خالد مسعود خانکالملکھاری

باپ کے پاؤں: کٹہرا / خالدمسعودخان

اب یاد نہیں یہ کہانی کہاں پڑھی، برسوں گزر گئے کسی ماہنامہ رسالے میں پڑھی تھی۔ ایسی شاندار کہانیاں تو صرف شکیل عادل زادہ اپنے رسالے سب رنگ میں چھاپا کرتے تھے‘ سو گمان ہے وہیں پڑھی ہو گی۔ ایک ڈیڑھ صفحے کی کہانی تھی مگر تاثر ایسا کہ آج تک دل پر نقش ہے۔ عالمی ادب سے ترجمہ شدہ کہانی تھی، اب ویسا پیرایہ تو ممکن نہیں کہ دہرا سکوں مگر اس کہانی کا مرکزی خیال ہی لکھ سکوں تو بڑی بات ہے۔
ایک نوجوان اور ایک بوڑھا شخص ریستوران میں داخل ہوئے، نوجوان نے بوڑھے شخص کو سہارا دے رکھا تھا۔ غالباً دونوں باپ بیٹا تھے، یہ شہر کا مہنگا ریستوران تھا، نوجوان نے اپنے والد کو آرام سے کرسی پر بٹھایا، اس کے باپ کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، نوجوان نے کھانا کا آرڈر دیا اور کھانا آنے پر اپنے باپ کے گلے میں نیپکن باندھا۔ کھانا اس کے سامنے سجایا اور اسے اپنے ہاتھوں سے کھلانا شروع کیا۔ باپ نے کھانا کھاتے ہوئے میز پر گرایا، ہاتھ مار کر پانی کا گلاس گرایا، کھانسی کی تو کافی سارا آدھ کھایا کھانا اپنے بیٹے پر گرا دیا۔ بیٹے نے نہایت سکون سے اپنے اوپر گرا کھانا نیپکن سے صاف کیا۔ میز کا پانی صاف کیا، سارا ریستوران یہ منظر دیکھ رہا تھا کچھ لوگ اس پر طنزیہ نظریں ڈال رہے تھے کہ اتنے عمدہ ریستوران میں یہ کون گنوار سے لوگ آ گئے ہیں‘ جنہیں اس طرح کے ریستوران میں بیٹھنے اور کھانے کے آداب بھی نہیں آتے مگر نوجوان سب سے بے پروا اپنے والد کو نہایت سکون سے کھانا کھلا رہا تھا۔ اسے ریستوران میں بیٹھے دوسرے لوگوں کی نظروں کی کوئی پروا نہیں تھی۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ تو اپنی میز پر بیٹھے اس کی طرف دیکھ کر آپس میں اشارے بھی کر رہے تھے مگر وہ نوجوان کسی کی طنزیہ نظر یا اشارے کا رتی برابر اثر نہیں لے رہا تھا۔
بوڑھے نے کھانا کافی دیر میں کھایا، اس دوران نوجوان کا اپنا کھانا ٹھنڈا ہو گیا، نوجوان نے اپنے والد کو کھانا کھلانے کے بعد اپنا کھانا کھایا، پھر اپنے باپ کو ریستوران کے واش روم میں لے کر گیا اور اس کی قمیص پر گر ے سالن وغیرہ کے داغوں کو دھلایا۔ نیپکن سے خشک کیا، منہ کو اچھی طرح دھلایا اور واپس کرسی پر بٹھایا۔ اس دوران وہ مسلسل اپنے باپ کے منہ سے گرنے والی رال بھی صاف کرتا رہا۔ اس سارے عمل کے دوران وہ ایک بار بھی تنگ یا جھنجھلایا ہوا نظر نہیں آیا۔ اس نے یہ سب کچھ نہایت سکون‘ اور اس سے بڑھ کر محبت سے کیا۔ ریستوران میں بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کی نظروں میں اب طنز کی بجائے اس نوجوان کیلئے احترام اور تعظیم کے تاثرات تھے۔ نوجوان نے بل منگوایا اور ادائیگی کے بعد سہارا دیکر اپنے والد کو اٹھایا اور ان کا ہاتھ اپنی گردن کے گرد لپیٹ کر چل پڑا۔ سارے ریستوران میں اب مکمل خاموشی تھی، سب سرگوشیاں ختم ہو چکیں تھیں۔ ایک ٹیبل سے ایک اور بوڑھا شخص اٹھا، اس نوجوان کے پیچھے سے جا کر اس کا کندھا تھپتھپایا۔ نوجوان پلٹا تو اس بوڑھے نے‘ جس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نوجوان کو کہا: نوجوان! تم اس ریستوران میں کچھ چھوڑے جا رہے ہو۔ نوجوان نے پلٹ کر اپنی میز کی طرف دیکھا پھر کہا: سر! میرا نہیں خیال کہ میں کچھ یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ بوڑھے نے کہا: تم یہاں نوجوانوں کیلئے مثال اور ہم جیسے بوڑھوں کیلئے امید کی کرن چھوڑ کر جا رہے ہو۔ ریستوران میں اس کے جانے کے بعد کئی منٹ تک ایسی خاموشی رہی کہ اگر سوئی بھی گرتی تو اس کی آواز سنائی دیتی۔
اس بار سفر میں برسوں بعد مجھے یہ کہانی محمد اقبال کو دیکھ کر یاد آئی ہے۔ جو میں نے لکھا ہے‘ یہ کہانی کے تاثر کا عشر عشیر بھی نہیں مگر میرا خیال ہے کہ میں بات آپ تک پہنچانے میں شاید کامیاب ہو گیا ہوں۔
اس جوان کا نام محمد اقبال تھا، اس کی سیٹ دو قطار پیچھے تھی، جہاز چلنے تک وہ اپنے والد کی دیکھ بھال کر رہا تھا تاوقتیکہ جہاز کے اڑنے کا اعلان ہو گیا۔ اقبال پیچھے جا کر بیٹھ گیا، جہاز اڑنے کے دوچار منٹ بعد ہی وہ دوبارہ آگے آ گیا۔ ایئر ہوسٹس اس سے الجھ پڑی کہ ابھی سیٹ بیلٹ کے نشانات نہیں بجھے اور وہ اٹھ کر آ گیا ہے۔ وہ دوبارہ پیچھے چلا گیا۔ جونہی نشانات بجھے‘ وہ دوبارہ آگیا، ایئر ہوسٹس سے تکیہ لے کر اپنے والد کے پیچھے رکھا اور پھر چائے لینے چلا گیا۔ واپس آ کر اس نے چائے اپنے والد کو دی اور اپنے والد کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے شخص کو کہا کہ اگر وہ مہربانی کر کے اس کی سیٹ پر چلا جائے تو وہ بڑا شکر گزار ہو گا۔ اگر وہ سیٹ اسے مناسب نہ لگے تو وہ بے شک واپس اپنی سیٹ پر آ جائے۔ وہ کہنے لگا: اس کے والد کی دائیں ٹانگ مصنوعی ہے۔ اس کو دوران سفر وہ اتار دے گا تاکہ اس کے والد صاحب آرام سے بیٹھ سکیں اور سفر کر سکیں، پھر سفر کے اختتام پر اسے یہ ٹانگ دوبارہ لگانا ہو گی۔ اس سارے کام کیلئے اسے اپنے والد کے دائیں طرف بیٹھنا پڑتا ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ شخص شروع میں شاید یہ درخواست نہ مانتا مگر اب صورتحال مختلف تھی۔ ایئر ہوسٹسوں سے لیکر اس قطار کے سب مسافر محمد اقبال کی والد سے محبت، خدمت اور تابعداری دیکھ کر دل ہی دل میں اس کے شیدائی ہو چکے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے میں!
سارا راستہ اقبال نے اپنے والد کا اس طرح خیال رکھا جیسا کہ کوئی ماں اپنے چھوٹے سے بچے کا رکھ سکتی ہے۔ آٹھ گھنٹے کے سفر میں اقبال ایک بار بھی تنگ نہ پڑا، اس کے والد بات کم ہی کرتے تھے، سب کچھ خاموشی سے ہو رہا تھا۔ گفتگو اگر تھی تو بالکل یکطرفہ، اقبال ہی بولتا تھا اور خود ہی جواب دیتا تھا۔ چائے لایا اور چائے پلانا شروع کی، تھوڑی سی چائے پی کر اس کے والد نے واپس کر دی، اقبال کہنے لگا: ابا جی ! اگر دل بھر گیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پی لیں۔ والد نے چائے اس کی طرف بڑھا کر اشارہ کیا کہ وہ پی لے۔ اقبال بولا ابا جی! میں اور لے لوں گا۔ آپ میری فکر نہ کریں۔ وہ سامنے چائے والا کاؤنٹر ہے۔ میں ایک منٹ میں لے آؤں گا، آپ پی لیں۔ اس کے والد نے چائے پینا شروع کر دی، دو چار گھونٹ بھر کر پھر کپ اقبال کی طرف کر کے اشارہ کیا کہ وہ پی لے۔ اقبال کہنے لگا: ابا جی! اگر دل بھر گیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ آپ اور پی لیں۔ اس کے والد نے ہتھیلی اٹھا کر اشارہ کیا کہ بس اب وہ اور نہیں پئیں گے۔ باقی چائے اقبال نے پی لی، یہ آٹھ گھنٹے کے سفر کے دوران چار پانچ بار ہوا۔
اقبال نے اپنے باپ کو کھانا اس اہتمام اور لگن سے کھلایا کہ مجھے برسوں پرانی وہ کہانی یاد آ گئی جو میں لکھ چکا ہوں۔ اقبال کے والد نے شلوار قمیص پہن رکھی تھی، شلوار کے نیچے ایک اور شلوار تھی جس کا ایک طرف مکمل پائنچہ تھا جبکہ دائیں طرف محض نیکر جتنا پائنچہ تھا۔ اقبال نے جب مصنوعی ٹانگ اتاری تو پہلے اوپر والی شلوار کا دایاں پائنچہ اتارا ، پھر ٹانگ کھولی، اوپر دوبارہ شلوار پہنا دی۔ یہی عمل ٹانگ لگاتے وقت دہرایا۔
اللہ جنت نصیب کرے ابا جی کو، وہ مجھ سے بڑے خوش گئے۔ میں نے بھی حتی المقدور ان کی خدمت کی، تابعداری کی اور یاد نہیں کہ ان کے رخصت ہونے سے کئی سال پہلے تک کوئی حکم عدولی کی ہو۔ لڑکپن کی اور بات ہے‘ تب بھی ان کے ہر حکم پر سر ضرور ہلاتا تھا، کرتا اپنی تھا مگر بعد میں اللہ نے ہدایت دی اور بات محض سر ہلانے سے آگے چلی گئی۔ لیکن جوہر آباد کے اقبال کی بات دوسری تھی۔ مجھے تو اپنی زندگی میں ایک دن بھی ایسا یاد نہ آیا جو میں نے اس طرح گزارا ہو جس طرح اقبال نہ یہ آٹھ گھنٹے گزارے۔ اقبال کا تعلق پاکستان کے علاقے جوہر آباد سے تھا، وہ بریڈ فورڈ میں رہائش پذیر ہے اور اس نے والد صاحب کو جوہر آباد کے بجائے اپنے پاس بریڈ فورڈ میں ہی رکھا ہوا ہے۔ اس نے اپنے ابا جی کی ٹانگ کٹنے کا سارا واقعہ سنایا، گزشتہ سال سال سے وہی یہ سب کچھ کر رہا ہے۔
مانچسٹر پہنچنے سے آدھ گھنٹہ پہلے اس نے اپنے والد کی ٹانگ دوبارہ لگائی، جونہی وہ اس کام سے فارغ ہوا میں نے آگ بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھاما اور انہیں چوم لیا، مسافروں کی ساری قطار یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ مجھے اس کام میں رتی برابر جھجک محسوس نہ ہوئی بلکہ ایسا کرتے ہوئے فخر سا محسوس ہوا۔ اقبال کی ہاتھ کی پشت میرے آنسوئوں سے بھیگ گئی۔ مجھے یقین ہے ابا جی اوپر میری اس بات سے خوش ہوئے ہوں گے۔ انہیں بھی اپنے پاؤں یاد آئے ہوں گے جو ہم سب بہن بھائیوں نے سینکڑوں بار دبائے تھے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker