جہان نسواں / فنون لطیفہ

مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر پر خاموش کیوں رہے ؟ جاوید اختر کی مودی پر تنقید

ممبئی : انڈیا کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے صدر سے ملاقات کے دوران اس ’غیر واضع‘ خطرے کا تو ذکر کیا جو انھیں چند روز قبل خود لاحق ہوا تھا لیکن انھوں نے اس وقت ایک لفظ بھی نہیں کہا جب انڈیا کے 20 کروڑ مسلمانوں کو ختم کرنے کی کھلے عام دھمکی دی جا رہی تھی۔
جاوید اختر نے اپنے ایک ٹویٹ میں وزیرِ اعظم کی صدر سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے صدر سے ملاقات کی اور اس ’غیر واضع‘ اور ’اکثر کے مطابق ان فرضی خطرات‘ کے بارے میں بات کی جو انھیں اس وقت لاحق تھے ’جب وہ بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایل ایم جیز پکڑے محافظوں کے گھیرے میں تھی‘، لیکن انھوں نے ’اس وقت ایک لفظ بھی نہیں کہا جب 20 کروڑ مسلمانوں کو کھلے عام نسل کشی کی دھمکی دی جا رہی تھی۔‘
انھوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ ’ایسا کیوں ہے؟‘
یاد رہے کہ حال ہی میں جب وزیرِ اعظم مودی پنجاب کے دورے پر تھے تو ان کے قافلے کو سڑک پر موجود احتجاجی مظاہرین کی وجہ سے ایک فلائی اوور پر رکنا پڑا تھا۔
مرکزی وزارت داخلہ نے اسے وزیرِ اعظم کی سکیورٹی میں بڑی کوتاہی قرار دیا تھا۔ تاہم پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے اس کی تردید کی تھی۔ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں بھی لے جایا گیا ہے۔اب سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ دسمبر میں ہری دوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں مسلمانوں کے بارے میں دھمکی آمیز تقاریر کی گئی تھیں۔ ان پر پہلے تو اتراکھنڈ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن جب سوشل میڈیا پر یہ تقاریر سامنے آئیں اور لوگوں میں غم و غصہ پیدا ہوا تو بعد میں کچھ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
یہ تقریب 17 سے 20 دسمبر کے درمیان ہندوؤں کے مقدس شہر ہری دوار میں ہوئی تھی۔اس تقریب کے ایک منتظم پرابودھا آنند گیری کو یہ کہتے ہوئے صاف دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ ’میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہییں اور صفائی ابھیان (کلین اپ) کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔‘
اسی تقریب کی ایک اور ویڈیو میں ایک خاتون مذہبی رہنما کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ’اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں ۔۔۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔۔۔‘آج (پیر) کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی ہری دوار اجتماع کے حوالے سے اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے کہا ’دسمبر میں ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک اجتماع میں بھارت میں اقلیتوں خصوصاً 20 کروڑ مسلمانوں کے قتلِ عام کے لیے دی جانے والی کال پر مودی سرکار کی خاموشی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ بی جے پی حکومت اس کال کی حامی ہے۔ وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔‘
اسی تھریڈ میں انھوں نے اپنے اگلے ٹویٹ میں لکھا کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار کے شدت پسندانہ نظریے کے سائے میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔ مودی سرکار کے یہ شدت پسندانہ عزائم ہمارے علاقائی امن کے لیے ایک موجود اور حقیقی خطرہ ہیں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker