تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:اسلامی تعاون تنظیم کا عناد بھرا اجلاس

اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی ہے لیکن 57 اسلامی ممالک پر مشتمل اس تنظیم کے اجلاس میں تقریریں کرنے یا ایک دوسرے کی نیت پر شک کے سوا کوئی خاص مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا۔ اجلاس کے دوران دیے گئے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان اور عرب ممالک فلسطینی کاز کے لئے یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اس انسانی بحران میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس تاخیر سے شروع ہؤا کیوں کہ امریکہ اس اجلاس کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالتا رہا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئیترس نے درمندانہ اپیل کی کہ کسی بھی طرح امن بحال کیا جائے اور ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ روکا جائے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ’ اسرائیل جب تک ضرورت ہوئی غزہ پر حملےجاری رکھے گا‘۔ قوم کے نام ایک خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’یہ اسرائیلی شہریوں کی حفاظت اور امن کا معاملہ ہے۔ ہم دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کے لئے کارروائی جاری رکھیں گے‘۔ دوسری طرف شدید جنگ اور اسرائیلی بمباری میں کثیر تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود غزہ سے حماس کے راکٹ پھینکنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان حملوں میں اب تک 8 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوجوں نے تنازعہ کے ساتویں روز بھی غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج کی بمباری شدید ترین تھی اور اس میں ہلاکتوں کی تعداد بھی سابقہ دنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔ اتوار کو ہونے والے حملوں میں 42 شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو شروع ہونے والی بمباری سے اب تک 190 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 47 بچے بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے کم از کم ایک حملہ ایک فلسطینی مہاجر کیمپ پر بھی کیا جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ حماس کے سیاسی ونگ کے لیڈر یحیٰ سناور کو ہلاک کرنے کے لئے غزہ کی ایک گنجان آبادی میں واقع ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ متعدد ذرائع نے اس حملہ کی تصدیق کی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس حملہ سے سناور بچ نکلنے میں کامیاب رہے یا مار دیے گئے۔
اس کے باوجود اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ پر صرف ان سرنگوں پر حملے کررہا ہے جنہیں اسرائیل میں دہشت گردی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک فوجی ترجمان نے شہریوں کی ہلاکتوں کی وضاحت کرتے ہوئے یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’اسرائیلی فوج شہریوں کونقصان پہنچانا نہیں چاہتی لیکن جب عسکری مقامات پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے قریبی آبادیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور سویلین ہلاکتیں بھی ہوجاتی ہیں‘۔ غزہ پر اسرائیلی حملے جاری رکھنے کے سیاسی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ نیتن یاہو کے اقتدار کو مخالف سیاسی گروہوں کے اتحاد سے خطرہ ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ 13 سال بعد نیتن یاہو کو اقتدار سے محروم ہونا پڑے گا۔ ایسا ہونے کی صورت میں انہیں بدعنوانی کے متعدد مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اب یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ نیتن یاہو اپنا اقتدار بچانے کے لئے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ عوام کے سامنے خود کو ’ اسرائیلیوں کے محافظ‘ کے طور پر پیش کرسکیں۔
ان حملوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسرائیل پوری فوجی قوت استعمال کرتے ہوئے حماس کی عسکری قوت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتا ہے تاکہ آئیندہ چند برسوں کے دوران اسے غزہ سے راکٹ حملوں کا خطرہ نہ رہے۔ لیکن اس مؤقف کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ حماس کے راکٹوں کی آڑ میں ہی اسرائیل دراصل عالمی ہمدردی اور جابرانہ فوجی طاقت کے استعمال کا جواز بھی تلاش کرتا ہے۔ اس وقت بھی امریکہ اور اسرائیل کے تمام مغربی حلیف اسرائیلی بربریت کی بجائے حماس کے راکٹوں کا ذکر کرتے ہیں اور یہ سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہیں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کے ناجائز اور سفاکانہ حملوں سے کوئی ذیادہ تکلیف نہیں ہے۔ اس کا اظہار اقوام متحدہ کے اجلاس میں رکاوٹیں ڈالنے کے امریکی طریقہ سے بھی ہوتا ہے۔ دوسری طرف جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ایک ٹوئٹ پیغام میں صورت حال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد ختم ہونا چاہئے اور فریقین کو بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ ’امن‘ کے لئے جرمنی نے جو تین نکات پیش کئے ہیں وہ کچھ یوں ہی: 1)راکٹ حملے بند کئے جائیں۔ 2)تشدد ختم کیا جائے۔ 3)اسرائیل اور فلسطینی دوریاستی حل کے لئے بات چیت کا آغاز کریں۔ گویا جمہوریت کے علمبردار ممالک کا اصل مسئلہ وہ ناقص راکٹ ہیں جو حماس کے جنگجو پھینکتے ہیں ۔ انہیں غزہ میں بے بسی کی موت مرنے والے شہریوں، عورتوں اور بچوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم کے ورچوئیل اجلاس میں بھی آج فلسطین کی آزادی اور اسرائیلی بربریت پر گرما گرم تقریریں کی گئیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فلسطین کی حمایت کو پاکستانی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیا اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ فوری طور سے اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بند کروایا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی اسرائیلی ظلم کی تصویر کشی کرنے کا حق ادا کیالیکن اجلاس کے دوران یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عرب و مسلمان ممالک اسرائیل کو جنگ بند کرنے اور فلسطین کو آزاد کروانے کا مقصد کیسے حاصل کریں گے۔ جن ’عالمی لیڈروں اور ضمیر‘ سے وہ فلسطینیوں کی مدد کرنے کی اپیلیں کررہے ہیں، انہو ں نے گزشتہ نصف صدی میں کبھی ان درمندانہ اپیلوں پر غور نہیں کیا۔ نہ ہی مسلمان ملکوں کی نمائیندہ او آئی سی کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرسکی ہے جس پر اس کے سارے ارکان متفق ہوں اور جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کسی پس و پیش کے بغیر سب مل کر اپنی تمام توانائیاں صرف کریں۔
سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی تعاون تنظیم کبھی اس قسم کی یک جہتی اور عملی اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرسکی کیوں کہ اس تنظیم کا قیام مسلمانوں کو درپیش مسائل حل کروانے کی بجائے مسلمانوں کی قیادت کا دعوے دار بننے تک محدود رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر مسلمان ملکوں کا ایک ایسا بلاک بنانے کی کوشش کی جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بارےمیں مؤثر کردار ادا کرسکے تو سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کرنا شروع کردیا۔ جب شاہ محمود قریشی نے گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کو مسترد کرنے کے لئے او آئی سی کو کردار ادا کرنے کی پرجوش درخواست کی تو اسے سعودی شاہی قیادت کے لئے چیلنج سمجھ کر پاکستان کو سبق سکھانے کے اقدامات کئےگئے۔
او آئی سی کے آج کے اجلاس میں بھی یہ واضح ہؤا کہ ایک طرف ان عرب ممالک کا گروہ ہےجو حماس کو ’حقیقی‘ مسئلہ سمجھتا ہے اور اس کے اثر و رسوخ کو ختم کرکے فلسطین آزاد کروانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران کی قیادت میں بعض ایسے ممالک ہیں جو فلسطین کو بزور شمشیر آزاد کروانے کی بات کرتے ہیں اور حماس کی براہ راست حمایت کرتے ہیں۔ ان ممالک کی طرف سے آج ان عرب ممالک کو بھی بالواسطہ طور سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جنہوں نے حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ’اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ اس لئے مسلمان ممالک کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ مفاہمانہ طرز عمل سے اسرائیل جارحیت ترک کردے گا۔ فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے‘ ۔ ترک وزیر خارجہ جاووس اوغلو نے ایرانی ہم منصب کی تائد کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کی حمایت کرکے بعض ملکوں نے اخلاقی کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے‘۔ یہ حال ہی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب ممالک کی طرف اشارہ تھا حالانکہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ دیرنہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں اسرائیل کو ترک برآمدات کا پلہ بھاری ہے۔
مسلمان ملکوں کے متضاد مفادات ، غیر واضح حکمت عملی اور باہمی تنازعات کے تناظر میں، وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق تسلیم کرنے پر مجبور کرسکیں۔ یہ بات تو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد ہی طے ہوچکی تھی کہ عرب ممالک جنگ کے ذریعے اسرائیل کو کسی مفاہمت یا فلسطینی ریاست کے قیام پر مجبور نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد سے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لئے متبادل سفارتی، تجارتی و سیاسی حکمت عملی بنانے کی بجائے اس معاملہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے حالیہ اجلاس میں بھی ’تعاون‘ کی بجائے ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات اور عناد کا اظہار سامنے آیا۔ یا پھر شاہ محمود قریشی نے زور بیان دکھایا جس کا واحد مقصد پاکستانی عوام پر یہ ثابت کرنا تھا کہ حکومت دنیا بھر کے مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سرگرم عمل ہے۔
گرم جوش تقریروں سے نہ تو کشمیر آزاد ہوسکا ہے اور نہ ہی فلسطین کی آزادی کا کوئی امکان ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے جس سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے مسلمان لیڈر اس کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker