خالد مسعود خانکالملکھاری

تیراکی سے امورِ سلطنت تک۔۔خالدمسعودخان

وزیر اعظم عمران خان کی ضد کی بیماری میں مبتلا‘ کومے میں پڑی ہوئی پنجاب حکومت کو ایک بار پھر تبادلوں کے وینٹی لیٹر پر ڈال کر ہوش میں لانے کی سعی کی گئی ہے۔ اگر ان تاریخی تبادلوں کے بعد بھی حالات درست نہ ہوئے تو اس عاجز کو گمان ہے کہ جناب عثمان بزدار تبادلوں کی ایک مزید فہرست بناکر عمران خان کے حضور پیش ہوں گے۔
شاہ جی بالکل دوسری بات بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تبادلوں کے جھکڑ میں جو چیز سب سے پہلے اُڑی ہے ‘وہ بذاتِ خود وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کے اختیارات ہیں۔ میں نے حیرانی سے پوچھا: شاہ جی! ان کے پاس اگر اختیارات تھے بھی تو وہ کون ساا نہیں اچھے انداز میں استعمال کر رہے تھے؟ شاہ جی کہنے لگے: یہی تو ساری خرابی تھی۔ ان کے پاس جتنے بھی اختیارات تھے وہ ان کو صرف اور صرف اقربا پروری میں استعمال کر رہے تھے۔ ان اختیارات کے سلب ہونے پر ان کی سرکاری معاملات پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ لیکن ان کے ذاتی معاملات تو بالکل ٹھپ ہو کر رہ جائیں گے۔ باقی چھوڑیں! ان کے علاقے تک میں اب سارے افسران وہ لگائے گئے ہیں جن کو خود عثمان بزدار جانتے تک نہیں۔ ان کے لگائے گئے سارے کے سارے وہ افسران جو دو نمبری میں شہرت رکھنے کے باعث چن چن کر ڈیرہ غازی خان میں لگائے گئے تھے تتر بتر کر دئیے گئے ہیں۔ اب لگائے گئے سارے افسران کو جناب عثمان بزدار کی تصویر دکھا کر کہا گیا ہے کہ اور کسی کی بات سنیں یا نہ سنیں اس بندے کی بات بالکل نہیں سننی۔ میں نے کہا: شاہ جی! اگر یہ حال ہے تو پھر یہ اپنے بزدار صاحب استعفیٰ کیوں نہیں دے دیتے۔ شاہ جی راز داری سے کہنے لگے: ابھی ان کے علاقے کی سڑک مکمل نہیں ہوئی۔ ابھی شاہ جی شاید کچھ اور بھی بتاتے ‘مگر ان کے سگنل خراب ہو گئے اور کال کٹ گئی۔
ڈیرہ غازی خان میں اب نسیم صادق کو کمشنر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ جب میاں شہباز شریف نے اسے ملتان میں ڈپٹی کمشنر بنا کر بھیجا تھا تو سب سے زیادہ مشکل ملتان کے ارکان اسمبلی کو پیش آئی تھی۔ نسیم صادق کسی کی سنتا ہی نہیں تھا۔ ایک رکن اسمبلی نے کسی بات پر نسیم صادق کو کہا‘ وہ ان کی شکایت وزیراعلیٰ سے کرے گا۔ راوی بہت ہی معتبر ہے اور بتاتا ہے کہ نسیم صادق نے اپنے فون سے وزیراعلیٰ کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے اس رکن اسمبلی سے کہا: شاید میاں صاحب آپ کا نمبر نہ اٹھائیں‘ اس لیے میں اپنے فون سے آپ کی ان سے بات کروا دیتا ہوں۔ راوی اس کے بعد خاموش ہے۔ اللہ مجھے بدگمانی سے بچائے۔ اب اگر کسی نے نسیم صادق کو کہا کہ وہ ان کی شکایت وزیراعلیٰ سے کرے گا تو اس بار نسیم صادق عثمان بزدار کو فون ملانے کے بجائے اس رکن اسمبلی سے کہے گا کہ ”کون سا وزیراعلیٰ؟‘‘۔
پہلے یہ مسئلہ تھا کہ پنجاب حکومت کی بس کا ڈرائیور اناڑی تھا‘ بلکہ اناڑی کا لفظ بھی مناسب نہیں‘ تاہم ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی بیٹھا نظر تو آتا تھا۔ اب‘ بس کی ساری سواریاں تبدیل کر کے ڈرائیور کو آخری سیٹ پر بٹھا دیا گیا ہے اور دو چار ایچ ٹی وی ڈرائیونگ لائسنس یافتہ سواریوں کو کہا گیا ہے کہ اب اس بس کو آپ نے چلانا ہے۔ آخری سیٹ والے ڈرائیور کی کوئی بات نہیں سننی اور بس کو اپنی صوابدید اور تجربے کی بنیاد پر چلا کر منزل مقصود تک پہنچانا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ڈرائیور بھائی جان نے اختیارات کے استعمال کا ریکارڈ توڑا ہوا تھا۔ گزشتہ ایک سال سے پنجاب بھر میں تبادلوں پر پابندی تھی۔ چپڑاسی تک کا تبادلہ وزیراعلیٰ کے حکم کے بغیر ممکن نہ تھا اور اس دوران جتنے بھی تبادلے ہوئے‘ سب کے سب جناب عثمان بزدار کے صوابدیدی اختیارات کے تحت ہوئے۔ اسی اختیار کے تحت ملتان کے تین کمشنر تبدیل ہوئے۔ تین تین ماہ میں چار چار صوبائی سیکرٹری تبدیل ہوئے۔ ان چار سے مراد آپ یہ نہ لے لیں کہ کل چار صوبائی سیکرٹری تبدیل ہوئے ‘بلکہ ایک ایک محکمے کے سیکرٹری چار چار ‘بلکہ پانچ پانچ بار تبدیل ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان کی ساری کی ساری انتظامی مشینری ان کی مرضی اور منشا کے مطابق تبدیل ہوئی۔شیخ عمر جیسے نہایت ہی عمدہ اور شاندار پولیس افسر کو آر پی او ڈیرہ غازی خان سے ہٹا کر واپس بھجوا دیا گیا کہ اس کی موجودگی میں موصوف کو اپنے اُلٹے سیدھے احکامات کی بجا آوری میں مشکل پیش آر ہی تھی اور اس طرح کھل کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا تھا‘ جیسا کہ وہ چاہتے تھے۔ سو‘ شیخ عمر اور ان جیسے اور دو چار لوگوں سے پہلی فرصت میں نجات حاصل کی گئی‘ تاکہ بقول حافظ برخوردار
سنجیاں ہو جان گلیاں
تے وچ مرزا یار پھرے
سو ‘پہلے ڈیرہ غازی خان کی گلیاں اس طرح سنجیاں کی گئیں۔ اب ڈیرہ غازی خان کی گلیاں ان کے حساب سے ”سنجیاں‘‘ کر دی گئی ہیں۔ گزشتہ والے چیف سیکرٹری بارہا ‘بلکہ بے شمار مرتبہ یہ درخواست کرتے رہے کہ تبادلوں کا اختیار انہیں دیا جائے ‘تاکہ وہ اپنی مرضی کی ٹیم تشکیل دے کر نتائج حاصل کر سکیں‘ مگر ٹیم وزیراعلیٰ صاحب کی مرضی کی ہوتی تھی ا ور نتائج کی توقع چیف سیکرٹری سے کی جاتی تھی۔ ساری ٹیم وزیراعلیٰ کی منتخب کردہ تھی اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بے چارے چیف سیکرٹری کے کندھوں پر ڈال دی گئی تھی۔ پنجاب کی ساری بیورو کریسی کے سلیکٹر وزیراعلیٰ تھے اور وزیراعلیٰ کا سلیکٹر وزیراعظم ہے۔
یہ پاکستان کی سیاست میں ایک محیر العقول واقعہ ہو گا کہ وزیراعلیٰ موجود بھی ہوگا اور نہیں بھی ہوگا‘ یعنی طبعی طور پر وزیراعلیٰ موجود ہوگا‘ لیکن عملی طور پر ناموجود ہوگا۔ انگریزی میں اسے Disfunctionalکہا جاسکتا ہے۔اب ‘عمران خان کو خود بھی شاید احساس ہو چکا ہے کہ وسیم اکرم پلس کی استعداد کار بس اسی قدر ہے جتنی پندرہ ماہ میں سامنے آ چکی ہے ‘یعنی ان میں کام کرنے کی صلاحیت سرے سے مفقود ہے‘ لہٰذا انہیں صرف ایک طرف بٹھایا جا سکتا ہے ‘تاکہ وزیراعلیٰ کی کرسی بھری ہوئی نظر آئے‘کیونکہ آئینی طور پر یہ کرسی خالی نہیں رکھی جا سکتی‘ لہٰذا اس پر ہمارے پیارے عثمان بزدار موجود ہیں‘ لیکن یہ صرف اور صرف عمران خان کی انا کا مسئلہ ہے کہ انہیں گھر نہیں بھیج رہے‘ تاہم اب عمران خان کی انا صرف ان کی موجودگی تک باقی بچی ہے ‘وگرنہ اب جو نیا سیٹ اَپ ترتیب دیا گیا ہے‘ اس میں عثمان بزدار کا کہیںکوئی ذکر نہیں اور نہ ہی ان کا کہیں کوئی کام ہے۔ بس وہ نام کی حد تک وزیراعلیٰ ہیں اور جہاں کہیں ان کے دستخطوں کی ضرورت ہوگی‘ ان سے کروا لیے جائیں گے۔ اللہ کے فضل سے اب گورنر سرور ان سے کہیں زیادہ بااختیار ہوں گے؛ حالانکہ گورنر کی جو آئینی حیثیت ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ گورنر چودھری سرور کے حوالے سے کچھ دن پہلے خبریں تھیں کہ عمران خان ان سے خوش نہیں اور انہیں تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘ تاہم اسے اللہ کی مرضی کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے کہ جس شخص کو خان صاحب ان کے متبادل کے طورپر گورنر پنجاب لا رہے تھے‘ وہ اللہ تعالیٰ کو پیارا ہو گیا۔
ایمانداری کی بات ہے کہ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا‘ جو گارنٹی کے ساتھ بتا سکے کہ عثمان بزدار صاحب کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ کس بنیاد پر بنایا گیا۔ جب وجہ معلوم نہ ہو تو پھر افواہیں پھیلتی ہیں اور یہ افواہیں ضعیف العتقادی سے لے کر جادو ٹونے تک پھیلی ہوئی ہیں‘ لیکن ان سب باتوں کو چھوڑیں‘ آپ کو ایک بات بتاؤں جو میرے لیے بڑے فخر کی ہے‘ میرے دو سالہ چھوٹے نواسے اور سوا تین سالہ بڑے نواسے نے ایک سوئمنگ کلب میں تیراکی سیکھنے کا آغاز تقریباً انہی دنوں کیا تھا جب عثمان بزدار صاحب نے گورنر ہاؤس لاہور میں تیراکی سیکھنے کا آغاز کیا تھا۔ الحمد للہ میرے دونوں نواسوں نے ڈیڑھ ماہ میں یہ کام سیکھ لیا تھا‘ جبکہ عثمان بزدار صاحب نے ایک سال کی بھرپور کوششوں کے باوجود ابھی یہ مشکل مرحلہ طے نہیں کیا۔ جو بندہ ایک سال میں تیراکی نہ سیکھ سکے وہ سوا سال میں امورِحکومت کیسے سیکھ سکتا ہے؟ بلکہ وہ ساری عمر لگا کر بھی یہ وزنی پتھر نہیں اٹھا سکتا۔ آگے آپ کی مرضی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker