ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

یومِ مئی: انقلاب کا تجدیدِ عہد: جدوجہد / ڈاکٹرلال خان

اس کرہ ارض پر حصول زر کے لیے ایک حشر بپا ہے۔ ایک طبقہ دولت کے انبار اور اثاثوں میں لا متناہی اضافے کی اندھی دوڑ میں ہر قدر، ہر انسانی احساس اور معاشرتی زندگی کی تہذیب کو روندتا چلا جا رہا ہے۔ اس ہوس کی وحشت میں حکمران طبقہ نہ صرف آپس میں برسر پیکار ہے بلکہ اپنے مختلف دھڑوں کی لالچ اور لوٹ مار کے تصادم کے باوجود محنت کش طبقات کی بھاری اکثریت کے خلاف اس طبقاتی نظام کو مسلط رکھنے کے لیے آپس میں یکجا بھی ہیں۔
محنت کش طبقہ عام حالات میں حکمرانوں کی ثقافت، سماجی اقدار، اخلاقیات، ریت رواجوں، تعصبات اور توہمات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔ یہ طبقہ ریاستی اور معاشرتی جبر میں دبا ہوا بظاہر اس مخصوص کیفیت میں نحیف و لاچار دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کی دانش اور ذرائع ابلاغ اس جبر کے تسلط کو عمومی سماجی نفسیات پر حاوی رکھنے کے لیے مسلسل ایک یلغار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج دنیا کا کوئی ملک کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں یہ استحصال اور ظلم کسی نہ کسی درجے پر موجود نہ ہو۔ خوشحالی اور بہتری اب ترقی یافتہ ممالک میں قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ہے۔ سرمایہ داری کے اس تاریخی اور عالمی بحران کی شدت سے ترقی پذیر ممالک جو پہلے سے ہی بدحال تھے مزید بربادیوں اور تباہ کاریوں کے بھنور میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔ اس نظام کی فوجی آمریتوں نے ان کے جسموں پر زخم لگائے تھے‘ لیکن اس نظام کی جمہوریتوں نے ان کی روح‘ احساس اور نفسیات کو غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور محرومی کے تابڑ توڑ حملوں سے بری طرح مجروح اور گھائل کر دیا ہے۔ مہنگائی کی انتہاؤں میں محنت کش عوام روٹی، علاج، تعلیم اور دوسری ضروریات سے تیزی سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ مہنگائی میں ایک ایک روپے کا اضافہ محنت کشوں کی روح اور احساس پر ایک کاری ضرب لگاتا چلا جاتا ہے۔ حکمرانوں کا آزاد میڈیا اتنا بڑا آمر اور ظالم بن چکا ہے کہ کسی اصل ایشو اور کسی بھی سچ پر بولنا اس کے اپنے مروجہ اقدار میں ایک جرم بن چکا ہے۔ 90 فیصد عوام کی آزادیٔ اظہار شاید کبھی بھی اتنی سلب نہیں تھی۔ آج کی سیاست میں محنت کشوں کی نجات ‘انقلابی سوشلزم‘ کا لفظ تک بولنا جرم بن چکا ہے۔
یکم مئی 1886ء کو امریکہ کے شہر شکاگو میں سفید جھنڈے اٹھائے ہوئے مزدوروں کے جلوس پر امریکی سرمایہ دارانہ ریاست کے اہلکاروں نے جب گولی چلائی تھی تو ان محنت کشوں کے لہو سے سفید جھنڈوں کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ یہ سرخ پرچم آج بھی محنت کش طبقے کی جدوجہد کا نشان ہے۔ ان محنت کشوں کا جرم یہ تھا کہ وہ کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس جلوس پر ریاستی دہشتگردی‘ مزدوروں پر سرمایہ داری کا وہ پہلا یا آخری ستم نہیں تھا لیکن یہ واقعہ مزدور تحریک کی تاریخ میں ایک حوالے کے طور پر درج ہو گیا۔ یکم مئی 1886ء کو امریکہ میں مزدور مارے گئے تھے‘ لیکن ان کا لہو تاریخ میں وہ سرخ رنگ بھر گیا تھا جس کو مکافات عمل کے قانون کے تحت ابھرنا پڑا اور دنیا کے محنت کشوں کے لیے ان کی جدوجہد اور قربانی طبقاتی یکجہتی کا پیام اور طبقاتی کشمکش کا محور بن گئی تھی۔ اس واقعے کی مناسبت سے ہر سال یکم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ دنیا بھر کے مزدوروں کو یکجا کرنے والی تنظیم (دوسری انٹرنیشنل) نے کیا تھا۔ 1889ء میں پیرس میں ہونے والے دوسری انٹرنیشنل کے تاسیسی اجلاس میں یہ تجویز کارل مارکس کے عمر بھر کے ساتھی اور مارکسزم کے بانی فریڈرک اینگلز نے پیش کی تھی۔ 1889ء کے بعد سے ہر سال یہ دن عالمی سطح پر مزدوروں کی یکجہتی اور جدوجہد کی علامت کے طور منایا جاتا ہے۔ 132 سال بعد بھی یوم مئی دنیا کا واحد تہوار ہے جسے دنیا بھر کے مزدور سرخ پرچم تھامے‘ تمام سرحدوں، مذہبوں، قوموں، نسلوں، براعظموں اور ہر دوسری جغرافیائی، سماجی، لسانی اور ثقافتی تقسیم سے بالاتر ہو کر دنیا کے گوشے گوشے میں ایک نعرے ”دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!‘‘ کے تحت یکجا ہو کر مناتے ہیں۔
1886ء کے شکاگو کے شہیدوں کی جدوجہد 8 گھنٹے یومیہ اوقات کار کے حصول کے لئے تھی۔ اس کے بعد آنے والی محنت کش طبقے کی نسلوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے اس سے کہیں زیادہ بڑے مطالبات منوائے اور بہت سی مراعات حاصل کر لیں۔ لیکن جبر، اذیت اور استحصال ختم نہیں ہوا۔ جب بھی نیچے سے انقلاب اٹھا ہے حکمران اوپر سے اصلاحات کرکے اس انقلابی تحریک کو اصلاح پسندی کے راستوں پر زائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں ریاستی جبر کے انتہائی مشکل حالات میں بھی محنت کشوں نے بہت سی تحریکیں چلائیں لیکن قیادت کے ہاتھوں بار بار دھوکے کھائے۔ یہاں کے محنت کشوں نے 69-1968ء میں ایک عظیم انقلابی تحریک برپا کرکے اپنی جرات، طاقت اور صلاحیت کا اظہار کیا تھا۔ ان میں یہ اہلیت آج بھی موجود ہے۔ اس سال کا یوم مئی اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستانی محنت کشوں کی اُس بغاوت کو بھی 50 سال ہونے کو ہیں۔
آج ہر ملک میں نجکاری، ڈاؤن سائزنگ، ڈی ریگولیشن، ری سٹرکچرنگ اور ٹھیکیداری نظام کو نافذ کرنے کی پالیسیاں انتہائی بے دردی سے لاگو کی جا رہی ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ غربت، بے روزگاری، بیماری، ناخواندگی، سماجی و بنیادی صنعتی ڈھانچوں کی بربادی اور زندگی کی بدحالی کی شکل میں نکل رہا ہے۔ سرمایہ داری میں کسی اصلاح یا بہتری کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے معیشت، سماج اور ریاست کے ڈھانچوں میں بنیادی تبدیلی ہی واحد متبادل ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں نہ صرف ”ترقی پذیر‘‘ بلکہ ”ترقی یافتہ‘‘ ممالک میں بھی بربریت کے عناصر سر اٹھا رہے ہیں۔ ریاستیں بکھر رہی ہیں۔ انسانی تاریخ میں غربت اور امارت کی وسیع ترین خلیج آج موجود ہے۔ غریب ترین ممالک میں دنیا کے امیر ترین لوگ موجود ہیں۔ کم سے کم ہاتھوں میں دولت کا زیادہ سے زیادہ ارتکاز ہو رہا ہے۔ صرف 8 امیر ترین افراد کے پاس ساڑھے تین ارب انسانوں کی کل جمع پونجی سے زائد دولت موجود ہے۔ اس لیے آج کے یوم مئی کا پیغام مروجہ نظام معیشت کو اکھاڑ کر مزدوروں کے نظام معیشت ‘سوشلزم‘ کا قیام ہے۔
آج جہاں موجودہ معروض کا وحشتناک جبر مظلوموں کی ہر آواز ہر طبقاتی ابھار اورہر بغاوت کو درندگی سے کچل رہا ہے وہاںدنیا بھر میں ہمیں ابھرتی ہوئی عوامی سیاسی بغاوتوں کے پہلے قدموں کی چاپ میڈیا کی اس مجرمانہ خاموشی میں بھی سنائی دے رہی ہے۔کیا ہوا جو محنت کشوں کے ابھار بکھرے ہوئے ہیں؟ لیکن ہو تو رہے ہیں‘ کیا ہوا جو روایتی لیڈر سرمائے کے بازار میں بک گئے ہیں۔ لیکن ایک نئی نسل اس سفاکانہ نظام اور استحصال کے خلاف تلملا رہی ہے۔ پاکستان میں اساتذہ سے لے کر لیڈی ہیلتھ ورکرز تک اور ٹیلی کمیونیکیشنز سے لے کر ریلوے تک شاید ہی کوئی شعبہ ہو گا جہاں ایک تسلسل کے ساتھ اس ذلت اور بربادی کے خلاف محدود سہی مگر تحریکیں ابھر نہ رہی ہوں۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان مظلوم عوام کی تحریک کے تمام راستے ریاست‘ سیاست اور صحافت نے مکمل طور پر بند کر دیئے ہیں۔ لیکن اس تحریک کو حکمران کب تک روک سکیں گے۔ مختلف ندیوں اور جھرنوں کا پانی کسی بڑے بند میں جمع ہوتا رہتا ہے لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے جب ان میں ابھرنے والی طغیانی بڑے سے بڑے بند کو توڑ کر ایک سیلاب بن جاتی ہے۔ لیکن آج جس نہج پر یہ نظام پہنچ گیا ہے اس میں مزدوروں کو اوقاتِ کار میں کمی، اجرتوں میں اضافہ، روزگار کی فراہمی، صحت اور علاج کی سہولیات، مہنگائی کے عذاب میں کمی غرضیکہ کوئی بھی رعایت دینے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ماضی کی طرح اب اصلاحات کے ذریعے انقلاب کو روکنے کا ہتھکنڈا متروک اور بیکار ہو چکا ہے۔ فرقہ وارانہ، لسانی، نسلی اور دوسرے تعصبات کو بھی حکمران میڈیا ایک حد تک ہی استعمال کر سکتا ہے۔ جمہوریت اور آمریت کے تضاد کا شور معیشت کی زبوں حالی اور عوام کی برباد حالتوں کے خلاف آواز کو زیادہ دیر خاموش نہیں کر سکتا۔ نفرت اور بغاوت کا ایک لاوا سماج کی کوکھ میں شدت سے بھڑک رہا ہے۔ اس سال یوم مئی اس کا بڑا اظہار ہو گا۔ اب محنت کشوں کو اس طبقاتی جنگ کا آخری فیصلہ کن معرکہ لڑنا ہو گا۔ یہی یوم مئی کا پیغام ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker