عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:ایک ’’دُکھی‘‘ بابا!

ایک بابا جی ہانپتے کانپتے میرے پاس آئے اور کہا ’’میں آپ کو اپنے دکھ درد سنانا چاہتا ہوں، آپ اس کے کتنے پیسے لیں گے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ میں درویش آدمی ہوں ایسے معاملات میں کبھی بھاؤ تاؤنہیں کرتا، آپ جو دیں گے، تبرک سمجھ کر قبول کر لوں گا مگر اس کام کے لئے آپ پیسے کیوں خرچ کرنا چاہتے ہیں؟ اپنے بیوی بچوں کو سنا لیں، جس پر بزرگ بولے ’’وہ بھی پیسے مانگتے ہیں‘‘۔ میں نے کہا ’’وہ تو آپ ویسے بھی پہلے دن سے انہیں سب کچھ دیتے چلے آرہے ہوں گے‘‘ مگر یہ عجیب طرح کے بزرگ تھے، بولے ’’بیوی بچے کہتے ہیں کہ آپ نے آج تک ہمارے لئے جو کچھ کیا وہ آپ کا فرض تھا، کوئی احسان نہیں تھا‘‘۔ میں بولا ’’یہ بات تو وہ ٹھیک کہتے ہیں‘‘ بزرگ نے کہا ’’وہ بھی صحیح کہتے ہیں اور آپ بھی، مگر میرے دکھ درد تو مفت میں سن لیں‘‘۔میں نے محسوس کیا کہ بابا جی کچھ ہلے ہوئے ہیں، دکھ درد تو سب کی زندگی میں ہوتے ہیں، اگر ہم سب لوگ سب کے غم و آہ سننے بیٹھ جائیں تو ذہنی مریض بن جائیں، تاہم میں نے بابا جی سے کہا ’’چلیں آپ یہ باتیں چھوڑیں، مجھے سنائیں جو سنانا چاہتے ہیں اور جو ہدیہ پیش کرنا چاہیں کردیں، کبھی معاوضے پر تکرار نہیں کی، میں درویش آدمی ہوں اور یوں اسےمعاوضہ نہیں ہدیہ سمجھ کر قبول کرتاہوں، ہدیے میں بھاؤ تاؤ کہاں ہوتا ہے۔ مگر اب آپ مہربانی کریں ذرا جلدی سے بتا دیں کہ آپ کو دکھ کیا ہے؟‘‘۔ بابا جی بولے ’’لگتا ہے آپ جلدی میں ہیں، چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میرا پہلا اور سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ میں بوڑھا کیوں ہو گیا ہوں؟‘‘ میں نے کہا ’’بزرگو! بڑھاپا تو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جن کی ساری عمر کسی نے عزت نہیں کی ہوتی کہ وہ اس قابل ہی نہیں ہوتے مگر وہی لوگ ایسے بوڑھوں کی بھی عزت کرنے لگتے ہیں۔ یعنی بڑے بڑے چول قسم کے بزرگوں کی بھی وہ عزت کرنے لگتے ہیں‘‘۔ یہ سن کر بابا جی ناراض ہوگئے ’’آپ نے مجھے چول کہاہے؟‘‘میں نے عرض کی ’’ہو سکتا ہے آپ چول ہوں یا نہ ہوں، میں تو آج پہلی دفعہ آپ سے مل رہا ہوںاور محض مثال پیش کی تھی‘‘۔ چہرے پر تیوریاں چڑھا کر بولے’’نہیں، پہلے آپ مانیں اور کھل کر کہیں کہ میں چول نہیں ہوں‘‘ میں نے فوراً کہا ’’میں مانتا ہوں اور کھل کر اعلان کرتا ہوںکہ میں چول نہیں ہوں‘‘اس پر بابا جی بھڑک اٹھے اور فرمایا ’’یہ تو آپ نے اپنی صفائی پیش کی ہے، آپ میرے بارے میں اپنی رائے کی تصحیح کریں‘‘۔
ظاہر ہے اس کے بعد میں نے کھل کر کہا کہ آپ انتہائی معقول آدمی ہیں، چول تو بالکل نہیں لگتے، جس پر وہ مطمئن ہوگئے۔ میں نے عرض کی ’’اب آپ دوسرا دکھ بیان کریں‘‘ بولے میرے دوسرے دکھ کا تعلق بھی بڑھاپے سے ہے، مجھے یہ بتائیں کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر کوئی مجھے بابا جی کہے، وہ مجھے اظہر صاحب بھی کہہ سکتے ہیں،بلکہ صرف اظہر بھی کہیں تو مجھے زیادہ خوشی ہو گی‘‘ میں نے کہا ’’یار اظہر یہ بات تم نے صحیح کہی‘‘ میرے اس لہجے پر بابا جی کھل اٹھے اور فرمایا ’’اب آپ نے ،بلکہ تم نے مردوں والی بات کہی ہے۔ اور سناؤآج کل کیا ہو رہا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’یار اظہر میں وہی کچھ کر رہا ہوں جو تم کرتے چلے آئے ہو اور اب بھی اس دور میں واپس جانا چاہتے ہو‘‘ اس پر بابا جی نے کرسی سے اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا اور میرے بوسے لینا شروع کردیئے۔ دو تین بوسوں تک تو مجھے ان کی نیت صحیح لگی، مگر پھر میں نے انہیں روک دیا اور کہا ’’یار اظہر اب بس بھی کرو، تمہارے ذہن میں جو کوئی بھی ہے فی الحال اسے ذہن سے نکال دو۔ اور ہاں اب مجھے تمہارے دکھ کی پوری طرح سمجھ آگئی ہے‘‘۔ بابا جی کے چہرے پر مسرت کی ایک لہر پیدا ہوئی بلکہ چہرے پر ایک شرمیلی سرخی بھی نمودار ہوئی۔ میں نے انہیں مخاطب کیا اور کہا ’’یار تم بہت زندہ دل ہو اور تمہاری کتابِ زندگی کے سب اوراق میرے سامنے کھل گئے ہیں، مگر بہتر ہوگا کہ تم گزرے ہوئے واقعات سے خود پردہ اٹھائو‘‘ اس پر بابا جی شروع ہوگئے’’یار بات یہ ہے کہ میں بہت گناہ گار ہوں،ساری زندگی لہو و لعب میں گزاری ہے، مگر میں نے یہ سب برے کام برے سمجھ کر کئے، چنانچہ ایسے ہر کام سے پہلے اور بعد میں ﷲ سے گڑ گڑا کر معافی مانگتا رہا ہوں‘‘پھر انہوں نے اپنے گناہ گنوانے شروع کئے مگر ساتھ ساتھ استغفر ﷲ کا ورد کرتے چلے جاتے تھے۔ جب انہیں ایک گھنٹے سے زیادہ اپنی زندگی کے شرمناک واقعات سناتےہوئے گزر گیا تو میں نے محسوس کیا کہ میری اپنی جسمانی کیفیت بھی غیر سی ہونے لگی ہے، چنانچہ پیشتر اس کےکہ بات اتنی آگے بڑھتی کہ مجھے ان سے کچھ دیر کے لئے دو نفل توبہ پڑھنے کی اجازت لینا پڑتی، میں نے انہیں ٹوک دیا اور کہا ’’اظہر یار خدا کے لئے بس کرو، باقی باتیں اگلی ملاقات پر سنوں گا‘‘ بولے ’’ابھی تو میں تیس سال کی عمر تک پہنچا ہوں‘‘ اور وہ ایک بار پھر اپنی گناہوں کی ہیجان انگیز داستانیں سنانے لگے، میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، مگر وہ جب اس پر بھی باز نہ آئے تو میں نے کہا ’’اظہر بیٹے اب بس‘‘ میرے بیٹا کہنے پر تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ بولے ’’ چلو ٹھیک ہے، تمہاری حالت غیر ہو رہی ہے جو مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔
اب بتاؤ پھر کب آؤں‘‘۔میں نے کہا ’’پہلے آج کا ہدیہ تو پیش کرو، اس کے بعد اگلی اپائٹمنٹ دوںگا‘‘۔ بولے ’’یار شرم کرو، اپنے اس بے تکلف دوست سے پیسے مانگتے ہو‘‘ یہ سن کر میرا پارہ چڑھ گیا اور میں نے چیخ کر کہا ’’اوئے بوالہوس بوڑھے، میں نے تمہاری حسرتیں، جنہیں تم حقیقت کے طور پر بیان کر رہے تھے بڑے صبر سے سنی ہیں، اب بغیر چوں چراں کئے پیسے نکالو، ورنہ میں ان تمام عصمت مآب پردہ نشینوں سے مل کر انہیں تمہاری خرافات سناؤں گا‘‘۔یہ سن کر اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور میری توقع سے زیادہ رقم مجھے تھماتے ہوئے زار و قطار رونا شروع کردیا اور جاتے جاتے مجھے مخاطب کرکے کہا ’’تمہیں روز قیامت ﷲ کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا کہ تم نے ایک دکھی بوڑھے کے دکھ درد کو سمجھنے کی بجائے الٹا اسے مورد الزام ٹھہرا دیا‘‘ مگر پھر اسے کچھ خیال آیا، وہ میری طرف بڑھا اور کہا ’’ میں معافی چاہتا ہوں، میں نے تمہارا دل دکھایا، تم تو بہت پیارے ہو‘‘ اور پھر میرے بوسے لینا شروع کردیئے، اس کے دو تین بوسوں کے انداز سے مجھے وہ رقم جہنم کی آگ لگنے لگی، جو اس نے بطور معاوضہ مجھے ادا کی تھی۔ حالانکہ یہ معاوضہ تو صرف اس کا دکھ درد سننے کے حوالے سے طے ہوا تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker