خالد مسعود خانکالملکھاری

خیرسگالی کی خوش فہمی۔۔خالد مسعود خان

برے حالات میں قوم کے مورال کا اندازہ اس کی حس ِمزاح سے ہوتا ہے۔ اب خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھیں؛ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے کنارے کھڑی ہیں۔ معاملہ گیدڑ بھبھکیوں سے بہرحال آگے کا ہے۔ مودی نے الیکشن لڑنا ہے اور اسے کوئی ایسا ایشو درکار ہے ‘جسے وہ اپنی الیکشن مہم میں پوائنٹ سکور کرنے کی غرض سے پیش کر سکے۔ اپنے انتہا پسند ہندو حامیوں اور ووٹروں کو پھر سے احمق بنا سکے اور ہندو قوم پرستوں کے ووٹ بٹور سکے۔ حقیقت ِحال یہ ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں ہندوستان کے شرح نمو کو سات فیصد تک لے جانے کے کارنامے کو بھی انسانوں کی طرح استعمال کرتا تو شاید زیادہ بہتر انداز میں اپنی الیکشن مہم کو جلا بخش سکتا تھا ‘مگر احمق ہونا عطیہ خداوندی ہے اور جسے میسر آئے ‘وہ اسے استعمال نہ کرے‘ توتف ہے‘ اس پر!معاف کیجئے ‘میں دوسری طرف چلا گیا۔ بات قوم کے مورال کی ہو رہی تھی۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہے اور صرف کشیدہ نہیں‘ بہت زیادہ تناؤ والی ہے اور ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ دو چار دن پہلے رات گئے ملتان چھاؤنی سے ”ون کور‘‘ جو حملہ آور کور ہے‘ سرحد کی طرف جا چکی ہے۔ یہی حال 31ویں کور کا ہے۔ جو بہاولپور میں ہوتی ہے اور یہ بھی Attacking یعنی دھاوا بولنے والی کور ہے۔ وزیراعظم خود بتا چکے ہیں کہ گزشتہ دنوں پاکستان پر میزائل حملے کا خطرہ تھا۔ بالا کوٹ کے نزدیک بمباری اور پھر جوابی طور پر پاکستانی فضائیہ کی کارروائی اور بھارتی طیاروں کی تباہی کے بعد دو راتیں تو واقعتاً خطرے سے بھرپور تھیں ‘لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ ظاہر ہے صورتحال اس وقت پاکستانی بالادستی پر آ کر رکی ہوئی ہے۔
دو بھارتی طیاروں کی تباہی اور ایک پائلٹ کی گرفتاری ‘اس گرما گرمی کا آخری سکور ہے‘ جو پاکستان نے کیا ہے اور علاقے میں مکمل بالادستی کا خواب دیکھنے والے بھارت کو یہ والی صورتحال برداشت کرنا مشکل ہی نہیں‘ بہت مشکل ہے۔ ابھی خطرہ ٹلا نہیں اور بقول مودی ”یہ ہمارا پائلٹ پراجیکٹ تھا۔ اصل کھیل ابھی ہونا باقی ہے‘‘ لیکن ادھر یہ حال ہے کہ اتنی تناؤ والی بری صورتحال میں بھی ابھی تک مجھے کوئی شخص خوفزدہ یا ڈرا ہوا نہیں ملا‘بلکہ خوف اور ڈر تو ایک طرف رہا لوگوں کی حس مزاح خاصی پالش ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ایسے کشیدہ اور خراب حالات میں حس مزاح کا برقرار رہنا قوم کے مورال کی عکاسی کرتا ہے۔چوہدری بھکن سے لیکر میاں نواز شریف تک۔ سب لوگ اپنے اپنے طور پر اپنی حس مزاح کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے فرمایا ہے کہ اگر میں قید میں نہ ہوتا تو جے ایف تھنڈر اُڑ اکر دشمن کے طیارے گراتا۔ جب چوہدری بھکن نے مجھے خبر سنائی تو ایمانداری کی بات ہے کہ میں اسے مذاق سمجھا اور چوہدری کی ازلی ”چھوڑنے‘‘ کی صلاحیت کا مظہر سمجھا ‘لیکن چوہدری نے اخبار میرے سامنے رکھ دیا۔ اخبار کے صفحہ اول پر ایک کالمی خبر یہی کچھ کہہ رہی تھی‘ جو چوہدری نے بتایا تھا‘ پھر چوہدری کہنے لگا: عمران خان کو دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دینا چاہئے اور اپنے میاں صاحب کو شور کوٹ کے ایئر فورس والے ہوائی اڈے پر لا کر ان کو جے ایف تھنڈر میں بٹھا کر کہنا چاہئے؛ لو میاں صاحب! ہن جہاز اڑاؤ تے انڈیا دے طیارے سُٹ کے وکھاؤ۔ میں نے ہنس کر کہا: چوہدری آخر تم نے اس کام کیلئے شور کوٹ کے ہوائی اڈے کا ہی انتخاب کیوں کیا ہے؟ چوہدری کہنے لگا: اگر آپ کو شور کوٹ پر اعتراض ہے تو بھلے سے آپ انہیں سرگودھا لے جائیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں‘ میں تو صرف وہ پنجابی والے محاورے کی طرح ”کٹا کٹی نکالنا چاہتا ہوں‘‘۔ میاں صاحب کو کہیں کہ لو جی گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی۔ اب آپ جہاز اڑائیں اور اپنا وعدہ نبھا کر دکھائیں۔ میں نے کہا: چوہدری اس میں حیرانی یا طعنے مارنے کی کیا بات ہے۔ مجھے علم تو نہیں‘ لیکن کیا خبر‘ میاں صاحب نے فلائنگ سیکھی ہو اور وہ واقعتاً جہاز چلا سکتے ہوں۔ چوہدری زور سے ہنسا اور کہنے لگا: آپ بھی بادشاہ ہو! اگر بندے کو اپنے لیپ ٹاپ/ فیس بک میں سٹیٹس لگانا آتا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ سپر کمپیوٹر پر پروامنگ بھی کر لے گا۔ کیا تم نے کبھی بائیس ویلر ٹرالر کو ریورس ہوتے دیکھا ہے؟ میں نے کہا :دیکھا ہے۔ چوہدری کہنے لگا :تم بتاؤ‘ تم نے زندگی میں ہزاروں بار گاڑی ریورس کی ہے‘ تم یہ بائیس ویلر ٹرالر ریورس کر سکتے ہو؟ میں نے کہا :ہرگز نہیں کر سکتا‘ اس کی تو تکنیک ہی بالکل مختلف ہے۔ دائیں طرف ریورس کرنے کیلئے سٹیرنگ کو بائیں طرف گھمانا پڑتا ہے۔ اس کو ریورس کرنے کا سارا سسٹم ہی الٹا ہے۔ عام گاڑیوں سے بالکل مختلف اور الٹ۔ چوہدری کہنے لگا: یہی حال عام جہاز کی فلائنگ اور جنگی جہاز کے اڑانے میں ہے۔ کہاں دھیرے دھیرے چلنے والا دو پروں والا پھٹیچر جہاز اور کہاں آواز سے تیز رفتار جہاز جو غوطے لگاتا ہے‘ میزائل چلاتا ہے‘ بم گراتا ہے اور غچہ دے کر فائر کرتا ہے۔ عزیزم یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ آپ چھوٹے پائے کھا سکتے ہیں تو آپ اسی تجربے کی بنیاد پر بڑے پائے بھی کھا سکتے ہیں یا یہ کہ اگر مودی کہے کہ میں‘ کیونکہ چائے بہت اچھی بنا سکتا ہوں ‘اس لیے میں جنگی منصوبہ بندی بھی بہت عمدہ کر سکتا ہوں۔ میں نے کہا: چوہدری! تم اب بہرحال فاؤل کھیل رہے ہو۔ چوہدری کہنے لگا: اگر اتنے بڑے بڑے لوگ فاؤل کھیل سکتے ہیں ‘تو میں کس باغ کی مولی ہوں؟
میں نے کہا :چوہدری تم میاں صاحب کے بیان کو اس بیان کے الفاظ کے تناظر میں نہ دیکھو‘ جذبہ دیکھو۔ چوہدری کہنے لگا: لو نئی سنو! بھائی انہوں نے ؛اگر جذبے کا اظہار کرنا تھا تو کسی اور طرح کر لیتے۔ جذبے میں جہاز اڑا کر بھارت کے طیارے گرانے کیلئے کس نے کہا تھا؟ دراصل انہوں نے اس بیان سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جے ایف تھنڈر اُن کے زمانے میں بنایا گیا تھا اور وہ اپنے اس طیارے سے بھی ویسی ہی محبت کرتے ہیں‘ جیسی وہ اپنے ایٹم بم سے کرتے ہیں ‘جس کے پانچ دھماکے انہوں نے کیے تھے۔ملک صاحب کو بھارتی پائلٹ کی رہائی پر بڑی گرمی تھی۔ اسے شاید اتنا تاؤ نہ آتا‘ لیکن وہ بتانے لگا کہ بھارتی میڈیا اس خیر سگالی کے جذبے کو بزدلی پر محمول کر رہا ہے اور وہاں کی تین تین فٹی اینکریں چھ چھ فٹ اچھل کر کہہ رہی ہیں کہ پاکستان چوبیس گھنٹے بھی ہمارا پریشر برداشت نہیں کر سکا اور ہمارے پائلٹ کو رہا کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ آخر اس پائلٹ کے بدلے کھٹمنڈو سے اغوا ہونے والے کرنل حبیب کو رہا کروانے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا گیا؟ ایک طرف بھارتی جیل میں پاکستانی قیدی کو اینٹیں مار مار کر شہید کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہمیں یکطرفہ خیر سگالی سوجھ رہی ہے۔ میں نے صبح ہی ایک میسج پڑھا ہے کہ ”اگر تم کسی شریف آدمی کی عزت کرو گے ‘تو تم اس کا دل جیت لو گے اور اگر کسی کمینے کو عزت دو گے تو وہ سرکش ہو جائے گا اور جہاں تلوار کا موقع ہو‘ وہاں سخاوت کا معاملہ کرنا اتنا ہی مضر ہے‘ جتنا سخاوت کے موقع پر تلوار چلانا‘‘ جنگ اس قابل نہیں ہوتی کہ اسے گلیمرائز کیا جائے۔ جنگ سے حتیٰ الامکان بچنا چاہئے‘ لیکن جنگ سے بچنے کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ جنگ کو ٹالنے کیلئے لیٹ جائے۔ ترلوں پر اتر آئے‘ یکطرفہ خیرسگالی پر آئے۔ عزت‘ انا اور غیرت کو ایک طرف رکھ دے۔
چوہدری کہنے لگا:ملک صاحب! جنگی قیدی کو جینوا کنونشن کے تحت بالآخر چھوڑنا پڑتا ہے‘ اسے تکلیف نہیں پہنچائی جا سکتی‘ اس کا خیال رکھنا لازمی ہے‘ اس کی حفاظت کرنا فرض ہے‘ اسے جنگ زدہ علاقے سے محفوظ علاقے میں منتقل کرنا لازم ہے‘ اب بھلا اس کی اتنی خاطر خدمت کرنے اور اسے روزانہ شاندار چائے پلانے سے بہتر تھا کہ اسے واپس بھیج کر عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کر لیا جائے۔ دنیا کو پیغام دیا جائے کہ ہم امن پسند قوم ہیں‘ ہم جنگ نہیں چاہتے‘ تاہم جوابی کارروائی کر کے یہ بھی واضح کر دیا کہ ہم نے چوڑیاں بھی نہیں پہنچ رکھیں۔ ہم نے ”اپرہینڈ‘‘ ہونے کی صورتحال میں امن کا پیغام دیا ہے۔ملک کہنے لگا:آپ جو بھی کہہ لیں‘ لیکن بھارت ہماری اس خیر سگالی کو کبھی بھی دنیا کے سامنے تسلیم کرنے کو تیار نہ ہو گا اور ہمیں اس خیر سگالی کی خوش فہمی ہی رہے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker