ادبسلمیٰ اعوانلکھاری

سلمیٰ اعوان کا کالم : پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس (پہلا حصہ )

یہ بتانا مشکل ہے کہ سات سمندر پاراُس رومانوی کلاسیکل شاعر کیٹس سے میرا عشق کب شروع ہوا؟بلکہ اس میں اگر تھوڑا سا اضافہ کروں تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اِس دوڑ میں اس کے دوست شیلے اور بائرن بھی شامل تھے۔گوکیٹس ہمیشہ میری کمزوری رہا۔تاہم شیلے بھی کم نہیں۔ہاں البتہ اِس رومینٹک تکون نما مثلث کا تیسرا سرا لارڈ بائرن کہیں تھوڑا سا پیچھے ہے۔
روم اور یہیں وہ سپینش سٹیپ ز والا گھر جہاں کیٹس نے اپنی بیماری کے دن کاٹے اور ختم ہوا۔شیلے بھی اٹلی میں ہی ڈوب کر مرا۔دونوں دفن بھی روم کے پروٹسنٹ قبرستان میں ہیں۔ایک کی ہڈیاں اور دوسرے کی راکھ۔
اب روم پہنچ کر دل کا وہاں جانے کیلئے مچلنا اور ھمکنا سمجھ آتا ہے کہ عاشقوں کی زیارت گاہ ہے۔ تو اِس وقت میں spagnaپیازہ سکوائرمیں اُس چار منزلہ عمارت جو کہیں 1725 میں بنائی گئی تھی اور اس وقت کیٹس شیلے ہاؤس کے نام سے روم کی ایک اہم قابلِ دید جگہ ہے۔اس کی دوسری منزل پر کیٹس میوزیم جانے کیلئے قطار میں لگی کھڑی ہوں ۔
26کا ہندسہ پلیٹ پر چمکتا دُور سے نظر آتا ہے۔ ایک چھوٹے سے دروازے کی گزرگاہ سے اندر داخلہ ہوتا ہے۔اس کی دل کو بھگونے والی نظم قدموں کے ساتھ ساتھ چلنے لگی ہے۔ ہلکی سی نمی بھی آنکھوں میں اُتررہی ہے۔
خوف وخدشات کے سائے جب مجھے گھیر لیں
اس سے پہلے کہ
میرا قلم میرے دماغ کی معذوری کا احاطہ کرے
اور کتابوں کے ڈھیر اور اُن کے اندر کی خوبصورتیاں
مجھے گرفت میں لے لیں
اس بھرے غلّے کی کوٹھڑی کی طرح
جو پکے اناج سے بھری ہوتی ہے
جب میں رات کے چہرے کو دیکھتا ہوں
جیسے ایک دلکش رومانس کے دبیز بادل ہوں
سوچتا ہوں کہ میں تو شاید
زندگی کے اِس رخ کو دیکھنے کے لئے زندہ ہی نہ رہوں
ان کے سائے اتفاق کے جادوئی ہاتھ کے ساتھ
جب میں محسوس کروں
صرف ایک گھنٹے کی خوبصورت تخلیق
اور میں اسے اس سے زیادہ نہ دیکھ سکوں
کبھی نہ منعکس ہونے والا پیار
تب ساحلو ں پر
اس وسیع وعریض دنیا میں
میں اکیلا کھڑا ہوں اورسوچتا ہوں
محبت اور شہرت سب بیکار ہیں
پس مر جاؤ
اِدھر اُدھر جانے کی بجائے سب سے پہلے اُس کے اُس کمرے میں جانے کی خواہش مند ہوں جہاں اُس نے آخری سانسیں لیں۔ پانچ یورو کا ٹکٹ۔ Attendent لڑکیاں بڑی خوبصورت اور ہونٹوں پر شہد جیسی مسکراہٹ بکھیرے ہوئے ہیں۔ ایک قابل فہم ہیجان کی سی کیفیت طاری ہے کہ کبھی روم آنے اور اس زیارت گاہ کو دیکھنے کی خوش بختی کا تو کہیں تصور ہی نہ تھا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے راہنمائی کردی ہے۔مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔میری دائیں بائیں کسی طرف کوئی توجہ نہیں۔رک گئی ہوں۔سانس کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔سامنے وہ کمرہ ہے۔جس پر پیتل کی بڑی سی پلیٹ پر لکھا ہوا پڑھنے لگتی ہوں۔
In this room,
on the 23rd of February 1821
Died
John Keats
آنسووں کو پلکوں سے نیچے نہ اُترنے میں تھوڑی سی نہیں بہت کوشش کرنی پڑی ہے کہ رُک کر گردن کو پیچھے لے گئی تھی۔
یہ کمرہ اس کے زمانے میں دو حصّوں میں منقسم تھا۔ایک مالک مکان اینا Angelettiکے تصرف میں اور بقیہ حصّہ جسکا چہرہ میدان کی طرف تھا کیٹس اور جوزف سیورن کے پاس تھا۔
میں نے مارگریٹ(نگران) سے چند لمحوں کیلئے کمرے میں ٹھہرنے کی اجازت لی ہے۔ وہ کمرہ جہاں وہ چھبیس سالہ خوبصورت آنکھوں،چہرے اور خوبصورت دماغ والا شخص موت کے ہاتھوں کی ظالم گرفت میں جکڑتا چلاگیاتھا۔شیشوں سے پار سکوائر میں زندگی کتنی خوش و خرم،ہنستے،مسکراتے،قہقے لگاتے نظرآرہی ہے۔
میری تیسری آنکھ کھل گئی تھی جس نے ماہ نومبر کے کِسی چمکتے خوشگوار سے دن کو سکوائر میں بھاگتی بگھیوں اور اُن میں جُتے گھوڑوں کے سموں کی ٹھپ ٹھپ اُسے سُناتے اور شیشوں میں سے زندگی کو آج ہی کی طرح رواں دواں دکھاتے ہوئے یقینا اُسے اپنی صحت کے حوالے سے ایک نوید دی ہوگی۔میٹھی سی اِس نوید نے پل بھر میں گنگناتے خوابوں کو اسکی آنکھوں میں بیدار کردیا ہوگا۔وہ خواب جنہیں وہ جوان ہونے کے بعد سے دیکھتا چلا آیا تھا۔
مارگریٹ نے مجھے بتایا ہے کہ منظروں کی یکسانیت میں تب اور آج کے حوالوں سے کچھ زیادہ فرق نہیں۔میں نے دیکھا تھا۔بگھیاں تو اس وقت بھی سکوائر میں بعینہٰ اُن دنوں کی طرح بھاگتی دوڑتی پھر رہی تھیں۔
اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے سمجھدار اور ذہین لوگ اپنے تاریخی ورثوں اوراُن مخصوص روایات کو اسی ماحول سے ہم آہنگ کرتے ہوئے وقت کی چال کو اسی روپ میں نہلاتے ہوئے لوگوں کو مسرت و سرشاری سے نوازتے ہیں۔اب میں مقابلہ “من و تو”میں کہاں کہاں کھپتی اور اپنا خون جلاتی۔
کمرہ اس وقت کتنا چمکتا دمکتا ہے۔کھڑکی کے پردے کھینچے ہوئے ہیں۔ڈیتھ ماسک سامنے دیوار پرآویزاں ہے۔ساتھ ہی چھوٹا سا شوکیس سجا ہے۔ذرا فاصلے پر ایک بڑا شوکیس اور درمیان میں آتش دان ہے۔تب یہ کمرہ یقینا ایسا شاندار تو نہ تھا۔عام سی دیواروں،چھت اور کھڑکی والا تھا۔
گلاب کے پھول بکتے دیکھ کروہ بہت خوش ہوتا تھا۔پھول تو آج بھی ہیں۔یہ ہاتھوں میں ہاتھ دئیے جوڑے اُس وقت بھی تھے جب نومبر کی سنہری اُترتی شاموں میں وہ اپنے اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اُتر کر سیر کیلئے بورگیز باغ Borghese جاتا۔تب نیلے آسمان پر پرندوں کی اڑانیں دیکھتے ہوئے کبھی اس کا دل غم سے بھرجاتا اور کبھی امید اُسے خواب دکھانے لگتی۔
تصور کی آنکھ کھل گئی ہے اور منظر کِسی نازنین کی نشیلی آنکھ کے خمار سے بھرگیا ہے۔میٹھی آواز کا جادو چاروں اور پھیل گیا ہے۔”A thing of Beauty“ میرے لبوں پر آگئی ہے۔ دنیا بھرمیں حسن و خوبصورتی کے حوالے سے ایک مثالی محاورہ بننے والا یہ مصرع A thing of Beauty is a joy for ever اُسی شاعر کا ہی ہے۔جولافانی ہونے کی تمنا رکھتا تھا۔
حُسن ہمیشہ رہنے والی ایک خوشی ہے
اس کی خوبصورتی بڑھتی رہتی ہے
یہ کبھی فنا نہیں ہوتی
ہمیشہ اپنے وجود کو قائم رکھتی ہے
جیسے یہ ہمارے لئے پھولوں کا کوئی پر سکون کنج ہو
یا نیند جو میٹھے خوابوں سے بھری ہو
جس میں تندرستی یا صحت اور خوشگوار
سانسوں کی مہک ہو
ایسے شعر کہنے والا میٹھے خوابوں کا مثردہ سنانے،صحت کا پیغام دینے اور مہکتے سانسوں کی روانی رواں رکھنے والا غموں کی بھٹی میں کیوں کر گرپڑا۔
اُسے فینی یاد آتی تھی جو لندن میں تھی۔اسکی یاد اسکی آنکھیں بھگو دیتی۔اُس کی محبت، منگنی اور پھر اسکی بیماری کا جان کر التفات بھرے اظہارمیں اس کی بے رُخی اور بے نیازی جیسے روےّ۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker