اختصارئےحسنین رضویلکھاری

حسنین رضوی کا اختصاریہ : کرک کا تاریخی مندر اور جاہل مولوی

اکیسویں صدی کا اکیسواں برس شروع ہوگیا لیکن پاکستانی مولوی نہ بدلا ۔ تاریخی کرک کے مندر کی تباہی ہو یا اسلام آباد میں اکلوتے ہندو مندر کے قیام اور چاردیواری کو منہدم کرنے کا کیس ، سیالکوٹ میں احمدیوں کی عبادت گاہ کو نذر آتش کرنے کا کیس ہو یا ساہیوال ( سرگودھا ) میں امام بارگاہ گرانے کا معاملہ ، ایسے سینکڑوں کیسز ہرسال پاکستان کے طول و عرض میں رپورٹ ہوتے ہیں اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسے تمام کیسز کے پیچھے کوئی نہ کوئی مولوی ضرور کارفرما نظر آتا ہے ۔
کرک ڈسٹرکٹ میں پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ جہاں پاکستان میں بین ا لمذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے وہیں اس واقعہ سے مقامی انتظامیہ کی ناکامی بھی عیاں ہوئی ہے ۔ واضع رہے کہ 1920 ء سے قبل تعمیر ہونے والی شری پرم ہنس مہاراج کی سمادھی کو ہندو کمیونٹی میں مقدس خیال کیا جاتا ہے . اس سمادھی کے معاملے پر پہلے بھی تنازع ہوچکا ہے اور کچھ مذہبی جنونیوں نے اسے 1997 ء میں بھی مسمار کردیا تھا تاہم 2015 ء میں سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر اس کی مرمت کردی گئی تھی اور ایک بار اب پھر اس سمادھی پر مقامی مولویوں کے اکسانے پر ہلہ بول دیا گیا اور اسے آگ لگا کر نقصان پہنچایا گیا اور اب پھر سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت نے اسے دوبارہ مرمت کرکے بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ” ایسا کب تک چلے گا “
اسلام کسی کی بھی عبادت گاہ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے نہ جانے ان مولویوں نے کونسا ” اسلام ” پڑھا ہے ۔
اس واقعے میں 350 افراد کو نامزد کیا گیا ہے اور مقامی مذ ہبی جماعت کے امیر سمیت 31 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام ملوث مذ ہبی جنونیوں کو سخت ترین سزا دیکر ایک مثال قائم کی جاۓ تاکہ اس کے بعد کسی کو کسی کی مذ ہبی عبادت گاہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی بھی جرآت نہ ہوسکے ۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker