تجزیےکاشف رفیقلکھاری

مسئلہ کشمیر اور ہماری آنیاں جانیاں‌: چنگی گل / کاشف رفیق

شہ رگ کٹ رہی ہے …ہم بڑھکیں مار رہے ہیں …پانچ اگست سے آج تک ظلم ہورہا ہے ،ہم حملے کا انتظار کررہے ہیں! اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والوں کو بتائیں کہ بھارت کی جانب سے ہر روز کنٹرول لائن پر گولہ باری کی صورت میں اینٹیں آرہی ہیں لیکن پتھر کے جانے کی اطلاع تاحال نہیں آئی ۔۔ لڑائی مظلوموں کی لڑنی تھی لیکن یہ تو آپسی لڑائی لڑ رہے ہیں۔فوٹو سیشن اور واہ واہ کرنے والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ ظالم کیسے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی جستجو میں لگا ہوا ہے اور ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔یہ جملے بولتے ہوئے علی رضا سید کی آواز بھر آئی ۔
توقف کیا اور پھر بولے کہ ہم مظلوم کی آس بننے کی بجائے اُن کی تکالیف میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں ہم کیوں نہیں کشمیر کے مقدمے کو دل و جاں سے لڑنا چاہتے ؟ کیوں ہم کشمیریوں کا مقدمہ international court of justice نہیں لیکر گئے؟ بیانات دینے اور بلند وبانگ دعوے کرنے سے نہ تو کشمیر آزاد ہوگا اور نہ ہی کشمیریوں کو ریلیف ملے گااس کے لیے شاطر دشمن کی چالوں کو سمجھنے کے بعد اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا پڑے گا۔نہیں تو کشمیری پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی سپورٹ سے مایوس ہوکر کسی اور جانب دیکھنا شروع کردیں گے لیکن میں تو پچھلے اُنسٹھ سال سے پاکستا ن کی جانب دیکھ رہا ہوں کیونکہ جس نے مجھے شہ رگ مانا ہے میرا لگاؤ تو اُسی کیساتھ ہونا فطری عمل ہے ناں ۔
یہ درد بھری باتیں کرنیوالے علی رضا سید ہیں جو کہ پچھلے انتالیس سال سے برسلز میں مقیم ،اپنی مدد آپ کے تحت بطور چیئرمین کشمیر کونسل یورپین یونین کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں کشمیر کونسل پچھلے پندرہ سال سے کشمیریوں کی آواز بنے آزادی کے لیے کوشاں ہیںمیری علی رضا سید سے ملاقات آزاد کشمیر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین کے توسط سے ہوئی۔علی رضا کی باتوں میں پہلے ہی بلا کی تکلیف جھلک رہی تھی اور اس پر میرے سوال نے جیسے جلتی پر تیل کا کام کیاہو میں نے پوچھا کہ یورپین پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے بحث ہونے کے اصل حقائق اور محرکات کیا تھے بس پھر تو شاہ جی کی جیسے کسی نے دُکھتی رَگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔۔علی رضا بولے بحث کروانے کے لیے جہدِ مسلسل کرنا پڑی اور اس میں کلیدی کردار وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حید ر اور کشمیر کونسل کا تھا۔دراصل یورپی یونین پر بھارت کا اثر ورسوخ کافی زیادہ ہے اس لیے کوئی بھی کُھل کر بھارت کے خلاف بات نہیں کرتااور نہ ہی کشمیر کے معاملے پر یورپین پارلیمنٹ کے ارکان بات سننے کو تیار ہوتے ہیں کیونکہ ٹریڈ ہر ملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے اس لیے یورپین پارلیمنٹ کے ارکان کشمیر کے معاملے پر کسی سے ملتے ہیں تو اُس کو مخفی رکھنے کی شرط عائد کرتے ہیں اور اگر یہ شرط توڑ دی جائے تو دوبارہ وہ ملنے پر راضی نہیں ہوتے اور ایسے ایک معاملے کا ہم سامنا کرچکے ہیں۔۔۔علی رضا کی بات کاٹتے ہوئے میں نے دریافت کیا وہ کیسے؟؟ تو شاہ جی بولے کہ آزاد کشمیر کے ایک سابق صدر سردار انور یورپین کمیشن کے لوگوں سے ملے اور ملاقات سے قبل یہ طے ہوا تھا کہ اس کی تشہیر نہیں کی جائے گی لیکن اُس کے برعکس تشہیر کردی گئی جس کا نقصان یہ ہوا کہ چھ سال تک دوبارہ کمیشن کے لوگوں نے ملنے سے اجتناب کیاکیونکہ مہذب قومیں اور انکے نمائندے اپنے لفظ ،اصول اور وعدے کی پاسداری کرتے ہیں اور ایسی ہی دوسروں سے توقع رکھتے ہیں ۔
یکایک شاہ جی نے سر کوجھٹکا اور بولے خیر کس کس بات کا رونا روئیں بس ہم تو اللہ کے سہارے اور کشمیریوں کی دعاؤں سے چلے جا رہے ہیں۔اچھا تو بات ہورہی تھی کہ یورپین پارلیمنٹ میں بحث کیسے ہوئی تو وزیراعظم آزادکشمیر نے مقبوضہ کشمیر کے مظالم پر یورپین کمیشن کو خط لکھا جس پر مظالم بارے آگاہ کیا گیا اور اُس خط وکتابت کے صلے میں 2017کو کمیشن اور راجہ فارق حیدر کی ملاقات ہوئی جس میں انسانی حقوق کی پامالی بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا اور راجہ فاروق حیدر اس ضمن میں مسلسل رابطے میں رہے کہ یہ ایک انسانی حقوق کا المیہ بنتا جا رہا ہے
اس پر یورپین پارلیمنٹ میں بات ہونی چاہیے جبکہ دوسری جانب شفق محمد جن کا تعلق لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے انہوں نے قرارداد یورپین پارلیمنٹ میں جمع کروائی جس پر 751میں سے 156ارکان نے دستخط کیے بنیادی طور پر قرارداد میں دو نکات تھے ایک تو مقبوضہ کشمیر کی میڈیکل کی طالبہ انشا کا کیس رکھا گیا جو کہ بھارتی فوج کی جانب سے پائلٹ گن کے استعمال سے بینائی سے محروم ہوگئی تھی اوردوسرا بھارت میں شہریت کے قانون پر جاری احتجاج کو بھی زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اب اس قرار داد پر بحث ہوچکی اور بحث کے اختتام پر یورپین پارلیمنٹ نے بذریعہ ووٹنگ اپنی سفارشات دینی تھیں کہ بھارتی حامی لابی نے اس ووٹنگ کو مارچ تک موخر کرنے کی ٹھانی اور اس میں کامیاب ہوگئی۔۔۔جس کی دلیل یہ تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ سبراہنیم جے شنکر سترہ فروری کو اور نریندرا مودی تیرہ مارچ کو یورپین یونین کو دورہ کررہے ہیں اور کوئی امکان ہے کہ وہ اپنے مثبت اقدمات بارے آگاہ کریں گے تاکہ بھارت کے خلاف یورپین پارلیمنٹ کوئی سخت اقدامات کی سفارش نہ کردے۔
علی رضا سید نے توقف کیا اور دو تین لمبے لمبے سانس لیے ۔۔۔کچھ دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی پھر میں نے سکوت توڑتے ہوئے کہا کہ شاہ جی اس حوالے سے موجودہ حکومت اور وزیرخارجہ نے بھی کوئی اقدامات کیے تو انہوں نے آزاد کشمیر کے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اپوزیشن لیڈر بہتر رائے دے سکتے ہیں۔۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ حکومت تو اس انتظار میں ہے کہ بھارت ہم پر حملہ کرے تو ہم پتھر بطور جواب دیں گے لیکن ابھی تک تو کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ عمران خان کو دوست گردانتے ہیں امریکہ کے بعد کچھ دنوں قبل ڈیوس میں بھی دونوں دوستوں کی ملاقات ہوئی اور یاد رہے ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کا بھی کہا تھا لیکن ثالثی تو چھوڑیں کرفیو بھی نہیں ہٹوا سکے اب پتہ نہیں دوستی کس نوعیت کی ہے ہماری سنجیدگی کا اندازہ لگا لیں کہ بھارتی ظلم کے باوجود بھارتی وزیر خارجہ تریسٹھ ملکوں کا دورہ کرتے ہیں اور خود کو مظلوم ثابت کرنے اور اپنے اقدام کے حق میں دوسرے ممالک کی ہمدردی لینے کے لیے لابنگ کرتے ہیں جبکہ ہمارے وزیر خارجہ پانچ سات ملکوں کا دورہ کرکے ہی سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا ایشو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرچکے ہیں اور جن ممالک نے کشمیر پر پاکستان کی حمایت میں آواز اُٹھائی وزیراعظم اُن ممالک کی میٹنگ میں جانے سے انکاری ہوگئے۔ان کو کون سمجھائے کہ صرف آنیاں جانیاں اور فوٹو شوٹ سے مظلوموں کی داد رسی نہیں ہوا کرتی۔
چوہدری یاسین ابھی خاموش ہوئے ہی تھے کہ علی رضا بولے چوہدری صاحب حکمرانوں کو لگتا ہے کہ جلسے جلوسوں میں برا بھلا بول کرہم نے اپنا فرض پورا کرلیا لیکن لابنگ اور سفارتکاری کے آداب اور طریقہ کار مختلف ہوتے ہیں اسی اثنا میں کشمیر کونسل یورپی یونین کے کور گروپ کے ممبر سردارصدیق بھی شریک محفل ہوئے سردار صدیق بیلجیم تحریک انصاف کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں سوچا کہ یہ حکومت کا دفاع کریں گے اس لیے اُن سے پوچھا کہ حکمرانوں نے کشمیریوں کا مقدمہ کیسا لڑا تو سردار صاحب بولے کہ جو طوفان بدتہذیبی موجودہ سیاسی نظام میں برپا ہے اس کا سرا سر نقصان کشمیریوںاور کشمیر کاز کو ہورہا ہے میں حیران ہوکر بولا وہ کیسے تو سردار صاحب بولے کہ دیکھیں جب آپ کسی مظلوم کی داد رسی کے لیے کسی مضبوط اور مہذب ممالک کے لوگوں سے ملتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں کہ آپ بھارتی رویے کی شکایت کرتے ہیں پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس بارے میں کیا کہیں گے؟پاکستان میں اقلیتوں کیساتھ کیوں غلط ہورہا ہے؟کیوں پختونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ ان سوالات کے بعد کشمیریوں کا مقدمہ کوئی کیسے لڑ سکتا ہے!پھر دوسرا المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے وسائل سے کشمیرکاز پر کام کرتا ہے تو اُس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ہدایت پاکستان سے لے … آپ بتائیے ایسے گھٹن زدہ ماحول میں کوئی کیسے کسی مظوم کا مقدمہ لڑ سکتا ہے ؟یہ بات تو درست ہے کہ کشمیر حقیقت اور سچائی ہے یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیر بالحاظ پانی ہماری شہ رگ ہے لیکن نجانے ہم اپنی انا اور جھوٹ سے کب باہر نکلیں گے کیونکہ منافقانہ رویوں کو ترک کرکے سچے مقدمے کو سچ کی بنیاد پر سب کو ساتھ ملاکر ہی لڑا جا سکتاہے اور تب ہی جیت ممکن ہوگی!!

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker