خالد مسعود خانکالملکھاری

انج تے فیر انج ای سہی: کٹہرا/ خالد مسعود خان

پاکستان کے کل بارہ صدور گزرے ہیں۔ اس عاجز کو ان بارہ میں سے گیارہ دیکھنے کا شرف حاصل ہے۔ صرف سکندر مرزا کو دیکھنے سے محروم رہا۔ وہ میری پیدائش سے پہلے لندن سدھار گئے اور وہاں ہوٹل کی منیجری کرتے ہوئے ایک سال بعد وفات پا گئے تھے۔ صدر محمد ایوب خان میری پیدائش سے ایک سال پہلے اس ملک پر مسلط ہوئے اور جب میں دس سال کا تھا وہ اقتدار یحییٰ خان کے سپرد کر کے گھر چلے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت (حالانکہ مجھے کسی بات کا کوئی ادراک نہ تھا) ہر جگہ ایوب خان کے خلاف جلسے جلوس شروع ہو چکے تھے اور ان جلسے جلوسوں سے ہم بڑے متاثر تھے۔ یہ ہماری زندگی میں ایک نئی چیز تھی اور بچے ہونے کے باوجود کم از کم مجھے ان جلوسوں میں بڑی ”تھرل‘‘ محسوس ہوتی تھی۔ میں ایک روز درخت کی ٹوٹی ہوئی ٹہنی پکڑ کر گلی میں اپنے سے بھی چھوٹے بچوں کے جلوس (جس کی تعداد غالباً آٹھ دس تو ضرور ہو گی) کی قیادت کر رہا تھا اور ایوب خان کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔ عین اسی وقت ابا جی آگئے اور انہوں نے مجھے کان سے پکڑ لیا۔ سارے بچے یہ منظر دیکھ کر ایک سیکنڈ میں کہیں غائب ہو گئے۔ ابا جی نے گھر آ کر خوب ڈانٹ ڈپٹ کی۔ وہ ایوب خان کے حامی تھے۔ اس کے بعد بھی ایسا ہوا کہ ان کے اور میرے درمیان سیاسی طور پر کبھی اتفاق نہ ہو سکا۔
ایوب خان کے بعد یحییٰ خان آ گیا۔ یحییٰ کے بعد ایک سال آٹھ ماہ تک ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے صدر رہنے کا موقعہ ملا۔ پھر فضل الٰہی چوہدری آگئے۔ 1978ء میں ضیاء الحق بطور صدر ہم پر مسلط ہو گئے۔ انہیں دس سال ہماری گردن پر سوار رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے بعد غلام اسحاق خان، پھر فاروق خان لغاری، محمد رفیق تارڑ اور پھر وہی جرنیلی صدر یعنی جنرل پرویز مشرف کی آمد ہوئی۔ جنرل پرویز مشرف بھی ایک عشرے سے زیادہ عرصہ صدر رہے۔ انہوں نے اپنے دو پیشرو جرنیلوں کی طرح گیارہ سال حکومت کی۔ پھر قحط الرجال کا یہ عالم دیکھنے کو ملا کہ آصف علی زرداری اس منصب جلیلہ پر فائز ہو گئے اور اب ہمارے ممنون حسین صدرِ پاکستان ہیں اور آئندہ ایک ماہ چھ دن تک اس عہدے سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔
صدر ممنون حسین کو پاکستان کے ”خاموش ترین‘‘ صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ویسے یار لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی بولتے ہیں کیونکہ وہ جب بھی بولتے ہیں بقول شاہ جی ”چھپر پھاڑ کر بولتے ہیں‘‘۔ ایک بار انہوں نے فرمایا کہ ”کرپٹ لوگوں میں بھی مختلف درجات ہیں۔ کوئی بہت زیادہ کرپٹ ہے کوئی درمیانہ کرپٹ ہے۔ کوئی تو ایکسٹرا آرڈینری کرپٹ ہے۔ یہ جو ایکسٹرا آرڈینری کرپٹ ہیں کبھی آپ دیکھئے گا۔ منحوس چہرے ہوتے ہیں۔ منحوس! چہرے پر نحوست ٹپک رہی ہوتی ہے۔ اللہ کی لعنت ان کے چہروں پر موجود ہوتی ہے۔ جو نظر آتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا کرپٹ آدمی ہے۔ کبھی غور کیجئے گا اس بات پر۔ یہ جو پانامہ لیکس ہے جو آپ نے دیکھا ہے ناں معاملہ جو اٹھا ہے۔ یہ بھی… یہ بھی قدرت کی طرف سے اٹھا ہے۔ اور اس کی وجہ سے پتا نہیں کون کون سے معاملات اٹھیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت سارے لوگ جو ہیں۔ جو اپنے بڑے اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں کہ صاحب !! ہم نے تو یہ کر لیا وہ کر لیا۔ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ آپ دیکھئے گا۔ کیسے کیسے لوگ پکڑ میں آئیں گے۔ یہ میری بات یاد رکھئے گا کبھی کوئی واقعہ دو ماہ بعد ہو گا۔ کوئی چار ماہ کے بعد ہو گا۔ کوئی چھ ماہ کے بعد ہو گا۔ کوئی ایک سال کے بعد ہو گا۔ یہ اللہ کا ایک نظام ہے‘‘۔ سنا ہے پہلے سے ہی کم گو صدر کو کہا گیا کہ آپ مزید کم بولا کریں۔ تاہم ان کی زبان کافی کالی تھی۔ پانامہ والا معاملہ بالکل ویسے ہی شروع ہوا اور ویسے اختتام تک پہنچا جیسا جناب صدر ممنون حسین نے فرمایا تھا۔
پاکستان میں صدور کے عضو معطل ہونے کی ابتدا جناب فضل الٰہی چوہدری سے ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلکہ ان کے 1973ء کے آئین نے صدر کو بس اتنا اختیار دیا کہ وہ اسمبلی میں پاس شدہ بلوں پر دستخط فرمائیں اور ایوانِ صدر میں چہل قدمی فرمائیں۔ تب ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا کہ ایوانِ صدر کی دیواروں پر کوئی یہ لکھ جاتا تھا کہ ”صدر فضل الٰہی چوہدری کو رہا کرو‘‘ سکیورٹی والے سخت پریشان تھے کہ آخر کون ہے جو ایوانِ صدر کے اندر آ کر دیواروں پر یہ گمراہ کن نعرہ لکھ جاتا ہے۔ پہرہ سخت کر دیا گیا اور دو چار دن کے بعد انہوں نے ایک چادر پوش کو ایوان صدر کی دیوار پر یہ نعرے لکھتے ہوئے بمعہ رنگ کے ڈبے اور برش کے ”رنگے ہاتھوں‘‘ پکڑ لیا۔ جب اس کی چادر منہ سے ہٹائی گئی تو سب حیران و پریشان رہ گئے۔ یہ خود صدر فضل الٰہی چوہدری تھے اور اپنی ایوانِ صدر سے رہائی کے نعرے دیواروں پر لکھ رہے تھے۔
پاکستان میں یہ المیہ رہا ہے کہ منتخب صدر عضو معطل اور غیر منتخب یعنی بوٹوں والی سرکار ٹائپ صدر لا محدود اختیارات کے مالک رہے ہیں۔ درمیان میں صدر غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری کو تھوڑا بہت آئین کے آرٹیکل 58/2 بی نے کشتہِ بہادری کھلا کر تگڑا کیا‘ مگر تین اسمبلیاں توڑنے میں یہ طاقت بھی اس طرح خرچ ہوئی کہ بعد میں صدر کا عہدہ ایک بار پھر فضل الٰہی چوہدری کی فوٹو کاپی بن گیا۔ تاہم یہ معذوری صرف اور صرف سویلین صدور یعنی پارلیمنٹ سے منتخب شدہ صدور کے لیے تھی۔ جرنیلی صدور کو اس سے مکمل استثنیٰ حاصل تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی آمد اور پھر گیارہ سال تک سیاہ و سفید کے مالک صدر کے طور پر حکومت نے یہ ثابت کر دیا کہ آئینِ پاکستان صرف منتخب صدر کے ہاتھ باندھنے کا ذمہ دار ہے۔ غیر منتخب صدر اس پابندی سے مکمل آزاد ہے۔
یہ اپنے صدر ممنون حسین صاحب ”بیببے‘‘ آدمی ہیں۔ نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ بلکہ تین اور تیرہ چھوڑو، ڈیرہ سو میں بھی نہیں ہیں۔ اس ڈیڑھ سو سے مراد آپ یہ ہرگز نہ لیں کہ یہ ڈیڑھ سو کے بھی نہیں ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے بارے میں بھی بعض شر پسندوں نے بہت الٹی سیدھی باتیں مشہور کر رکھی تھیں کہ ان کو سال میں محض دو بار دھوپ لگوانے کے لئے تئیس مارچ اور چودہ اگست کو ایوان صدر سے نکالا جاتا ہے اور دو چار گھنٹے دھوپ لگوانے کے فوراً بعد ان کو دوبارہ ایوانِ صدر بھجوا دیا جاتا ہے۔ کسی شر پسند نے بیگمات کو چپ کروانے کا صدری نسخہ پوسٹ کیا کہ آپ ایک کاغذ پر زعفران سے ایک سو ایک بار ممنون حسین لکھ کر اس کاغذ کو پانی کی بوتل میں ڈال دیں۔ گیارہ دن تک یہ تعویز پانی میں بھیگا رہے۔ پھر اس پانی کو اکیس دن تک صبح شام بیوی کو پلائیں۔ انشاء اللہ وہ چودہ اگست اور تیس مارچ کے علاوہ آپ کے سامنے خاموش رہے گی اور بالکل زبان نہیں چلائے گی۔
اب زیادتی دیکھیں! صدر پاکستان نے پمز میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیمار پرسی کے لیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور باقاعدہ قانونی طریقے سے یہ معاملہ متعلقہ دفتر کو بھجوایا۔ انہوں نے پورا ایک دن انہیں جواب سے مطلع کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ اگلے روز صدرِ پاکستان نے دوبارہ یاد دہانی کروائی اور کافی سختی سے اپنا پیغام متعلقہ وزارت تک پہنچایا۔ جواباً انہیں کہا گیا کہ وہ چار بجے ملاقات کے لیے تیار رہیں۔ پھر انہیں کہا گیا کہ چار بجے کے بجائے پانچ بجے پمز پہنچیں۔ پھر پانچ بجے کو چھ بجے میں تبدیل کیا اور آخر میں یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا کہ سکیورٹی کے معاملات کی وجہ سے وہ ایوان صدر نکل کر پمز نہیں جا سکتے۔ صدر جیسے منصب کی بے توقیری تو اپنی جگہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صدر ممنون حسین جیسے بے ضرر آدمی کو بھلا کس سے خطرہ ہو سکتا ہے؟ ویسے بھی ایک ماہ چھ دن بعد انہوں نے کراچی میں آزادی سے گھومنا ہے اور دہی بھلوں سے لطف اٹھانا ہے۔
جواباً صدر پاکستان نے متوقع وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب ڈی گرائونڈ میں ادا کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا ہے کہ وزیراعظم کی حلف برداری ایوان صدر میں ہو گی۔ یہ وہ پہلا اور آخری صدارتی اختیار ہے جو وہ استعمال کر رہے ہیں۔ انج تے فیر انج ای سہی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker