خالد مسعود خانکالملکھاری

درخواست نما کالم یا کالم نما درخواست: کٹہرا/خالد مسعود خان

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے ایمانی کوئی خاص مسئلہ نہیں؛ البتہ ایمانداری خاصی مشکل چیز ہے۔ اسی لئے مملکت خداداد میں بے ایمان موج کرتا ہے اور ایماندار کیلئے زندگی تنگی اور پریشانی کا دوسرا نام ہے۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کا ملتان کا ایس ای یعنی سپرنٹنڈنگ انجینئر بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ اس پر فی الوقت مشکل نہیں مشکلات آن پڑی ہیں۔ انگریزی محاورہ ہے کہ When Sorrows Come, They Come Not Single Spies, But in Battalions. یعنی مصیبت جب بھی آتی ہے تنہا نہیں آتی، جتھوں کی صورت میں آتی ہے۔ سو میپکو میں یہی حال ہے۔
میپکو کے کسی بڑے افسر کو اطلاع ملی کہ سرفراز کھور‘ جو نہ صرف یہ کہ یونین کونسل کا چیئرمین ہے بلکہ وائس چیئرمین ضلع کونسل ملتان بھی ہے‘ کے ڈیرے پر بجلی چوری ہو رہی ہے۔ ایک چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی گئی اور ڈیرے پر چھاپہ مارا گیا۔ اطلاع درست تھی۔ بجلی چوری ہو رہی تھی اور وہاں لگا میٹر سرے سے بوگس تھا۔ میٹر اتار کر ایم این ٹی کو بھجوایا گیا۔ وہاں سے رپورٹ آئی کہ میٹر بوگس اور Tempered ہے اور اس میں گڑبڑ کی گئی ہے۔ ملتان ضلع میں چار عدد وائس چیئرمین ضلع کونسل ہیں۔ یہ چاروں وائس چیئرمین حضرات کسی خاص میرٹ پر منتخب نہیں ہوئے بلکہ رشتہ داری کے میرٹ پر یا گروپ بندی کے میرٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ یہ لفظ گروپ بندی بھی صرف اور صرف ایک شخص کیلئے ذریعہ میرٹ بنا تھا‘ وگرنہ دیگر سارے وائس چیئرمین رشتہ داری کی بنیاد پر وائس چیئرمینی کے عہدے پر متمکن ہوئے ہیں بلکہ صرف یہی کیا؟ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں بھی یہی ہوا ہے۔
ملتان ضلع کا چیئرمین دیوان محمد عباس بخاری مسلم لیگ ن کے نااہل ہونے والے ایم این اے دیوان عاشق بخاری کا بیٹا ہے۔ وائس چیئرمین رانا شہزاد احمد نون شجاعباد سے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے رانا اعجاز نون کا بھائی ہے۔ دوسرا وائس چیئرمین سید واجد علی شاہ شجاعباد سے ہی مسلم لیگ ن کے ایم این اے سید جاوید علی شاہ کا سگا بھائی ہے اور تیسرا وائس چیئرمین ذوالفقار علی ڈوگر مسلم لیگ ن کے ایم این اے عبدالغفار ڈوگر کا سگا بھائی ہے۔ چوتھے وائس چیئرمین کیلئے حاجی سکندر حیات بوسن نے اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو نامزد کرنے کے بجائے اپنے حلیف چیئرمین یونین کونسل کو وائس چیئرمین بنوا دیا۔ اس سے سکندر بوسن کی اس صوبائی حلقے میں پوزیشن بہتر ہوگئی جہاں سے شہزاد مقبول بھٹہ ایم پی اے بنے اور اس سے سکندر بوسن کے تعلقات انتہائی حد تک خراب ہیں۔ یہ گیم چل کر سکندر بوسن نے مستقبل میں شہزاد مقبول بھٹہ کا ”مکو ٹھپنے‘‘ کی پیش بندی کر لی اور اخلاقی طور پر یہ فتح بھی حاصل کر لی کہ میں نے اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو ضلع کونسل کا وائس چیئرمین بنوانے کے بجائے اپنے سیاسی ورکر کو وائس چیئرمین ضلع کونسل بنوا دیا ہے۔
لگے ہاتھوں یہ بتاتا چلوں کہ ملتان شہر میں بھی یہی کچھ ہوا۔ ملتان شہر کا میئر بھی نااہل ہونے والے ایم پی اے اور سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات عبدالوحید آرائیں کا چھوٹا بھائی نویدالحق آرائیں تھا۔ یعنی ملتان ضلع اور شہر کی نمائندگی کیلئے نااہل ہونے والے ارکان اسمبلی کے گھر سے لوگ منتخب کئے گئے۔ ملتان شہر میں دو ڈپٹی میئر منتخب کئے گئے۔ ایک ڈپٹی میئر ملتان شہر سے مسلم لیگ ن کے منتخب ہونے والے ایم پی اے اور سابق صوبائی وزیر برائے اوقاف احسان الدین قریشی کا بیٹا منور احسان قریشی تھا‘ اور دوسرا ڈپٹی میئر ملتان شہر سے 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی طرف سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن ہارنے والے عامر سعید انصاری کا والد سعید احمد انصاری تھا۔ انصاریوں کو ہارنے کے باوجود اس لئے اکاموڈیٹ کیا گیا کہ شہر میں ان کی بڑی برادری ہے۔ اس برادری کو آئندہ الیکشن کیلئے محفوظ کر لیا گیا۔
بات کہیں سے کہیں چلی گئی۔ سرفراز کھور کی بجلی چوری پر جب پرچہ کروایا گیا تو سکندر بوسن کے بھائی شوکت بوسن نے اس پر خاصا شور شرابا کیا اور کہا کہ دوبارہ چیکنگ کی جائے۔ انکوائری ٹیم بنائی گئی تو پتا چلا کہ دیگر دو کنکشنوں پر عرصے سے غیر قانونی رعایتیں لی جا رہی ہیں۔ دراصل عرصہ دراز سے بجلی چوری میں ملوث سیاستدانوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ کوئی ان کو چیک کر سکتا ہے۔ خیر سرفراز کھور پر بجلی چوری کا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔ اب ایس ای کی شامت آگئی اور وزارت توانائی کو پریشرائز کیا گیا کہ ایس ای کو تبدیل کر دیا جائے۔ اسی دوران ایس ای کیخلاف ایک اور شکایت چلی گئی۔
یہ شکایت کرنے والے آبی وسائل کے وفاقی وزیر سید جاوید علی شاہ تھے۔ ان کا گلہ یہ تھا کہ ان کے علاقے میں منظور ہونے والے قریب دو سو نئے بجلی کے کنکشوں کے بارے میں ایس ای کو کہا گیا کہ ان لوگوں کے میٹر شاہ صاحبان کے ڈیرے پر پہنچا دیئے جائیں تاکہ وہ اپنی ”رعایا‘‘ میں یہ میٹر ڈیرے پر تقسیم کریں تاکہ عوام کو پتا چلے کہ ان کے یہ کنکشن جاوید علی شاہ نے منظور کروائے ہیں اور ان کی بجلی بھی اسی نے چالو کروائی ہے۔ ایس ای نے بمطابق ضابطہ یہ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر جاوید علی شاہ کے کزن مجاہد علی شاہ میپکو ہیڈکوارٹر پر چڑھ دوڑے اور دفتر میں آکر نہ صرف خاصا ہنگامہ کیا بلکہ افسران کی بے عزتی بھی کی۔ یہ سب کچھ تو ہوگیا لیکن ایس ای اپنے موقف پر اڑا رہا۔ پہلے سرفراز کھور پر بجلی چوری کا پرچہ اور پھر دو سو میٹر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کے ڈیرے پر پہنچانے سے انکار۔ یہ دو جرائم ظاہر ہے زورآوروں کیلئے تو ناقابل برداشت تھے، سو دونوں وفاقی وزیروں یعنی حاجی سکندر حیات خان بوسن اور سید جاوید علی شاہ نے وزارت توانائی پر چڑھائی کر دی اور گستاخ ایس ای کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ جڑ دیا۔ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے ہی وزارت توانائی نے ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ”ٹرانسفر پالیسی‘‘ منظور کروائی تھی‘ جس کے مطابق دو سال تک کسی انتظامی معاملے کے علاوہ کسی افسر کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اب انتظامی معاملے کے بارے میں کیا لکھا جاتا؟ کیا یہ کہ ایس ای نے وفاقی وزیرِ آبی وسائل کے ڈیرے پر دو سو میٹر نہیں پہنچائے؟ یا یہ کہ ایس ای نے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے دست راست وائس چیئرمین ضلع کونسل سرفراز کھور کی بجلی چوری پکڑی ہے؟ ظاہر ہے‘ یہ تو نہیں لکھا جا سکتا تھا، اب کیا کیا جاتا؟ اسے کہیں اور ٹرانسفر کر تو دیا جاتا مگر یہ میپکو کی ٹرانسفر پالیسی کی صریح خلاف ورزی ہوتی اور عدالت جانے کی صورت میں ایس ای کو فوراً حکم امتناعی مل جاتا۔ سو معاملہ ابھی تک کسی کروٹ نہیں بیٹھا۔ دونوں وزرا سرگرم ہیں‘ ایس ای کو ٹرانسفر کروانے کے درپے ہیں اور کچھ پتا نہیں کہ کب وزارتِ توانائی ان کے آگے جھک جائے۔
اوپر سے ایک اور پھڈا پڑ گیا۔ ملتان شہر سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر کے ڈیرے پر چلنے والا میٹر بھی بند پایا گیا جبکہ بجلی چل رہی تھی۔ میٹر اتار لیا گیا۔ اسے ایم این ٹی کے پاس چیکنگ کیلئے بھیجا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ میٹر بارہا ٹیمپر کیا گیا ہے اور اس برے طریقے سے اس کا ڈیٹا دھو دیا گیا ہے کہ اس کو دوبارہ RETRIEVE کرنا ان کیلئے ممکن نہیں۔ البتہ اس بجلی کے میٹر کا مینوفیکچرر اس کا ڈیٹا حاصل کر سکتا ہے۔ میٹر کو اس کے مینوفیکچرر کے پاس بھیج دیا گیا۔ اسی اثنا میں شنید ہے کہ میپکو کے افسران پر زورآوروں کی طرف سے دباؤڈالا گیا کہ کیس ختم کر دیں۔ اللہ جانے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا کہ میٹر بنانے والوں کی طرف سے پہلے ایک غیر تصدیق شدہ پیغام (دستخطوں اور مہر کے بغیر) آیا کہ میٹر درجنوں بار ”ری سیٹ‘‘ کیا گیا ہے۔ پھر چند دن بعد ان کا ایک تصدیق شدہ خط آگیا۔ اس خط میں کیا ہے؟ ابھی کچھ پتا نہیں مگر شنید ہے کہ مینوفیکچرر کے خط کی بنیاد پر معاملات گول بھی ہو سکتے ہیں۔ سمجھدار لوگ ثبوت جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ عامر ڈوگر نے غالباً یہی کیا ہے۔ ایم این ٹی کی رپورٹ گئی بھاڑ میں۔ اب عامر ڈوگر این اے 155 (پرانا این اے 149) سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ مار لے گا۔ عون عباس بپی کے لاکھوں روپے والے پینافلیکس بیکار جائیں گے۔
میں نے یہ کالم صرف اس لئے لکھا ہے کہ اب چیف جسٹس صاحب نے سوموٹو لینا بند کر دیا ہے تاہم انہوں نے درخواست پر ایکشن کا وعدہ کیا ہے۔ اگر ایس ای ملتان کا تبادلہ قبل از وقت کر دیا جائے تو اس کالم کو درخواست سمجھا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker