کالملکھارینصرت جاوید

گیس کا بل اورمیری ’’دانشوری‘‘۔۔نصرت جاوید

سچ تو یہ ہے کہ ہفتے کے روز کسی وقت سوئی گیس والے ہمارے گھر اپنا بل پھینک گئے تھے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے کوئی دیکھ نہ پایا۔ اتوار کی صبح اخبارات کا پلندہ اٹھانے کے لئے مرکزی دروازے پر گیا تو اس کا پتہ چلا۔بل گیلا تھا۔اسے پڑھنے کے قابل بنانے کے لئے کرسی کی پشت پر پھیلاکر اخبارات پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ دریں اثناء میری بیوی آئی۔ اس نے بل کو دیکھا تو واقعتا چیخ اُٹھی۔ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ہمارے ہاں تیس ہزار کے اضافے کے ساتھ بل آیا تھا جبکہ گزشتہ بل کی وصولی اور ادائیگی کے بعد سے دونوں دیوانوں کی طرح اپنے ہاں گیس کی کھپت پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے تھے۔میری بیوی کا اصرار ہے کہ بل بنانے والوں سے یقینا کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی اس کا یہ ہی گماں تھا۔ میں بل لے کر زندگی میں پہلی بار اس کی ’’تصحیح‘‘ کروانے گیس والوں کے دفتر گیا۔ وہاں سوکے قریب لوگوں کا ہجوم تھا۔ وہ سب بھی ’’تصحیح‘‘ کے خواہاں تھے جس کی طلب میں خاکسار اس دفتر گیا تھا۔وہاں موجود لوگوں سے گفتگو کے بعد سمجھ آگئی کہ ’’تصحیح‘‘ کے لئے ترددکی ضرورت نہیں۔بل بناتے ہوئے Slabsکو مدنظررکھا جاتا ہے۔ ان Slabsکی تشکیل کے عمل کو سمجھنا میرے اور آپ کے لئے ممکن نہیں Slabsاپنی جگہ لیکن موجود ہیں۔ بل ادا کیجئے یا گیس کے بغیر زندہ رہنا سیکھیں۔ حکومت کا اصرار ہے کہ ’’غریب‘‘ آدمی کو گیس کی قیمتوں میں حال ہی میں ہوئے اضافے سے محفوظ رکھا گیا ہے۔میرا شمار ’’غریب‘‘ لوگوں میں ہرگز نہیں ہوتا۔ گیزر کو وزیر توانائی نے ’’لگژری‘‘ بتایا تھا۔ اس کے استعمال سے نجات کے راستے سوچنا ہوں گے۔ ہیٹر کے بغیر اسلام آباد کی سردی مگر ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ جدید گھروں کو انگیٹھی وغیرہ کے استعمال کے لئے تعمیر ہی نہیں کیا جاتا۔ فلموں میں دکھایا آتش دان جو آنکھوں کو بہت بھاتا تھا وہ بنایا تو اب بھی جاتا ہے مگر اس میں شعلوں کی لپک دکھانے کے لئے گیس ہی پر انحصار ہوتا ہے۔گیس کا استعمال ترک کرنے کے بعد لکڑی یا کوئلہ پر انحصار کرنا ہوگا۔ جنگل ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہوچکے ہیں۔ماحولیات سے متعلق خدشات بھی مجھ ایسے لوگوں کو بے چین کئے رکھتے ہیں۔یقین مانیے اتوار کے کئی گھنٹے میں نے اپنی بیوی کے ساتھ یہ طے کرنے میں صرف کردئیے کہ گیس کی موجودہ قیمتوں کے ساتھ گزارہ مشکل ہے۔ شاید ہمیں بازار سے سلنڈر لاکر اپنی ضرورت کی گیس جلانے کی عادت اپنانا ہوگی۔حکومت کا اصرار ہے کہ ہماری آبادی کا فقط ’’23فی صد‘‘ حکومت کی جانب سے پائپوں کے ذریعے فراہم شدہ گیس صرف کرتا ہے۔یہ ’’23فی صد‘‘ غریب نہیں۔ ’’ٹیکس چور ‘‘بھی ہیں۔ صحافیوں کی اکثریت تو ویسے بھی ’’لفافہ خور‘‘ ٹھہرائی جاچکی ہے۔ ’’حرام‘‘ کھانے والے اپنے ’’پرتعیش‘‘ اندازِ زندگی کی واجب قیمت ادا کریں۔ ’’واجب‘‘ ٹھہرائی قیمت کو ادا کرنا مگر ممکن نہیں رہا۔خود کو ’’23فی صد‘‘ والی بریکٹ سے باہر نکالنا ضروری ہوگیا ہے۔پیر کی صبح یہ کالم لکھنے سے قبل ٹویٹر وغیرہ دیکھا تو احساس ہوا کہ شاید صرف میرے ہاں ہی گیس کا غلط بل آگیا۔وگرنہ سوشل میڈیا پہ ایک بار پھر ناقابلِ برداشت بلوں کے بارے میں گزشتہ ماہ کی طرح واویلا مچانظر آتا۔ ٹویٹر پر اس ضمن میں طاری خاموشی کا نوٹس لیتے ہوئے خود کو اس امر پر قائل کرلیا ہے کہ گیس کے دفتر جاکر اپنے ہاں آئے بل کی ’’تصحیح‘‘ کروانا ہوگی۔ اگرچہ مجھے یقین ہے کہ Slabsکا ذکر کرتے ہوئے مجھے اطمینان دلانے کی کوشش ہوگی۔ سوئی گیس کے دفتر مگر جانا ہوگا۔بجلی کا بل ابھی مگر آنا ہے۔ شاید اس کی ’’تصحیح‘‘ بھی لازمی تصور کروں۔ تلخ حقیقت مگر یہ ہے کہ ’’23 فی صد‘‘ کی بریکٹ میں آئے لوگ اس سال کے آغاز سے اپنی باقاعدہ اور اکثر صورتوں میں تن خواہوں کی صورت آئی آمدنی کی وجہ سے ’’نسبتاََ خوش حال‘‘ متوسط طبقے کی جس سطح پربراجمان تھے وہاں سے نیچے کو پھسلنا شروع ہوگئے ہیں۔نسبتاََ خوش حال متوسط طبقے سے پریشان حال متوسط طبقے کے مقام تک پھسلتے ہوئے یہ حقیقت بھی نگاہ میں رکھنا ہوگی کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے برادر ممالک کی جانب سے فراہم ہوئی مدد کے باوجود حکومتِ پاکستان کو IMFسے Bailout Packageکی ضرورت ہے۔
IMFکا اصرار ہے کہ پاکستان اپنے مالیاتی بندوبست کو ’’صحت مند‘‘ بنانے کے لئے بجلی کے صارفین سے کم از کم وہ رقم تو وصول کرے جو بجلی پیدا کرنے والوں کو فی یونٹ ادا کی جاتی ہے۔اس عمل کو Cost Recoveryکہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح میرے اور آپ جیسے کم علم لوگوں کے لئے اتنی ہی مبہم ہے جیسے گیس دینے والوں کے Slabsہیں۔ ہم ان اصطلاحوں کو سمجھ نہیں پاتے۔ بل وصول کرنے کے بعد کئی روز تک پریشان رہتے ہیں۔لطف یہ بھی ہے کہ بجائے اس پریشانی کے ذکر کے ہماری حکمران اشرافیہ روٹی نہیں تو کیک کھاؤوالا مشورہ دے رہی ہے۔دو روز سے سوشل میڈیا پر خواہش یہ چھائی ہوئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو امن کا نوبل انعام ملے۔ وزیر اعظم صاحب نے اگرچہ کمال عجز کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹویٹ لکھا ہے کہ وہ اس انعام کے حقدار نہیں۔ یہ انعام اس شخص کو ملنا چا ہیے جو کشمیر کا مسئلہ حل کرے۔پلوامہ واقعہ کے بعد سے میں ہر روز پاک-بھارت کشیدگی کے بارے میں یہ کالم لکھ رہا تھا۔ آج بھی اسی موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا۔ سوئی گیس کے بل نے مگر پریشان کردیا۔ اپنے Statusکو برقرار رکھنے کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔پاک-بھارت کشیدگی کے بارے میں دانشوری بگھارنے کی خواہش سے محروم ہوا محسوس کررہا ہوں۔ شاید آج کا دن گزارنے کے بعد کچھ افاقہ نصیب ہواورمیں دوبارہ ’’دانشوری‘‘ بگھارنے کی لگن میں مصروف ہوجاؤں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker