کاشف رفیقکالملکھاری

سکندر سلطان کو کس نے چیف الیکشن کمشنر بنوایا ؟ چنگی گل / کاشف رفیق

اب سر پیٹیں …طعنے دیں ،گالیاں دیں ،سازشی تھیوریوں سے دل بہلائیں…کردار کُشی کریں…مقتدر حلقوں کو کوسیں،بھلے سینہ کوبی کریں لیکن برداشت کریں کیونکہ پڑھی لکھی اور اندھی تقلیدی عوام نے خود ہی تو کہا تھا کہ ایک موقع کپتان کو دینا چاہیے ۔اب موقع دیا ہے تو صبر کریں اور مدت پوری کرنے دیں کیوں سازشی تھیوریوں اور کرامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت چلی جائے اور اپوزیشن کو اقتدار مل جائے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ سال میں اپنے وعدے پورے نہیں کیے تو بھلے اگلی بار ووٹ نہ دیجیے گا لیکن سیاسی شہید بنا کر دوبارہ مسلط کرنے کی راہ کیوں ہموار کررہے ہیں؟
لیکن مجال ہے اپوزیشن اور مفاد پرستوں کو یہ بات سمجھ آئے کہنے کو جمہوری ہیں لیکن بغضِ کپتان میں صبر کرنے کو تیار نہیں۔کسی اپوزیشن جماعت کے لیڈر سے پوچھ لیں بس ایک ہی راگ الاپیں گے کہ حکومت چل نہیں پا رہی غلط پالیسوں کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے… مان لیں یہ بات درست ہے لیکن اسی عوام نے تو کپتان کو مینڈیٹ دیا …اب بھگتے ! اور اگر عوام شدید تکلیف میں ہے تو سڑکوں پر نکلے احتجاج کرے۔
دہائیاں دے۔دھرنا دے…لیکن عوام تو ٹَس سے مَس نہیں ہورہی…مولانا فضل الرحمن نے ایک سال محنت کرکے پورے پاکستان میں عوامی جلسے کیے پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کیا چند روز یہاں بیٹھے لیکن گارنٹی لیکر چلے گئے اب گارنٹی جانے اور گارنٹی دینے والے جانیں لیکن حکومت تو بدستور قائم و دائم ہے ۔ہاں البتہ اکرم درانی کو نیب گرفتار کرنے کے درپے ہے اب پتہ نہیں گارنٹی دینے والے نے کس چیز کی ضمانت دی تھی جبکہ جماعت اسلامی نے مولانا فضل الرحمن کو دیگر سیاسی جماعتوں کیساتھ ملکر احتجاج کرنے سے روکا تھا اورپی ٹی آئی حکومت کو چلنے دینے کی تجویز دی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن نے سراج الحق کی یہ تجویز نہیں مانی جس بنیاد پر جماعت اسلامی نے ایم ایم اے کی چھتری سے نکلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی عوامی رابط مہم شروع کردی ہے،پہلے کشمیر کے ایشو پرکشمیر مارچ شہر شہر نگر نگر کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت میں بڑے جلسے کی صورت میں اختتام پذیر کیا جبکہ بائیس جنوری سے حکومت کے خلاف مہنگائی،آٹا بحران اور بیروزگاری کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا گیا ہے۔
اس احتجاجی تحریک سے قبل امیر جماعت سینیٹر سراج الحق سے نشست ہوئی جس میں اُن سے پوچھا کہ بطور امیر جماعت انتخابات کے نتائج اور پالیسی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات کے نتائج پر سینہ کوبی کیوں کریں ملک میں شفاف انتخابات ہوئے ہی نہیں جن قوتوں نے انتخابات کروائے ہیں اُن کی مرضی کے بغیر تو کابل میں کوئی منتخب نہیں ہوسکتا تو پھر ہم تو خیبر پختونخواہ میں الیکشن لڑ رہے تھے
سراج الحق نے مزید انکشاف کیا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں اسفندیار نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا حضرت آپ کو تو نشستیں مل رہیں تھیں پھر کیا ہوا ؟جس پر میں نے کہا کہ شاید موڈ تبدیل ہوگیا تھا جس پر اسفند یار نے بتایا کہ انہیں الیکشن والے دن شام چھ بجے پتہ چلا کہ وہ جیت رہے ہیں،پھر دس بجے خبر آئی کہ وہ نہیں جیت رہے۔یہ تو اچھا ہوا کہ انہوں نے جیت کا جشن منانا شروع نہیں کردیا تھا ورنہ سبکی ہوتی۔
اسفند یار نے بتایا کہ انہوں نے رات گئے پوچھا کہ آفتاب شیرپاؤ کاکیا بنا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ بھی اس بار نشست پر منتخب نہیں کیے گئے،اس دوران سراج الحق کچھ دیر خاموش ہوئے اورپھر گویا ہوئے کہ ایسے حالات اور انتخابی نتائج کے بعد وہ یا ان کے کارکنان کیوں سینہ کوبی کریں؟
حکومتی پالیسوں پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت نے انتہائی دلچسپ تبصر ہ کیا بولے کہ تحریک انصاف ایسی گاڑی ہے جس میں ٹریکٹر،ٹرالی،جیپ،کار،لینڈ کروزر، بس، ٹرک، موٹر سائیکل اور سائیکل تک کے پرزے لگے ہوئے ہیں جس وجہ سے حکومتی گاڑی چل نہیں پا رہی بس پیٹرول اور ڈیزل ڈالتے ہیں گاڑی اسٹارٹ کرتے ہیں اور تیل ختم ہوجاتاہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ یہ حکومت چلے کیونکہ یہ حکومت اقتدار میں جتنا وقت گزارے گی اتنی ہی بے نقاب ہوگی، اپنے وعدوں کے برعکس کام کرنے والی حکومت کے وزرا بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں جبکہ ووٹرز بھی پیشمان ہیں سراج الحق سے پوچھا کہ آرمی ترمیم ایکٹ کے حوالے سے کیا کہیں گے تو بولے کہ موجودہ حکومت نے پاک فوج کے بطور ادارہ جس قدر بے توقیری کی ہے اس سے قبل مثال نہیں ملتی حکومت کی اس حرکت کے دو ہی پہلو ہیں ایک یا تو حکومت نے جان بوجھ کر ادارے کو بے توقیر کیا ہے یا واقعی حکومت اتنی نااہل ہے کہ ایک نوٹیفکیشن تک نہیں بنا سکتی انہوں نے مزید کہا کہ اس ترمیم نے ثابت کیا کہ تحریک انصاف،پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک ہی دربارکے ملنگ ہیں ایک ہی چھتری تلے سب ایک ہیں۔
صرف اپنی اپنی باریوں کے لیے ووٹرزکو بیوقوف بنا رہے ہیں ان کے نزدیک مہنگائی،بیروزگاری ،آٹا،چینی کا مہنگا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بس ان سے حساب نہ لیا جائے اور اقتدار دیا جائے تو سب ایک دوسرے کے ساتھ ٹھیک ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب کی تقرری کے طریقہ کار میں آئینی ترمیم ہونی چاہیے کیونکہ اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کی منشا پر اداروں کے سربراہان کا لگانا درست عمل نہیں اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق نہ ہوتو پھر چیف جسٹس آف پاکستان،دو سینئر ججز،چاروں ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل پینل کو چیف الیکشن کمیشن اور چیئرمین نیب تعینات کرنا چاہیے تاکہ وہ غیرجانبدار ہوکر انتخابات کروائیں اور احتساب کا عمل آگے چل سکے!سراج الحق نے جماعت اسلامی کی کارکردگی کچھ یوں بیان کی ۔۔ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی انقلابی جماعت بن کر اُبھرے گی اور ویسے بھی پاکستان کی واحد اسلامی اور جمہوری جماعت ہے کشمیر کے معاملے پر سراج الحق نے کہا کہ کوئی بھی آزادکشمیر کی حیثیت اورہیت کو تبدیل نہیں کرسکتااور نہ ہی اس حکومت میں اتنی جرات ہے ۔ویسے سراج الحق کی باتوں میں دَم لگتا ہے کیونکہ حکومت میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ایوان سے بل پاس کروا سکے یا چیف الیکشن کمشنر پر اپوزیشن کو متفق کرسکے یہ کام بھی ـ”انہوں”نے کیا ،پارلیمنٹری کمیٹی کے کل تیرہ اجلاس ہوئے جن میں سے دس بے سود رہے ۔پھر کسی نے وزیراعظم سے سکندر سلطان راجہ کے نام کی سرگوشی کی اور انہوں نے تین نام جن میں جمیل احمد،فضل عباس میکن اور سکندر سلطان راجہ کے نام چیف الیکشن کمیشنر کے طور پر تجویز کردئیے گیارویں اجلاس میں خاموشی اختیار کی گئی اور بارہویں اجلاس میں قبول کیا گیا جبکہ تیرہویں اجلاس میں برملا اعلان کردیا گیا کہ اپوزیشن اور حکومت سکندر سلطان راجہ کے نام پرمتفق ہوگئی ہے۔اب عمومی رائے ہے کہ سکندر سلطان راجہ ن لیگ کے قریبی ہیں ،یہ تاثر کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ موصوف کی جائے پیدائش بھلے بھیرہ ہے لیکن ونگ بہت پھیلے ہوئے ہیں فواد حسن فواد کے قریبی نیاز مندوں میں انکا شمار ہوتا ہے ہمیشہ تگڑی پوسٹنگ لی اور دھڑلے سے نوکری کی”اُن”کے منظور نظر ایسے ہیں کہ موصوف کو نومبر میں معلوم ہوگیا تھا کہ کوئی بڑی بھاری ذمہ داری ملنے والی ہے۔اسی لیے تو شیخ رشید نے سکندرسلطان راجہ کو ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی وزارت میں رکھنے کا مراسلہ وزیراعظم کولکھ دیا تھا تاکہ وزیراعظم سمجھیں کہ انتہائی قابل اعتماد اور قابل بیوروکریٹ ہیں یہ وقت بتائے گا کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟ لیکن سکندر سلطان راجہ کے نام کو فائنل کروانے والوں نے کما ل مہارت سے اپنا بندہ لگوا لیا ۔
اب دیکھنا ہوگا کہ نئے چیف الیکشن کمشنر فارن فنڈنگ میں تحریک انصاف کو ریلیف دیکر احسان کا بدلہ چُکاتے ہیں یا رگڑا لگاتے ہیں؟ چیف الیکشن کمشنر نواز لیگ کو رگڑا لگائیں یا تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دیں دونوں صورت میں سکندر سلطان راجہ کے چیف الیکشن کمشنر بننے پر سینہ کوبی ضرورہوگی!!

( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker