کئی دہائیوں پرانی بات ہے بوسن روڈ ملتان پر نا تو ابھی اتنی ٹریفک ہوتی تھی کہ راستہ بلاک ہوتا اور نا ہی ابھی نجی کوٹھیوں میں تعلیم بیچنے والے اتنے ڈھابے کھلے تھے کہ ان کی پارکنگ کا رش فائر بریگیڈ کی گاڑیوں یا ایمبولینسزکی ایمرجینسی نقل وحمل میں رکاوٹ بنتا۔سڑک کے دونوں اطراف اونچے گھنے لہلہاتے درختوں کا ٹھنڈا سایہ آنے جانے والوں کے سروں پر شامیانہ ہوتا تھا۔ اور بہت سی سواریوں کی طرح خاکی رنگ والی ایک سوزوکی ایف ایکس بھی فراٹے بھرتی نظر آتی تھی۔اس گاڑی کی انفرادیت یہ تھی کہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک ایسا نوجوان براجمان ہوتا جس کی ایک دنیا دیوانی تھی۔ مناسب قد‘ دھان پان سا جثہ‘ بولتی آنکھوں‘ کندھوں کو چھوتی ہوئی گہرے سیاہ بالوں کی لٹیں‘ گھنی مونچھوں کے نیچے سے جھانکتی ایک خفیف سی شرارتی مسکراہٹ اور ہونٹوں میں دبی سگریٹ کے لمبے لمبے کش بھرتا یہ چلبلا سا نوجوان خالد سعید تھا‘ جو ہمیشہ ایسا ہی رہا۔کتابوں‘ کاغذوں‘ مسّودوں اور پرنسٹن سگریٹ کی ڈبیوں سے لدی پھندی اس کی یہ ایف ایکس کارایک چلتی پھرتی لائبریری سے کم نہ تھی۔
وقت گزرتا رہا ‘ پہلے ہنستے کھیلتے اور لہلہاتے درختوں کا قتل عام ہوا پھر سڑکوں پر فلائی اوورز کا قبضہ ہونے لگا‘ تعلیم بیچنے والے ڈھابوں نے ملٹی سٹوری کمپلیکسز کا روپ دھار لیا جبکہ دوکانیں شاپنگ مال اور پلازوں کی شکل میں تن کر کھڑی ہو گئیں۔ایسے میں مالیاتی اداروں کی عیار کمرشل حکمت عملی نے نت نئی آٹو موبائلزکے بڑے سیلابی ریلے کا رخ امیر بننے کی ایک نا ختم َہونے والی دوڑ کی طرف موڑ دیا۔جبری طور پر مسلط کی جانے والی امیر کو مزید امیر بنانے والی اس اقتصادی روش نے شہر کااپنافطرتی رنگ ہی دھو ڈالا تھا۔ مگرخالد سعید تو فطرت کا دلدادہ تھا اورسائنس کی اس بے لگام ترقی کی وجہ سے ذہنوں‘ ضمیروں اور زمانوں کی بدلتی ہوئی روش کو فطرت کا سب سے بڑا قاتل سمجھتا تھا۔ اسے ان تمام درختوں سے عشق تھا جنہیں ترقی کے نام نہاد سفر کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا ۔ ان تمام راستوں سے عشق تھا جن کے حسن کی کشادگی پر فلائی اوورز مافیا نے قبضہ کر لیا تھا۔ اسے دکھ ضرور تھا مگرد ہائیوں بعد بھی وہ کتابوں‘ کاغذوں‘ مسّودوں اور پرنسٹن سگریٹ کی ڈبیوں سے لدی پھندی اپنی اسی پرانی ایف ایکس پران درختوں اور راستوں کی خوبصورتیوں کے قتل عام کے باوجود اڑتا پھرتا رہا اور اپنی محبت‘ علم اور انسانیت بانٹنے کی روش پر قائم رہا ۔فرق صرف اتنا آیا کہ اس کے بالوں میں سے چاندی جھانکنے لگی مگر اسکی توانائی اور نوجوانی دونوں دوچند ہوتی گئیں۔ شاید بھابھی ارشاد کے بعد یہ ایف ایکس ہی تھی جس نے اس کا آخری وقت تک ساتھ دیا تھا۔
مطالعہ اس کاعشق،مکالمہ اس کا جنون اور محبت اس کا ایمان تھا۔ ہم نے بارہا سوچا بلکہ بہت ہی سوچا ‘ کئی بار کوشش بھی کی کہ ہم محبت کے اس دیوتا کے خدّوخال کی تجسیم کر سکیں‘ اس کے رنگوں کو ترتیب دیکر اس کا کوئی خاکہ کھینچ سکیں کہ دنیا اس کوہماری آنکھ سے بھی دیکھتی۔۔۔مگریہ ہو نہ سکا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ پٹھانے خان کی تان میں سرایت وہ ہوک کہیں اندر سے اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جو سرکار غلام فرید کے کلام کی گائیکی پر اس کے پورے وجود میں دوڑتی تھی اور جسے شاید سرکار نے بھی ایسے ہی کسی دکھ میں ڈوب کر تخلیق کیا تھا؛
میڈا سانول مٹھڑا شام سلونڑا من موہن جانان وی توں
میڈا مرشد ہادی پیر طریقت شیخ حقائق دان وی توں
میڈا ڈیکھنڑ‘ بھالنڑ‘ جاچنڑ‘ جوچنڑ سمجھنڑ‘ جانڑ سنجانڑ وی توں
میڈے تھدڑے ساہ تے مونجھ منجھاری‘ ہنجڑوں دے طوفان وی توں
یہ تھا ہمارا خالدی۔۔۔ہم سب کا عشق،ایمان، مصحف اورمان۔ لفظوں کا دامن تو ویسے بھی اتنا محدود ہے کہ اس کی شخصیت کااحاطہ نہیں کر سکتے۔۔۔اور یہی
اس کا کمال تھاکہ وہ جوتھا ‘ سوتھا اور اسے اس کے لہجوں،روئیوں اور پہلوؤ ں کو کسی ایک سانچے میں قید ہی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو ایسا زم زم تھا جو ہر برتن کے ظرف کے مطابق اس کی شکل میں ڈھل جاتا تھا۔
تمام عمر وہ ایک ایسے مفتوح معاشرے میں اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھنے کے عمل سے گزر تارہاجس کی سائیکی گاہے بگاہے مقتدر طبقوں کی متعصب اور متششدجبلت سے بری طرح متائثرہوئی تھی۔ایسے ہر دورمیں جب عمر اور جنس کی پرواہ کئے بغیرمحض شک کی بنیاد پر اذئیت اور اختلاف کی بنیاد پر تشدد سے کوئی بھی محفوظ نہیں تھا‘ وہ سماج پر مسلط نائٹ مئیر کی نحوست کو ایک وسیع تر انسانیت کی کہانی میں تمام تر باریکیوں کے ساتھ پروتا رہا۔اس پیچیدہ دور کی نفسیاتی صورتحال میں بھی اس کے فطری روئیے جبر مسلسل سے متائثرہ آنکھوں میں زندگی کے اچھے دنوں کے خوابوں کو بانٹنے سے باز نہ آئے۔کبھی جھنجھلا کر سیٹائر سے بھرپور قہقہ اڑا کر‘ کبھی مکالمے کے دوران ایک لمبے کش کی بعد دھویں کے ایک بڑے مرغولے کی معیت میں کرارا سا جملہ اچھال کر ‘ کبھی انتہائی سنجیدگی سے کسی ناپسندیدہ عمل پرشگفتہ سا چٹکلا چھوڑ کر اور کبھی اپنی لکھت میں نت نئے میٹا فر‘ امیجری اور استعارے ٹانک کر ۔ اسکی انہی تخلیقی اختراعات کی بنا پرادب اور معاشرے کے نام نہاد حاشیہ بردار طبقے کی صفوں میں ہلچل سی مچ جاتی تھی۔بالآخر شکاری نظروں نے بھی بھانپ لیا کہ اس پرندے کے پر کاٹنے ضروری ہیں۔ سو اسے بھی کچھ عرصہ عتاب کی بھٹی سے گزرنا پڑا مگر وہ متائثر ہوئے بغیر اپنے اظہارئیے کے کاٹ دار لہجوں پر اٹل رہا۔یہ تھا اس کا وہ پہلا روپ جس کی جی داری نے تمام تر ہزیمتوں کے باوجود بھی جبر ی رعا ئیتیں قبول کرنے کی بجائے استبداد سے متائثرہ طبقوں میں حوصلے اور ہمت کی روح پھونکی۔
کتاب‘ قلم اور کاغذ کے بعد انسان دوستی اس کا دوسرا بڑا عشق رہا جس کی شدت عمر کے آخری جان لیوا دور میں بھی کم نہ ہوئی۔ زندگی تھی کہ گزرے ہی جا رہی تھی اور وہ اپنے اندر کی تمام جولانیوں سمیت سفیدہوتے ہوئے بالوں کے باوجود پہلے سے زیادہ جوان ہوتا جا رہا تھا۔ انفو ٹینمینٹ کے چلتے پھرتے ایک ایسے مکمل پیکیج کی طرح جس کے ایک ایک مسام سے علم،دانش، محبت اور وابستگی کے چشمے پھوٹتے رہتے تھے۔ لوگوں کے مسائل حل کرنا شاید اس کی زندگی کا نصب العین تھا۔وہ اسی طرح جیتا رہا۔ کبھی کسی لکھاری کو مزید لکھنے کے خمار میں مبتلا کر کے‘ کبھی کسی کومطالعے پر اکسا کر‘ کبھی گھنٹوں کسی کی مسائل بھری بپتا سننے بیٹھتا اور چپکے سے حل کرکے غائب ہو جاتا‘ کبھی کسی مریض کو شفا کا جھانسہ دیکر ہی ٹھیک ہونے پر مجبور کر دیتا اور کبھی جب وہ اپنے بے تکلف دوستوں کے درمیان خوشگوار موڈ میں ہوتا تو انہیں خوش کرنے کیلئے ترنگ میں آ کر پرات پرٹھیکہ لگاتا اور لہک لہک کر گانا شروع کر دیتا
مینوں چھیڑ دے مہینے ساونڑ دے
سہیلی میری بانہہ پھڑ کے
گج گج کے پھُلاں دے مینوں نیڑے
سہیلی میری بانہہ پھڑ کے
اوراگر کبھی کچھ زیادہ ہی موڈ میں ہوتا توجھوم جھوم کر گاتاہوا دوسروں کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیتا
منڈا موہ لیا تعویتاں والا
دمڑی دا سّکھ مل کے
پھر یوں ہوا کہ واقعی ہمارا ”تعویتاں والا منڈا “ اجل نے موہ لیا۔ دوستوں کو لہک لہک کر لبھانے والی وہ آواز ہمیشہ کیلئے چپ ہو گئی۔ یہ آواز تو ایک دفعہ پہلے بھی گم گئی تھی مگر اس نے تن تنہا اس چیلنج کو قبول کیا اورایک سخت مقابلے کے بعد اپنی گمشدہ آواز کو پھر سے ڈھونڈ لایا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کرونا کی دوسری لہر اپنی دہشت کے عروج پر تھی اور ایک نادیدہ قسم کی سراسیمگی اس حد تک حواسوں پر سوار تھی کہ اریب قریب سے کسی کی کھنکار بھی چہروں پر خوف کے رنگ بکھیرنے کیلئے کافی تھی۔ ”سماجی “کی وبامطلب پرستوں کے خود غرض روئیوں کی روایت کی طرح پھیل رہی تھی۔ تعزیت ناموں سے بھرا سوشل میڈیا’ آئے روز اٹھنے والے جنازوں کے اعلان اور کرونا کے غراتے ہوئے غیبی ڈریکولا کے قاتل وار ہر لمحہ ایک نئے نفسیاتی خوف کی اذیت کو جنم دے رہے تھے۔ بغلگیر بوسوں کی خواہشیں عنقا ہو چکی تھیں۔
محبت بھرے معانقوں کی دنیا جھجھکتے مصافحوں کے منصب سے اتر کر فیس ماسک کے پیچھے گم دیدار کی متلاشی اوربے چین نظروں کی جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہو چکی تھیں جبکہ غیر یقینی سانسوں کے خوف میں مبتلا دن رات ہر سمے کسی بھی غیر متوقع وچھوڑے کی سراسیمگی میں کٹ رہے تھے۔ایسے میں ایک منحوس شام نے اس کے چاہنے والوں کے پیروں تلے سے زمین ہی کھینچ لی۔تشخیص کے ایک صبر آزمامرحلے کے بعدیہ خبر قیامت بنکر ٹوٹی کہ اس کے پھیپھڑوں میں سرطان اپنے پنجے گاڑھے غرّا رہاہے۔کچھ دن اور ہر ممکن جگہ سے آئیندہ کے لاائحہ عمل پر مشاورتوں کے ساتھ ساتھ اس شش وپنج میں گزر گئے کہ اسے ان حالات کے بارے کیسے بتایا جائے۔کوشش کے باوجود عامرسہیل ہمت ہار بیٹھا تھا‘ شگفتہ کی توآواز ہی رندھ گئی‘ نیئر مصطفی کے اوسان خطا تھے‘ مقبول گیلانی کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو‘ علی نقوی تو سکتے کے سے عالم میں جبکہ ہم خود بکھر چکے تھے۔ ہم سب ایک عجیب سی خوفزدگی کا شکار تھے اور کوئی بھی اسے ٹوٹتا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ایسے میں ڈاکٹرمحمودناصر ملک اور ارشد وحید نے جھنجھوڑا؛
”بیوقوفی مت کرو۔ تم لوگ اس کے اندر کے مضبوط انسان کو under estimate کر رہے ہو ۔وہ حقیقت تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگاتا “
آخر کار طارق سعید (خالدی کے چھوٹے بھائی) نے ہمت کی۔سنا ہے اس نے بڑے تحمل سے طارق سعیدکو سنا اور اپنے کشادہ ماتھے پر ایک بھی شکن لائے بغیر اتنی ہی خندہ پیشانی سے مقابے کی ٹھان لی۔ ہمیں آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب اس تکلیف دہ انکشاف کے فوراََبعدہماری اس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ ڈھلتی شام کی شاید آخری گھڑی تھی۔ نم زدہ پلکوں اور بے ترتیب سانسوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ہم اس کے بیڈ روم میں داخل ہوئے۔ گگڑو اس کے پہلو میں لیٹی خاموشی سے پلکیں جھپکائے بغیر اسے تکے جارہی تھی۔ہمیں دیکھ کرآج وہ خلاف معمول اٹھی اور سر جھکائے کمرے سے باہر نکل گئی۔ خالدی گاؤ تکئے سے ٹیک لگائے نیم دراز انداز میں بیٹھا ناک پر عینک ٹکائے ‘ گھٹنوں پر رکھے ایک امتحانی گتّے کی چٹکنی میں دبے کاغذ کے دستے پرکچھ لکھے چلے جارہا تھا۔بے فکری ایسی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ہمیں دیکھتے ہی شایداس نے ہمارے چہرے پر پھیلی پریشانی کو بھانپ لیا تھا۔کاغذ قلم چھوڑ کر اسی وارفتگی کے ساتھ ہم سے ملنے کیلئے جھٹ کھڑا ہو گیا جو اسکا وطیرہ تھی اورگلے ملکر یوں بولا جیسے وہ ہمیں پُرسہ دے رہا ہو؛
”یار ڈوک (وہ جب بہت اچھے موڈ میں ہوتا تو ہمیں ڈوک کہا کرتا تھا) تم ڈاکٹر کیسے بن گئے؟ کیا ہو گیا؟ تمہاری ہوائیاں کیوں اڑی ہوئی ہیں؟ بیماری ہی ہے نا۔ لڑلیں گے یار“
ہمیں حواس باختہ دیکھ کر اس نے ہمارے کندھے تھپتھپاتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی مگر اس بار اسکی آواز میں کچھ دھیما پن تھا ؛
”جہاں پوری زندگی اپنی مرضی سے گزاری وہاں کچھ مہینے ڈاکٹروں کی مرضی سے بھی گزار لیں گے۔بس دو تین کام اور کرنے ہیں ۔وہ ہو جائیں تو کسک نہیں رہے گی“
یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ خود ہی اپنا سائکوتھیراپسٹ بنا ہوا ہے۔ دوسروں کو حوصلہ دینا اس پر ختم تھا اور اس فن میں وہ اتنا ماہر تھا کہ اگر وہ فیصلہ کر لے تو لنگڑا چلنے‘ بہرہ سننے اور گونگا بولنے پر مجبور ہوسکتا تھا۔ہمیں آج بھی یاد ہے جب ہمارے والد صاحب کے جنازے کے بعد تدفین کا جان لیوا مرحلہ آیا اور ہمارے ضبط کے بندھن ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگے تو بھیڑ چیرتے ہوئے محبت سے بھرا ایک پیکرتڑپ کر آگے بڑھا اورہماری دبی دبی سسکیوں کو سینے سے لگاتے ہوئے بھرائی ہوئی مگر مضبوط آواز میں زور دے کرفیصلہ کن انداز میں بولا؛
”میں ہوں نا! اور میرے ہوتے ہوئے تم نہیں روؤ گے “
اس شام وہ قبر پر ڈالی جانے والی مٹی کی آخری مٹھی کے بعد بھی رات گئے تک سائے کی طرح ہمارے ساتھ چپکا رہا۔ شاید اس کے اپنے لئے بھی وہ وقت بہت کڑاتھاجب وہ ایک بے چین روح کی طرح ہمیں سنبھالنے کیلئے ہرممکن جتن آزما رہا تھا۔کبھی باپ بن کردلاسہ دینے لگتا توکبھی ماں کی طرح سینے سے لگا کر پیار سے تھپکنے لگتا‘ کبھی دوست بن کر جی بہلانے کی کوشش میں جُت جاتا تو کبھی ایک جہاندیدہ استاد بنکر حوصلہ دینے لگتا۔
”ہاں اب بتاؤ ‘ آگے کاکیا پلان ہے؟
اچانک اس نے اپنی غیرمعمولی قوت ارادی کا مظاھرہ کرتے ہوئے بغیر کسی خوف اور جھجھک کے سوال اٹھا کر ہمیں چونکا دیا۔اس کی آنکھوں کی چمک اور چہرے پر جانی پہچانی مسکراہٹ گواہی دے رہی تھی کہ وہ اپنی بیماری سے مقابلے کیلئے کتنا مصمم ہے۔ جواب دینے سے پہلے ہم نے بوکھلا کر بھابھی کی طرف دیکھا جو سر جھکائے پرلے کونے میں بیٹھیں نجانے کتنے خدشوں کی بھیڑ میں گھری ہوئیں تھیں۔ آنسوؤ ں کی ایک لڑی انکے چہرے سے پھسلی ہی تھی کہ َ دوپٹے کے پلّو سے لیس ان کا ہاتھ بڑھا اور چشم زدن میں تمام آنسوؤ ں کو اپنے اندر جذب کر گیا کہ کہیں خالدی کی نظر نہ پڑ جائے۔دل سے ایک ہوک اٹھی اور ہم ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئے۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

