ اپنے جوانی کے دور میں ہاکی اور را ئفل شوٹنگ کے بہترین کھلاڑی تھے اور انڈین آرمی کی ہاکی ٹیم کی قیادت کر چکے تھے ۔ بہترین نشانہ باز ہونے کے ساتھ ساتھ کیونکہ شکار کا شوق ورثے میں ملا تھا اس لیے علاقے کے مشہور شکاری بھی تھے ۔جب وہ فوجی وردی میں ملبوس ہوتے تو ان کے سینے پر ایک جانب جنگی بہادری کے فوجی تمغے اور دوسری جانب ہاکی اور رائفل شوٹنگ کے کھیلوں کے تمغے سجے ہوتے تھے ۔فوجی خدمات کے بعد انہیں آرمی ویلفیر آفیسر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا تھا۔ وہ روہتک اور سونی پت میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے سونی پت میں ان کا گھر "کوٹ ” میں تھا جسے مشہد یا سیدوں کا محلہ بھی کہا جاتا تھا یہاں دو شہید ماموں بھانجے کی مشہور درگاہ تھی ۔ فیاض خان کا آبائی گاوں اکبر پور باروٹہ تھا شیر شاہ سوری کا بسایا یہ تاریخی گاوں سونی پت سے 7 میل اور دہلی سے گیارہ میل کے فاصلہ پر تھا ۔یہ گاوں ہندو آبادی کے درمیان گھرا واحد مسلمان گاوں تھا جہاں ان کا تمام خاندان پچھلے سو سال سے آباد تھا ۔ یہ وہی اکبر پور باروٹہ تھا جہاں تحریک آزادی پاکستان کی سب سے بڑی اور خونریز جنگ پچھلے تین دن سے جاری تھی اور ہندوؤ ں نے گاوں کو چار اطراف سے گھیرا ہوا تھا اور محصور مسلمان ڈٹ کر اپنے دفاع میں مصروف تھے ۔
وہاں فیاض خان کے بڑےُ بھائی محبوب خان اپنے مٹھی بھر جوانوں کے ساتھ ہزاروں ہندو جاٹوں اور مقامی پولیس کے حملوں کے خلاف سخت ترین مزاحمت میں مصروف تھے ۔اکبر پور باروٹہ اور سونی پت دونوں علاقے ہندوں کے نرغے اور محاصرے ُ میں تھے ہندو بلوائی ان علاقوں کو گھیرے میں لیے ہوے تھے اور تمام داخلی راستوں کی ناکہ بندی کرچکے تھے نہ کوئی شہر میں داخل ہوسکتا تھا اور نہ شہر سے نکل کر کہیں جاسکتا تھا ۔ تاریکی پھیلنے لگی تھی کہ اچانک دروازے پر مخصوص دستک ہوئی فیاض خان اسی لمحے کا منتظر تھے باہر ان کا خاص مخبر جو ایک سابقہ فوجی اور اب پولیس ملازم بھی تھا اکبر پور باروٹہ کی تازہ ترین خبر اور اطلاع لایا تھا جس کے مطابق دوسری صبح پولیس کے ساتھ ساتھ ملٹری کی ڈوگرہ رجمنٹ نے ہندو غنڈوں کے ہمراہ گاوں پر حملے کا پروگرام بنایا تھا اور ہر صورت اکبر پور باروٹہ پر قبضہ کرکے اسے دیگر مسلمان علاقوں کی طرح تاراج کردینا تھا اس نے اپنی مخصوص ہریانوی زبان میں کہا ” خان صاحب کل باروٹہ کٹ جاےُ گا ” اور ساتھ ہی یہ بھی اطلاع دی کہ گاوں میں اسلحہ تقریباً ختم ہوچکا ہےاور کئی مسلمان مجاہدین شہید اور زخمی ہوچکے ہیں ۔فیاض خان وقت اور حالات پر گہری نظر رکھتے تھے اور یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ فوج سے لڑنا اور وہ بھی ان محدود وسائل میں ایک بہت مشکل کام ہے ۔اسلیے اسی مخبر کے ذریعہ اپنے بھائی کو پیغام بجھوایا کہ فوری طوری پر کسی بھی طرح گاوں چھوڑ دیں اور بحفاظت اپنے خاندان کو لیکر سونی پت آجائیں ورنہ صبح شاید کوئی بھی زندہ نہ بچ سکے گا۔اور ساتھ ہی سونی پت میں داخل ہونے کے لیے ایک ایسے راستے کی نشاندہی کردی جہاں سے انہیں بحفاظت سونی پت شہر میں داخل ہونے میں دشواری نہ پیش آےُوہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ آنے والے اس قافلے کو کسی بھی ٹکراوُ یا جھڑپ سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے ۔
سونی پت میں مسلمانوں کی تعداد نسبتاً بہتر تھی ۔ قیام پاکستان کے اعلان سے کچھ پہلے ہی سونی پت شہر میں کشیدگی کی فضا پیدا ہوچکی تھی اور اس طرح کی خبریں آرہی تھیں کہ جونہی اعلان آزادی ہوگا ہندو مسلمان آبادیوں پر حملہ کر دیں گے ۔سونی پت کے شہری نہایت امن پسند اور پڑھے لکھے لوگ تھے شہر میں ہندو مسلم یکجہتی ہمیشہ مثالی رہی اس سے قبل ہندو مسلم فساد کا کبھی کوئی بڑا واقعہ پیش نہ آیا تھا ۔ اعلان آزادی سے قبل یہاں لوگ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ یہ تقسیم ہوگی اور لوگ اتنی جلدی اور آسانی سے اتنے بدل جائیں گے کوئی گمان بھی نہ کرسکتا تھا کہ برطانوی راج کے خلاف ان کی اکھٹی جدوجہد اتنی جلدی آپس کی دشمنی اور نفرت میں بدل جائے گی ۔ہاں البتہ ہندوؤ ں اور مسلمانوں کے علاقے اور محلے اس وقت بھی علیحدہ علیحدہ تھے ۔وہاں کے بہت سے مسلمان ہجرت کو قبول کرنے کے حق میں نہ تھے اور کانگرس کے موقف پر ڈٹے ہوے تھے ۔سونی پت کے اکثر مسلمان شہری بھی ان کانگرسی مذہبی جماعتوں کے حامی تھے جو تقسیم پاکستان اور ملکی بٹوارے کی حامی نہ تھیں ۔مگر فیا ض خان ایک پکے مسلم لیگی اور ہمیشہ سے پاکستان کے قیام اور مسلمانوں کی علیحدگی کے زبردست حامی تھے وہ شہر میں دو قومی نظریے کے علمبردار تھے انہیں ہندو ذہنیت ۔مکاری اور انکی مسلمان دشمنی کا احساس بہت پہلے سے ہو چکا تھا اور ایسا ہی ہوا جونہی اعلان آزادی ہوا شہر کی فضا ء یکسر بدل کر رہ گئی ۔ جس سے لوگوں کے نظریات تبدیل ہوگئے نفرت ۔مذہبی تعصب اور دشمنی کی ایک خونیں لکیر شہر کے درمیان کھینچ دی گئی اور برسوں سے محبت اور رواداری سے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔
وہ سب ایک شہر میں پیدا ہوےُ ۔پلے بڑھے اور ایک ہی سکول سے تعلیم حاصل کی ۔ساتھ ساتھ کھیلے اور ایک دوسرے کی تقریبات میں بلا امتیاز شرکت کی ان کی ایک زبان اور ایک سا لباس تھا مگر یہ کیا ہوا ؟ وہ ایک دوسرے سے نگاہ نہیں ملا رہے تھے صدیوں کی دوستی دشمنی میں بدل گئی ۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ سب ایک جھوٹ تھا ۔سچ تو یہ تھا کہ پاکستان کا نام لینے والوں کے لیے وہاں کوئی جگہ نہ تھی ۔ہجرت کی خواہش رکھنے والوں سے زندگی کا حق چھینا جا رہا تھا ۔ انسانیت دم توڑ رہی تھی مذہبی جنون جیت رہا تھا ۔ایک جانب ہندوؤں کی حملے کی منصوبہ بندی تھی تو دوسری طرف مسلمان کو اپنے شہر کا دفاع کرنا مقصود تھا یہی وجہ تھی کہ جب رات مزید گہری ہوئی تو چند ساےُ شدید بارش کے باوجود فیاض خان کے گھر جانب رواں تھے جہاں اس و حشت ناک آفت سے نبردآزما ہونے کے لیے اور شہر کو ہندوؤ ں کے قتل عام سے محفوظ رکھنے کے لیے سوچ وبچار کرنا ضروری تھا ۔شہر کے معزز ین جن میں پٹھان ۔بختیاری پٹھان ۔سید۔ انصاری ۔شیخ ۔اور ارائیں برادری کے چند بڑے بزرگ شامل تھے ۔ ایک طویل مشورے کے بعد فیاض خان کی قیادت میں سونی پت شہر کی آبادی کو اس وقت تک ہندوں بلوائیوں سے محفو ظ رکھنے کا عہد کیا جب تک کہ فوج حفاظت کے لیے نہ پہنچے اور مسلمان محفوظ کیمپوں میں منتقل نہ ہو جائیں لیکن اتنی دیر تک ان غنڈوں کو روکنا سونی پت کے امن پسند مسلمان شہریوں کے لیے بہت مشکل تھا کیونکہ نہ تو ان امن پسند شہریوں کے پاس کوئی خاص اسلحہ ہی تھا اور نہ ہی ان میں اسلحہ کو استعمال کرنے والے تجربہ کار لوگ موجود تھے وہ شریف مسلمان تو روائتی ہتھیار وں تک سے ناواقف تھے ہاں البتہ سونی پت کے مسلمان نوجوانوں میں جوش اور جذبہ ایمانی کی کوئی کمی نہ تھی مسلمان جوشیلے نو جوان اپنے روائتی ہتھیاروں کے ساتھ اپنی عزت اور جان کی حفاظت کےلیےکچھ بھی کرنے کو تیار تھے ۔فیاض خان کو ان حقائق کا احساس بہت پہلے 1945ء میں ہو چکا تھا اور انہوں نے اپنے ایک پرانے دوست اور فوجی ساتھی لفٹیننٹ راوُ سلیمان صاحب جن کا تعلق کلانور سے تھا سے ملکر شہر کو محفوظ بنانے کی فوجی پیش بندی اور تیاری کرلی تھی اور ان کے ذہن میں اپنے تجربہ اور وسائل کے مطابق اپنے شہر سونی پت کو محفوظ رکھنے کا مکمل پلان موجود تھا ۔بس انتظار تھا تو صرف اپنے خاندان والوں بیٹوں ۔بھتیجوں ۔بھائیوں کا جو اکبر پور باروٹہ سے خان محمد خان کی قیادت میں سونی پت کے لیے روانہ ہوچکے تھے جنکے پاس اس دور کا جدید وقدیم اسلحہ موجود تھا اور وہ سب پٹھان نوجوان فوجی ہونے کی وجہ سے بے پناہ جنگی تجربہ بھی رکھتے تھے ۔ان کا بہادر بھتیجا خان محمد خان عرف پودی ہریانہ کے پورےعلاقے میں ہندو غنڈوں اور بلوائیوں کے لیے دہشت کی علامت بن چکا تھا۔ سونی پت کا پورا شہر محاصرے کی وجہ سے ہندوؤں کے نرغے میں تھا ۔اس لیے سونی پت میں اس بڑے قافلے کے داخلے کے لیے ” کوٹ ” یا مشہد شریف کے راستے کو چنا گیا تھا ۔جو اپنی اونچائی کی وجہ سے نسبتاً بہت دشوار تھا مگر جغرافیائی طور پر محفوظ راستہ سمجھا گیا جہاں کے رہائشی بہادر بختیاری پٹھان نوجوان قافلے کی حفاظت کے لیے مقرر کیے گیے تھے اور وہ ماموں بھانجے کی درگاہ کے اردگرد مورچہ زن ہو چکے تھے کیونکہ سونی پت کے مسلمانوں کو یہ معلو م تھا کہ شہر کو بچانے کے لیے اس قافلے کا بخریت سونی پت پہنچنا بہت ضروری تھا ۔
( جاری )
فیس بک کمینٹ

