خالد مسعود خانکالملکھاری

خواب جیسے گزرے دن!۔۔خالدمسعودخان

اس سال کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ اس سردی کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی سردیوں کی چھٹیوں میں دو بار اضافہ کیا گیا ۔ اب جا کر کہیں تعلیمی ادارے بمشکل کھلے ہیں۔ اس شدید سردی میں بھی مجھے ملتان میں کہیں کورا پڑا دکھائی نہیں دیا۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ گزشتہ برسوں کی نسبت سردی کافی زیادہ تھی‘ مگر سچ بات تو یہ ہے کہ یہ سردی بھی ویسی سردی ہرگز نہیں ‘جیسی آج سے چالیس پینتالیس سال قبل پڑا کرتی تھی۔ اللہ جانے تب ہم سخت جان ہوتے تھے یا حکومتوں کا دل سخت ہوتا تھا ‘لیکن اتنی سردی پر تعلیمی ادارے بند نہ ہوتے تھے۔ اب تو صورتحال ہی مختلف ہے۔ سکولوں میں ”مار نہیں پیار‘‘ کا سلوگن چل رہا ہے۔ گرمی زیادہ پڑے تو گرمیوں کی چھٹیاں بڑھا دی جاتی ہیں اور سردی زیادہ ہو جائے تو سردیوں کی چھٹیوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں ایسے چونچلے نہیں ہوتے تھے۔
جیکٹ وغیرہ کا رواج نہیں تھا اور کوٹ کسی کسی کو نصیب ہوتا تھا۔ لے دے کر ایک جرسی ہوتی تھی ‘جو یونیفارم کا حصہ ہوتی تھی اور رنگ برنگے موٹے پتلے سویٹروں کا نہ رواج تھا اور نہ ہی اجازت۔ ہمیں سکول میں خاکی پینٹ‘ سفید قمیص‘ کالے جوتے اور خاکی جرسی کی اجازت تھی۔ ہاں مفلر اضافی ہوتا تھا اور اس کا کوئی رنگ وغیرہ مخصوص نہ تھا‘ جس کا جیساجی چاہا لے آیا یا جیسا گھر والوں نے لے دیا پہن لیا۔ کبھی کبھار دستانے مل جاتے تھے۔اونی دستانے اور ماشاء اللہ سے وہ دو تین دن کے اندر اندر کہیں گم کر دیے جاتے تھے۔ سردیوں میں کبھی دستانے پورا سیزن تو ایک طرف ‘ ہفتہ دس دن سے زیادہ پہننے نصیب نہ ہوتے تھے۔
میرا سکول گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی تھا۔ بعد میں اس کا نام گورنمنٹ ماڈل سکول ہو گیا‘ لیکن جب تک ہم پڑھتے رہے اس کے ساتھ ماڈل کی ”پخ‘‘ نہیں لگی تھی۔ اسے یہ اعزاز ہمارے فارغ ہونے کے بھی کئی سال بعد نصیب ہوا۔ میرا گھر چوک شہیداں کے ساتھ تھا۔ گھر سے سکول کا فاصلہ کم از کم بھی ساڑھے چار یا پانچ کلومیٹر تھا۔ گھر کے قریب بھی سکول موجود تھے‘ مگر اباجی نے گلگشت ہائی سکول میں اس لیے داخل کروا دیا کہ یہ سکول ان کے کالج کے پہلو میں تھا اور سکول سے ابا جی کی لائبریری محض ایک ڈیڑھ منٹ کے پیدل فاصلے پر تھی۔ بس یوں سمجھیں بمشکل سو ڈیڑھ سو میٹر ہوگی‘ بلکہ شاید اس سے بھی کم۔ اباجی صبح کالج جاتے ہوئے مجھے بھی ساتھ سکوٹر پر بٹھا کر چوک شہیداں سے گلگشت کالونی کے عین سامنے واقع اپنے کالج جانے سے پہلے مجھے سکول کے گیٹ پر اتارتے اور پھر اپنے کالج چلے جاتے۔ یہ روٹین اڑھائی سال جاری رہی‘ یعنی چھٹی‘ ساتویں اور آٹھویں جماعت کا آدھا سال میں اباجی کے سکوٹر پر سکول جاتا رہا‘ پھر میرے ہاتھ سائیکل لگ گیا۔
یہ سائیکل اباجی کا سائیکل تھا۔ ریلے کا سائیکل۔ جب یہ سائیکل مجھے ملا اس سائیکل کی عمر بلامبالغہ 22یا23 سال تھی۔ یہ سائیکل اباجی مرحوم نے تب لیا تھا جب وہ بی اے کے طالبعلم تھے اور ایمرسن کالج ملتان میں پڑھتے تھے۔ اباجی نے یہ سائیکل کم و بیش 17 سال چلایا۔ 1963ء میں سکوٹر لیا تو سائیکل کو تھوڑی فرصت اور فراغت نصیب ہوئی ‘لیکن ایک دو ماہ کے بعد ہی یہ سائیکل بڑے بھائی مرحوم طارق محمود خان کو مل گیا۔ انہوں نے یہ سائیکل سکول اور پھر کالج جاتے ہوئے کئی سال چلایا‘ پھر انہوں نے نیا سہراب سائیکل لیا تو یہ سائیکل پھر چند روز بیکار کھڑا رہا اور اس کے بعد ضد کر کے یہ سائیکل میں نے لے لیا کہ اباجی کے ساتھ صبح سویرے جانا اور پھر انہی کے ساتھ واپس آنا تھوڑی پابندی سی محسوس ہوتا تھا اور خود کو تھوڑا قیدی سا ہونے کا احساس ہوتاتھا۔ جس دن سائیکل ملا اس دن ایسی خوشی ہوئی کہ بعد میں گاڑی خریدنے پر بھی ایسی خوشی کا احساس نہیں ہوا تھا۔
تب سردیوں میں صبح سکول جانا اور گرمیوں میں دوپہر کو واپس آنا ایک بڑا سخت امتحان ہوتا تھا‘ لیکن آزادی کا احساس ایسا تھا کہ سکوٹر کی سواری کی بجائے سائیکل کی مشقت میں راحت سی محسوس ہوتی تھی۔ سردیوں کی صبح بڑی ظالم ہوتی تھی۔ صبح کلاس میں پہلا پیریڈ ہمیشہ سے انگریزی کا ہوتا تھا۔ کلاس انچارج ہمیشہ انگریزی پڑھاتا تھا اور پہلا پیریڈ اسی کمبخت بدیسی زبان کا ہوتا تھا۔ میونسپل پرائمری سکول چوک شہیداں سے جب چھٹی جماعت میں گلگشت سکول داخل ہوا تو انگریزی کا کل علم اے سے زیڈ تک کے انگریزی حروفِ تہجی سے شناسائی تھی۔ سکول جا کر انگریزی پڑھی تو علی اور نسیمہ کا سبق ایسا مشکل لگتا تھا کہ خدا کی پناہ۔ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے ماسٹر گلزار صاحب کو‘ وہ ہمارے کلاس انچارج تھے۔ انگریزی سے خوف دور کروانے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا‘ پھر ماسٹر فیض محمد خان‘ ماسٹر عبدالقادر صاحب‘ ماسٹر نذیر صاحب‘ ماسٹر ظہور شیخ صاحب‘ ماسٹر ارشاد صاحب اور عبدالرحمان صاحب نے بڑی محنت اور محبت سے پڑھایا‘ اسی دوران ماسٹر غلام رسول‘ ماسٹر منظور بٹالوی‘ ماسٹر عزیز صاحب‘ ماسٹر عالم صاحب اور ماسٹر نیاز احمد صاحب سے مختلف مضامین پڑھے۔ کیا شاندار اساتذہ تھے۔ جب میں سکول میں داخل ہوا تب ہیڈ ماسٹر صاحب غلام شوکت ربانی تھے اور سیکنڈ ہیڈ ماسٹر عبداللہ صاحب تھے۔ عبداللہ صاحب چمکتے ہوئے سائیکل پر سکول آتے۔ سردیوں میں شیروانی اور جناح کیپ پہنتے۔ گرمیوں میں سفید یا سیاہ واسکٹ زیب تن کرتے‘ بعد میں عبدالملک بھٹہ صاحب ہیڈ ماسٹر کے طور پر آئے۔ ایسے نابغہ ماہرینِ تعلیم اب عنقا ہو گئے ہیں۔
بات سردیوں سے شروع ہوئی تھی اور کہیں کی کہیں چلی گئی۔ صبح سکول جاتے ہوئے دایاں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال لیتے ‘تاکہ گرم رہے اور سکول جا کر پہلے پیریڈ میں انگریزی لکھتے وقت ہاتھ سن ہونے کی وجہ سے مشکل پیش نہ آئے ۔ بایاں ہاتھ ہینڈل پر ہونے کی وجہ سے سکول جاتے تک تقریباً سن ہو چکا ہوتا تھا۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتاتھا کہ ہم اپنے اسی سُن والے ہاتھ پر ڈنڈے کھاتے تھے۔ ڈنڈے کھانے کیلئے کسی خاص وجہ کا ہونا کوئی ضروری نہیں ہوتا تھا۔ پانچ منٹ لیٹ پہنچنا‘ انگریزی کے فقرے بناتے ہوئے گرائمر کی غلطی کرنا‘ گھر کے کام میں غلطی یا کمی بیشی جیسا ہولناک قصور کرنا‘ کسی سوال کا غلط‘ نامکمل یا غیر تسلی بخش جواب دینا۔ بہرحال صبح پہلے پیریڈ میں ڈنڈے کھانا ہفتے میں دو تین بار تو لازمی نصیب ہوتا۔ پہلے سے سُن ہاتھ اگلے کئی گھنٹے مزید سُن رہتا۔ دونوں ہاتھوں میں سے ایک تو ہر حال میں جیب میں رہتا۔ صبح گھر سے سکول آتے ہوئے سردی میں دایاں ہاتھ جیب میں رہتا اور صبح پہلے پیریڈ میں ڈنڈے کھانے کے بعد بایاں ہاتھ جیب میں رہتا ‘تاکہ تھوڑی بہت گرمی کے طفیل جلدی اصلی حالت میں آ سکے۔صرف ایک جرسی پہنی ہوتی تھی اور خدا جھوٹ نہ بلوائے تو سکول پہنچ کر سامنے سے اور بازوئوں سے کورا جھاڑا جاتا تھا۔ ساری جرسی سامنے سے بالکل سفید ہوتی تھی اور جھاڑنے پر باقاعدہ برف سی گرتی تھی۔ پائوں میں اونی جرابیں ہوتی تھیں‘ جو اتنی گھٹیا کوالٹی کی ہوتی تھیںکہ تین چار بار پہننے کے بعد پنڈلیوں سے اتنی ڈھیلی ہو جاتی تھیں کہ نیچے گر جاتی تھیں‘ لیکن اصلی اون کی ہونے کی وجہ سے پائوں سُن ہونے سے بچ جاتے تھے۔ مجھے عینک بچپن میں ہی لگ گئی تھی۔ دھند کے دنوں میں تھوڑی دیر بعد رومال شیشوں پر مارا جاتا۔ تب ٹشو پیپر وغیرہ کا تو نام بھی نہیں سنا تھا۔ دوسرے اور کبھی تیسرے پیریڈ میں باہر لان میں قطاریں بنا کر بیٹھ جاتے اور سبق پڑھتے۔ پہلے پیریڈ میں یہ ممکن نہ تھا کہ لان میں لگی گھاس بالکل گیلی ہوتی تھی اور اس پر بیٹھا نہیں جا سکتا تھا۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی سردی کی وجہ سے چھٹیوں میں اضافہ ہوا ہو۔ سخت سردی ہو یا شدید گرمی‘ چھٹیاں وہی ہوتی تھیں‘ جو سرکاری تعطیلات کے طور پر سال میں ایک بار اعلان کر کے بتا دی جاتی تھیں۔ تمام سکول سرکاری اعلان شدہ تعطیلات کی پابندی کرتے تھے۔ ماں باپ تب بھی بچوں سے اتنا ہی پیار کرتے تھے‘ مگر ناز نخرے اٹھانے کا‘ سکول سے مار پڑنے پر اخباروں میں خبریں اور انتظامیہ کو درخواستیں دینے کا کوئی تصور نہ تھا۔اُس زمانے میں آٹے کی قیمت چار آنے بڑھنے پرلوگ چیخ اٹھتے تھے‘ مگراب ایک سال میں ساٹھ فیصد اضافہ ہو چکا ‘مگر سب خاموش ہیں۔ کیا اچھے دن تھے جو اب خواب ہو چکے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker