خالد مسعود خانکالملکھاری

پاس کر یا برداشت کر: کٹہرا / خالد مسعودخان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی اور مرکز کے ساتھ ساتھ صوبہ پنجاب میں حکومت سازی کا ذکر عمران کی بائیس سالہ جہد مسلسل کے حوالے سے ہوگا‘ لیکن اس میں جہانگیر ترین کے جہاز کا ذکر نہ کرنا‘ نہایت ہی ناانصافی ہوگی۔ اس پر تو بڑے لطیفے چل رہے ہیں؛ ایک امریکی دوست (امریکہ میں رہنے والا پرانا پاکستانی‘ جو اب امریکی شہری ہے) نے لطیفہ بھیجا کہ جہاز لاہور سے اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھا‘ تب پچھلی سیٹ سے کسی نے آواز لگائی: یہ شہباز شریف صاحب کو کس نے جہاز میں بٹھا لیا ہے؟ جہاز کو جہلم سے واپس موڑ کر واپس لاہور لے جایا گیا اور میاں صاحب کو لاہور میں اتارا گیا۔ مرکز میں تحریک انصاف کو سب سے بڑی پارٹی‘ ووٹروں نے بنایا‘ لیکن اسے پارلیمنٹ کی اکثریتی پارٹی بنانے میں اس جہاز کا ذکر سنہرے حروفوں سے کیا جائے گا۔
خیال تھا کہ آج کا کالم اسی حوالے سے لکھوں کہ یار دوست گزشتہ آٹھ دس روز سے اسی بارے ”گھپ‘‘ مچا رہے ہیں۔ ایک دوست کہنے لگا کہ اس الیکشن میں بہت زیادہ پری پول رگنگ ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا: وہ کیسے؟ کہنے لگا: ڈھیر سارے الیکٹ ایبلز کو گھیر گھار کر تحریک انصاف میں شامل کروایا گیا اور تحریک انصاف کو کامیاب کروایا گیا۔ میں نے کہا: جواب ساتھ ساتھ ہی لے لیں‘ تو اچھا ہے۔ اب میری عمر ایسی نہیں کہ بہت ساری چیزیں بیک وقت یاد رکھ سکوں۔ صرف جنوبی پنجاب کا حال لے لیں‘ جو الیکٹ ایبلز بقول آپ کے‘ گھیر گھار کر لائے گئے ‘وہ کونسا تحریک انصاف کو کامیاب کروا گئے؟ احمد یار ہراج آیا‘ ہار گیا۔ رضا حیات ہراج آیا‘ ہار گیا۔ پی ٹی آئی کی مدد کے لئے (بقول اس دوست کے) سکندر بوسن آزاد لڑا کہ بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہو جائے گا‘ وہ ہار گیا۔ مصطفیٰ کھر کو الیکٹ ایبل سمجھا جاتا تھا‘ وہ ہار گیا۔ سلطان ہنجرا آزاد لڑا ‘تا کہ بقول شخصے پریشر گروپ بنایا جاسکے‘ وہ ہار گیا۔
وہ دوست کہنے لگا: جو ہار گئے ہیں‘ ان کا ذکر تو آپ نے کر دیا اور جو جیت گئے ہیں ‘ان کا ذکر آپ نے نہیں کیا۔ میں نے کہا: مثلاً؟ وہ کہنے لگا: مثلاً: خسرو بختیار‘ مثلاً: سردار نصر اللہ دریشک ‘مثلاً :جعفر لغاری۔ میں نے کہا: ساتھ ساتھ جواب لے لیں۔ خسرو بختیار نے 2002ء کا الیکشن مسلم لیگ (ق) کی طرف سے لڑا اور جیت گیا۔ 2008ء میں ہار گیا۔ 2013ء میں آزاد الیکشن لڑا اور جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگیا۔ اب کی بار پی ٹی آئی کی طرف الیکشن لڑا ‘آزاد جیت کر 2013ء میں بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوا۔ اب ہوا کا رخ دیکھ کر پی ٹی آئی میں آگیا‘ کونسی نئی بات ہوئی؟ خرابی کیسی؟ پہلے ق میں تھا‘ پھر ن میں آیا اور اب پی ٹی آئی میں۔ جب مسلم لیگ ن میں آیا تو یعنی گزشتہ الیکشن میں جیت کر مسلم لیگ ن میں آیا۔ ن والوں نے قبول کیا‘ عزت بخشی‘ق لیگ سے واپس آنے پر کوئی سوال جواب نہیں کیا۔ اب پی ٹی آئی کی باری‘ آپ سوال جواب کر رہے ہیں۔ آگے چلیں۔ وہ دوست کہنے لگا: سردار نصراللہ دریشک۔ میں نے کہا: اس کا بھی یہی حال ہے۔ ایسی ہی صورتحال ہے ۔ 2002ء میں آزاد الیکشن لڑا۔ اس سے پہلے کی تاریخ لمبی ہے۔ وہ 1970ء سے الیکشن لڑ رہاہے۔ میں صرف 2002ء سے ذکر کر رہا ہوں۔ آزاد جیت کر ق میں چلا گیا۔ 2008ء میں دو سیٹوں سے لڑا اور دونوں ہار گیا۔ 2013ء کے الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پر صوبائی اسمبلی کا رکن بنا اور پھر ن لیگ میں چلا گیا۔ اب 2018ء میں وہ پی ٹی آئی کا امیدوار تھا‘ اس میں کونسی نئی بات یا انہونی ہوئی؟ رہ گیا جعفر لغاری۔ اب اس کی سن لو۔ 2002ء میں آزاد۔ میرا مطلب ہے‘ نیشنل الائنس کی طرف سے الیکشن لڑا اور جیتا۔ 2008ء میں مسلم لیگ ق کی طرف سے الیکشن لڑا اور جیتا۔ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے الیکشن لڑا اور جیتا۔ اب 2018ء کا الیکشن پی ٹی آئی کی طرف سے لڑا اور جیتا۔
اس ساری گفتگو اور بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ خسرو بختیار‘ سردار نصر اللہ دریشک اور سردار جعفر لغاری‘ تینوں 2008ء میں مسلم لیگ ن میں نہیں تھے۔ ان کو 2013ء میں گھیر گھار کر بقول آپ کے‘ مسلم لیگ ن میں لایا گیا۔ تب آپ لوگوں نے ان کو قبول کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی کاوشوں کو (اگر وہ تھیں) بعد شکریہ خوش آمدید کہا۔ ان کے ووٹوں کو اپنی حکومت کے لئے استعمال کیا۔ ان الیکٹ ایبلز کو پارٹی میں جگہ دی۔ اب اگر یہ الیکٹ ایبلز اپنی پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے‘ نئے الیکشن میں نئی پارٹی میں چلے گئے ہیں‘ تو اس میں حیرانی کیسی؟ وہ تو یہ کام گزشتہ کئی الیکشنوں سے کر رہے تھے۔ وہ دوست کہنے لگا: میرا مطلب یہ ہے کہ یہ کام ”اوپر والے‘‘ کر رہے ہیں۔ بس اس پر اعتراض ہے۔ میں نے کہا :یہی بات میں کہہ رہا ہوں کہ جب گزشتہ الیکشن میں یہی الیکٹ ایبلز مسلم لیگ ن میں آئے‘ تو مسلم لیگ ن نے ان سے پورا استفادہ فرمایا۔ مسلم لیگ ن نے ان الیکٹ ایبلز سے پورا ”انجوائے‘‘ کیا۔ اب رونا کس بات کا؟ اگر آپ نے مزے کرتے ہوئے اعتراض نہیں کیا‘ تو اب اعتراض کیسا؟ اگر تمہارا خیال ہے کہ ان کو اسٹیبلشمنٹ ہانک کر اس بار پی ٹی آئی میں لائی ہے‘ تو گزشتہ بار مسلم لیگ ن میں بھی وہی لے کر گئی ہوگی۔ کم از کم مسلم لیگ (ن) کو تو اس پر احتجاج نہیں کرنا چاہئے۔ ان الیکٹ ایبلز کو پہلے مسلم لیگ ن نے انجوائے کیا‘ اب پی ٹی آئی کی باری ہے۔ رونے چلانے سے فائدہ؟ یہ ہمارے الیکشن کا حصہ ہے۔
مسلم لیگ (ن) سے پی ٹی آئی کی طرف بھاگنے والوں میں تقریباً اسی نوے فیصد وہی ہیں‘ جو 2008ء میں ق لیگ چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں آئے تھے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت میں آدھے ارکانِ اسمبلی اور وزراء ق لیگ چھوڑ کر آنے والے تھے‘ تب تو آپ لوگ خاموش تھے؛ حتیٰ کہ پرویز مشرف کے پستول بدل بھائی امیر مقام کو نہ صرف مسلم لیگ (ن) میں قبول کیا‘ بلکہ خیبرپختونخواکی تنظیمی ذمہ داری بھی اس کو دے دی۔ زاہد حامد‘ سکندر بونس‘ ریاض پیرزادہ اور اسی طرح اور لوگوں کو وزارتیں دیں۔ وہ دوست زچ ہوگیا اور کہنے لگا: کیا آپ اس ساری پریکٹس کی حمایت کرتے ہیں؟ میں نے کہا: ہرگز نہیں‘ لیکن اس پر اعتراض کا حق صرف اور صرف عام آدمی کو ہے۔ غیر جانبدار کو ہے‘ صاحب ِضمیر کو ہے‘ ان سیاسی پارٹیوں کو ہرگز نہیں ‘جو خود اس کو فروغ دینے کا باعث ہیں۔ جو خود اسے انجوائے کرتی رہی ہیں‘ جو خود اس سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں‘جنہوں نے اسے انجوائے کیا ہے‘ وہ اب اس پر باں باں نہ کریں۔ جنہوں نے ان الیکٹ ایبلز کو خود قبول کر کے حکومت کی ہے‘ اکثریت بنائی ہے‘ الیکشن جیتے ہیں‘ کم از کم وہ اب ان الیکٹ ایبلز کو‘ لوٹوں کو‘ وفاداریاں تبدیل کرنے کو ‘ایک بار پھر وفاداریاں تبدیل کرنے پر نہ تو طعنے ماریں اور نہ ہی ان کے بھاگ جانے کو پری پول رگنگ کا نام دیں۔ وہ گزشتہ الیکشن میں یہ پری پول رگنگ انجوائے کر چکے ہیں‘ اس بار برداشت کریں۔ کم از کم ان لوگوں کو رونے پیٹنے کا‘ شور مچانے کا‘ نعرے مارنے کا‘ احتجاج کرنے کا کوئی حق نہیں‘ جو یہی سب کچھ خود بھی کر چکے ہیں اور اس کے مزے بھی لوٹ چکے ہیں۔
ایمانداری کی بات ہے کہ میں ذاتی طور پر اس بات کا خواہشمند ہوں کہ ہمارے ہاں سیاسی اخلاقیات پروان چڑھیں۔ پارٹیاں بدلنے‘ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے اور ہر الیکشن سے پہلے لوٹا بننے پر پابندی ہونی چاہئے۔ اس بارے الیکشن کمیشن کو قانون سازی کرنا چاہئے‘ الیکشن لڑنے کے لئے اس پارٹی میں کم از کم مدت کا تعین کیا جانا چاہئے۔ پارٹی بدلنے والے کو ایک خاص مدت تک الیکشن لڑنے سے پہلے اس پارٹی کی رکنیت کا وقت پورا کرنا چاہئے‘ لیکن جب تک یہ نہیں ہوتا‘ تب تک سیاسی پارٹیوں کو برداشت کرنا چاہئے۔ ویسے کوئی پارٹی بھی ایسی قانون سازی کی دل سے حامی نہیں ہوگی کہ سب نے باری باری اس کے مزلے لوٹے ہیں۔
فی الحال سڑکوں پر چلنے والے ٹرکوں کے پیچھے لکھے گئے ‘ایک مشہور جملے سے لطف لینا چاہئے ”پاس کر یا برداشت کر‘‘۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker