جاوید ایاز خانکتب نمالکھاری

جاوید ایاز خان کی تحریر : معرکہ سونی پت (دوسری قسط )

تحریک آزادی پاکستان 1947 ء کی ایک ولولہ انگیز داستان شجاعت

گزشتہ سے پیوستہ
فیاض خان اور سید محمد نقی جعفری نے شہر کے سب معزز لوگوں کو اعتماد میں لیتے ہوےُ اپنے منصوبہ اور حکمت عملی سے آگاہ کیا اور تسلی دیکر طے شدہ پروگرام پر عمل کرنے کی ہدایت دیکر اپنے اپنے گھر روانہ کیا اور انہیں اپنے اپنے محلے اور گلیوں کے مکانات کی چھتوں پر اینٹیں اور پتھر جمع کرنے کی ہدایت دی تا کہ بلوائیوں کے گلیوں اور محلوں میں داخلے کی صورت میں ان پر مسلمان خواتین اور بچوں کی جانب سے پتھراوُ کیا جا سکے اور تمام مسلمان مرد اپنے روائتی ہتھیاروں سے لیس ہو کر دست بدست لڑائی کے لیے تیاری کریں ۔فیاض خان نے اپنے پروگرام کے مطابق خاموشی سے اپنی رائفل اور گولیاں ساتھ لیں اور اپنے دو بیٹو ں کو بارہ بور کی بندوقیں اور کارتوس دیکر ہمراہ لیا اور محلہ گوسیاں اور جٹ والا کی جانب رخ کیا راستے میں سونی پت کے بہت سے مسلمان نوجوان بھی روائتی ہتھیاروں سے لیس ان کے ساتھ ہو لیے جہاں سے انہوں نے اپنے منصوبے کے مطابق آدھی رات کو وقفے وقفے سے کوٹ والے راستے کے مخالف سمت ٍہندوں کے علاقے کی جانب فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا اور نعرہ تکبیر بلند کرنے لگے ۔
محاصرہ کرنے والے ہندوسمجھےمسلمانوں نے اس جانب سے حملہ کر دیا ہے یا پھر حملے کے لیے اکھٹے ہورہے ہیں اس لیے سب کے سب محاصرہ ختم کرکے اسی جانب اکٹھے ہو گئے اور اس طرح “کوٹ ” والا راستہ بالکل خالی ہوگیا ۔ ادھر خان محمد خان کا قافلہ بڑی جلدی میں افراتفری اور بےسروسامانی کے عالم میں عشاء کی نماز کے بعد اکبر پور باروٹہ سے اپنی منزل مراد پاکستان کے لیے اپنے سفر کا آغاز کر چکا تھا چند میل سفر کے بعد ایک جگہ خان محمد خان کا اونٹ خطرے کی بو پاکر رک گیا وہ اپنے اونٹ کی زبان خوب سمجھتا تھا اور خود بھی خطرہ بھانپ چکا تھا فوری قافلے کو رک جانے کا اشارہ کیا اور خود گردوپیش کا جائزہ لینے لگا تو کیا دیکھتا ہے کہ دو تین فرلانگ آگے ایک وسیع میدان میں ہندو بلوئیوں کا جم غفیر پڑا سو رہا تھا غالباً اس ٹڈی دل نے صبح تازہ دم ہوکر اکبر پور باروٹہ پر حملہ کرنا تھا خان محمد خان کا خون کھول اُٹھا اور اگر عورتیں اور بچے ساتھ نہ ہوتے تو اس نے اس ہندو جتھے سے وہیں دو دو ہاتھ کرلینے تھے مگر خاندان کے بزرگوں کی ہدایت تھی کہ راستے میں لڑائی سے اجتناب کیا جاے ُ اور عورتوں بچوں کو بخریت سونی پت پہنچایا جاےُ اس لیے یہ دشمن سے نبردآزمائی کا مناسب وقت نہ تھا خان محمد خان اپنے غصہ اور جذبات کے باوجود واپس آیا اور قافلے کو چپ چاپ واپس مڑنے کا حکم دیا اور یوں یہ قافلہ ایک لمبے دشوار گزار اور ویران جنگل کے راستے سے سفر کرکے صبح منہ اندھیرے سونی پت پہنچنے میں کامیاب ہو سکا ۔ اور سات میل کا یہ چھوٹا سا فاصلہ پوری رات میں بمشکل طے کر پایا ۔راستے بھر جگہ جگہ اور چپہ چپہ پر ہندو جتھے موجود تھے ان کے درمیان سے اتنے بڑے قافلے کو لیکر صاف بچ کر نکل آنا خان محمد خان کا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا ۔
ادھر فیاض خا ن اور اس کے ساتھیوں نے اس قافلے کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے سونی پت کے متبادل علاقے پر فائرنگ کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا اور ہندو حملہ آوروں کی توجہ اس جانب مبذول کراےُ رکھی جب تک کہ خان محمد خان کا قافلہ بحفاظت سونی پت میں داخل نہ ہوگیا ۔سونی پت شہر کے مکمل ہندوؤ ں کے نرغے میں ہونے کے باوجود فیاض خا ن کی حکمت عملی کامیاب رہی اور قافلہ کیچڑ اور مٹی میں لت پت ماموں بھانجا شہید کی درگاہ کے راستے سونی پت میں داخل ہوا تو پوری مسلمان آبادی میں ایک شور برپا ہوگیا کہ خان محمد خان پودی اپنے ساتھیوں سمیت پہنچ چکا ہے سونی پت کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔سب ایک دوسرے کو اس خوشخبری سے آگاہ کر رہے تھے اور اسے اپنے لیے غیبی مدد تصور کر رہے تھے ۔
ہندوؤں کا خیال اور منصوبہ یہ تھا کہ وہ ناکہ بندی کر کے سونی پت شہر کی بیرونی کمک اور مدد روک دیں گے اور آسانی سے شہر میں داخل ہو جائیں گے مگر فیاض خان کی حکمت عملی نے ان کے منصوبے کو ناکام کر دیا اور قافلے کے سب لوگ اپنے اونٹوں اور اونٹ گاڑیوں سمیت بغیر کسی مزاحمت کے اپنے اسلحہ اور گولہ بارود سمیت نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوےُ سونی پت شہر میں کامیابی سے داخل ہو گئے تو پورے سونی پت کے مسلمان اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور بے خوف ان کے استقبال کے لیے گھروں سے باہر نکل آےُ ۔ ابھی یہ قافلہ سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ ٹھیک اسی وقت ہندوؤں نے سونی پت شہر پر یلغار کر دی کیونکہ وہ سب فیاض خان کی حکمت عملی کی وجہ سے ایک ہی داخلی راستے پر جمع ہوچکے تھے جونہی قافلہ شہر میں داخل ہوا فیاض خان اور اسکے ساتھیوں نے فائرنگ روک دی اور ہندو یہ سمجھے کہ مسلمان پسپا ہوگئے ہیں یا پھر اسلحہ ختم ہو گیا ہے ۔ہندو بلوائیوں اور غنڈوں نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوےُ فوری حملہ کرنا ہی مناسب سمجھا تھا ۔سونی پت کی آدھی سے زیادہ آبادی ہندو جاٹوں اور بنیوں پر مشتمل تھی ان میں سے اکثرمقامی ہندو جوان بھی مسلمان مخالف جذبات میں آکر حملہ آوروں کے ساتھ شامل ہوگئے ۔یہ تمام حملہ آور بلوائی اور غنڈے اردگرد کے علاقوں سے مسلم کشی اور لوٹ مار کے مقصد کے لیے بلواےُ گئے تھے اور مختلف بڑے بڑے ہندو لوگوں کے ڈیروں اور گھروں میں روپوش تھے وہ سب بھی اس حملے کے لیے اپنی پناہ گاہوں سے اپنے ہتھیاروں سمیت باہر نکل آےُ ۔حملہ آوروں کا تما م تر زور محلہ گوسیاں محلہ سکھوں والا محلہ برہمن والا اور جٹ والا کی جانب تھا جسے وہ ایک آسان راستہ سمجھتے تھے اور جہا ں رات سے موجود فیاض خان اور ان کے ساتھیوں نے بڑی دانش مندی اور ہوشیاری سے ان سب کو اس ایک جگہ پر جمع کر دیا تھا ۔خان محمد خان اور اسکے ساتھیوں نے جلدی جلدی اپنے اونٹ باندھے خواتین اور بچوں کو فیاض خان کے گھر حفاظت سے پہنچا دیا اور فوراً سونی پت کے دفاع کے لیے اس جانب دوڑے جہاں سے ہندو بلوائی پیش قدمی کر رہے تھے ۔رات بھر کے سفر کی تھکان کے باوجود خان محمد خان اور اسکے مسلح نوجوان ساتھی سونی پت شہر والوں کے لیے غیبی امداد ثابت ہوے ۔اب فیاض خان کی منصوبہ بندی اور خان محمد خان کی دلیرانہ قیادت نے یہاں بھی ناصرف ہندوؤں کا حملہ روکا بلکہ ان کو ناکوں چنے چبوا دیے خان محمد خان نے ساری آبادی کے نوجوانوں کو اہم داخلی مقامات کی چھتوں پر تعینات کر دیا اور ہر جگہ اپنا ایک رائفل بردار مسلح ساتھی ان کی مدد کے لیے ساتھ کر دیا ۔ہندوں بڑے جوش وخروش سے بار بار حملہ کرتے تھے ان کی کوشش تھی کے ایک مرتبہ کسی بھی طرح مسلمانوں کے گلیوں محلوں میں داخل ہوکر لوٹ مار کریں مکا نا ت کو آگ لگا دیں اور قتل عام اور خواتین کی بے حرمتی کی تاریخ دوہرانا چاہتے تھے لیکن مسلمانوں کا جذبہ قابل دید تھاوہ بڑی بہادری سےلڑ رہے تھے ان کے منہ توڑجواب نےہندوؤ ں کو حیران کر کے رکھ دیا یہاں تک کہ چند گلیوں کےداخلی راستوں پر ہندوں پر پتھراوُ اور ان سے دست بدست لڑائی بھی ہوئی مگر مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا ۔اس دوران محلہ جٹ والہ کے بہت سے مسلمان شہید اور زخمی بھی ہوےُ ہندو اس محلہ میں ایک مسلمان گھر جلانے میں بھی کامیاب بھی ہوے مگر ہندوؤں کا نقصان پھر بھی بہت زیادہ تھا وہ اپنے ناپاک منصوبہ میں کامیاب نہ ہو سکے ۔۔ ایک دبنگ سکھ سردار جتندر سنگھ کو اپنی بہادری پر بڑا ناز تھا وہ بڑا زبردست نشانچی تھا اور اپنی مسلمان دشمنی میں بھی شہرت رکھتا تھا اور سونی پت پر حملےکی قیادت کے لیے خصوصی طور پر اپنے بلوائی سکھ ساتھیوں کے ہمراہ لدھیانہ سے آیا تھا اور سکھوں والے محلہ میں مقیم تھا ۔اس کے پاس ایک جدید رائفل تھی وہ ہندو علاقے کے ایک بلند چوبارے پر مورچہ بنا کر اپنی رائفل سے مسلسل آگ برسا رہا تھا اور کئی مسلمان نوجوانوں کو شہید اور زخمی کرچکا تھا مگر بلندی پر ہونے کی وجہ سے خود محفوظ رہتا تھا اور پورے سونی پت کے شہریوں کےلیے خوف اور دہشت کی علامت بنا ہوا تھا ۔ خان محمد خان مسلمانوں پر سکھوں کے مظالم کی داستانیں سن چکا تھا اور ان کے خلاف ا پنے دل میں شدید نفرت اور غصہ رکھتا تھا اس لیے اس نے جتندر سنگھ سے خود نبر دآزما ہونے کی خواہش ظاہر کی مگر فیاض خان نے روک دیا وہ خوب جانتے تھے کہ خان محمد خان کی زندگی ۔سلامتی اور اس کی وہاں موجودگی کتنی ضروری ہے ؟ اس لیے یہ خطرناک ذمہ داری انہوں نے اپنے تین نوجوانوں کو سونپی اور ان کی رہنمائی کی کہ کس طرح اس سکھ اور اس کی رائفل کو ہر صورت ہمیشہ کے لیے خاموش کیا جاےُ ۔ خاندان کے بزرگ کا اشارہ بھی ان جوانوں کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا رشید خان ۔حمید خان اور نبا ض خان آگے بڑھے اور نتائج کی پر واہ کیے بغیر مکانوں کی چھتوں ۔منڈیروں اور دیوارں سے رینگتے ہوے ہندو اور سکھوں کے علاقے میں اس چوبارے کے قریب تک جا پہنچے اور تین مختلف سمتوں میں پوزیشن لے لی
۔رشید خان نے حمید خا ن کو سامنے والی کھڑکی پر فائرنگ کے لیے کہا اور نباض خان کو دائیں جانب سے وقفہ وقفہ سے گولی چلانے کی ہدایت کی رشید خان کے یہ دونوں ساتھی اس کے قریبی عزیز اور دوست فوجی جوان تھے اور فوج سے اتفاقا” چھٹی پر آے ہوے تھے اس لیے مکمل تربیت یافتہ جنگجو تھے ۔خود رشید خان رینگتا ہوا چوبارے کے عقب میں جا پہنچا اتفاق سے سکھ سردار نے اپنا عقب محفوظ سمجھ کر کھڑکی کھلی چھوڑی ہوئی تھی وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کوئی مسلمان ہندوں کے علاقے میں عقب تک پہنچ سکتا ہے اور وہ خود سامنے اور اپنے بائیں جانب کی فائرنگ سے دفاع میں مصروف تھا ۔رشید خان نے نہایت قریب سے نشانہ باندھا گولی رائفل سے نکلی اور سکھ سردار کی ایک چیخ بلند ہوئی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا وہ تینوں دوڑکر چوبارے میں داخل ہوے اور سکھ کی رائفل اور اسلحے پر قبضہ کیا اور اس سکھ غنڈے کی لاش ہندو علاقے میں حملہ آوروں کے سامنے پھینک دی اور پھر بڑی پھرتی سے اسی طرح رینگتے ہوےُ واپس اپنے مورچوں میں خیریت سے پہنچ گئے جہاں موجود سونی پت کے نوجوانوں جو یہ سب کاروائی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے انہوں نے تینوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا اور بلند آواز میں نعرہ تکبیر بلند کیا ۔ اس سکھ کی یہ جدید رائفل آئندہ لڑائی میں بہت کام آئی ۔ دوپہر تک سخت مقابلہ ہوا مگر اب ہندوں کو احساس ہوچکا تھا کہ اکبر پور باروٹہ کے مجاہدین وہاں پہنچ چکے ہیں ۔اس نامی گرامی سکھ سردار کے مرنے سے ان کے حوصلے مزید ٹوٹ گئے اور دوپہر کے بعد انکے پاوں اکھڑ گئے اور وہ پسپا ہونے لگے ان کے حملے کا زور ٹوٹ گیا لیکن مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے خان محمد خان اور اسکے ساتھی کمال دلیری سے کھلے میدان میں ان کے پیچھے نکل آے ُ
(‌جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker