کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہید کا کالم:انکل سرگم چھپ گئے ہو تم کہاں؟

عید کے زنداں میں اچانک فاروق قیصر نے کہا ’’آپی میں چلا‘‘۔ کسی بھی محفل میں وہ ہوتا تو فقروں کی پھلجڑیاں، قہقہوں کی بارش اور فقرے بازی کی آتش بازی ہوتی تھی۔ مجھے یاد ہے آج سے 30برس پہلے،میرا خیال ہے یہ پہلا اور آخری آئیڈیا تھا کہ کیوں نہ تھیٹر اور پتلی تماشہ کے ذریعے، لاہور شہر کے گنجان محلوں میں تھوڑی سی جگہ تلاش کرکے، ڈھول والے سے وہاں اعلان کراکے پروگرام کئے جائیں۔ شاید یوں ہی ہمارے لوگ صحت، صفائی، لڑکیوں کی کم سنی میں شادی اور دیگر مسائل پر بات کریں، جس دن اور جس محلے میں فاروق قیصر کا پروگرام ہوتا، وہاں وہ انکل سرگم بنا اسٹیج پہ پردے کے پیچھے سے آواز لگاتا ’’جن بچوں نے منہ ہاتھ نہیں دھوئے، چپل نہیں پہنیں، وہ جلدی سے گھروں کو جائیں۔ اچھے بچےبن کر آئیں‘‘۔ دس منٹ نہیں لگتے تھے کہ سارے بچے اچھے بچے بن کر انکل سرگم اور ماسی مصیبتے کی باتیں سنتے، ہنستے جس میں عورت مرد سب شامل ہوتے تھے اور آخر میں انکل سرگم سے وعدہ کرتے کہ وہ ہمیشہ اچھے بچے رہیں گے۔
فاروق اور فیضان اپنےشو کرنے کے بعد، بچوں کے ہجوم میں گھرے رہتے۔ اس طرح ڈرامے مدیحہ اور وسیم کے گروپ پیش کرتے۔ یونیسیف نے تھوڑے سے پیسے دیئے تھے، ہم سب محض دس ہزار روپے میں اپنا اپنا قافلہ ہنسی خوشی لاتے تھے۔ عورتوں اور مردوں کو منظم کرنے کا کام شہناز اور فوزیہ، میری کولیگ کیا کرتی تھیں۔ ان کو یہ بتایا ہوا تھا کہ شروع میں تو پردے کے ایک طرف خواتین، دوسری طرف مرد پلنگوں پر بیٹھے ہوتےتھے۔ ان دونوں لڑکیوں کو یہ بھی ہدایت تھی کہ شو کے درمیان میں چپکے سے پردہ ہٹا دیا کرو ۔ شو کے بعد ہنستی عورتیں اور مرد چلے جاتے ۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرٹسٹوں کو کیا نوکری کرنی چاہئے؟ یہ سوال میں شاکر علی سے سلمیٰ ہاشمی تک آرٹ کے میدان میں، ملکہ موسیقی سے استاد امانت علی خان اور فاروق قیصر سے معین اختر ، فیض صاحب سے احمد فراز تک، یہ سوال اس لئے کررہی ہوں کہ سرکاری عمر ختم، نوکری ختم جن اداروں میں یہ کام کرتے تھے۔ وہاں پنشن بھی نہیں۔ عمر کا تجربہ، بہت سے نئے زاویئے تلاش کرکے، بہت سے دریا عبور کرنا چاہتا ہے۔ گھر، مہینے کے مہینے پیسے مانگتا ہے۔ ملک میں اب تو کورونا ہے۔ ویسے بھی ہر چیز کے لئے پیسے ہیں مگر آرٹ فارم کے کسی سیکشن کے لئے نہیں، بہت ہوا تو ادارۂ ادبیات تین ماہ کے بعد 39ہزار روپے کا چیک وہ بھی کسمپرسی کے ڈھیروں خطوط کے بعد یہ منزل آتی ہے۔ لوک فنکاروں کی روٹی تھوڑی بہت چلتی رہتی ہے کہ دیہات اور ہر دبئی گھر منڈوا ضرور سجتا ہے، گانا بجانا اور ہوائی فائرنگ بھی ضروری ہے چاہے وہ شخص خواجہ غلام فرید ؒکے مزار پر ایک میل تک گھٹنوں کے بل چل کر اپنی عقیدت ظاہر کرنے آیا ہو بچے کی شادی کے لوازمات اپنی جگہ۔
اب ہر فنکار راحت فتح علی خان کی طرح اپنی مارکیٹنگ نہیں کرتا۔ وہ تو نصرت فتح علی ، مہدی حسن البتہ میڈم نور جہاں کو زمانے سے مقابلہ کرتے ہوئے، خود کو سلامت رکھنے کا فن آگیا تھا۔ باقی لوگ کیا کریں۔ فن ان کے پاس ہے۔ بیچنے کے ذرائع اور مواقع نہیں ۔ باہر کے ملکوں کی پارٹیاں بھی بڑی استاد ہوتی ہیں۔ آخر انہیں بھی تو کمانا ہوتا ہے۔ پھر انہیں چلبلی گانے والی چاہئے ۔ فریدہ خانم یا ثریا ملتانیکر کو تو نئے لوگ پہچانتے بھی نہیں۔ پھر ہوتا کیا ہے۔ خاموشی سے عبداللہ حسین، مظفر علی سید، اقبال بانو، چغتائی صاحب اور شاکر علی، اپنی رہی سہی عزت سنبھالتے گور کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد سربراہِ مملکت کو لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ فقید المثال فنکار مر گیا۔ وہ پریس کو بیان جاری کر دیتے ہیں۔شاکر علی کا گھر اس لئے بچ گیا کہ اس وقت حنیف رامے چیف منسٹر تھے۔ چغتائی صاحب کے خاندانی گھر کی جگہ، ان کے بیٹے نے میراث کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ملکہ ٔ موسیقی خاموشی سے کراچی میں دفنا دی گئیں۔
اندومٹھا نے جرنیل کی بیوی ہوتے ہوئےرقص کو فروغ دیا اور بیٹی کی تربیت ایسی ڈانسر کے طورپر کی کہ وہ آج امریکہ میں اپنا ادارہ چلا رہی ہے۔ کون جانتا ہے مگر اندومٹھا کو۔ پنا کو، ناہید صدیقی کو۔ اس حکومت، کیا کسی بھی حکومت کے بجٹ اور ذہن میں فنون کو فروغ دینا عیاشیوں کے زمرے میں آتا ہے۔ لکھنو کی تہذیب کی آخری چراغ بیگم اختر تھیں۔ ہندوئوں میں چونکہ گیت اور ناٹک کو مذہب کا حصہ کہہ کر قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش نہیں کی جاتی تھی ان فنکاروں کو ادارے بلاتے ہیںمگر ہمارے یہاں ادارے فاروق قیصر کو نہیں بلاتے، حبیب جالب کو نہیں بلاتے تھے۔ اقبال ساجد اور ساغر صدیقی کی غزلیں، گانے والوں کو بلا لیتے ہیں مگر ان کا حال بھی نہیں پوچھتے۔
بھٹو صاحب نے اپنے زمانے میں کچھ ادارے بنائے تھے ۔ کچھ تو زبردستی اپنے سربراہ جیسے فوزیہ سعید کی وجہ سے چل رہے ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن ، اردو ڈکشنری بورڈ، اکیڈمی آف لیٹرز کے صوبائی دفاتر اور اردو سائنس بورڈ کو یہ کہہ کر بند کیا جارہا ہے کہ فنڈزنہیں ہیں حالانکہ وزیراعظم چاہیں تو راک فیلر فائونڈیشن کی طرح ، بل گیٹس سے فنکاروں کے اداروں کو چلانے کے لئے فنڈز مانگ سکتے ہیں۔ فاروق قیصر کو دل کا مرض کچھ عرصے سے تھا۔ اب کوئی دوسرا فاروق قیصر نہیں۔۔ جیتا رہےشفقت محمود کہ وہ کسی فنون کےادارے کے لئے ، اسکولوں کے سوا، وقت نہیں نکال سکتا۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker