اہم خبریں

کابل : میٹرنٹی ہسپتال پر حملے میں نوزائدہ بچے اور مائیں ہلاک : طالبان کا اظہار لاتعلقی ، میڈیا خاموش

کابل : افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ننگرہار میں منگل کے روز تشدد کے واقعات میں کم از کم 39 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے لیکن میڈیا نے ان واقعات کو نظر نداز کر دیا ۔
حکام کے مطابق کابل میں تین مسلح حملہ آوروں نے ایک ہسپتال پر حملہ کیا جس میں بچوں اور خواتین سمیت چودہ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ہسپتال میں موجود میٹرنیٹی وارڈ میں گھسنے کے بعد وہاں خواتین اور بچوں پر فائرنگ کی جس میں دو نوزائیدہ بچے، گیارہ مائیں اور متعدد نرسیں ہلاک ہوئیں۔
دوسری جانب صوبہ ننگرہار کے ضلع شیوہ میں ایک سابق پولیس اہلکار کی نماز جنازہ میں ایک خودکش حملے میں کم از کم چوبیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے۔اس سے ایک روز قبل صوبہ لغمان کے ضلع علیشنگ میں طالبان کے ایک حملے میں کم از کم 18 افغان فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
اگرچہ لغمان میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی، تاہم منگل کے روز ہونے والے دونوں حملوں سے لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ کابل اور ننگرہار میں ہونے والے آج کے حملوں سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔
ادھر شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے منگل کے روز صوبہ ننگرہار کے ضلع شیوہ میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کے اعترافی بیان میں اس حملے کو خودکش حملہ بتایا گیا ہے۔
اس تمام پیش رفت کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے قوم سے ایک مختصر وڈیو پیغام میں کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کو حکم دیتے ہیں کہ طالبان کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے بجائے ایک بار پھر حملے شروع کریں۔افغان صدر نے کہا کہ طالبان نے افغان عوام اور افغان حکومت کی امن اور جنگ بندی کی خواہش کے برعکس حملوں میں اضافہ کیا ہے۔
طالبان کا جوابی بیان
افغان صدر اشرف غنی کے طالبان کے خلاف ایک بار پھر حملے کرنے کے بیان کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے میڈیا کو ایک بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر غنی کی حکومت پہلے ہی دن سے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے خلاف تھی اور جان بوجھ کر اس معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
طالبان کے بیان میں افغان صدر اشرف غنی پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ طالبان قیدیوں کی رہائی میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں جو اُن کے مطابق افغان امن عمل کے دوسرے مرحلے کی شروع نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker