نارووال : دریائےِ راوی میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واقع تاریخی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب میں سیلابی پانی داخل ہو گیا۔
کرتار پور پراجیکٹ کے ڈپٹی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ گردوارا کرتارپور میں سیلابی پانی داخل ہونے کی وجہ سے 18 مقامی یاتری سمیت 100 کے قریب افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق، ڈپٹی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی کرتارپور کی تصاویر ان کے عملے نے ہی بھیجی ہیں۔
انھوں اس بات کی تصدیق کی کہ تصاویر میں دکھائی دینے والا پانی بارش کا نہیں بلکہ سیلاب کا ہے۔
کرتارپور انتظامیہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ نزدیک ہی دریائے راوی میں شگاف پڑا ہے جس کے نتیجے میں سیلاب کا پانی کرتارپور میں داخل ہوا ہے جو کہ نو سے دس فٹ تک بلند ہے۔
ڈپٹی سیکرٹری کے مطابق، اس وقت 100 کے قریب لوگ گردوارے میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں 18 مقامی یاتری اور ان کے عملے کے افراد علاوہ مذہبی لوگ بھی شامل ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک ریسکیو یا ایموجنسی سروسز کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
ڈپٹی سیکریٹری کا کہنا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی ہیلی کاپٹر آئے اور وہاں پھنسے افراد کو ایئر لفٹ کر لیا جائے۔
اس سے قبل مقامی صحافی میاں شاہد اقبال نے بی بی سی کو بتایا تھا سیلابی صورتحال کی وجہ سے گرودوارہ کرتارپور صاحب کے قریب بند کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے دربار میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے۔
میاں شاہد کے مطابق شکر گڑھ کو ضلع نارووال سے ملانے والی قومی شاہراہ زیرِآب آچُکی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نارووال کے مطابق اب تک 250 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔
شکرگڑھ دریائے روای نالہ اوج اور جسٹر کے مقام پر پانی کا بہاؤ تیز ہونے سے آبادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
پانی نارووال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسٹر بستر کا بند ٹوٹ جانے سے گرودوارہ کرتارپور صاحب میں یاتریوں کو ریسکیو کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، سرحدی علاقوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور ریسکیو کا آپریشن جاری ہے۔
اب تک مال مویشیوں سمیت 409 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ آپریشن جاری ہے اب 21 مقامات پر آپریشن ہوا ہے اور کئی مقامات پر آپریشن میں دشواری پیش آرہی ہیں۔ جھن مان سنگھ گاؤں کے اطراف پانی جمع ہونے سے گاؤں کے لوگوں گھروں میں محصور ہو رہا گے ہیں۔
کمشنر گوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے امدادی ٹیمیں سیالکوٹ اور نارووال کے لیے روانہ ہو گئی ہیں اور سیالکوٹ سے ساڑھے چار ہزار افراد کو جبکہ نارووال سے دو سو افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
،کمشنر نوید حیدر شیرازی کے مطابق وزیرآباد کے چار دیہات سے مکمل آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ گجرات سے پندرہ ہزار کے قریب افراد کو محفوط مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں، ریلیف کیمپ فعال ہیں، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کا سٹاک موجود ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )
فیس بک کمینٹ

