خالد مسعود خانکالملکھاری

کیا خبر طوطے بھی عنقا ہو جاتے ؟۔۔خالد مسعودخان

کورونا کی وبا کے نتیجے میں دنیا کافی تبدیل ہوئی ہے اور ابھی اس نے اور بھی تبدیل ہونا ہے۔ کئی تبدیلیاں ایسی ہیں جو ابھی سے نوشتۂ دیوار نظر آ رہی ہیں۔ وقت ابھی بے شمار چیزوں کو نئی شکل دے گا‘ تبدیل کرے گا اور ہمارا سارا کاروباری پیٹرن‘ سفری منظرنامہ اور سماجی معاملات‘ سب کے سب یکسر بدل جائیں گے۔ تاہم کئی چیزیں ایسی ہیں جو ابھی عام آدمی کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہیں۔ ہمارے وہم و گمان سے بھی ماورا۔ ن م راشد کی نظم ”گمان کا ممکن۔ جو تو ہے میں ہوں‘‘ کی اختتامی سطروں کی مانند۔
اب ان کا انجام وہ سفینے
ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی
اب ان کا انجام
ایسے اوراق جن پر حرفِ سیہ چھپے گا
اب ان کا انجام وہ کتابیں
کہ جن کے قاری نہیں‘ نہ ہوں گے
اب ان کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے
ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے
کہ ان پر آنسو کے رنگ اتریں
اور ان میں آئندہ
ان کے رویا کے نقش بھر دے!
ایک ویڈیو دیکھی کہ نیپال کے ایک شہر کی سڑکوں پر گینڈا مٹر گشت کر رہا ہے۔ میامی میں مگرمچھ گلی میں چہل قدمی کر رہا ہے۔ آسٹریلیا کے شہر کے وسط میں کینگرو ”ٹپوسیاں‘‘ مار رہا ہے۔ امریکہ میں اٹلانٹا کی گلیوں میں بارہ سنگھا مست پھر رہا ہے اور سب سے دلچسپ یہ کہ اسلام آباد میں ایک بندر عدالت میں فائلوں کا جائزہ لیتا پھر رہا تھا۔ یہ سب کچھ کورونا کے باعث جاری لاک ڈاؤن کا نتیجہ ہے۔ سڑکیں‘ گلیاں‘ شہر اور قصبے ویران ہیں۔ شہر کے مراکز سنسان ہیں۔ سو جانور بے خوف و خطر گلیوں اور سڑکوں میں گھومتے پھر رہے ہیں۔ کسی ستم ظریف نے لکھا ہے کہ شہر کی سنسان سڑک کی فٹ پاتھ پر اونگھتے ہوئے ایک کتے نے دوسرے سے پوچھا:یہ سب انسان کدھر چلے گئے ہیں؟ دوسرے نے کان سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا: میرا خیال ہے ان کو میونسپلٹی والے پکڑ کر لے گئے ہیں۔
کل سہ پہر کو ایک عرصے بعد طوطے کی آواز سنی۔ اب خدا جانے یہ بھی کورونا کے باعث انسانی ہلچل میں کمی کے باعث ایسا ہوا یا شاید یہ فرصت کا نتیجہ تھا کہ اس آواز پر غور کیا‘ لیکن یہ بات طے ہے کہ کانوں کو یہ آشنا سی آواز کافی عرصے کے بعد آئی تھی۔ پرانے بہاولپور روڈ پر ریلوے کی وسیع و عریض کوٹھیوں کے کسی درخت پر بیٹھے ہوئے طوطے کی آواز مجھے ماضی میں لے گئی‘ چوک شہیداں میں ہمارے گھر کے مغرب والی سمت گلی کی دوسری طرف سامنے چچا عاشق چودھری کا مکان تھا۔ تب ہر محلے دار اور ہمسایہ چچا ہوا کرتا تھا۔ اس مکان کے دو حصے تھے۔ ایک حصے میں چچا عاشق کا رہائشی گھر تھا جو نسبتاً تھوڑا چھوٹا تھا‘جبکہ دوسرے حصے میں ‘جو کافی بڑا تھا ‘کپڑا بننے والی ہاتھ کی کھڈیاں تھیں۔ جس جگہ ان کھڈیوں پر لگنے والا ”تانا‘‘ بنتا تھا اس شیڈ میں ایک قد آور جامن کا درخت تھا۔ اس جامن کی دو چیزیں تھیں جن سے ہمارا تعلق رہتا تھا۔ پہلی طوطے اور دوسری جامن۔ جب اس درخت پر جامن لگتے تو ہمارے گھر سیزن میں دو تین بار جامن آتے۔ پیتل کا کمنڈل اوپر تک بھرا ہوتا۔ میٹھے‘ رس دار اور پکے ہوئے۔ ان جامنوں کو ریفریجریٹر میں رکھا جاتا اور جب ٹھنڈے ہو جاتے تو انہیں تانبے کی قلعی شدہ گڑوی میں ڈال کر اوپر نمک چھڑکا جاتا اور پھر گڑوی کا منہ چھوٹی پلیٹ سے ڈھک کر اسے زور زور سے ہلایا جاتا۔ پہلے سے نرم اور پکے ہوئے جامن مزید نرم ہو جاتے اور پھر مزے سے کھائے جاتے۔
جامنوں کے موسم میں ہم چچا عاشق کے گھر ان جامنوں کی خاطر جاتے۔ چچی ایک پلیٹ میں تھوڑے سے جامن رکھتیں اور شکایت بھرے لہجے میں کہتیں: ان کمبخت طوطوں نے آدھے جامن کتر کر نیچے پھینک دیئے ہیں۔ لالچی کہیں کے‘ اتنے جامن کھاتے نہیں جتنے ضائع کر دیتے ہیں۔اسی اثنا میں ان کے برآمدے میں لٹکے ہوئے پنجرے سے آواز آتی: میاں مٹھو چوری کھائے گا‘ چچی ہنس کر کہتیں: اس کمبخت کو ہر چیز چوری ہی لگتی ہے۔ پھر چن کر دو چار موٹے موٹے جامن اپنے پالتو طوطے کے پنجرے میں ڈال دیتیں۔ یہ ان کا ”را طوطا‘‘ تھا۔ کندھوں پر سرخ پَر اور گلے میں سرخ اور سیاہ ”گانی‘‘ والا بڑے سائز کا طوطا۔ جامن والے طوطوں سے سائز‘ اپنے سرخ پروں اور گانی کے باعث تھوڑا مختلف۔
ہمارے گھر کا زمینی صحن حالانکہ بہت بڑا نہیں تھا مگر یہاں سے یہ جامن کا درخت صاف دکھائی دیتا تھا۔ گرمیوں میں صبح ناشتہ کرتے ہوئے اس درخت سے مسلسل ٹیں ٹیں کی آوازیں آتیں اور ہرے پتوں میں چھپے ہوئے طوطے جب شوخیاں کرتے ہوئے ٹہنیاں بدل بدل کر پھڑپھڑاتے تو صاف نظر آتے۔ اس درخت پر بلامبالغہ ڈیڑھ دو درجن طوطے رہتے تھے۔ سب طوطے اس پرانے اور جسیم جامن کے درخت میں بننے والے ان قدرتی سوراخوں میں رہتے تھے جنہیں ہم ”کھوہ‘‘ کہتے تھے نیچے والے دو تین سوراخ ہمارے نشانے پر رہتے تھے۔ جب طوطوں کے بچے نکلتے‘ ہم ”تانے‘‘ والے شیڈ کی چھت پر چڑھ جاتے اور ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر کھوہ کے اندر ڈالتے اور ایک آدھ طوطے کا بچہ نکال لیتے۔ پہلی بار جب خالی ہاتھ سے بچے نکالنے کی کوشش کی تو اندر موجود بچوں نے ہاتھ پر اس زور سے کاٹا کہ خون نکل آیا۔ دو تین بار جب نکالے گئے طوطے کے بچے مر گئے تو ہم نے یہ بچے نکالنے بند کر دیئے۔ صبح اور شام کے وقت اس درخت پر ان طوطوں کے طفیل ایسا میلہ لگتا کہ خدا کی پناہ۔ اتنا شور اور پروں کی پھڑپھڑاہٹ آج بھی تصور کروں تو لگتا ہے میں چچا عاشق کے گھرکے صحن میں کھڑا ہوں‘ طوطے مخصوص آواز میں ٹیں ٹیں کر رہے ہیں اور ہم درخت کے نیچے سے ان کے خوبصورت سبز پَر تلاش کر رہے ہیں جو کبھی کبھار ہی ملتے تھے۔ ہم ان پروں کو ایک کاپی میں لگا لیتے تھے۔
گھر کے ساتھ شمالی گلی ملک عبدالکریم اور ان کے والد حاجی بٹے کے باغ پر ختم ہوتی تھی۔ وہاں امرودوں کے موسم میں طوطے ہلہ بول دیتے تھے۔ ملک عبدالکریم کا بھائی عبدالرزاق اور بیٹا فاروق ہاہاکار مچاتے‘ گوپھن سے مٹی کا بنا ہوا گول ”گلولہ‘‘ درختوں پر مارتے اور طوطوں کو اڑاتے رہتے۔ باغ کے ان طوطوں کا مسکن سرور بلڈنگ کے سامنے والا آم کا دیوہیکل درخت تھا۔ دیسی آم کے اس درخت پر آم تو کم لگتے تھے ‘مگر طوطے بے شمار تھے‘ پھر یہ درخت کٹ گیا۔ کھیت اور باغ اینٹ‘ سیمنٹ اور سریے کی نذر ہو گئے۔ چچا عاشق کا جامن بھی بعد میں کٹ گیا۔ طوطوں سے آخری واسطہ ایمرسن کالج کے بوٹانیکل گارڈن میں رہتا تھا جس کے وسط میں چار چھوٹے چھوٹے پختہ تالاب تھے اور ان میں زولوجی کے پریکٹیکل میں ہونے والی مینڈک کی Dissection میں استعمال ہونیوالے مینڈکوں کی افزائش ہوتی تھی۔ پھر طوطے نایاب ہونے شروع ہو گئے۔
فرحان انور کو پرندوں اور جانوروں سے بڑی محبت ہے۔ اس نے بتایا کہ ہمارا دیسی طوطا نہایت بے دردی سے باہر بھیجا گیا۔ یورپ میں ایک طوطے کی قیمت ساٹھ ہزار روپے کے لگ بھگ ملتی تھی۔ لوگوں نے دھڑا دھڑ یہ طوطے پکڑے اور اتنی تعداد میں ایکسپورٹ کیے کہ ان کی نسل کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ طوطا ایک حقیقی پرندہ ہے اور عنقا ایک دیومالائی افسانوی پرندہ۔ کیا عجب کہ ایک دن یہ حقیقی پرندہ ناپید ہو کر دیو مالائی داستانوں والا عنقا ہو جاتا‘ لیکن شنید ہے اب اس کی حفاظت کی جا رہی ہے۔ اللہ جانے ایک عرصے بعد کانوں میں پڑنے والی طوطے کی آواز کورونا کے باعث ماحول بہتر ہونے کے باعث سنی تھی یا فرصت کے باعث؟ یا پھر ممکن ہے اب یہ ان کی پکڑ دھکڑ اور بیرون ملک برآمد پر لگی پابندیوں کا ثمر تھا۔ اللہ ہی جانے!
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker