خالد مسعود خانکالملکھاری

خواب خرگوش۔۔خالد مسعود خان

انسان کو بڑا بول زیب نہیں دیتا۔ بھلا انسان کی اوقات ہی کیا ہے؟ دعویٰ ہم جیسے خانی اور محتاج لوگوں کا نہ تو مرتبہ ہے اور نہ ہی مقام‘ مگر کیا کیا جائے۔ ادھر تھوڑی سی ہوا بھری گئی اور بندہ پاجامے سے باہر۔ شجر کاری مہم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے کہا (یہ تب کا واقعہ ہے جب ملک میں بہت زیادہ برفباری اور بارشوں کے باعث ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ بڑھ گیا تھا اور فصلوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے)” آپ دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں اتنی زیادہ بارشیں اور برفباری ہوئی ہے‘ اس سے پہلے پاکستان میں کبھی نہیں ہوئیں۔ اس کا کریڈٹ بھی میں اپنے آپ کو نہیں دے رہی (یہ کہہ کر موصوفہ بڑے معنی خیز انداز میں پہلے مسکرائیں اور پھر فخریہ انداز میں قہقہہ لگا کر ہنسیں) مجھے پتا ہے کہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے‘ لیکن میں کریڈٹ اپنے آپ کو نہیں دے رہی‘ پرائم منسٹر عمران خان کو دے رہی ہوں‘‘۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ بارشیں رحمت خداوندی سے عذاب الٰہی میں تبدیل ہو گئیں۔ بارشوں اور ژالہ باری نے گندم کی فصل کو تو تقریباً برباد کے رکھ دیا۔ بارشوں کے بعد زرتاج گل دوبارہ اس موضوع پر دعوے کرتی ہوئی کہیں نظر نہ آئیں‘ نہ انہوں نے اس بربادی کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالا اور نہ ہی اس کا سہرا پرائم منسٹر عمران خان کے سر باندھا۔
پاکستان میں اندازاً دو کروڑ تیس پینتیس لاکھ ایکڑ زمین پر گندم کاشت ہوتی ہے اور پاکستان میں گندم کی پیداوار تقریباً پچیس ملین ٹن سے زیادہ ہوتی ہے۔ گندم پاکستان کی سب سے بڑی فصل بھی ہے اور پاکستانیوں کی بنیادی خوراک بھی۔ اس مرتبہ جب بارشوں کا دوسرا دور شروع ہوا تو وہ ایسا وقت تھا جب گندم کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہو چکی تھی اور کہیں اس مرحلہ کے قریب تھی۔بارشوں اور ژالہ باری سے گندم کی کھڑی فصل زیادہ تر گر گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ؛صرف جنوبی پنجاب میں تین لاکھ باسٹھ ہزار ایکڑ پر کھڑی فصل کو کہیں مکمل اور کہیں جزوی نقصان پہنچا۔ 25فیصد اراضی پر گندم اور مکئی کی تیار فصل کو خاص طور پر ملتان‘ بہاولپور اور ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں سب سے زیادہ نقصان ہو۔ میرا خیال نہیں‘ بلکہ یقین ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہمیں تنبیہ تھی۔ جب ہم قدرت کی مہربانیوں کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالتے ہیںتو قادر مطلق جو ہمہ وقت رحمان اور رحیم ہے کبھی کبھار ہمیں اپنا دوسرا رخ بھی دکھا دیتا ہے۔ایک تو گندم کی فصل کو ویسے ہی بہت نقصان پہنچا ہے ‘اوپر سے دیگر عوامل بھی ایسے ہیں جن کے باعث گندم کی بطور ہماری بنیادی خوراک‘ طلب کے مقابلے میں رسد کم ہو رہی ہے۔ ملک میں اس وقت دو اور بڑے سیکٹر اپنا حجم بڑھا رہے ہیں؛ ایک پولٹری اوردوسرا لائیو سٹاک ۔ پولٹری سیکٹر میں ہونے والے پھیلاؤ اور بڑھوتری کے طفیل پولٹری فیڈ کی طلب میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے والے خام اجزا میں ایک بہت بڑا حصہ مکئی کا ہوتا تھا‘ لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں مکئی کی قیمت میں ہونے والے بے تحاشا اضافے نے پولٹری فیڈ میں مکئی کی جگہ متبادل کے طور پر گندم کے استعمال کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ صرف ایک دو سال میں مکئی کی قیمت 800روپے فی من سے بڑھ کر ساڑھے تیرہ سو روپے فی من ہو چکی ہے‘ جبکہ گندم ابھی بھی گیارہ سو روپے سے لیکر بارہ سو روپے فی من دستیاب ہے اور نئی فصل کے آتے ہی پولٹری فیڈز ملز والوں نے ڈیڑھ سو سے اڑھائی سو روپے من سستی ملنے والی گندم کو اپنے تیار مال کیلئے بطور خام مال ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ زیادہ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ مکئی کی آنے والی فصل کا ایڈوانس ریٹ پندرہ سو روپے فی من مارکیٹ میں چل رہا ہے اور اس پر ایڈوانس سودے ہو رہے ہیں‘ یعنی مکئی کی آئندہ فصل مزید دو سو روپے کے اضافے کے ساتھ مارکیٹ میں آئے گی اور مکئی کی قیمت میں یہ مزید اضافہ پولٹری کی صنعت میں گندم کے استعمال کو مزید بڑھا دے گا۔
دوسری طرف عالم یہ ہے کہ گندم کی امدادی قیمت اتنی کم ہے (میں یہ بات عالمی منڈی میں گندم کی قیمت کے حوالے سے نہیں کہہ رہا ‘بلکہ گندم کی فصل میں استعمال ہونے والے زرعی اخراجات کے حوالے سے حاصل ہونے والی ملکی گندم کی قیمت فروخت کے حوالے سے کہہ رہا ہوں) کہ اس فصل کی کاشت میں منافع کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے۔ ربیع میں کاشت ہونے والی پاکستان کی سب سے بڑی فصل کو کسان اس لیے کاشت کرتا ہے کہ وہ اس سے اپنے سارے سال کے ”دانے‘‘ حاصل کر سکے‘ لیکن اگر فصل کی پیداوار تھوڑی بھی کم ہو جائے تو خرچہ پورا نہیں ہوتا ۔ بنیادی طور پرگندم لگانے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ خریف اور ربیع کی فصلات کے کاشتہ پیٹرن میں جنوبی پنجاب میں خاص طور پر کپاس کے بعد گندم کی کاشت کا وقت بھی ہوتا ہے اور روایت بھی‘ لیکن اب آہستہ آہستہ اس علاقے کے کاشتکار بھی متبادل فصلات کی طرف جا رہے ہیں‘ جن میں فی الوقت سرفہرست مکئی ہے۔ مکئی کی کاشت کا رقبہ بڑھنے سے گندم براہ راست متاثر ہو رہی ہے کہ گندم اور مکئی دونوں ربیع کی فصلیں ہیں اور ایک ہی وقت میں کاشت ہوتی ہیں۔ ایک فصل کے زیر کاشت رقبہ بڑھنے کا منفی اثر دوسری فصل پر پڑتا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں مکئی کی فصل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی دو تین وجوہ ہیں؛پہلی یہ کہ پاکستان میںدرآمد ہونے والے مکئی کی ہائبرڈ اقسام کے بیجوں کے باعث مکئی کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکاہے اور کاشتکار کو گندم کے مقابلے میں مکئی کی نا صرف فصل زیادہ حاصل ہو رہی ہے‘ بلکہ اس کی زیادہ قیمت فروخت سے اس کی توجہ معمولی منافع دینے والی فصل گندم کی بجائے مکئی کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔ گندم کی فصل آنے پر روایتی طور پر صرف پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ‘ سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور پاسکو ہی گورنمنٹ کی طے کردہ امدادی قیمت پر خریداری کرتے ہیں اور یہ خریداری گندم کی کل پیداوار کا بہت ہی چھوٹا حصہ ہوتا ہے‘ باقی گندم کو بیوپاری سستے داموں خرید لیتا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کاشتکار کھلے کھیت کھلیان میں گندم کو زیادہ دنوں تک رکھ نہیں سکتا اور اسے مجبوراً اس فصل کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے اور اس کی اسی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔ مکئی کی فصل کے بھی دو بہت بڑے استعمال ہیں۔ اس سے آئل حاصل ہوتا ہے اور اس کے بعد بچ جانے والی کھلی (Meal) سے کسٹرڈ پاؤڈر‘ آئس کریم پاؤڈر‘ کارن فلور اور سب سے زیادہ سٹارچ حاصل ہوتا ہے ‘جو ٹیکسٹائل انڈسٹری میں دھاگے سے ”تانا‘‘ بنانے کے عمل میں سائزنگ کیلئے استعمال ہوتا ہے‘ لیکن اس کھلی کا سب سے زیادہ استعمال پولٹری فیڈ میں ہوتا ہے۔ یہ تو فصل کے پکنے کے بعد کے استعمال ہیں‘ لیکن حالیہ برسوں میں مکئی کا ایک اور بہت بڑا استعمال سامنے آیا ہے اور وہ Silage ہے( سائیلج) یعنی دباؤ میں تیار ہو کر سارا سال استعمال ہونے والا مویشیوں کا چارہ‘ اس لیے ربیع کی فصل کے طور پر مکئی آہستہ آہستہ گندم کی جگہ لے رہی ہے اور اس کے دور رس نتائج ٹھیک نظر نہیں آ رہے‘ کیونکہ ہماری بنیادی خوراک گندم ہے اور اس کی ملکی ضرورت سے کم پیداوار کا نتیجہ یا توقحط ہے یا پھر گندم کی درآمد۔
لیکن جو چیز سب سے خوفناک ہے وہ ملکی زمین کی خراب تر ہوتی ہوئی صورتحال ہے اور پاکستان کی قابل کاشت زمین بالخصوص پنجاب اورسندھ کی زمین میں بڑھتا ہوا پی ایچ لیول اور کم ہوتا ہوا آرگینک میٹر Organic mater ہے۔ پی ایچ لیول چھ سے سات فیصد ہونا چاہیے‘ مگر ہماری زمین میں یہ لیول نو فیصد ہو چکا‘ جبکہ آرگینک میٹر کی مقدار چار فیصد ہونی چاہیے‘ مگر یہ کم ہوتے ہوئے اب محض اعشاریہ تین فیصد تک آ چکا۔ اس کا حل گوبر کی کھاد اور جنتر وغیرہ کی فصل کو روٹاویٹ کر کے زمین میں ملانا ہے ‘مگر اس کیلئے ایک فصل کی قربانی دینی پڑتی ہے‘ جس کیلئے ہمارا کاشتکار تیار نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ زمین میں پانی کو برقرار رکھنے کی استعدادنہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ امریکہ کی بارہ تیرہ ریاستوں میں مکئی کی فصل بغیر پانی دیے تیار ہوتی ہے اور صرف بارش پر انحصار کرتی ہے‘ کیونکہ وہاں کی زمین اس پانی کو دیر تک نمی کی صورت محفوظ رکھتی ہے‘ جبکہ ہمارے ہاں ہر ہفتے دو بار تک پانی دینا پڑ رہا ہے۔ سرکار‘ محکمہ زراعت اور خود کاشتکار‘ سب خواب خرگوش میں مبتلا ہیں۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے بھلا مسئلے کب حل ہوتے ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker