تہران : ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ کی شہادت کی اطلاعات ہیں اور خبررساں ادراے رائیٹرز کے مظابق ان کی میت بھی مل گئی ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی وزیرِ عظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے۔
اپنے ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے لیکن خامنہ ای کی موت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھاکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈربھی مارے گئے ہیں، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ اورسینئرجوہری حکام بھی مارے گئے اور آنے والے دنوں میں دہشت گرد حکومت کے مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوگا جاری رہے گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کےکمپاؤنڈپر30 بم گرائےگئے، ایران میں 500 اہدف کو 200اسرائیلی طیاروں نےنشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ٹھیک اورمحفوظ مقام پرہیں۔
بی بی سی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد کہ قوی امکان ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے، ہمیں یہ غیر مصدقہ رپورٹس موصول ہو رہی ہیں کہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے سینیئر ایرانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت مل چکی ہے۔
خبر رساں ادارے ایگزیؤس نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے امریکی حکام کو مطلع کیا ہے کہ خامنہ ای سنیچر کی صبح ان کے دفتر کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
اسی طرح اسرائیل کے متعدد ذرائع ابلاغ بشمول نیوز 12 اور ٹائمز آف اسرائیل نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نشر کی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

