خالد مسعود خانکالملکھاری

خالدمسعودخان کا کالم:جو بائیڈن کی کال چودھری بھکن کی پریشانیاں

چودھری بھکن کو ساٹھ سال کی عمر کی حد پار کیے ہوئے بھی اب کئی سال ہو چکے ہیں اور اس حقیقت کے باوجود کہ وہ اب مملکت خداداد پاکستان میں سینئر سٹیزن کے مرتبے پر فائز ہو چکا ہے‘ تقریباً ہر بات کا نہایت ہی غیر سنجیدہ جواب دینے میں یدِطولیٰ رکھتا ہے۔ کل اسے عالم سنجیدگی میں پایا تو موقع غنیمت جان کر ایک سنجیدہ سوال کر دیا۔ اللہ جانے مجھے کیوں لگا کہ وہ اس سوال کا جواب سنجیدگی سے دے گا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ چودھری! یہ جوبائیڈن آخر ہمارے پیارے وزیراعظم عمران خان کو فون کیوں نہیں کر رہا؟ چودھری یہ سوال سن کر مزید سنجیدہ ہو گیا یا کم از کم مجھے یہی لگا کہ چودھری اس وقت عالم استغراق میں جا کر انگریزی لفظ کے مطابق Damn serious ہو چکا ہے۔ چودھری نے اسی عالم میں اپنا سر ہلایا، چرخِ ناہنجار کی طرف نہایت ہی بے بسی سے دیکھا، پھر ایک ایسی ٹھنڈی سانس بھری جس سے دنیا کی بے ثباتی کے باعث چھائی ہوئی مایوسی جھلکتی تھی۔ پھر اس نے اپنی شہادت کی انگلی سے میز پر آڑی ترچھی دو تین خیالی لکیریں بنائیں اور کہنے لگا: پہلے ایک واقعہ سن لو۔
اس کی بے پناہ سنجیدگی کے باعث میں بھی خلاف معمول بہت زیادہ توجہ سے اس کی بات سننے کے لیے تیار ہو گیا۔ چودھری کہنے لگا: سردار بلدیو سنگھ کو سسپنس سے بھرپور جاسوسی کتابیں پڑھنے کا ازحد شوق تھا بلکہ یوں سمجھ لو کہ اسے ایسی کتابیں پڑھنے کا باقاعدہ ٹھرک تھا‘ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ وہ یہ کتابیں نہایت ہی عجیب و غریب طریقے سے پڑھتا تھا۔ وہ یہ جاسوسی کتابیں کھولتا، ان کے صفحات کی تعداد کو دو پر تقسیم کرکے نصف نکالتا اور پھر کتاب کو عین درمیان میں سے پڑھنا شروع کر دیتا۔ لوگ اس کی اس حرکت پر بڑے حیران ہوتے تھے کہ آخر وہ ان کتابوں کو درمیان سے پڑھنے کے بجائے شروع سے کیوں نہیں پڑھتا؟ لوگوں نے تجسس کے مارے سردار بلدیو سنگھ سے اس بارے کئی بار دریافت کیا مگر سردار ہر پوچھنے والے کو غچہ دے کر بات ادھر ادھر کردیتا۔ خیر! ایک دن ایک دوست نے بہت اصرار کرکے بلدیو سنگھ کو مجبور کردیا کہ وہ اس راز سے پردہ اٹھا دے۔ تنگ آکر بلدیو سنگھ کہنے لگا: لو پھر سنو! یہ جاسوسی کتابیں جو تجسس اور سسپنس سے بھرپور ہوتی ہیں جب میں ان کو درمیان میں سے پڑھنا شروع کرتا ہوں تو مجھ کو ایک چھوڑ دو تجسس لاحق ہو جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کتاب کا آغاز کیا تھا اور دوسرا یہ کہ اب اس کا انجام کیا ہوگا؟ یہ کہہ کر چودھری تھوڑی دیر کیلئے خاموش ہو گیا۔ ایمانداری کی بات ہے کہ کل مجھ پر بھی یہ اسرار کھل گیا کہ چودھری کے Damn serious اور Damn fool ہونے میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
اپنے سوال کا یہ حیران کن جواب سن کر تو میں بھی مارے حیرانی کے خاموش ہو گیا۔ مزید کہنے اور پوچھنے کے لیے کیا رہ گیا تھا؟ چودھری میری پریشانی اور خاموشی دیکھ کر کہنے لگا: دراصل میرا اپنا یہی حال ہے کہ اس ٹیلی فون کال کے بارے میں جب بھی سوچتا ہوں‘ میری حیرانی اور پریشانی سردار بلدیو سنگھ کے تجسس سے بھی دوگنا ہو جاتی ہے۔ سردار بلدیو سنگھ کو دو پریشانیاں لاحق تھیں کہ اس کتاب کا آغاز کیا تھا اور انجام کیا ہوگا۔ میری دو چھوڑ چار پریشانیاں ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ دراصل جوبائیڈن عمران خان کو اس لیے فون نہیں کرتا کہ وہ ٹرمپ کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے ایک بار پھر حیران ہو کر چودھری بھکن سے پوچھا کہ اس بات سے اس کی کیا مراد ہے کہ وہ عمران خان سے اس لیے بات نہیں کرتا کہ وہ ٹرمپ کو پسند نہیں کرنا۔ چودھری ہنسا اور کہنے لگا: دراصل ٹرمپ کو بھی دعویٰ تھا کہ اسے ہر چیز کا پتا ہے اور اپنے خان صاحب کو بھی اپنے بارے میں یہی خوش فہمی ہے‘ اس لیے جوبائیڈن اپنی ٹرمپ سے دشمنی کی وجہ سے عمران خان کو فون نہیں کرتا۔ ویسے بھی اپنے خان صاحب نے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا ہوا تھا‘ اس لیے جوبائیڈن اپنے سیاسی مخالف سے اسی طرح بات نہیں کرنا چاہتا جس طرح خان صاحب اپنی اپوزیشن سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں۔
میری دوسری پریشانی یہ ہے کہ ممکن ہے جوبائیڈن صرف اس خوف سے عمران خان کو فون نہ کررہا ہو کہ کہیں وہ آگے سے ان کی بات سنے بغیر ہی انہیں Absolutely not نہ کہہ دیں۔ میں نے کہا چودھری: کچھ خدا کا خوف کر‘ آخر اپنے خان صاحب امریکی صدر کی بات سنے بغیر اسے Absolutely not کیسے کہہ سکتے ہیں؟ چودھری قہقہہ مار کر ہنسا اور کہنے لگا: اگر خان صاحب امریکہ کی طرف سے اڈے مانگنے کے مطالبے کے بغیر ہی اڈے دینے سے انکار کرتے ہوئے اپنا یہ شہرۂ آفاق جملہ ان کے منہ پر مار سکتے ہیں تو بھلا اب اس جملے کی اتنی مشہوری اور ہردلعزیزی کے بعد جوبائیڈن کی کوئی بات سننے سے قبل ہی ان کو Absolutely not کیوں نہیں کہہ سکتے؟
میری تیسری پریشانی یہ ہے کہ ممکن ہے‘ خان صاحب جوبائیڈن کی پوری بات سننے کے بعد ان کو کسی بھی قسم کا این آر او دینے سے انکار کر دیں۔ میں پھر چکرا گیا۔ میں نے کہا: چودھری! کیا تمہارا دماغ ٹھکانے پر ہے؟ آخر جوبائیڈن عمران خان سے کس چیز کا این آر او مانگے گا اور کیوں مانگے گا؟ چودھری کہنے لگا: لئو جی نویں سنو! بھلا خان صاحب پہلے جن کو این آر او دینے سے انکار کر رہے ہیں‘ انہوں نے ان سے کب مانگا ہے این آر او؟ خان صاحب سے ان کا کوئی مخالف یا ناپسندیدہ بندہ بات کرنے کی بھی کوشش کرے تو وہ بنا سنے اسے این آر او دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ممکن ہے جو بائیڈن کے کسی مشیر نے ان کے کان بھر دیئے ہوں کہ اگر خان صاحب کو فون کیا تو وہ آگے سے آپ کو بنا مانگے ہی این آر او دینے سے انکار کر دیں گے اور اگلے روز اخبار میں بیان آ جائے کہ خان صاحب نے امریکی صدر کو این آر او دینے سے صاف انکار کر دیا ہے‘ اور خان صاحب کے کھلاڑی لڈیاں ڈالنی شروع کر دیں۔
چودھری مجھ سے پوچھنے لگا کہ کیا میں نے درخواست ضمانت خارج کرنے کے شوقین جج کا واقعہ سنا ہے؟ میں نے جواباً ایسے کسی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ چودھری کہنے لگا: یہ واقعہ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے‘ جناب نسیم حسن شاہ نے سنایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک جج صاحب تھے اور ان کو درخواست ضمانت مسترد یعنی خارج کرنے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن ان کی عدالت میں درخواست ضمانت دائر ہوئی۔ وکیل نے ابھی دلائل کا آغاز بھی نہیں کیا تھا کہ جج صاحب نے پوچھا کہ کیس کس نوعیت کا ہے۔ وکیل نے کہا جناب یہ درخواست ضمانت ہے۔ جج صاحب نے کیس سنے بغیر ہی حکم دیا کہ درخواست ضمانت خارج۔ وکیل نے عرض کیا: حضور ابھی تو درخواست میرے بوجھے (جیب) میں ہے۔ جج صاحب نے فرمایا: بوجھے وچ ای خارج (جیب میں ہی خارج)۔ چودھری کہنے لگا: جب بندے کو این آر او کی درخواستیں بوجھے میں ہی خارج کرنے کی عادت ہو تو بھلا درخواست سننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
چودھری اٹھتے ہوئے کہنے لگا: اور میری چوتھی اور آخری پریشانی یہ ہے کہ ممکن ہے جوبائیڈن صاحب کے فون میں بیلنس ہی نہ ہو یا پاکستان کی کال ان کے مفت والے پیکیج میں نہ ہو۔ میں نے کہا: چودھری! بہتر ہے اب تم چلے ہی جا‘ ویسے تو تم ہمیشہ ہی غیرسنجیدہ ہوتے ہو مگر آج تو تم نے غیرسنجیدگی کی حد ہی مکا دی ہے۔ چودھری جاتے جاتے رکا اور کہنے لگا: جب خلیجی علاقے سے اڑنے والے بی باون امریکی بمبار طیارے دائیں بائیں کا خیال رکھے بغیر بلا اجازت افغانستان میں بم باری کر سکتے ہوں تو بھلا پھر فون کرنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker