ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

دلوں میں زندہ ہیں۔۔ظہوردھریجہ

مئی کا مہینہ تیزی کے ساتھ اختتام کی طرف رواں دواں ہے۔ آنے والا مہینہ جون کا مہینہ ہے اس مہینے بجٹ پیش ہوتا ہے مگر بجٹ سے پہلے غریبوں کی چیخیں مئی کے مہینے میں نکلوا دی ہیں۔ ایک طرف رمضان شریف کا مقدس مہینہ ہے، روزے چل رہے ہیں اور عید کی آمد آمد ہے دوسری طرف مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، ڈالر کی اڑان نے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں، روپے کی بے قدری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، موجودہ حکمرانوں کے وعدے کے مطابق تبدیلی ضرور آئی ہے مگر عذاب کی شکل میں، کل ہی مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان پر ڈالروں کی برسات ہونے والی ہے ، نئے قرضے ملنے والے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس برسات میں غریبوں کا حصہ کتنا ہو گا اور پسماندہ وسیب کو کیا ملے گا؟ ہم ماہ مئی کا ذکر کر رہے تھے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسی مہینے کی 11 تاریخ کو چولستان کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار فقیرہ بھگت خاک ہوئے، اسی مہینے خان پور کے علاقے چاچڑاں شریف کے سیاسی ورکر دُر محمد نیازی بھی فوت ہوئے۔ جھوک خان پور میں پچھلے دنوں دُر محمد نیازی کے بیٹے سردار محمد نیازی تشریف لائے اور شکایت کی کہ میرے والد کی خدمات کو بھلا دیا گیا ہے تو میں نے ان کو کہا کہ بھلانے والی بات پتہ نہیں ہے میں آپ سے بھی کہتا ہوں کہ آپ پڑھے لکھے ہیں والد کی یاداشتوں کو جمع کرکے کتاب کی صورت میں شائع کرائیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ دُر محمد نیازی سیاسی آدمی تھے ان سے بہت سے لوگوں کو اختلاف بھی ہو گا، ان کے سیاسی جھگڑے بھی ہوں گے مگر ایک بات سے سب کو اتفاق ہے کہ وہ متحرک آدمی تھے اور اپنے وسیب کی ترقی کیلئے کوشش کرتے رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ نشتر گھاٹ کی تعمیر کیلئے انہوں نے بہت آواز اٹھائی ، وہ جب بھی ہمارے ہاں جھوک پر آتے اور خبریں لکھ کر دیتے تو ان میں چاچڑاں اورکوٹ مٹھن کے درمیان دریائے سندھ پر نشتر گھاٹ پل کی تعمیر کا مطالبہ لازمی شامل ہوتا۔ آج وسیب کو اس طرح کے متحرک اور سیاسی سوچ رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے۔ نیازی مرحوم 1944ء کو ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور کے تاریخی قصبہ چاچڑاں شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی کا نام میاں اللہ بخش تھا جو اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ طبیعت میں عاجزی، نیاز مندی اور منکسر المزاجی موجود تھی۔ اپنی اس خوبی کی بناء پر نیازی کے نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ بعدازاں یہی نام انکی فیملی کی پہچان بن گیا۔ آپ عاشق رسولؐ تھے اور بزرگانِ دین سے گہری محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ خواجہ غلام فریدؒ سے ارادت و عقیدت کے باعث انہیں فکر فریدؒ سے خاص اُنس تھا۔ دیوان فریدؒ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر و تقریر جاندار و شاندار تھی۔ سٹیج سنبھالتے ہی اپنی شعلہ نوائی سے حاضرین و سامعین کو مسحور کر دیتے۔ یہ دسترس ان کو بڑے بڑے علماء اور خطبا کی تقریروں سے حاصل ہوئی وہ ہر موضوع پر محققانہ اور عالمانہ دسترس رکھتے تھے۔ مسلسل شوقِ مطالعہ نے نہ صرف انہیں وسعت فکری دی بلکہ لکھنے لکھانے کے ہنر سے اس قدر آشنا کر دیا کہ ان کی تحریر بڑے بڑے صاحب علم لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی تھی خط نویسی اُن کی پہچان تھی۔ رحیم یار خان میں خواجہ فرید کالج موجود ہے اور اب رحیم یار خان میں خواجہ فرید کے نام سے انجینئرنگ یونیورسٹی بھی قائم ہوئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عظیم سرائیکی شاعر خواجہ فرید کا تعلق خان پور کے قصبہ چاچڑاں شریف سے تھا، جب خواجہ فرید (1845ء) چاچڑاں شریف میں پیدا ہوئے تو خان پور اس وقت ضلع تھا اور رحیم یار خان ایک چھوٹا قصبہ تھا اس کا نام نوشہرہ تھا، حالات کی ستم ظریفی کہئے یا گردش ایام کہ خان پور ضلع سے تحصیل بن گیا اور اُس کا چھوٹا قصبہ نوشہرہ نئے نام رحیم یار خان کے ساتھ ضلع بن گیا۔ خان پور کا قصور کیا تھا؟ جب ہم اس کی تحقیق کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ پہلا جرم یہ تھا کہ خواجہ فرید نے اپنے کلام میں فرمایا تھا ’’اپنی نگری آپ وسا توں، پٹ انگریزی تھانے‘‘ دوسرا جرم خان پور سے مولانا عبید اللہ سندھی کی قیادت میں ریشمی رومال تحریک کی شکل میں انگریز سامراج سے آزادی کا ماجرا تھا، یہ ٹھیک ہے کہ بہاولپور الگ ریاست تھی مگر پورے ہندوستان کی ریاستیں انگریز سامراج کے زیر اثر تھیں اور اصل حکم اُس کا چلتا تھا۔ خان پور کی ترقی معکوس کا ذکر برسبیل تذکرہ آگیا اصل میں جو بات بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ کالج رحیم یار خان کا نام گورنمنٹ خواجہ فرید کالج کس طرح ہوا؟ یہ بھی ایک تاریخ ہے اور اس کے پیچھے بھی ایک شخصیت کا ہاتھ ہے اور اس شخصیت کا نام ہے دُر محمد نیازی، نیازی صاحب اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے مگر اپنی خدمت اور نیاز مندی کی وجہ سے نیازی کہلائے اور ہمیشہ کیلئے نیازی ہو گئے، دُر محمد نیازی صاحب کا سیاست سے گہرا تعلق تھا انہوں نے مخدوم حمید الدین حاکم، مخدوم نور محمد ہاشمی، مخدوم عماد الدین، مخدوم سلطان احمد شاہ، مخدوم شہاب الدین، مخدوم رکن الدین کے ساتھ بہت وقت گزارا اُن کو خواجہ فرید سے بہت نسبت اور عقیدت تھی اور اُن کی کوشش تھی کہ گورنمنٹ کالج رحیم یار خان کا نام خواجہ فرید کالج ہو جائے، اس سلسلے میں انہوں نے سیکرٹری تعلیم، گورنر اور وزراء اعلیٰ کو خط لکھے اور آخر کار گورنمنٹ کالج رحیم یار خان کا نام خواجہ فرید کالج ہو گیا، یہ ایک تاریخی کارنامہ تھا جو آج تک تاریخ کے صفحات پر موجود ہے۔ دنیا میں بہت کم لوگ، کم وقت میں کمی وسائل کے باوجود ایسے ایسے کارنامے اور کام سر انجام دے جاتے ہیں کہ تاریخ انہیں مرتب کرتی ہے اور دنیا انہیں یاد رکھتی ہے ایسے باصلاحیت لوگ اپنی ذات، اپنے کردار کے ذریعے قلیل وقت میں طویل سفر طے کرکے اپنی دنیا میں زندہ جاوید مثالیں چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتے ہیں لیکن ان میں بعض کے حصوں میں ناموری آتی ہے جبکہ بعض تاریخ کے جھروکوں میں گم گشتہ ہو کر گمنام سپاہی بن جاتے ہیں۔ معاشرے کے انہی کرداروں میں شہر فرید چاچڑاں شریف کا ایک نام دُر محمد خان نیازی کا بھی ہے۔ آپ نے اپنے عہد اور دور میں ایسے لازوال اور تاریخی ترقیاتی کام کرائے اور ایک پسماندہ ترین قصبے کو سہولتوں سے آراستہ کیا کہ آج اس کا تصور ایک عام آدمی سے لیکر عوامی نمائندہ تک بھی نہیں کر سکتا۔ دُر محمد نیازی مورخہ 3 مئی 2008ء بروز ہفتہ بوقت 12 بجے دن بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں ایک مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے انکی وفات سے وسیب ایک بڑے اور اچھے انسان سے محروم ہو گیا آپ نے بہترین کارکردگی کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ ضلع رحیم یار خان کے لاکھوں انسان اپنے دلوں میں ان کی یادوں کو تازہ رکھے ہوئے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker