اہم خبریں

جسٹس فائز عیسی جیت گئے، نظرثانی کی اپیل منظور، ایف بی آر سے تحقیقات کاحکم غیرموثر

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے اپنے ہی ایک جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیلیں منظور کر لی ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت تمام فورمز پر اس سلسلے میں جاری قانونی کارروائی کالعدم قرار دیدی ہے۔
گذشتہ سال جون میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں عدالت نے ایف بی آر کو ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی جائیداد اور ٹیکس کے معاملات دیکھنے کے بارے میں حکم دیا تھا اور اس کی رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ بار کونسل اور فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے بھی اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔
صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں دیے جانے والے حکم کے خلاف دائر کی گئیں نظرثانی کی اپیلیں چار کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے منظور کی گئیں۔
معاملے کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایف بی آر کی مرتب کردہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی عدالتی فورم پر استعمال نہیں ہو سکتی۔
جون 2020 کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کی اکثریت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا تھا جبکہ اس میں سے سات ججوں نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور ان کے بچوں کا معاملہ ایف بی آر میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
ایف بی آر کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تین ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائے اور اگر سپریم جوڈیشل کونسل یہ سمجھے کہ لندن میں جائیداد کی خریدنے کے لیے پیسے بھجوانے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کردار ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر آئین کے ارٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں لا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ خود جسٹس قاضی فائز عیسی کی نظرثانی کی اپیل پر دس رکنی بینچ کا فیصلہ پانچ پانچ سے برابر رہا ہے۔ پانچ جج صاحبان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے موقف کو تسلیم کیا ہے جبکہ باقی پانچ ججوں نے جون سنہ 2020 کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس مختصر فیصلے میں جسٹس یحییٰ افریدی کو ان ججوں میں شامل کیا گیا ہے جنھوں نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کی نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا تھا کہ اگر چہ دس رکنی بینچ کی اکثریت نے ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا ہے لیکن اس اکثریتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لندن کی جائیدادوں کی خریداری میں اگر ایف بی آر کی طرف سے رپورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کا کوئی کردار ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔
اس اپیل میں کہا گیا تھا کہ عدالت ان کا اور ان کے خاندان کا بیرون ممالک میں جائیداد کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بھیجنے کے بارے میں اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔ اپنے دلائل میں بھی جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم ان کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار کے مترادف ہے لہٰذا عدالت اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔
جن ججوں نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اپیلیں منظور کیں ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور ملک، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں جبکہ اختلاف کرنے والے ججز میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی امین شامل ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی نظرثانی کی اپیل کو منظور نہیں کیا اس کے علاوہ باقی تمام اپیلیں منظور کرلیں۔ اس سے قبل بھی جسٹس یحییٰ آفریدی جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دی تھی۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف جب صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا تھا تو اس کے خلاف جو اپیل دائر کی گئی تھی تو منیر اے ملک نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی نمائندگی کی تھی جبکہ نظرثانی کی اپیل کی پیروی درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی نے کی تھی۔
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اس درخواست میں وفاق کی نمائندگی کر رہے تھے جبکہ نظرثانی کی اپیل میں وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ایڈنشل اٹارنی جنرل عامررحمان نے وفاق کی نمائندگی کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید پہلے ہی ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے سے معذرت کر چکے تھے۔
عدالتی تاریخ میں ایسے مقدمات کی تعداد بہت کم ہے جس میں اکثریت نے نظرثانی کی اپیلوں میں اپنا اصل فیصلہ تبدیل کیا ہو۔
نظرثانی کی ان اپیلوں کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی جب اپنے دلائل دے رہے تھے تو ان کا بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر کے ساتھ بعض اوقات سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا تاہم بعدازاں درخواست گزار نے بینچ سے معذرت بھی کی۔ یہی نہیں بلکہ ان اپیلوں کی سماعت کے دوران معاملے کی سماعت کرنے والے ججوں کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
پیر کے روز بھی جب ان اپیلوں کی سماعت ختم ہونے والی تھی تو جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی نے اس دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر کو مخاطب کرتے ہوتے کہا کہ دونوں جج صاحبان احتساب پر بڑا یقین رکھتے ہیں تو وہ ذرا حوصلہ کریں اور ان کے شوہر کی طرح اپنی اور اپنے خاندان کی جائیداد کی تفصیلات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کر دیں تاہم ان دونوں جج صاحبان نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker